"AAC" (space) message & send to 7575

اعلانِ انہدامِ نظام

ستمبر ستمگر بننے جا رہا ہے‘ بدلتے تیور کے ساتھ ساتھ ہواؤں کا رُخ بدلنے کے واضح اشارے بھی برابر مل رہے ہیں۔ دور کی کوڑی لانے والے دور دراز سے نت نئی کوڑیاں لا رہے ہیں جبکہ سیاسی پنڈت بھی حکمرانوں کے مستقبل کو لے کر صبح شام مہورت پر مہورت نکالے چلے جا رہے ہیں۔ دانشوری بگھارنے والے کہیں نقطے ملاتے نظر آرہے ہیں تو کہیں خاکے بناتے۔ ممکنات سے لے کر غیرمتوقع اور بعید از قیاس تک سبھی کے جواز اور توجیہات تراشنے کے علاوہ جہاں اُوٹ پٹانگ بونگیاں دیکھنے اور سننے کو مل رہی ہیں‘ وہاں اس قدر پکے منہ سے آنے والے دنوں کے منظر نامے اور نقشے کھینچے جا رہے ہیں جیسے ماسٹر پلان انہی کی مشاورت اور شراکت کے گرد گھومتا ہو۔ اس اُدھم میں یہ توقع بھی بجا طور پر کی جا سکتی ہے کہ گول مول تجزیے کرنے والے نئے صوبوں کے نام اور ان کی حد بندی کا پرچہ آؤٹ نہ کر دیں۔ ریٹنگ اور پوائنٹ سکورنگ اس قدر اہم ہدف بن چکا ہے کہ خبر کی صحت اور صداقت روز بروز ثانوی اور بے معنی ہوتی چلی جارہی ہے۔
صدر آصف علی زرداری لندن کیوں گئے؟ محسن نقوی ان کے تعاقب میں کیوں ہیں؟ زرداری کو وزیر باتدبیر نے کیا اہم پیغام پہنچایا ہے؟ ہنرمندانِ ریاست و سیاست نے محسن نقوی کو کیا ٹاسک دے کر بھیجا ہے؟ اس میں لچک اور نافرمانی کی گنجائش کا تناسب کیا ہے؟ جواب اور ردعمل کیا آیا ہے؟ کوئی زرداری صاحب کی لندن روانگی کو ٹوکنِ جلاوطنی قرار دے رہا ہے تو کوئی حکمتِ عملی‘ اسی طرح کوئی نیا لندن پلان قرار دے رہا ہے تو کوئی بڑی بیٹھک۔ کوئی محسن نقوی کی نظام سے متعلق تقریر سے تانے بانے جوڑ رہا ہے تو کوئی اس تقریر کا باقاعدہ تسلسل قرار دے رہا ہے۔ برادرم سہیل وڑائچ ونڈر بوائے کی آمد کا اشارہ دینے کے بعد بیشتر کالم اشاروں کنایوں اور استعاروں کی بیساکھیوں سے لکھے چلے جا رہے ہیں۔ ان کالموں سے زور اور تقویت پکڑنے والے دانشور بلٹ پوائنٹس کی صورت اسباب اور امکانات کا تڑکا لگا کر باقاعدہ پیش گوئی کرتے نظر آتے ہیں۔ مرحوم و مغفور بزرگوار عبدالقادر حسن کے کالموں میں بھولے کے کردار سے سبھی بخوبی واقف ہیں۔ دور کی کوڑیوں اور ممکنہ خطرات و اندیشوں سمیت ممکنات کے علاوہ ہونی اور اَنہونی کو باور کرانے کا ہنر وہ بھولے کے سہارے بخوبی آزماتے رہے۔ اسی طرح آج کل وڑائچ صاحب کے استعاروں کا چرچا ہے‘ حالیہ کالموں میں کہیں کٹا کھول ڈالا ہے تو کہیں کٹے کے سرِ بازار دیدار کی خبر دے رہے ہیں‘ کیڑیوں کو رنگ و نسل میں تقسیم کر کے ایسی گردان کی ہے کہ سبھی پارٹیاں اپنے اپنے اہداف کے گرد رینگتی نظر آرہی ہیں۔ دیکھیے آنے والے دنوں میں کن کن کیڑیوں کے پر نکلتے ہیں۔ ویسے کیڑیوں کے قبیلے میں پر نکلنا کوئی اچھا شگون نہیں ہے جبکہ سیاسی قبیلے میں پروں کے بغیر پرواز ممکن ہی نہیں۔ ان حوالوں اور استعاروں کا مقصد محض تمہید ہرگز نہیں! دراصل راج نیتی کے نبض شناس دانشوروں اور سیاسی پنڈتوں کی آرا اور مہورت شیئر کرنا اس لیے مقصود تھا تاکہ آنے والے دنوں میں طے کیا جا سکے کہ کس کا کہا کتنا مستند قرار پایا ہے۔
وَنڈر بوائے کی تھیوری کے نقطے اعلانِ انہدامِ نظام سے ملائے جائیں تو بننے والے خاکے مستقبل کے منظرنامے کا استعارہ لگتے ہیں جبکہ ان فرضی یا متوقع خاکوں میں بڑی مہارت سے رنگ بھرنے کا ہنر بھی بخوبی آزمایا جا رہا ہے۔ زمینی حقائق میں خواہشات کی پیوندکاری ہو یا راج نیتی سے جڑے رہنے کی کیمیا گری‘ دونوں کے جواز اور اسباب کی برانڈنگ اور مارکیٹنگ کے روپ بہروپ آئے روز آشکار ہو رہے ہیں۔ کون کہاں جھوم رہا ہے اور کون کہاں گھوم رہا ہے‘ یہ سبھی پرچے بھی برابر آؤٹ ہو رہے ہیں۔ آؤٹ ہوتے ان پرچوں میں اِن آؤٹ کا گیم پلان بھی کسی کونے سے جھانک رہا ہے۔
سندھ میں نہری منصوبوں پر دوٹوک اور اَٹل فیصلہ لینے والے آصف علی زرداری نئے صوبوں پر کیونکر مانیں گے اس پر جمع تفریق کریں تو مزاحمت در مزاحمت ہی نکلتی ہے جبکہ مسلم لیگ(ن) بظاہر تو تیل اور تیل کی دھار دیکھ رہی ہے لیکن تیل کی اسی دھار میں پھسلنے کا خطرہ بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے واضح جواب آنے کے بعد کہانی کے نئے اور اَن دیکھے موڑ بھی سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ اس موقع پر مرزا غالبؔ کا ایک شعر بے اختیار یاد آرہا ہے جو حالات کی وضاحت میں مددگار ہو سکتا ہے:
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
ایسے میں پیغام رساں کو مزید پیغام رسانی کیلئے بھی تیار رہنا چاہیے کیونکہ ہنرمندانِ ریاست سمیت سبھی واقفانِ حال بخوبی جانتے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری کیا کہیں گے جواب میں۔ ٹیکنالوجی کا دور ہے‘ ممکن ہے ملنے والے جواب کے جواب الجواب میں کوئی نیا سوال بھی انہیں موصول ہو گیا ہو۔ نئے صوبوں کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کا فیصلہ زیادہ دور نہیں۔ تختِ سندھ پر 2008ء سے نان سٹاپ شوقِ حکمرانی پورے کرنے والے کس دل سے اپنی حکمرانی کے حصوں بخروں پر راضی ہوں گے؟ لندن میں یکسوئی اور سکون کے ساتھ جو غور و خوض ہو سکتا ہے وہ ایوانِ صدر میں کیونکر نصیب ہو سکتا تھا۔ ایک بار زمانۂ اپوزیشن میں بھی اینٹ سے اینٹ بجانے کا بیان دے کر سمندر پار جا بیٹھے تھے۔ واقفانِ حال کے مطابق اس بار بھی قیام مختصر دکھائی نہیں دیتا۔ جب تک صوبوں کا اونٹ کھڑا ہے‘ صدر زرداری بھی بیرونی دورے پر ہی نظر آرہے ہیں؛ البتہ اونٹ کے بیٹھتے ہی واپسی کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں جبکہ اونٹ کے لیٹنے کی صورت میں فیصلہ حالات اور نئی ترجیحات کے مطابق ہوگا۔
مسلم لیگ(ن) مزاحمت اور اختلاف کی پوزیشن سے کوسوں دور ہے‘ اچھے بچوں کی طرح سبھی فیصلوں پر سر تسلیم خم ہوگا۔ اوّل آخر ترجیحات میں فقط اقتدار پیشِ نظر ہو تو صوبے بھلے ڈویژن کی سطح پر بنیں یا ضلع کی‘ تکرار یا انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سیاست میں کوئی بات حتمی اور حرفِ آخر نہیں ہوتی‘ نئے صوبوں کے منصوبے پر من و عن عملدرآمد کے امکانات جہاں قوی دکھائی دے رہے ہیں وہاں کمزوری اور لچک کے امکانات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے میں طرزِ حکمرانی کی رِی ماڈلنگ کے آپشنز بھی پیشِ نظر ہیں۔
نئے صوبوں کے قیام پر پیپلز پارٹی کا ڈیڈ لاک شدت اختیار کر گیا تو منصوبے پر نظرِثانی کیلئے متوازی یا متبادل پلان بھی کارگر ہو سکتا ہے۔ زیر غور سبھی آپشنز کے تانے بانے ملائیں تو نئے صوبے دکھا کر بااختیار بلدیاتی نظام پر اتفاقِ رائے بھی ممکن ہے۔ مزاحمت پر آمادہ اور نئے صوبوں سے خائف ضلعی گورنمنٹ سسٹم کے قیام کو عافیت مان سکتے ہیں۔ یاد رہے! اب کے ضلعی سطح پر قائم ہونے ادارے مالی اور انتظامی طور پر نہ صرف بااختیار ہوں گے بلکہ صوبائی حکومتوں کے اثر اور مداخلت سے بھی محفوظ ہوں گے جبکہ ان کے کنٹرول اور جوابدہی کا میکانزم بھی مختلف اور کہیں اور ہو گا۔ ایسی صورت میں صوبائی حکومتوں کے ارکان اور وزیروں کو ترقیاتی اور بلدیاتی فنڈز سے دور رکھنے کا بندوبست بھی موجود ہو گا جبکہ بااختیار ضلعی نظام کو براہِ راست وفاق کے زیرانتظام کرنے کا آپشن بھی اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے کا بہترین ثمر بن سکتا ہے۔ ان حالات میں اٹھائیسویں ترمیم میں حائل رکاوٹیں جہاں دور ہوتی نظر آرہی ہیں وہاں نہری منصوبے پر مزاحمت بھی مجبوری اور مصلحت کی نذر ہوتی نظر آرہی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...