جب بھی تاریخ پر نئی ریسرچ کے بعد نئی کتاب چھپتی ہے تو پہلا خیال ذہن میں یہی آتا ہے کہ اگر آرکیالوجسٹ‘ ریسرچرز اور مورخ نہ ہوتے تو ہمیں قدیم زمانوں کے قصے کون سناتا۔ ہم کتنے اَن پڑھ اور لاعلم ہوتے کہ آج جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں یہ کتنا طویل سفر کر کے یہاں تک پہنچی ہے۔ پچھلے ہفتے دو ایسی کتابیں خریدیں کہ دل اَش اَش کر اُٹھا۔ ان مورخین اور لکھاریوں کے لیے دل سے دعا نکلی۔ پہلی کتاب رومن جنرل جولیس سیزر پر ہے جو آکسفورڈ کے پروفیسر اینڈرین گولڈ وردی نے لکھی ہے اور دوسری بھارتی مورخ سنجے سبرامنیم(Sanjay Subrahmanyam) نے لکھی ہے جس کا نام ہے Across the Green Sea۔ جولیس سیزر پر لکھی گئی کتاب میں کیا نئی چیز ہو سکتی ہے؟ اس پر تو ہزاروں کتابیں لکھی گئی ہیں تو پھر ایک اور کتاب کیوں؟ مجھے ویک اینڈ پر کراچی جانا تھا تو ساتھ رکھ لی‘ جہاز میں اس کا تعارف پڑھنا شروع کیا اور یقین کریں مجھے لگا آج سے پہلے سیزر کے بارے کچھ علم ہی نہ تھا حالانکہ لیہ کالج میں اپنے مرحوم استاد جی ایم صاحب سے بی اے انگلش لٹریچر کلاس میں جولیس سیزر پڑھا۔ پڑھا کیا یوں کہیں بیت گیا تھا۔ جیسا جولیس سیزر لیہ کے اُن محترم استاد صاحب نے پڑھایا وہ پھر کبھی ذہن سے نہ اترا۔ خیر اس کتاب کے تعارف میں مصنف نے سیزر کے بارے جو لکھا مجھے لگا آج تک مجھے تو ایک فیصد بھی علم نہ تھا کہ اُس دور کے کیا حالات تھے اور سیزر کا بچپن‘ جوانی اور فتوحات اور سب سے بڑھ کر وہ کس ماحول میں پیدا ہوا تھا۔ میرے لیے یہ حیران کن بات تھی حالیہ آرکیالوجی کی دریافتوں سے جو کچھ مواد مل رہا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی دنیا کو رومن دور کی اُس تہذیب کے بارے شاید ایک فیصد علم ہوا ہے۔ باقی کا علم کہیں دفن ہے یا ضائع ہو گیا۔ اس مورخ کی محنت اور جس طرح اس نے یہ کتاب لکھی ہے اس پر رشک آیا۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ ریسرچ اور کتاب لکھنا گورے پر ختم ہے لیکن بھارتی مورخ سنجے نے میری یہ غلط فہمی دور کر دی۔ اس سے پہلے بھارتی مورخ Abraham Eraly نے بھی ہندوستان کی تاریخ خصوصاً سلطنتِ دہلی اور مغلوں پر کیا شاندار کتابیں لکھی ہیں۔ اب میں پہلی دفعہ سنجے سبرامنیم سے متعارف ہوا ہوں جو امریکہ میں رہتے ہیں اور کیا کمال تعارف ہوا ہے۔ ابراہم ارالی کی موت کا جو دکھ تھا کہ اتنے بڑے مورخ سے دنیا محروم ہو گئی تھی وہ اب سنجے صاحب کی یہ کتاب پڑھنے سے کم ہو رہا ہے۔ یہ کتاب دراصل ہندوستان کے عرب‘ افریقہ‘ ایران اور شام تک تجارتی اور مذہبی تعلقات کو سامنے لاتی ہے۔ آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ تاریخی طور پر ہندوستان کتنا امیر اور خوشحال خطہ رہا ہے۔ اس کتاب میں سولہویں صدی کے سلطنتِ عثمانیہ کے اہم مورخ Jar Allah Muhammad Ibn Fahdکی لکھی تاریخ سے حوالے لیے گئے ہیں۔
