"RKC" (space) message & send to 7575

152ارب کہاں خرچ ہو ں گے؟

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان اُن پارلیمنٹرینز میں سے ہیں جنہیں پچھلے کئی برسوں سے لوگوں کے حقوق کیلئے حکومتوں‘ طاقتور لوگوں اور بیوروکریسی سے لڑتے دیکھا ہے۔ یہ شاید ان کا مزاج ہے کہ وہ غلط باتوں کو برداشت نہیں کر پاتیں اور اکثر ان کے سینیٹ کمیٹیوں کے اجلاس میں پھڈے ہو جاتے ہیں۔ انہیں برسوں سے سینیٹ اور کمیٹی اجلاسوں میں سنا ہے۔ ان کی وجہ سے بڑی بڑی سٹوریز بھی سامنے آئی ہیں۔ چند ماہ پہلے انہوں نے ہی وفاقی وزارت برائے آئی ٹی کا مضحکہ خیز ٹاور بل روکا تھا کیونکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وہی چیئرپرسن ہیں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ یہ بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے کلیئر ہو کر اسمبلی سے پاس بھی ہوگیا تھا۔ یہ سینیٹر پلوشہ خان ہی تھیں جنہوں نے اس بل کو کمیٹی میں پڑھا تو حیران رہ گئیں کہ یہ کیسا قانون بنایا جارہا ہے جس میں عوام کے ملکیتی حقوق ایک لحاظ سے ٹیلی کام کمپنیوں کو دیے جارہے ہیں۔ اس اجلاس میں ان کا (ن) لیگ کے سینیٹر افنان اللہ اور سینیٹر سعدیہ عباسی نے بھی ساتھ دیا۔ سینیٹر پلوشہ نے فوراً بلاول بھٹو کو واٹس ایپ میسج کیا اور انہیں بتایا اور بلاول بھٹو نے بھی اس بل کی سنگینی کو سمجھا اور پلوشہ کو کہا کہ اسے فوراً روک دیں۔ یوں اس پر بڑا شور شرابہ ہوا کہ ایسا بل بھلا قومی اسمبلی سے کیسے پاس ہوگیا تھا۔ اب بتایا جارہا ہے کہ وہ پرانا متنازع بل حکومت سینیٹ سے واپس لے کر نیا بل پارلیمنٹ میں لا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس بل کو کیسے بیلنس کر کے لاتی ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں اور عوام دونوں اس سے مطمئن ہوں اور دونوں کو لگے کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے ‘کیونکہ سابقہ متنازع بل تو سارے کا سارا ٹیلی کام کمپنیوں کیلئے ہی بنایا گیا تھا اور جس نے بھی پڑھا وہ حیران ہوا کہ یہاں تو پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضے کا قانونی حق دیا جارہا تھا خصوصاً اس سے ہاؤسنگ سوسائٹیز نے بہت متاثر ہونا تھا۔
اسی طرح یہ سینیٹر پلوشہ خان ہی تھیں جنہوں نے پچھلے سال سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں سب کی توجہ اس طرف دلائی کہ پمز ہسپتال کے معاملات بہت خراب ہیں اور وہاں گروپنگ اور پاور سٹرگل کی وجہ سے حالات بہت خراب ہیں اور کسی وقت بھی وہاں کوئی بڑا مسئلہ کھڑا ہوسکتا ہے۔ اس پر سینیٹر پلوشہ کو پمز کے پندرہ بیس ڈاکٹروں نے اپروچ کیا جو وہاں ہسپتال کے حالات بتانا چاہ رہے تھے۔ پلوشہ خان نے ان ڈاکٹروں کو کمیٹی اجلاس میں بلوا لیا تاکہ وہ ہیلتھ کمیٹی میں اپنے سارے خدشات سامنے رکھ سکیں لیکن جونہی پمز کے اعلیٰ حکام کو علم ہوا تو انہوں نے اس کمیٹی میں موجود سینیٹرز میں ایسی لابنگ کی کہ الٹا سینیٹرز نے ان ڈاکٹرز کو شٹ اَپ کالز اور بے عزت کر کے کمیٹی سے واپس جانے پر مجبور کیا۔ ان ڈاکٹروں پر ہی الزامات لگائے گئے۔ سینیٹر پلوشہ نے کمیٹی ممبران کا یہ حیران کن رویہ دیکھ کر استعفیٰ دے دیا تھا کہ اس کمیٹی میں اگر عوامی مسائل پر سینیٹرز کا یہ رویہ ہے تو میں اس کی ممبر نہیں رہ سکتی۔اب مزے کی بات ہے کہ سینیٹ کی وہی قائمہ کمیٹی پمز پہنچی ہوئی تھی تاکہ ہسپتال میں بچوں کے جاں بحق ہونے پر انکوائری اور حکام سے جواب طلبی کرسکے۔ جب پمز کے ڈاکٹرز ہسپتال میں پھیلی بدانتظامی اور گروپنگ کا ایشو لے کر پارلیمنٹ ہاؤس گئے تھے تو انہیں ذلیل کیا گیا اور اب جبکہ جس بات کا خدشہ تھا وہ ہوچکا تو کمیٹی ممبران زور شور سے وہاں بول رہے تھے کہ یہ کیسے ہوا؟ میری اپنے ٹی وی شو میں سینیٹر پلوشہ سے اس پر بھی بات ہورہی تھی کہ ہمارے سویلین اداروں کے پاس ایسی صلاحیت اور قابلیت کی کیوں کمی ہے جو آپ کو سی ایم ایچ اور ملٹری ہسپتال یا پی اے ایف‘ یا پھر اے ایف آئی سی میں نظر آتی ہے؟ اگر دیکھا جائے تو سرکاری اور ان فوجی ہسپتالوں کا بجٹ یا ان کے سربراہوں کی تنخواہیں اور مراعات ایک جیسی ہیں۔ پھر پرفارمنس میں اتنا بڑا فرق کیوں؟
ابھی سی ڈی اے نے اس سال 152ارب روپے کا بجٹ اسلام آباد کیلئے منظور کیا ہے۔ پچھلے سال 90ارب تھا۔ جی ہاں‘ آپ نے درست پڑھا ہے‘ اس سال کا بجٹ 152 ارب روپے ہے اور اسلام آباد صرف 24 کلومیٹر کا شہر ہے۔ یہاں سینکڑوں افسران بیٹھے ہیں‘ بڑے بڑے قابل بیوروکریٹس اور وزیروں کی پوری فوج‘ لیکن ایک وزیر صاحب فرماتے ہیں کہ کسی کے بس میں پمز ہسپتال چلانا یا ٹھیک کرنا نہیں ہے۔ جی ہاں‘ یہ بات ایک وفاقی وزیر کہہ رہا ہے جس کا کام ہی ان ہسپتالوں کو ٹھیک رکھنا اور قابل لوگوں کو وہاں لگانا ہے تاکہ وہ عوام کو سہولتیں دے سکیں۔ لیکن 24کلومیٹر‘ جہاں اس وقت پچاس‘ ساٹھ وزیر اور مشیر ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ یہ ہسپتال ان کے بس سے باہر ہے۔ اگر آپ سے ایک ہسپتال نہیں چلایا جارہا تو آپ ملک کیسے چلا رہے ہیں۔
