"RS" (space) message & send to 7575

نیویارک اجلاس: عالمی امن کا نادر موقع

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی جیو پولیٹکل اور جیو اکنامک صورتحال شدید تناؤ اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ عالمی برادری کی تمام تر توجہ نیویارک میں جمع ہونے والے دنیا بھر کے رہنماؤں پر مرکوز ہے‘ جہاں تنازعات کے حل اور پائیدار امن کی بحالی کیلئے سفارتی کوششیں تیز تر ہو چکی ہیں۔ اس اہم عالمی فورم پر ایرانی صدر کی شرکت اور امریکی صدر کی جانب سے ان سے ممکنہ ملاقات کے اشاروں نے امید پیدا کی ہے۔ امریکہ اور ایران کے مابین طویل عرصے سے کشیدگی اور گزشتہ کچھ مہینوں سے بالواسطہ تصادم کے بعد یہ اجلاس فریقین کو اختلافات پر گفتگو کرنے اور بحران کے پُرامن حل کی سمت پیش رفت کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ مذاکرات میں تعطل آنے کے بعد متحارب گروہ اور متعلقہ فریقین مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے گریزاں رہے ہیں‘ جس کی وجہ سے خطے میں فوجی تصادم اور عدم استحکام کا دائرہ مسلسل پھیلتا چلا گیا۔ اس تناظر میں اقوام متحدہ کا یہ فورم تمام بااثر عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کو ایک ایسا تاریخی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں وہ تمام متحارب گروہوں کو لچک دکھانے اور گفت و شنید کا راستہ اختیار کرنے پر قائل کر سکیں۔ اگر اس موقع پر سفارتی لچک نہ دکھائی گئی اور یہ سنہری موقع ضائع کر دیا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے بے حد ہولناک ہو سکتے ہیں۔ امریکی قیادت کی جانب سے ایران کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے‘ یہ صورتحال پورے خطے کے امن کیلئے خوفناک ہے۔ امریکی صدر نے کہاہے کہ مکمل تباہی کا راستہ‘ شدید ترین اقتصادی تنہائی یا پھر جامع و حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے براہِ راست مذاکرات۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بحران کی سنگینی اب انتہائی نکتے پر پہنچ چکی ہے۔
امریکی قیادت کی طرف سے دھمکیوں کے باوجود سفارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی مذاکراتی میکانزم کو دیکھتے ہوئے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ مزید کسی بڑے ملٹری ایڈونچر یا ہمہ گیر جنگ کی نوبت نہیں آئے گی اور اقوام متحدہ کے اجلاس کے اختتام سے قبل دنیا کو امن کی بحالی کا پیغام مل سکے گا۔ اس سلسلے میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا تہران سے نیویارک روانگی کے دوران دوحہ میں مختصر قیام اور قطری حکام سے مشاورت ایک اہم پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔ قطر امریکہ اور ایران کے مابین جاری شدید ترین تناؤ میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان بھی خطے میں امن کیلئے کوشاں ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے خاتمے سے متعلق شرائط کا تبادلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تہران بھی معاشی و فوجی توازن برقرار رکھتے ہوئے کسی تصفیے کا خواہشمند ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشیدگی اور جنگ کا خاتمہ محض امریکہ یا ایران کی سیاسی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ پوری دنیا بالخصوص توانائی برآمد کرنے والے خلیجی ممالک کی اشد معاشی ضرورت بن چکا ہے۔ سعودی عرب اور قطر جیسے تیل اور قدرتی گیس پیدا کرنے والے اہم ترین ممالک فوری جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مکمل آزادی کے خواہشمند ہیں کیونکہ توانائی کی سپلائی چین متاثر ہونے کے باعث ان کی معیشتیں شدید دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکی ہیں۔ قطر انرجی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعد الکعبی نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے باعث کمپنی کے اہم ترین ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے کیونکہ بحری رکاوٹوں کی وجہ سے ضروری مشینری اور آلات وقت پر پہنچنا ممکن نہیں رہا۔ نیویارک میں منعقدہ معاشی فورم کے دوران قطری حکام نے واضح کیا کہ قطر کو ایل این جی کی پیداوار اور بر آمدات میں مسائل کا سامنا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز کو دوبارہ محفوظ جہاز رانی کیلئے مکمل طور پر کھول دیا جائے تو کچھ ہی ہفتوں کے اندر پیداواری اور تجارتی سرگرمیاں معمول پر لائی جا سکتی ہیں۔ اگر کشیدگی طویل ہوتی ہے تو شمال مشرق فیلڈ ڈویلپمنٹ جیسے بڑے منصوبوں کی 2027ء اور شمال جنوب فیلڈ منصوبے کی 2028ء تک متوقع پیداواری آؤٹ پٹ کے شیڈول شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب کی تیل تنصیبات کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے‘ جہاں حوثی ملیشیا کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں نے توانائی کی عالمی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اگرچہ ترکیہ‘ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک نے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور علاقائی امن کو تباہ کرنے والے عناصر کو سخت نتائج سے خبردار کیا ہے۔ پاکستان دنیا کو بحران سے بچانے کیلئے بھی سرگرم ہے تاکہ خطے کو ممکنہ تباہی سے بچایا جا سکے۔
ایران یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ پوری استقامت کے ساتھ کھڑا ہے‘ تاہم اس کی معیشت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران طاقت کے ساتھ ساتھ سفارتکاری کا حامی بھی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے پارلیمنٹ سے خطاب میں اس کی نشاندہی کی کہ جنگوں کا آغاز تو آسانی سے ہو جاتا ہے اور اس پر بڑی بڑی باتیں کی جاتی ہیں لیکن اس کے حتمی‘ مؤثر اور پُرامن خاتمے کیلئے کوئی واضح اور ٹھوس لائحہ عمل موجود نہیں ہوتا۔ انہوں نے ایران کی حکمتِ عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تہران دفاعی محاذ پر اپنی فوجی طاقت کا بھرپور استعمال کرے گا تاکہ دشمنوں کو پیچھے دھکیلا جا سکے‘ تاہم مناسب اور موزوں وقت آنے پر میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامرانیوں کو مستقل سیاسی تصفیے میں بدلنے کیلئے سفارتکاری اور بالواسطہ مذاکرات سے ہی کام لیا جائے گا۔
اسی سفارتی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کے مطابق تہران نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو مذاکرات کی دوبارہ بحالی کیلئے سات بنیادی شرائط پیش کر دی ہیں اور اب امریکی قیادت کے جواب کا انتظار ہے۔ ان شرائط میں تمام محاذوں پر فوجی معرکہ آرائی کا مکمل خاتمہ‘ امریکہ میں منجمد ایرانی مالیاتی اثاثوں کی فوری بحالی اور بحری ناکہ بندیوں کے خاتمے کی شرائط شامل ہیں۔ تاہم جب بھی دو اہم طاقتیں سفارتکاری کے ذریعے مذاکرات کے میز پر آتی ہیں تو ہر فریق زیادہ سے زیادہ حاصل کر کے خود کو فاتح ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے قبل کے مذاکراتی ادوار بھی اسی لیے ناکامی کا شکار ہوئے کیونکہ بعض فریقوں نے عوامی و میڈیا کے دباؤ کو اپنی اَنا کا مسئلہ بنا لیا اور سیاسی ہزیمت کے خوف سے دوبارہ جارحانہ حکمت عملی اپنا لی۔
اگر اب بھی امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے عمل کے ساتھ دھمکیوں اور اقتصادی دباؤ کا سلسلہ جاری رہا تو پُرامن حل کی تمام تر کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں۔ اب چونکہ یہ بحران محض دو ممالک کا دو طرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ قطر اور سعودی عرب جیسے اہم امریکی اتحادی بھی اعلانیہ طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ اس بحران کا طول پکڑنا ان کی معیشتوں کیلئے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے‘ اس لیے عالمی برادری پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اس اجلاس کو بہترین موقع کے طور پر استعمال کرے۔ نیویارک میں ہونے والی یہ ممکنہ ملاقاتیں اور سفارتی کوششیں اگر درست سمت میں آگے بڑھتی ہیں تو مشرق وسطیٰ کو ممکنہ تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...