میں سازشی تھیوریوں پر یقین نہیں رکھتا‘ نہ ہی ان کے بارے میں لکھتا ہوں۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جب آپ کا ذہن کسی بات یا معاملے کو سمجھنے سے قاصر ہو جاتا اور آپ رک جاتے ہیں تو اس لمحے لفظ سازش آپ کے ذہن میں آتا ہے۔ مطلب جو بات آپ کی سمجھ میں نہیں آ رہی وہ سازش ہے۔ یہ وہ لفظ ہے جو آپ کی دماغی صلاحیت کے کم ہونے کا اعتراف بھی ہے اور آپ کو محفوظ راستہ بھی دیتا ہے کہ ہم خود کو الزام نہیں دیتے کہ اس پورے عمل کو سمجھ نہیں پا رہے‘ لہٰذا اپنی لاعلمی اور بے عقلی کو ہم سازش کے غلاف میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
آج میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں کچھ سازشی تھیوریوں کو بے نقاب کروں کیونکہ میرا دماغ بھی ایک مرحلے پر پہنچ کر ان بڑے لوگوں کی گیم سمجھنے سے قاصر ہے‘ لہٰذا بہتر طریقہ یہی ہے کہ سازش ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے۔ کچھ دوستوں سے سوشل میڈیا پر بات ہو رہی تھی کہ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے حصے میں ہی ایسے جمہوریت پسند کیوں آئے ہیں جنہیں عوام کو بچانا پڑتا ہے یا وہ عوام سے ہی پوچھتے رہتے ہیں کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ جو مسلسل اپنی مظلومیت کا رونا روتے رہتے ہیں۔ ابھی کل ہی ایک جگہ طلبہ کے ساتھ مذاکرہ تھا جس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی‘ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان‘ تیمور سلیم جھگڑا‘ فواد چودھری‘ قمرزماں کائرہ‘ احمد بلال محبوب اور میں شریک تھا۔ مشہور اینکر پرسن محمد مالک اس کارروائی کو چلا رہے تھے۔ بات نئے صوبوں پر ہو رہی تھی۔ اس پر سوال و جواب کے سیشن میں ایک صاحب نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان میں جو لوگ سیاست میں آتے ہیں‘ کیا انہیں علم نہیں ہوتا کہ مسائل حل کیسے کرنے ہیں؟ وہ اگر نہیں جانتے تو لیڈر کیوں بن جاتے ہیں؟ وہ حیران تھے کہ اگر آپ نے اقتدار ملنے کے بعد بھی یہی پوچھتے رہنا ہے اور آپ اگر خود کنفیوز ہیں تو پھر آگے بڑھ کر لیڈر کیوں بن بیٹھے ہیں؟ اس پر ہال میں سب نے تالیاں بجائیں کہ بات تو ٹھیک ہے کہ اگر سیاسی اشرافیہ میں صلاحیت ہی نہیں تو پھر وہ سیاست میں کیوں آئے ہیں۔ سیاست میں آپ اس وقت آتے ہیں جب آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے پاس اس ریاست‘ ملک اور معاشرے کے مسائل کا حل موجود ہے اور آپ کو اگر اقتدار ملا تو آپ سب ٹھیک کر دیں گے۔ لیکن اقتدار ملنے کے بعد آپ عوام سے پوچھنے لگ جاتے ہیں کہ اب ہم کیا کریں۔ اسی بنا پر مجھے لگتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے پاکستان میں سیاست کرنے کا ایک ہی فارمولہ تلاش کر رکھا ہے اور وہ پرفارمنس نہیں بلکہ مظلومیت ہے۔ عمران خان کے جیل جانے سے پہلے (ن)لیگ اور پیپلز پارٹی والے خود کو مظلوم سمجھتے تھے‘ اور ان کے پاس درجنوں جواز تھے۔ پیپلز پارٹی بھٹو صاحب کی پھانسی اور بینظیر بھٹو کے قتل کو اور نواز شریف دہشت گردی کے الزام میں ہونے والی سزاؤں کو اپنے خلاف انتقام سمجھتے تھے۔ لہٰذا ان دو پارٹیوں کے لیڈران پرفارمنس سے زیادہ اپنے اوپر مظالم کی بات کرتے تھے۔ عمران خان کا زور اس بات پر تھا کہ ان دونوں پارٹیوں نے چالیس سال تک کچھ نہیں کیا بلکہ ملک کو لوٹا ہے۔ مزے کی بات ہے کہ عمران خان اپنے سیاسی مخالفین کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے کہتے کہ آج کے دور سے جنرل ضیا اور جنرل مشرف کا دور بہتر تھا۔ اب ذہن میں رکھیں جنرل ضیا دور میں بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی تھی اور جنرل مشرف کے دور میں نواز شریف کو چودہ برس سزا سنائی گئی تھی اور اسی دور میں بینظیر بھٹو قتل ہوئی تھیں۔ لیکن پی ٹی آئی والے اب بھی ان دونوں ادوار کو بہتر سمجھتے ہیں۔ وہی بات کہ جس تن لاگے سو تن جانے۔ پیپلز پارٹی کو ضیا دور برا لگتا ہے تو نواز شریف کو مشرف دور‘ اور پی ٹی آئی کو موجودہ دور برا لگتا ہے۔