یہ بات طے ہے کہ جہاں بھی کوئی سفارش پر بڑا عہدہ لیتا ہے تو وہ اس ادارے کو اوپر لے جانے کے بجائے الٹا سب کام چھوڑ دیتا ہے‘ تاکہ سفارشی کی عزت ہو کہ اُس کے ہوتے ہوئے مجھے کام کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اسے اس ادارے میں اپنی چودھراہٹ کی زیادہ فکر ہوتی ہے ۔ اور پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جو میرٹ پر کسی ادارے کا سربراہ لگ جائے تو وہ بھی اس زعم اور تکبر سے نہیں نکل پاتا کہ وہ تو میرٹ پر لگا ہے۔ وہ کسی کی سفارش پر نہیں لگا‘ لہٰذا وہ کسی کا محتاج یا مقروض نہیں ہے۔ وہ جو جی چاہے گا کرے گا۔ وہ زیادہ بدتمیز نکلے گا۔ یوں سفارشی اور میرٹ والے اپنے اپنے زعم میں اکثر ناکام ہوتے ہیں۔ دونوں اُس Delicate Line کا دھیان نہیں رکھ پاتے جو ان انتظامی عہدوں کیلئے ضروری ہوتی ہے۔ آپ اکثر ان سفارشی اور میرٹ والوں کو مغرور پائیں گے۔ ایک کو سفارش کا غرور تو دوسرے کو قابلیت اور میرٹ کا تکبر۔ اب آپ بتائیں کہ آپ کہاں سے نارمل لوگ لائیں جو ان اداروں کو پروفیشنل انداز میں چلائیں؟ان سے بات کریں تو وہ کہتے ہیں کہ 1998ء میں جب اسلام آباد کی آبادی آٹھ لاکھ تھی تو بھی شہر کا مرکزی ہسپتال یہی پمز تھا۔ آج اٹھائیس برس کے بعد آبادی پچیس‘ تیس لاکھ ہوگئی ہے تو بھی وہی ہسپتال ہے۔ الٹا وہ کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا سے بھی مریض بڑی تعداد میں پمز ریفر کیے جاتے ہیں۔ وہ الگ سے ہسپتال پر بوجھ ہیں۔ خیبر پختونخوا میں حکومت پر کوئی دباؤ نہیں ہے کہ وہ آبادی بڑھنے کے ساتھ اپنے صوبے میں جدید سہولتوں اور قابل ڈاکٹروں سے بھرے ہسپتال کھولے تاکہ وہاں کے مریضوں کو اسلام آباد نہ آنا پڑے۔
دوسری طرف اسلام آباد میں نئے ہسپتال بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ بہتر ہوتا کہ کھنہ پل‘ فتح جنگ اور بہارہ کہو جیسے علاقوں میں نئے ہسپتال بنائے جاتے تاکہ ان علاقوں سے جو مریض اتنا لمبا سفر کر کے اسلام آباد شہر میں آتے ہیں‘ وہ اپنے قریب ہی علاج کرا سکیں اور سب سے بڑھ کر پمز اور پولی کلینک پر سے دباؤ کم ہو۔ ہمارے ہاں صرف ترقی ایک ہی کام میں ہورہی ہے اور وہ ہے نئی نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز یا پھر اسلام آباد میں اربوں روپے انڈر پاسز اور فلائی اوورز پر ضائع کیے جارہے ہیں۔ اب تو لگتا ہے اسلام آباد میں تو ہر گلی محلے کی سڑک پر انڈر پاس بن رہا ہے اور شہر کا کل ایریا چوبیس کلومیٹر سے بھی کم ہے۔ یہ چوبیس کلومیٹر تو پورے وفاق کا رقبہ ہے جبکہ شہر کا ریڈیئس تو شاید دس کلومیٹر سے بھی کم ہوگا۔
اب آپ بتائیں کہ آپ چوبیس کلومیٹر کے اس چھوٹے سے شہر میں 152 ارب روپے ایک سال میں کیسے اور کہاں خرچ کریں گے۔ پھر خواجہ آصف کہتے ہیں کہ پاکستانی بیوروکریٹس بیرونِ ملک جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ اب 152 ارب روپے کہیں تو خرچ کرنے ہیں کیونکہ اسلام آباد جیسے چھوٹے سے شہر میں تو یہ رقم ایک سال میں خرچ کرنا مشکل ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...