باقی تفصیلات چھوڑ کر ہم گجرات کے سلطان مظفر شاہ کو ہی دیکھ لیتے ہیں جو 1511ء سے1525ء تک حکمران رہے۔ سلطان مظفرشاہ ہر سال بہت بڑا عطیہ مکہ بھیجا کرتا تھا۔ساری رقوم جو گجرات سے مکہ جاتیں وہ خواجہ تاج الدین لاری وصول کرتے تھے جو ایرانی النسل تھے اور مکہ میں گجرات کے حکمران کی طرف سے بھیجی گئی رقومات اور دیگر اشیا کے امین تھے۔ آدھا عطیہ مکہ اور آدھا مدینہ میں تقسیم کیا جاتا۔ مارچ 1519ء میں یہ خبر مکہ میں پھیل گئی کہ گجرات سے تین کشتیاں جدہ آرہی ہیں جن میں مکہ کے وہ لوگ بھی واپس لوٹے ہیں جو ہندوستان گئے ہوئے تھے۔ انہی دنوں ایک شاہی کشتی پر سلطان مظفر شاہ کے ہاتھوں سے لکھا قرآن پاک بھی تحفہ کے طور پر لایا گیا۔ اس تحفے کے ساتھ سلطان مظفر شاہ نے سولہ ہزار دینار کے علاوہ مہنگے ملبوسات اور دیگر قیمتی اشیا بھی بھیجیں۔ اس پر مکہ میں ایک بڑی تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں سلطان مظفر شاہ کے ہاتھ سے لکھے قرآن شریف کی تقریب کی گئی اور اسے بڑی مناسب جگہ پر رکھ دیا گیا تاکہ سب اس کی زیارت کر سکیں۔ پتہ چلا کہ گجرات کا سلطان مظفر مکہ میں زمین خریدنے کا خواہشمند بھی تھا جہاں وہ مدرسہ بنانا چاہتا تھا۔ جو زمین سلطان مظفر کو چاہیے تھی وہ شام کے ایک تاجر کی ملکیت تھی جو کچھ عرصہ پہلے ہندوستان آیا ہوا تھا اور اس کی ملاقات سلطان سے ہوئی تاہم زمین کی منتقلی میں خاصی تاخیر ہوئی تو سلطان پریشان ہوا اور مکہ میں اپنے ایجنٹس پر دباؤ ڈالا کہ معاملہ جلد از جلد نمٹایا جائے۔ پتہ چلا کہ اس زمین کی خرید و فروخت کی اجازت عثمانیہ سلطنت کے سلطان سلیم سے لینی ہو گی۔ خیر کچھ دنوں بعد اجازت مل گئی اور مظفرشاہ کا مدرسہ تیار ہو گیا جس کو چلانے کے لیے دس بندوں کا انتخاب کیا گیا جن کو تنخواہیں اور دیگر مراعات سلطان کے خزانے سے دی جاتی تھیں۔ ان سب باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ سولہویں صدی میں گجرات بہت امیر علاقہ تھا جہاں سے مکہ‘ جدہ‘ مشرقی افریقہ‘ ایران‘ شام تک تجارتی سرگرمیاں ہوتی تھیں۔ مکہ کے دانشور گجرات دربار کو اپنے لیے مستقل امداد اور سرپرستی کا موجب سمجھتے تھے۔ 1510ء کے بعد پرتگالیوں نے سمندر میں تجارتی اور دیگر جہازوں پر حملے کر کے لوٹ مار شروع کر دی تھی۔ جس پر سلطنتِ عثمانیہ نے اس پر غور کرنا شروع کر دیا کہ انہیں ان قذاقوں کے ہندوستان میں ٹھکانوں پر حملے کرنے چاہئیں۔ اس دوران ہندوستان کے حالات بڑی تیزی سے بدلنے لگے۔ 1535ء اکتوبر میں ایک دن جدہ میں ہندوستان سے چھ کشتیاں لنگر انداز ہوئیں تو مقامی تاجر حیران ہوئے کہ یہ اچانک کیسے آ گئیں۔ ان کی آمد کی خبر نہ تھی۔ پتہ چلا کہ شاہی کشتیاں گجرات کے سلطان مظفرشاہ کے بیٹے بہادر شاہ کی ہیں۔ اس کی سلطنت پر مغل سلطان ہمایوں نے قبضہ کر لیا تھا اور بہادر شاہ نے اپنا سارا خزانہ‘ ہیرے جواہرات‘ سونا چاندی اور دیگر قیمتی تحائف اور نقدی سمیٹ کر جہازوں میں ڈال کر اپنے بھائی اور بیوی اور باقی اہم لوگوں کو جدہ بھیج دیا۔ کل دو ہزار لوگ وہاں سے روانہ ہوئے۔ ان میں دو کشتیاں ایسی تھیں جو سلطان آف عرب اور عجم سلیمان ابن عثمان کے لیے تحائف سے بھری ہوئی تھیں۔ اس سامان میں 350 صندوق قیمتی اشیا اور تحائف سے بھرے ہوئے تھے جن میں سونے کے سکے بھی تھے۔ چند صندوقوں میں سات سے دس ہزار دینار بھی بھرے ہوئے تھے جو وہاں مختلف مساجد کے تین اہم لوگوں کے لیے تھے جو اُن کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ اتنی دولت دیکھ کر گورنر جدہ نے سب کچھ روک لیا تاکہ پہلے استنبول میں سلطان یا گورنر مصر سے پوچھ لیں کہ ان کا کیا کرنا ہے کیونکہ یہ بہت زیادہ دولت تھی جو بہادر شاہ نے اپنے بھائی اور بیوی کے ساتھ بھیجی تھی۔ مکہ کے اہم لوگوں کے لیے بھی بہت سے تحائف لائے گئے تھے۔ تاہم جدہ کے گورنر نے گھریلو استعمال کی چیزوں کے علاوہ سب کچھ ضبط کر لیا۔ ہندوستان کے دو ہزار افراد کا یہ قافلہ کچھ بھی نہ کر سکتا تھا تاہم انہوں نے منت کی کہ کم از کم چند ضرورت کی چیزیں تو واپس کر دیں۔ سلطنتِ عثمانیہ کے گورنر مصر نے جو رپورٹ سلطان کو استنبول بھیجی اس میں لکھا تھا کہ بہادر شاہ کا کچھ پتہ نہیں وہ زندہ ہے یا مر گیا‘ اگر اگلے سیزن تک وہ نہ آیا تو سب کچھ ضبط کر کے مالِ غنیمت شمار کیا جائے گا کیونکہ نہ اس کے بچے ہیں نہ ہی رشتہ دار‘ صرف اس کی بیوی اس دولت کے ساتھ آئی ہے جو پچیس لاکھ سونے کے سکوں کے برابر مالیت کی ہے۔
وقتی طور پر سب کچھ جدہ میں ضبط کرانے کے بعد اب سوال پیدا ہوا کہ وہ کہاں جائیں اور کہاں رہیں گے۔ آخر کسی کو خیال آیا کہ برسوں پہلے گجرات کے سلطان مظفر شاہ نے ایک مدرسہ تعمیر کرایا تھا۔ ہندوستان سے لی گئی اپنی دولت ضبط کرانے کے بعد وہ سب جن میں گجرات کی اشرافیہ عمادالملک‘ سلطان بہادر کی نرس سمیت خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل تھی‘ اپنے محافظوں کے ساتھ مکہ کو چل پڑے۔ شامی تاجر سے خریدی گئی زمین پر بنایا گی وہی مدرسہ آج گجرات کے شاہی خاندان کی جائے پناہ ثابت ہوا تھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments