"AAC" (space) message & send to 7575

کالا دھن اور چِٹّا پاؤڈر

ملک بھر میں اُدھم کا سماں ہے‘ کہیں 28ویں ترمیم پر دانشوری برابر جاری ہے تو کہیں پنکی لیکس پر پوائنٹ سکورنگ۔ ماضی کی ڈان لیکس ہوں یا پاناما لیکس سبھی نے کہیں بھونچال کا سماں پیدا کیا تو کہیں دربدری کا باعث بنیں لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ سبھی کردار باکردار ہو کر بلند مقام پا چکے ہیں۔ اسی طرح پنکی لیکس پر طوفان اٹھانے والے بھی خاطر جمع رکھیں! یہ چسکا بھی وقتی ہی ثابت ہو گا۔ عدالت میں دبنگ پیشی کی وڈیو وائرل نہ ہوتی تو شاید پنکی کی گونج گلی کوچوں سے ایوانوں تک جاتی اور نہ اداروں کو آہنی ہاتھ استعمال کرنا پڑتا۔ ایک وڈیو نے متعلقہ اداروں کے چھکے چھڑانے کے علاوہ ان سبھی کی نیندیں بھی اُڑا ڈالی ہیں جو چشم پوشی پر نازاں اور شاداں تھے۔ دور کی کوڑی لانے والے تو برملا کہتے ہیں کہ پنکی کے خلاف کریک ڈاؤن یونہی نہیں ہوا۔ حکمران اشرافیہ کو ہوش تب آیا جب نشے کی آگ نے ان کے گھروں کو لپیٹ میں لے لیا۔ آفرین ہے اس ملک کے قانون اور اس کے رکھوالوں پر‘ سالہا سال سے پنکی انواع و اقسام کے جان لیوا نشوں کی کیمیاگری کے ساتھ کروڑوں اربوں روپے کا دھندا کرتی رہی اور کسی کو کچھ دکھائی دیا نہ سجھائی۔ لاہور سے لے کر کراچی تک 'نارکوٹکس کوئین‘ کا راج کیونکر قائم رہا اس کا عقدہ روز بروز کھلتا چلا جا رہا ہے۔ سینکڑوں خریداروں کی فہرست میں سبھی خاص الخاص ہیں۔ اس کے سبھی کلائنٹس دھن دولت سے مالا مال اور معاشرے میں اپنا اپنا مقام رکھتے ہیں۔ ان سینکڑوں میں بیسیوں ایسے بھی شامل ہیں جن کے نام اور مقام سے سبھی واقف ہیں۔ کوکین اور دیگر مہنگے ترین نشوں کی سپلائی کا وسیع نیٹ ورک چلانے والی انمول پنکی نے سبھی کے مول تول رکھے تھے۔ تبھی تو دو درجن کے قریب مقدمات اور بلاک شناختی کارڈ کے باوجود کھلے عام دھندہ جاری رہا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں پیش ہونے والی 30 صفحات پر مشتمل چشم کشا رپورٹ نے مزید پرچے آؤٹ کر ڈالے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے کچھ ارکان اس رپورٹ کو ایجنڈا بنانے سے نہ صرف گریزاں تھے بلکہ زیر بحث نہ لانے کی توجیہات بھی پیش کرتے رہے کہ پولیس تحقیقات جاری ہیں‘ ملزمہ ریمانڈ پر ہے‘ کیس زیر سماعت ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسے پردہ نشینوں کے نام اب بے پردہ ہو چکے ہیں جو پنکی نیٹ ورک سے استفادہ کے عوض بالواسطہ تو کہیں بلاواسطہ اسے سپورٹ بھی کرتے رہے۔
نشے کے مہلک اثرات اپنی جگہ لیکن پنکی کیمیا گری نے اس نشے کو جان لیوا بنا ڈالا۔ کالے دَھن اور چِٹّے پاؤڈر کی تاریخ کئی دہائیوں پر مشتمل ہے۔ 1979ء سے قبل پاکستان میں چرس‘ گانجا‘ افیون اور شراب کا نشہ چلتا تھا جس میں جان جانے کے واقعات شاذ و نادر ہی سامنے آتے تھے‘ پھر جب افغان مہاجرین آئے تو ہیروئن کا تحفہ ساتھ لے کر آئے‘ اس چِٹّے پاؤڈر نے جہاں نوجوان نسلوں کو گھن کی طرح کھانا شروع کیا وہاں اپنی نسلیں اور دن سنوارنے کے خواہشمندوں نے اسے دھندہ بنانے میں کوئی عار محسوس نہ کیا۔ اس مکروہ دھندے سے آنے والے کالے دھن نے نہ صرف ان کے حوصلے بڑھا ڈالے بلکہ دیکھا دیکھی کئی پرانے غریب نئے امیر بن کر کم مایا بستیوں سے شہر کے پوش علاقوں میں جا بسے۔ جوں جوں یہ دھندہ بڑھتا چلا گیا توں توں گلی کوچوں سے لے کر تعلیمی اداروں سمیت ملک کے کونے کونے تک جا پہنچا۔ کسی کا دھندہ چوری چھپے تو کسی کا کھلے عام چلتا رہا‘ کس علاقے میں کس کا پاؤڈر بکتا رہا سب کو سبھی جانتے تھے۔ اس کالے دھن کے زور پر ایک نئی اشرافیہ وجود میں آئی جو دیکھتے ہی دیکھتے معززین کے طور پر مانے جانے لگے۔ کلف لگی قمیص شلوار پر ویسٹ کوٹ زیبِ تن کیے ان سبھی محفلوں میں پائے جاتے جن کے تانے بانے ایوانوں تک جاتے تھے اور چشمِ فلک نے نجانے کتنوں کو ریڈ کارپٹ استقبال اور اگلی نشستوں پر براجمان دیکھا اور بیشتر ایوانِ اقتدار کی زینت بھی بنے۔ ہوسِ زر بڑھی تو کیمیکل نشہ کوکین‘ کرسٹل‘ آئس‘ ایکس ٹیسی سمیت نجانے کیسے کیسے جان لیوا نشے ایجاد کر ڈالے۔ آج یہی عفریت جہاں لاکھوں زندگیاں نگل چکا ہے وہاں کروڑوں جانیں اس لت میں لت پت ہیں۔
سونے کے بھاؤ ملنے والا یہ نشہ اس اشرافیہ کیلئے متعارف کرایا گیا جو ڈرگ مافیا کو تحفظ دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ سپلائی اینڈ ڈیمانڈ کو ضرورتوں کی دلالی کے فارمولے میں اس طرح فٹ کیا گیا کہ سبھی ایک دوسرے کی ضرورت بنتے چلے گئے۔ اشرافیہ کی بگڑی اولادیں آسان ہدف ثابت ہوئیں‘ کوئی پارٹی ہو یا رنگین محفل‘ رنگ جمانے کے لیے سبھی پنکی اور پنکی جیسوں کی محتاج ہوتی چلی گئیں۔ شہر کے مخصوص علاقوں میں قائم شیشہ کیفیز سمیت چائے خانوں کے سموکنگ ایریاز دھوئیں کے بادل بناتے نوجوان بچے بچیوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کے گردوپیش میں نشے کے آسان مواقع اور مراکز بارے سبھی خاص و عام بخوبی جانتے ہیں۔ نوجوان نسل کی تباہی اور ہلاکتوں کے ہوش اڑا دینے والے اعداد و شمار دیکھ کر جون ایلیا کا ایک شعر یاد آرہا ہے:
ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد
دیکھنے والے ہاتھ مَلتے ہیں
ڈیمانڈ کی جمع تفریق کریں تو ایسی درجنوں خواتین ناکافی ہیں۔ دوسری طرف اس ہولناک صورتحال کے نقطے ملائیں تو بننے والے خاکوں میں بھیانک منظرناموں کے علاوہ سبھی شکلیں بند آنکھ سے بھی دیکھی جا سکتی ہیں جو بوجوہ اس نیٹ ورک میں بندھے ہوئے ہیں‘ کوئی خریدار ہونے کے ناتے مافیا کی بقا کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہے تو کوئی کالے دھن سے حصہ وصول کر کے شراکت داری نبھا رہا ہے‘ سب کو سبھی جانتے ہیں۔ خاطر جمع رکھیے! یہ دھماچوکڑی بس کچھ دن جاری رہے گی اس کے بعد کوئی نیا سکینڈل لانچ کر کے توپوں اور کیمروں کا رخ پھیر دیا جائے گا۔ ہمارے ہاں ایسے ایشوز کی ٹائم لائن طے ہوتی ہے۔ یہ پہلا کیس ہے نہ آخری‘ ارمغان کیس کی تحقیقات کا دائرہ جب اس مقام پر پہنچا تھا تو اس وقت اداروں کا دائرہ کار بوجوہ سکڑ گیا تھا۔ یہ تو ایک برانڈڈ مہرہ ہے‘ اس کو مکافات کا ایندھن بنانے کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں یہ عقدہ بھی آنے والے دنوں میں کھل ہی جائے گا۔ گمان غالب ہے کہ کلائمکس تک 28ویں ترمیم کا اصل مسودہ منظوری کے مراحل کی طرف رواں دواں ہو‘ جس میں 18ویں ترمیم کے سبھی بینی فشریز بے بس اور آمادگی پر مجبور نظر آئیں گے‘ بصورتِ دیگر گورننس پر اٹھنے والے کڑے سوالات کا دائرہ مالی بے ضابطگیوں سمیت بدانتظامیوں سے ہوتا ہوا نجانے کہاں تک پہنچے۔
پیپلز پارٹی کا باری بدلنے کا مطالبہ جہاں الٹا پڑ چکا ہے وہاں صدارت سمیت دیگر آئینی عہدوں کے عوض دی گئی یقین دہانیوں اور بلند بانگ دعوؤں کا حساب بھی مانگ لیا گیا ہے‘ حساب میں پورا نہ اترنے کی قیمت 28ترمیم کی منظوری کی صورت میں چکانا پڑ سکتی ہے۔ دوسری طرف سیاسی پنڈت جہاں وزارتِ عظمیٰ کو خطرات سے دوچار قرار دے رہے ہیں وہاں تختِ پنجاب پر بھی خطرات کے بادلوں کی خبر دے رہے ہیں۔ ایک زیر گردش خبر کے مطابق وزارتِ عظمیٰ کیلئے ایک اور میراتھن شروع ہونے کو ہے‘ جس میں وفاقی وزیر داخلہ کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب بھی شامل نظر آئیں گی۔ اس تناظر میں علی ڈار کی راج نیتی میں ٹریننگ کو بھی معانی خیز قرار دیا جارہا ہے اور کسی سرپرائز کی صورت میں وہ تختِ پنجاب میں متبادل وزیراعلیٰ بھی ہو سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں