مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے عمران خان کے بارے میں ایک ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے ایک بات بڑی سچی کی ہے‘ لیکن شاید پاکستانیوں کو یہ بات سمجھنے میں دقت محسوس ہو۔ کیوں کہ وہی بات کہ ہم سب کا اپنا اپنا سچ ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ سب لوگ ہمارے سچ پر ہی ایمان لے آئیں‘ لہٰذا مفتی صاحبہ کی بات بھی ہمیں پسند نہیں آئے گی۔
محبوبہ مفتی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھتی ہیں کہ 1994ء میں ان کی ملاقات لندن میں عمران خان سے ہوئی تھی۔ ان کے والد سعید مفتی بھی ان کے ساتھ تھے۔ اس ملاقات میں عمران خان نے پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے بڑی پُرجوش اور اچھی گفتگو کی جس سے ان کے والد بڑے متاثر ہوئے تھے اور انہیں یقین تھا کہ وہ پاکستان کیلئے بڑے مثبت کام کریں گے۔ تاہم اب 32سال بعد محبوبہ مفتی کی رائے یہ ہے کہ جب عمران خان وزیراعظم بنے تو وہ بھی پاکستان کے روایتی سیاسی کلچر کا حصہ بن گئے۔ ان کے دور میں بھی سیاسی مخالفین کے ساتھ وہی کچھ ہو رہا تھا جو آج کل ان کے ساتھ ہو رہا ہے۔ محبوبہ مفتی نے اس ٹویٹ میں دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ ان چند لائنوں میں انہوں نے پاکستان کے سیاسی کلچر اور سیاستدانوں کے مزاج کو ایکسپوز کر دیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے بہت سے ان کے اپنے سیاسی کلچر پر بھی سوالات اٹھائیں اور ان پر تنقید بھی کریں۔ سب باتیں اپنی جگہ ٹھیک ہوں گی لیکن بعض دفعہ اپنے مخالفین کی بات کو بھی ٹھنڈے دل سے سن لینا چاہیے کہ آیا ان کی بات میں وزن ہے یا نہیں؟ ان کے کہنے کا مطلب ہے کہ عمران خان نے وزیراعظم بن کر اپنے مخالفین کو سیدھا کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ وہ اپنے مخالفین کے ساتھ جو کرتے رہے‘ ان کے مخالفین وہی کچھ اب ان کے ساتھ کر رہے ہیں۔ محبوبہ مفتی صاحبہ شاید اپنے اس ٹویٹ میں اُس عمران خان کو مِس کر رہی تھیں جن سے وہ لندن میں آج سے 32برس پہلے ملی تھیں لیکن آج وہ مایوس ہیں کہ عمران خان وزیراعظم بن کر اس روایتی سیاسی کلچر میں ہی رنگ گئے جس میں مخالف کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے۔ نہ خان صاحب نے اپنے مخالفین کے ساتھ معاملات کو اس حد تک لے جانے سے گریز کیا نہ ہی اب موجودہ حکمران خان صاحب کے ساتھ کوئی رعایت کر رہے ہیں۔ اب یہ نہیں پتا کہ عمران خان اپنے مخالفین کے حوالے سے شروع سے ایسا رویہ رکھتے ہیں یا پھر جب سیاست میں آئے تو بینظیر بھٹو اور شریف خاندان کی جاری دشمنی سے متاثر ہوئے‘ جو 1988ء کے بعد ایک دوسرے کو فکس کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ ان دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے پر مقدمے اور جیلوں میں ڈالنے کا سلسلہ خان صاحب سے پہلے ہی شروع کر رکھا تھا۔ اس لیے عمران خان اس کلچر سے خود کو کیسے بچا سکتے تھے۔ شاید عمران خان سمجھتے تھے کہ جب وہ سیاست میں ہیرو کی طرح انٹری دیں گے تو ان کے ساتھ وہ سلوک نہیں ہو گا جو اُن سے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ جونیجو‘ بینظیر بھٹو یا میاں نواز شریف کے ساتھ ہوا تھا۔ وہ دیکھ چکے تھے کہ اس ملک میں سیاست کرنے کا کیا فارمولہ ہے یا دوسرے لفظوں میں کیا پیکیج ہے۔ عمران خان کو بھی اس کردار کشی کا سامنا کرنا پڑا جس کا نشانہ ان سے پہلے سب سیاستدان بنتے چلے آئے تھے۔ خان کے نزدیک یہ ان کا ذاتی مسئلہ تھا اور کسی کو ان کے ذاتی ایشوز کو اچھالنے کا حق نہ تھا۔ اس طرح جب ان کی جمائمہ خان سے شادی ہوئی تو بھی ان کے خلاف مہمیں چلتی رہیں۔ ان سب چیزوں نے عمران خان کے اندر غصہ بھرا جو دھیرے دھیرے اکٹھا ہوتا رہا اور جب ان کے پاس موقع آیا تو انہوں نے سکور سیٹل کرنے کا فیصلہ کیا اور سب کو جیل میں ڈال دیا‘ جس کی طرف محبوبہ مفتی صاحبہ نے اپنے ٹویٹ میں اشارہ کیا ہے۔
خان صاحب آصف علی زرداری کے واقعات بھی اپنی خود نوشت میں لکھ چکے ہیں کہ جب وہ ان سے شوکت خانم ہسپتال کیلئے ملے تھے۔ آصف علی زرداری سے اس ملاقات کی یادوں کی تلخی بھی ان کے اندر موجود تھی جب وہ وزیراعظم بنے۔ جمائمہ خان کے ساتھ طلاق کا ذمہ دار وہ اپنی کتاب میں بڑی حد تک مسلم لیگ (ن) کے میڈیا سیل کو سمجھتے ہیں۔ حالانکہ جمائمہ خان نے خان سے علیحدگی کی وجوہات کچھ اور بتائی تھیں۔ شریف برادران نے بھی کسر نہ چھوڑی جب جمائمہ خان کی والدہ پر پاکستان سے ٹائلیں لے جانے کے الزام پر کسٹمز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرا دیا۔ پاکستانی سیاست چلتی ہی ایک دوسرے پر جھوٹے سچے مقدمات پر ہے۔ لہٰذا اگر عمران خان یہ سوچ کر آئے تھا کہ وہ ورلڈ کپ جیت کر قوم کے ہیرو بن چکے ہیں یا شوکت خانم ہسپتال بنا کر اب وزیراعظم بننے کے حقدار ہیں تو یہ ان کی خوش فہمی تھی۔ سیاست اور اقتدار میں آپ کا کوئی سگا نہیں ہوتا۔ سیانے کہتے ہیں کہ بادشاہ کے دوست نہیں‘ حریف ہوتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر خان صاحب کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوا تھا تو انہوں نے وزیراعظم بن کر اپنے مخالفوں کے ساتھ کون سا اچھا سلوک کیا‘ کہ وہ کہہ سکیں کہ میں دوسروں سے مختلف ہوں یا کم از کم شریف خاندان سے تو بہت مختلف ہوں۔ اگر شریف برادران نے کسر نہ چھوڑی تھی تو چھوڑی عمران خان نے بھی نہیں تھی۔ (ن) لیگ اور عمران خان کی سوشل میڈیا ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف سوشل میڈیا پر بڑے غلیظ ٹرینڈ چلاتی رہیں اور اب بھی چلاتی ہیں۔ جس فرق کی تلاش محبوبہ مفتی کو تھی یا جس عمران خان سے مل کر انہیں خوشی ہوئی تھی‘ جو بعد میں مایوسی میں بدلی‘ وہ فرق کب کا ختم ہو چکا‘ اب عمران خان پہلے جیسے نہیں رہے‘ وقت اور حادثات نے ان کی سوچ بھی بدلی اور مزاج بھی۔ عمران خان کو اگر جنرل باجوہ نے کچھ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ وزیراعظم بن کر اب ذرا فوکس ملکی معیشت پر رکھیں اور مخالفین کو جیلوں میں ڈالنا بند کر دیں تو بھی عمران خان ناراض ہو گئے اور اکثر کہتے پائے جاتے تھے کہ مجھے جنرل باجوہ کہتے تھے کہ چوروں کو چھوڑ کر کام پر فوکس کرو۔ یہ سب لیڈر منڈیلا کی مثالیں تو بہت دیتے ہیں لیکن اقتدار ملنے پر ہٹلر بن جاتے ہیں۔عمران خان نے جب اپنا آئیڈیلزم چھوڑ کر روایتی پاکستانی سیاستدان والا روپ اختیار کیا تو سب سے زیادہ خوشی (ن) لیگ اور پی پی پی کے لیڈروں کو ہوئی کہ اب اونٹ آیا پہاڑ کے نیچے۔ وہ تو چاہتے ہی یہی تھے کہ عمران خان بھی ان جیسے کام کریں اور ان کی قطار میں کھڑے ہو جائیں۔اب عمران خان کے پاس موقع تھا کہ وہ اس جوش اور جذبے کو برقرار رکھتے جس کا مظاہرہ انہوں نے محبوبہ مفتی اور ان کے والد کے سامنے لندن میں کیا تھا یا پھر روایتی سیاستدان کے رنگ میں رنگ جاتے۔ جب آپ محبوبہ مفتی کے ٹویٹ کی روح کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ اگر وہ سمجھتی ہیں کہ جو سلوک عمران خان نے اپنے مخالفین کے ساتھ کیا‘ وہی سلوک اب عمران خان کے ساتھ ہو رہاہے تو یہ عمران خان کی شکست اور شریف اور زرداری گروپ کی فتح ہے کیونکہ وہ دونوں سیاسی پارٹیاں تو 1988ء سے ایک دوسرے کے خلاف یہی انتقامی کارروائیاں کر رہی تھیں۔ اس دوران عمران خان نے سیاست میں انٹری لی۔ انہوں نے انتقامی سیاست کے سائیکل کو توڑنا تھا۔ وہ چاہتے تو نئی شروعات کر سکتے تھے لیکن کیا کریں جب ہر طرف ایک ہی میوزک چل رہا ہو تو آپ الگ سے اپنا راگ کیسے گا سکتے ہیں؟ لہٰذا عمران خان نے بھی مخالفین کو فکس کیا‘ جو اَب انہیں کر رہے ہیں۔ خان جیل سے واپس آیا تو وہ انہیں فِکس کر دے گا۔ محبوبہ مفتی صاحبہ کی مایوسی اپنی جگہ‘ لیکن ہمارے ہاں سیاست میں فِکس کرنا ہی شغل ہے اور یہ شغل جاری رہنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس اور قومی تفریح کیا ہے؟
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments