بھاٹی گیٹ لاہور میں گٹر برد ہونے والی ماں بیٹی کی روحیں بارگاہِ الٰہی میں یقینا سراپا احتجاج ہوں گی۔ داتا دربار پر حاضری کے لیے آنے والا خاندان کس قیامت سے دوچار ہوا‘ اس کی تفصیل دہرانے کے بجائے وہ عقدہ کھولتے ہیں جو حکومت بوجوہ کھولنے سے قاصر ہے۔ اعلیٰ سطحی اجلاس ہوئے‘ وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی گئی‘ ان سبھی کے وڈیو کلپس سرکاری سطح پر جاری کیے گئے‘ تحقیقاتی کمیٹی نے ایس ایچ او اور ایس پی کو تشدد کا ذمہ دار ٹھہرا یا۔ اس دلخراش واقعہ کے کئی بھیانک پہلو ہیں جن سے پہلو تہی برابر جاری ہے۔ حادثہ اور سانحہ کہیں بھی‘ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے لیکن ریسکیو کے بجائے اسے جھٹلانا بدترین سفاکی ہے۔ میڈم چیف منسٹر نے چیف سیکرٹری اور آئی جی سمیت دیگر اہم افسران پر آن کیمرہ افسوس اور برہمی کا اظہار تو کیا لیکن بَلی کا بکرا فقط انہیں بنایا گیا جو حکم کی تعمیل کی پاداش میں دھر لیے گئے۔ اس شرمناک واقعے کو چھپانے یا ہینڈل کرنے کی کوششوں میں سرکاری بابوؤں نے اس مہارت سے حکومت کو چونا لگایا کہ حکمران یک زبان ہو کر فیک نیوز کا پرچار کرتے رہے۔ وہ تو ماں بیٹی کی لاشوں نے گواہی دے کر اُس خاتون کے شوہر کی خلاصی کروا دی‘ ورنہ وہ بھی شاید کسی گٹر یا نالے میں ہی بہا دیا جاتا۔ سسٹم کے گندے نالے میں وہ جو غوطے کھا چکا‘ وہ عذاب و عتاب اس کے ناقابلِ برداشت صدمے اور غم کو ہمیشہ تازہ رکھے گا۔
سرکاری مشینری کسی بھی حکومت کی آنکھ اور کان کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کیا راکٹ سائنس ہے کہ آج تک اس امر کا تعین ہی نہیں ہو سکا کہ وزیراعلیٰ اور وزیر اطلاعات کو کس سرکاری بابو نے خبر دی تھی کہ جاں بحق ہونے والی ماں بیٹی کے شوہر نے فیک ریسکیو کال کی ہے اور اس ڈرامے کے ڈراپ سین کیلئے اسے گرفتار بھی کر لیا گیا۔ پوری حکومت کو سبکی اور جگ ہنسائی سے دوچار کرنے والا وہی سرکاری بابو ہے جو وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہا تھا۔ ایک طرف مصیبت زدہ شوہر کی چھترول کرائی جا رہی تھی تو دوسری طرف وزیراعلیٰ اور وزرا کو گمراہ کن اور بے بنیاد اطلاعات دی جا رہی تھیں۔ بیچارے ایس ایچ او یا ایس پی کی کیا مجال کہ وہ اتنا بڑا اور انتہائی قدم اٹھا لے۔ اس بربریت کے نقطے ملائیں تو ذمہ داران کی شکل بخوبی دیکھی جا سکتی ہے۔ شاید وزیراعلیٰ نے وہ شکل پہچان کر ہی جھٹ پٹ صوبائی سطح پر بڑی انتظامی تبدیلی کر ڈالی۔
اس تناظر میں یہ بھید بھی کھلتا نظر آتا ہے کہ اس سانحہ کو فیک نیوز ثابت کرنے کے لیے ریسکیو آپریشن کس کے حکم سے روکا گیا۔ کھلے گٹر میں ماں بیٹی کے گرنے کا سانحہ ایک طرف‘ اس سانحہ کو گول کرنے کی سفاک واردات میں شریک سبھی چھوٹے بڑے بابو دوسری طرف‘ ان سبھی شرمناک پہلوؤں کے تانے بانے جن سرکاری بابوؤں سے جا ملتے ہیں ان سب کو سبھی جانتے ہیں۔ سبھی برابر کے ذمہ دار ہیں‘ کوئی گٹر میں گرانے کا ذمہ دارہے تو کوئی گٹر سے نہ نکالنے کا ذمہ دار۔ ناحق ماری جانے والی ماں بیٹی کو بروقت ریسکیو کر لیا جاتا تو شاید یہ سانحہ اس قدر سنگین اور بھیانک رخ اختیار نہ کرتا۔ تعجب ہے! اعلیٰ سرکاری بابوؤں کی طرف سے آن کیمرہ بریفنگ میں وزیراعلیٰ نے کسی ایک سے بھی نہیں پوچھا کہ تم نے اس افسوسناک واقعہ کو فیک نیوز کے طور پر کیوں پیش کیا؟ بجا طور پر وزیراعلیٰ کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ انہوں نے حصہ بقدرِ جثہ سبھی کا بھرم رکھ لیا جبکہ اعلیٰ سطحی اجلاس کا بھرم رکھنے کے کچھ چھوٹے موٹوں کو ذمہ دار بھی ٹھہرایا ہے۔
اس سانحہ کے باعث کئی روز سے فضا سوگوار تھی کہ تفکرات بھول بسنت کی خوشی منانے کا سرکاری اعلان آ گیا۔ وزیراعلیٰ نے تو برملا کہہ ڈالا کہ لوگ بسنت کی ایسے خوشی منا رہے ہیں جیسے عید کا چاند نظر آ گیا ہو۔ وزیراعلیٰ عوام کو یہ خوشیوں کے لمحات فراہم نہ کرتیں تو شاید سانحہ بھاٹی گیٹ کی سوگواری مزید طوالت اختیار کر لیتی۔ صدمے اور غموں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا سرکاری فارمولا اس قدر کارآمد ہے کہ ہر طرف بسنت کی بہار اور رنگ ہی رنگ پھیلے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ناحق ماری جانے والی ماں بیٹی کے سانحہ کا معاملہ قصۂ پارینہ بننے کے امکانات نہ صرف قوی ہو چکے ہیں بلکہ سسٹم کے ہتھے چڑھنے والے شوہر کے بیانات کی وڈیوز کو وقت کی گرد جلد قبر میں تبدیل کر دے گی‘ یعنی جتنی بڑی خبر اتنی بڑی قبر۔ ماضی کے سبھی ادوار سے لے کر دورِ حاضر تک سر چڑھے سرکاری بابو حصہ بقدرِ جثہ حکومتوں کے لیے آزمائش بنتے رہے ہیں۔ جوں جوں حکمران ان بابوؤں پر انحصار بڑھاتے چلے گئے توں توں یہ ان پر بھاری پڑتے چلے گئے۔
توجہ طلب امر یہ ہے کہ گزشتہ دورِ حکومت میں اہم عہدوں پر فائز رہ کر کرپشن اور بدانتظامی کی مثال بننے والے بیشتر سرکاری بابو آج بھی معتبر اور اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے لے کر سول سیکرٹریٹ سمیت اضلاع میں تعینات افسران کی جمع تفریق کریں تو اکثر گزشتہ دور میں پہلی اننگ کھیلنے کے بعد موجود حکومت کے ساتھ دوسری اننگ زور و شور سے کھیل رہے ہیں۔ کوئی پنجاب میں بدستور موجیں مار رہا ہے تو کوئی وفاق میں۔ جب ایسے سرکاری بابو حکمرانوں کے آنکھ اور کان ہوں گے تو دکھائی اور سنائی بھی اسی طرح دے گا جیسے یہ دورِ بزدار میں سناتے اور دکھاتے رہے ہیں۔ کس کس کا نام لوں سب کو سبھی جانتے ہیں‘ کوئی کمشنر رہا ہے تو کوئی ڈی سی۔ اسی طرح بیشتر پولیس افسران بھی دوسری اننگ میں سبھی پرانی بدعتوں کو دوام بخشنے میں پیش پیش ہیں جبکہ مجموعی طور پر ان سبھی کی اہلیت اور کارکردگی کی پڑتال کریں تو وہی چال بے ڈھنگی‘ جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔ اکثر کے بارے میں تو بجا طور پہ کہا جا سکتا ہے کہ نامعلوم اہلیت اور صفرکارکردگی کے حامل ان افسران کے پاس کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ حکومت کسی کی بھی ہو‘ یہ نگینے کی طرح فِٹ ہو جاتے ہیں۔
داتا دربار حاضری کے لیے آنے والی ماں بیٹی کی جب لاشیں برآمد ہوئیں تو سر اور گردن کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں‘ اندرونی اور بیرونی چوٹوں کے علاوہ غلیظ اور بدبودار کیچڑ نے تعفن زدہ بھی کر دیا تھا۔ اس سانحہ کے بعد مزید دلخراش واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں لیکن صورتحال بدستور الارمنگ ہیں۔ عوام فی الحال سرکاری اعلان کے مطابق تفکرات بھول کر عید کی طرح بسنت کی خوشی منا رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل ایک کلپ نے انتظامی مشینری کی فنکاریوں کا بھید بھی کھول ڈالا ہے۔ ایک ہی ڈھکن کئی کھلے مین ہولز پر باری باری رکھنے کے بعد فوٹو بناکر متعلقہ افسران کو بھیجی جا رہی ہیں۔ ڈھکن ڈھک کر دوبارہ اٹھانے کی وڈیو نے تو اس مائنڈ سیٹ کا پول کھول دیا ہے جس کے تحت یہ ہر حکومت کو بیوقوف بناتے رہے ہیں۔
چلتے چلتے باور کرواتا چلوں کہ گٹر میں صرف عوام ہی نہیں گرتے بلکہ وہ گورننس بھی ڈوب جاتی ہے جس کے ڈھول صبح شام تواتر سے بجائے جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ قتلِ طفلاں کی منادی طول پکڑ چکی ہے‘ اس منادی کا اطلاق اب گٹروں پر بھی ہو چکا ہے‘ اسی لیے جابجا منہ کھولے گٹر جیتے جاگتے بچوں اور مرد و زن کو زندہ نگل جاتے ہیں۔