"RKC" (space) message & send to 7575

بلیک میلنگ سے بلیک میلنگ تک

اپنے دوست اینکر منیب فاروق کے شو میں تھا‘ جس میں رانا احسان افضل بطور حکومتی نمائندہ موجود تھے۔ منیب نے ان سے پوچھا کہ آپ عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہونے دیتے؟ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے ساتھی آپ کو یہ تو نہیں کہہ رہے کہ خان کو رہا کرو‘ جیسے نومبر 2024ء میں علی امین گنڈاپور کا نعرہ تھا‘ جب وہ احتجاجی جلوس لے کر اسلام آباد آئے تھے۔ سہیل آفریدی صرف عمران خان تک رسائی مانگ رہے ہیں۔ یہ کون سا اتنا بڑا ایشو ہے جس کیلئے آپ 27ستمبر کو ایک احتجاجی جلوس کا سامنا کرنے کو تیار ہیں؟ اس پر رانا صاحب کا کہنا تھا کہ حکومت پی ٹی آئی کے ہاتھوں کسی صورت بلیک میل نہیں ہو گی کہ پی ٹی آئی دھمکی دے کر کہے کہ خان سے ملاقات کرائی جائے۔ اس پر منیب کا کہنا تھا کہ ہر حکومت کو لگتا ہے کہ اسے بلیک میل کیا جا رہا ہے‘ لہٰذا ریاست یا وزیراعظم یا حکومت کی طرف سے سخت بیان جانا ضروری ہے کہ ہم بلیک میل نہیں ہوں گے‘ جیسے عمران خان جب وزیراعظم تھے تو انہوں نے کوئٹہ میں اپنے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ سڑک پر بیٹھے ہزارہ کمیونٹی کے مظاہرین سے ملنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ وہ ان مظاہرین کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوں گے۔ وہ کئی دن تک بیٹھے رہے لیکن عمران خان نہ گئے۔ پوری پارٹی‘ میڈیا اور سول سوسائٹی منت ترلے کرتی رہ گئی کہ دہشت گردی میں مارے جانے والوں کی بیوائیں‘ ماں باپ‘ بہن بھائی‘ بچے اور دیگر رشتہ دار لاشیں لے کر بیٹھے ہیں‘ آپ کے جانے سے ان کے دکھ کا کچھ مداوا ہو جائے گا۔ لیکن خان کا ایک ہی جواب تھا کہ وہ لاشوں کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے لاشوں کو دفناؤ‘ پھر آؤں گا۔ یوں عمران خان کو اپنا دکھ سنانے کے لیے لواحقین نے کئی روز کے بعد اپنے پیاروں کی لاشیں دفنائیں تو اس کے بعد ہی عمران خان کوئٹہ گئے اور کچھ دیر کے لیے ان سے ملاقات کی۔ عمران خان کو اس بات پر فخر رہا کہ وہ ہزارہ کمیونٹی کے لوگوں سے بلیک میل نہیں ہوئے۔
یہی بات اب حکومتی نمائندہ کہہ رہا تھا کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے جو پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو احتجاج کی کال دے رکھی ہے‘ وہ اس دھمکی سے بلیک میل نہیں ہوں گے۔ مطلب یہ کہ وہ عمران خان کی ملاقات نہیں کرائیں گے‘ چاہے پی ٹی آئی جتنے مظاہرین لانا چاہتی ہے لے آئے۔ سیاسی حکومتوں اور سیاسی وزیراعظم کا عوام کے مطالبات پر یہ کہنا کہ وہ بلیک میل نہیں ہوں گے‘ کچھ اچھا تاثر نہیں چھوڑتا۔ ایک آمر اور جمہوری سیاستدان میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔ عوام یا عوامی امنگوں کا احترام کرنا ہرگز بلیک میل ہونا نہیں ہوتا بلکہ اسے جمہوریت کی خوبی اور حسن کہا جاتا ہے۔ بلیک میلنگ سے یاد آیا کہ دنیا میں دو‘ تین قسم کے وزیراعظم پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو خود کو عوام کا نمائندہ اور جوابدہ سمجھتے ہیں اور ہمیشہ انکساری سے عوامی رائے کا احترام کرتے ہیں۔ دوسرے وہ جو اپنی بات پر قائم رہتے ہیں کہ وہی ٹھیک راستہ ہے‘ چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ میں ان دونوں قسم کے وزرائے اعظم کی مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
برطانوی خاتون وزیراعظم مارگریٹ تھیچر طاقتور وزیراعظم کی پہلی مثال تھیں‘ جنہیں آئرن لیڈی کا خطاب دیا گیا‘ جب انہوں نے اپنے دور میں کوئلے کی کانوں میں ہڑتال کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ بحران لمبا عرصہ چلا لیکن وہ نہ جھکیں اور اپنے اسی فیصلے پر ڈٹی رہیں کہ وہ یونین سے بلیک میل نہیں ہوں گی اور نہ ہی وہ ہوئیں۔ دوسری قسم کے لیے بھارت کے لال بہادر شاستری کی مثال ہے‘ جو خود کو عوامی نمائندہ سمجھتے تھے اور عوام کے سامنے خود کو انکساری کے ساتھ پیش کرتے اور ہر قسم کی گفتگو سننے کو تیار رہتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے لال بہادر شاستری کے ساتھ سات سال تک کام کرنے والے سیکرٹری کی شاستری کے بارے میں لکھی کتاب پڑھی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ وہ کیسے وزیراعظم تھے۔ سیکرٹری نے انکشاف کیا کہ جب 1965ء میں مقبوضہ کشمیر میں ہلچل شروع ہوئی تو لال بہادر شاستری اس معاملے کو بڑھانا بالخصوص پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں لڑنا چاہتے تھے۔ وہ عالمی بارڈر‘ خصوصاً لاہور کا محاذ نہیں کھولنا چاہتے تھے۔ وہ بات چیت کے حق میں تھے۔ انہوں نے کارروائی میں اتنی تاخیر کی کہ ان کے خلاف اپوزیشن نے احتجاج‘ مظاہرے اور ریلیاں نکالنا شروع کر دیں کہ بھارت کا وزیراعظم بزدل ہے۔ لہٰذا شاستری نے لاہور پر حملے کی منظوری دی اور پھر چند ہی دنوں میں جنگ بندی پر بھی فوراً تیار ہو گئے۔ تاشقند میں پاک بھارت معاہدے میں تاخیر پر بھارت سے زیادہ پاکستان کو قصور وار سمجھا جاتا تھا۔ شاستری چاہتے تھے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا مستقل معاہدہ کرے جبکہ پاکستانی حکام اس پر تیار نہ تھے۔ اگر وہ معاہدہ ہو جاتا تو شاید 1971ء میں بھارت اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل نہ کرتا۔
خیر‘ ان باتوں کے علاوہ جس بات نے مجھے لال بہادر شاستری کا حوالہ دینے پر مجبور کیا وہ یہ ہے کہ وہ خود کو عوام کے آگے کیسے جوابدہ سمجھتے تھے اور سخت سے سخت باتوں پر بھی ردعمل نہیں دیتے تھے‘ نہ ہی کسی کی ناپسندیدہ باتوں کو بلیک میلنگ قرار دے کر مسترد کر دیتے یا فورس استعمال کرتے تھے۔ سیکرٹری لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک ریاست کے چیمبر آف کامرس نے وزیراعظم کو اپنے کسی فنکشن میں شرکت کی دعوت دی‘ جو انہوں نے قبول کر لی۔ پروٹوکول کے تحت اس چیمبر کے صدر کی تقریر کی کاپی منگوائی گئی تاکہ پتا چلے وہ کیا چاہتے ہیں اور اس کے مطابق ان کا جواب دیا جائے اور اگر حکومت سے کچھ مطالبات ہیں تو ان پر غور کیا جائے۔ جب صدر کی تقریر وزیراعظم ہاؤس میں پہنچی تو سب پڑھ کر حیران رہ گئے کہ چیمبر کے صدر نے اپنی تقریر میں بہت سخت باتیں لکھی تھیں جو وہ فنکشن میں وزیراعظم کی موجودگی میں کرنا چاہتے تھے اور زبان بھی بہت نامناسب تھی۔ وزیراعظم شاستری کو سٹاف نے مشورہ دیا کہ بہتر ہے آپ نہ جائیں‘ چیمبر صدر کی تقریر میں بہت غلط زبان استعمال کی گئی ہے‘ وزیراعظم کے پروٹوکول کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔ تاہم وزیراعظم شاستری نے کہا کہ وہ شرکت کریں گے اور سٹاف کو کہا کہ وہ جوابی تقریر تیار کرے۔ جس دن شاستری کی فلائٹ تھی‘ اسی دن انہیں جوابی تقریر دی گئی۔ وزیراعظم شاستری نے جہاز میں بیٹھے ہوئے اپنی تقریر پڑھی تو انہیں یہ تقریر بہت سخت لگی۔ فوراً اپنی ٹیم کو کہا کہ اسے تبدیل کریں اور نرم کریں۔ پھر ایک تاریخی بات کی کہ اگر یہ لوگ اپنے وزیراعظم سے یہ سب باتیں نہیں کریں گے تو کس سے کریں گے؟ تقریب میں چیمبر کے صدر نے وہی تقریر لال بہادر شاستری کے سامنے پڑھی جو سخت نوعیت کی تھی۔ شاستری نے حوصلے سے سب کچھ سنا اور پھر جواب میں انکساری کے ساتھ ایسی خوبصورت تقریر کی کہ چیمبر صدر کا منہ شرمندگی سے لال ہو گیا۔ تمام ارکان نے اس پر کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔
ہمارے ہاں اگر وزیراعظم کو مشکل کی گھڑی میں عوام کی طرف سے کوئٹہ بلایا گیا تو کہا کہ میں بلیک میل نہیں ہوں گا۔ پی ٹی آئی نے بانی عمران خان سے ملاقات کے قانونی حق کی بات کی تو کہا گیا کہ ہم بلیک میل نہیں ہوں گے۔ پتا نہیں لال بہادر شاستری جیسے وزیراعظم کہاں گئے۔ کیا اس میٹریل سے حکمران بننے بند ہو گئے جو عوام کے جذبات اور غصے کے آگے خود کو جوابدہ سمجھتے تھے‘ خود کو عوام کا صحیح معنوں میں خدمت گزار سمجھتے تھے‘ جو عمران خان یا شہباز شریف حکومت کی طرح انہیں بلیک میلر نہیں سمجھتے تھے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...