ایک اور دلچسپ پہلو ملاحظہ کریں! دنیا بھر میں سیاسی لیڈر عوام اور ریاست کے مسائل اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے سیاسی میدان میں اترتے ہیں۔ لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ ان کے بنیادی انسانی حقوق‘ معاشی ترقی کا تحفظ کریں گے‘ ان کو خطرناک عناصر سے بچائیں گے‘ وغیرہ وغیرہ۔ وہ لوگوں کو اپنی باتوں سے یقین دلاتے ہیں کہ صرف وہی ان کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ وہ کرپشن نہیں کریں گے‘ فرینڈز اینڈ فیملی کے کاروبار کو پروموٹ نہیں کریں گے‘ نہ ہی سیاست سے مال کمائیں گے۔ بڑی حد تک وہ اپنی باتوں پر قائم بھی رہتے ہیں اور اگر انہیں لگے کہ وہ ڈِلیور نہیں کر پا رہے تو عہدے سے استعفیٰ دے کر الگ ہو جاتے ہیں‘ جیسے آج کل برطانیہ کی مثال دی جاتی ہے۔ لوگوں کو تو برطانیہ کے اُن چھ وزرائے اعظم کے نام تک شاید یاد نہ ہوں جو پچھلے دس برسوں میں بدلے ہیں۔ ایک ہم ہیں کہ نواز شریف اور عمران خان میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ دونوں کو اپنے ہٹائے جانے پر سخت اعتراضات ہیں‘ چاہے ایک کو کورٹ آرڈر پر ہٹایا گیا اور دوسرے کو پارلیمنٹ کے اندر عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا۔ برطانیہ میں چھ وزرائے اعظم نے خود یہ عہدہ چھوڑا‘ خود یا پھر پارٹی کے کہنے پر استعفیٰ دیا مگر وہاں کوئی آسمان نہیں گرا۔ ہمارے ہاں یہ تاثر بنا دیا گیا ہے کہ اگر نواز شریف‘ آصف زرداری یا عمران خان نہ رہے تو شاید کچھ نہیں بچے گا۔ ان سب نے اپنے اپنے فالوورز کی آنکھوں میں خود کو ایسا دیوتا بنا دیا ہے کہ ان کے حامیوں کو لگتا ہے اگر وہ نہ رہے تو دنیا چلنا بند کر دے گی۔ لہٰذا ان تینوں پارٹیوں کے لیڈروں نے اپنے اپنے کلٹ بنا لیے ہیں جو سارا دن ان کی عظمت کی کہانیاںسناتے رہتے ہیں۔ مزے کی بات ہے کہ جن لیڈروں نے عوام کے مسائل حل کرنے تھے‘ عوام کو الٹا ان کے مسائل حل کرنا پڑ رہے ہیں۔ جنہوں نے عوام کو ان کے حقوق دلانے تھے‘ الٹا عوام سب کام چھوڑ کر سڑکوں پر نکلے ہوتے ہیں کہ ہمارے لیڈروں کو ان کے حقوق دو۔ وہی اپنے لیڈروں کیلئے سڑکوں پر گولیاں کھاتے ہیں‘ جیلوں میں جاتے ہیں‘ کوڑے کھاتے ہیں‘ اپنے گھر تباہ کراتے ہیں‘ عدالتوں میں دھکے کھاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر سارا دن اپنے لیڈر کو مظلوم ثابت کرنے کیلئے جھوٹی سچی کہانیاں گھڑتے رہتے اور مخالفین کو گالیاں دیتے رہتے ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو سے نواز شریف اور عمران خان تک‘ ان سب کے مسائل کی وجہ مشترک ہے۔ تینوں تاحیات وزیراعظم رہنا چاہتے تھے اور اس کام کیلئے انہیں ایسے سپہ سالار چاہیے تھے جو اس کام میں ان کے مددگار ہوں اور وہ اگلا الیکشن جیت سکیں۔ سپہ سالار کو اس بات کا کچھ عرصے بعد پتا چلتا کہ سینئرز کو نظر انداز کر اسے ہی کیوں چنا گیا۔ پھر شاید وہ یہ سوچنے لگتے کہ اگر سب کام میرے ہی کندھوں پر بیٹھ کر کرنے ہیں تو میں خود کیوں نہ کر لوں۔ بھٹو صاحب جنرل ضیا کو ساتویں نمبر سے اوپر لائے تھے اور ان کے ذہن میں یہی وفاداری اور اگلا الیکشن تھا۔ نواز شریف بھی اسی لیے جنرل مشرف کو اوپر لائے کہ وہ سادہ ہیں‘ میں امیرالمومنین بن کر رہوں گا۔ مشرف کے بعد جنرل ضیا الدین بٹ بھی اس لیے لائے جا رہے تھے کہ تاحیات اقتدار میں رہنا ہے۔ عمران خان جنرل باجوہ کو مدتِ ملازمت میں توسیع دے کر یہی منصوبہ بنائے بیٹھے تھے کہ اگلا چیف 2022ء میں جنرل فیض کو بنائوں گا اور اگلا الیکشن پرفارمنس پر نہیں بلکہ فیض حمید کی مدد سے جیتوں گا۔ لیکن انہوں نے ان تینوں کے منصوبے بھانپ کر اپنا اپنا کھیل کھیلا اور سب کچھ الٹ دیا۔ یہ جن کو اپنے اقتدار میں توسیع کیلئے لائے تھے‘ وہی ان کیلئے جلاد اور صیاد بنے۔ اب مظلوم کون ہے‘ خود فیصلہ کر لیں۔ جمہوریت تاحیات اقتدار میں رہنے کا نام نہیں۔ یہ عام سی بات ذوالفقار علی بھٹو‘ نواز شریف اور عمران خان نہیں سمجھ سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments