"AAC" (space) message & send to 7575

کیس پر کھیس

اخبارات کا پلندہ اُلٹا پلٹا کر پڑھنے کے باوجود ڈھونڈے سے کوئی ایسی خبر نہیں ملتی جو سوشل میڈیا پر جاری دانشوری اور دور کی کوڑی لانے والوں کی کسی خبر کی تائید و تصدیق کر سکے۔ دوسری طرف حکومت کیلئے آزمائشیں اور مشکلات کی توجیہات اور جواز پیش کرنے والے کہیں نقطے ملا رہے ہیں تو کہیں مستقبل کے خاکے بنا کر پیش کر رہے ہیں‘ کوئی وزیراعظم کے مستقبل کو پریشان قرار دے رہا ہے تو کوئی وفاقی کابینہ میں اہم وزرا کو قلمدان سے محروم کیے جانے کی خبروں پر ریٹنگ لے رہا ہے۔ مخصوص وزرا کی کارکردگی پر سوال اٹھانے والے کابینہ کے دیگر ارکان کو نجانے کس کارکردگی پر پاسنگ مارکس دے رہے ہیں حالانکہ سبھی کی جمع تفریق کا حاصل نامعلوم اہلیت اور صفر کارکردگی کے سوا کچھ نہیں‘ البتہ خود کو چوٹی کا سیاستدان سمجھنے والے پرانی چوٹیوں پر ہی گھوم رہے ہیں۔ انہیں احساس ہی نہیں کہ حالات یکسر بدل چکے ہیں‘ ان کی چرب زبانی اور بے باکی حکومت کیلئے جوابدہی اور سبکی کا باعث بنتی چلی آرہی ہے جبکہ زبانی جمع خرچ سے کام چلانے والوں کی وزارتیں ویسے ہی سرکاری بابوؤں کے مرہونِ منت ہیں۔ ہر دور میں شاہ کے مصاحب بنے رہنے والے شاہ بدلنے کے بعد حالات کی تبدیلی کا اندازہ ہی نہیں کر پائے۔ ان کی نظروں میں آنے کی وجہ کارکردگی نہیں بلکہ وہ زبان و بیان ہے جو آئے روز حکومت کو مشکلات سے دوچار کرنے کا باعث ہے۔ سسٹم کی دھجیاں اُڑانے سے لے کر گورننس پر کڑے سوالات اور سرکاری افسران کی لوٹ مار سمیت بیرونِ ملک جائیدادوں کے قصوں سے انقلابی بھاشن تک اسمبلی کے فلور پر بیان کرنے والے حکومتی بنچوں کو کونے جھانکنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اسی طرح برادرِ کلاں کے دیگر قریبی بھی سنیارٹی اور قربت کے زعم میں ایجنڈا آئٹمز کو مسلسل نظرانداز کرتے چلے آرہے ہیں۔ حلقے کی سیاست اور لچھے دار گفتگو کے ماہر وزارت کے جھمیلوں سے خود کو بوجوہ دور ہی رکھتے ہیں۔ مطلوبہ اہلیت سے عاری فائل ورک اور گراؤنڈ ورک سمیت دیگر تکنیکی امور میں بھی نہلے ہی پائے گئے ہیں۔ ایسے میں لمبی زبان اور عقل کا فقدان حکومت کے ساتھ ساتھ خود اپنے لیے بھی جوابدہی اور کڑے سوالات کا باعث بنتا چلا گیا۔ حکومتی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات کو مزید کڑا اور جواب سے محروم بنانے والوں میں اہم کردار انہی وزرا کا ہے جو قلمدان تو لیے پھرتے ہیں لیکن قلم کے ہنر اور تقاضوں سے نابلد پائے گئے ہیں۔ کارکردگی پر کڑے سوالات کا دائرہ بڑھائیں تو وہ وفاقی وزرا بھی زد میں آتے ہیں جو سیاسی پس منظر تو نہیں رکھتے لیکن وزیراعظم کے قریبی ہونے کی وجہ سے قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں‘ کوئی قربانیوں کا تاوان وصول کر رہا ہے تو کوئی وفاداریوں کی قیمت۔ اسی طرح بنائی جانے والی کابینہ جوابدہی کے بوجھ تلے روزبروز دھنستی چلی جا رہی ہے۔ جب کابینہ کارکردگی سے خالی ہے تو حکومت کے پاس لے دے کے مصالحانہ کوششوں اور ثالثی کی غرض سے کیے جانے والے چند دوروں کے سوا کچھ نہیں بچتا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنی کابینہ میں وفاقی ماڈل سے پرہیز کیا ہے‘ کابینہ میں نئے اور جوان چہرے آزمائے گئے ہیں۔ کارکردگی جیسی بھی ہو لیکن سپیڈ اور آنیاں جانیاں قابلِ تقلید ہیں۔ خود مختار پالیسی کے تحت ملک کا سب سے بڑا صوبہ چلانا یقینا بڑا کریڈٹ ہے‘ البتہ بیشتر وزرا کی حالت اور کارکردگی سے گمان ہوتا ہے کہ یہ سبھی اپنا بھرم بچاتے پھر رہے ہیں۔ ان کے محکمے خودکار نظام کے تحت اس طرح چلائے جا رہے ہیں کہ فیصلہ سازی میں وزرا کا کردار محض نمائشی اور فوٹوسیشن تک محدود ہے یعنی بیوروکریٹک ماڈل نے وزارتوں کو اس طرح جکڑا ہوا ہے کہ چھوٹے بڑے فیصلوں سے لے کر منصوبوں تک سبھی کا انحصار وزرا کے بجائے سرکاری بابوؤں کا مرہونِ منت ہے۔ محکمانہ تبادلوں میں وزرا کی صوابدید تو درکنار‘ ان کی رائے اور مشورہ بھی شاید زائد از ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ البتہ سوشل میڈیا پر ان کی محکمانہ سرگرمیاں دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ سارا نظام انہی کے اشاروں پر چل رہا ہے جبکہ درونِ خانہ حقیقت یکسر مختلف ہے۔ ناقدری کے باوجود چند وزرا حلقے کی سیاست سے لے کر محکمانہ اجلاسوں کی صدارت سمیت اضلاع کے دوروں‘ حادثات اور غمی خوشی میں پیش پیش دکھائی دیتے ہیں جبکہ بیشتر 'جو مل گیا اسی کو مقدر سمجھ لیا‘ کے مصداق صابر شاکر بنے شریکِ اقتدار ہونے کے احساس ہی سے سرشار ہیں۔ وفاقی حکومت سے لے کر صوبائی حکومتوں تک کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے منیر نیازی کا یہ شعر بطور استعارہ شامل کیا جا سکتا ہے:
منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
سندھ کا باوا آدم تو ویسے ہی نرالا ہے۔ کونے کونے میں بربادی و بدحالی کے مناظر کارکردگی کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جیسے یہ باعثِ شرمندگی نہیں بلکہ باعثِ تفاخر ہے۔ وہ ناخوب کو خوب بنانے کا بیانیہ بھی خوب بناتے ہیں۔ کے پی اور بلوچستان کی گورننس پر سوالات اٹھانے سے پہلے کئی ایسے سوالات ازخود کھڑے ہو جاتے ہیں جن پر تبصرے کے بجائے احتیاط اور اختصار ہی بہتر ہے۔ البتہ پنجاب پہ منیر نیازی کے مذکورہ شعر کا دوسرا مصرع کمال فٹ ہوتا ہے۔
اِک ہنگامہ سا برپا ہے‘ افراتفری کا عالم ہے‘ محکمے جادوئی رفتار سے بھاگے پھر رہے ہیں۔ ضابطے اور قانون تلوار لیے ہدف کی تلاش میں ہیں‘ ہر کام کے دام طے ہیں‘ ادارے شنوائی سے انکاری اور غریب ماری زوروں پر ہے‘ پھیری لگانے والوں سے لے کر کھوکھوں اور دکانوں سمیت فیکٹریاں چلانے والے بھی یکساں اور مسلسل پریشان ہیں۔ کاسمیٹک گورننس نے عوام کی حالتِ زار کے ساتھ ساتھ شکل و صورت بھی بگاڑ ڈالی ہے‘ کہیں روٹی کا حصول مشکل ہے تو کہیں ضروریاتِ زندگی خواب بنتی چلی جا رہی ہیں۔ جینے کی پابندی اور مرنے کی آزادی کا ماڈل اس طرح لاگو ہے کہ دن کے اجالے رات کی تاریکی سے زیادہ بھیانک منظر پیش کر رہے ہیں۔ کہیں قتلِ طفلاں کی منادی ہے تو کہیں مرگِ نو جاری ہے‘ انسان نما سفاک بھیڑیے قانون اور ریاست کے لیے آئے روز چیلنج کا باعث بن رہے ہیں۔ معصوم بچوں کی پامالی اور مسلسل ہلاکتیں روز مرہ کے واقعات بن چکے ہیں۔ رپورٹ ہونے والے واقعات پر چند دن کا تماشا ہوتا ہے اس کے بعد کیس پر کھیس ڈال دیا جاتا ہے۔ بدنامِ زمانہ منشیات فروش پنکی کیس ہو یا غیر ملکی خواتین سے زیادتی کا کیس‘ سرگودھا کی منتہیٰ ہو یا چکوال کی ہانیہ‘ یہ سبھی المناک واقعات اور حادثات وقت کی گرد پڑتے پڑتے بالآخر قبر بن جائیں گے۔ گویا: جتنی خبریں اُتنی قبریں۔ اس تناظر میں اَن گنت قبرستان ماضی کے واقعات کو اپنی قبروں میں دبائے ہوئے ہیں۔ تحقیقات‘ انکوائریاں‘ ٹرائل سمیت سبھی حیلے اور جواز نظر کا دھوکا ہیں۔ ہماری یادداشت بھی اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ تازہ سانحہ پرانے سانحے کی جگہ پر اس طرح قابض ہو جاتا ہے جیسے پرانا کبھی تھا ہی نہیں۔ کوئی ایک آدھ سانحہ ہو تو دل و دماغ میں اسے جگہ بھی دیں۔ اب آئے روز ملنے والے ڈھیروں صدمات کہاں دلِ ناتواں میں سما سکتے ہیں۔ ادھر کوئی ہائی پروفائل واقعہ رونما ہوا‘ اُدھر کھیس بُننا شروع کر دیا جاتا ہے اور موقع ملتے ہی کیس پر کھیس ڈال کر قصہ پاک کر دیا جاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...