"AAC" (space) message & send to 7575

نیوندرے

سنتے چلے آئے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا‘ مملکتِ خداداد میں جاری اُدھم کے نقطے ملائیں تو بننے والے خاکے میں دماغ بھی کہیں نظر نہیں آرہا۔ دل ہو یا دماغ دونوں کا شمار اعضائے رئیسہ میں ہوتا ہے۔ سیاست کے کھیل میں کہیں دل کی دماغ نہیں مانتا تو کہیں دماغ دل کی تائید نہیں کرتا‘ سیاسی چیمپئنز نے شاید اسی لیے ان دونوں کے بجائے خواہشات اور اہداف کو ہی سارے مینڈیٹ دے ڈالے ہیں۔ عمران خان کی بینائی پر حکومتی کیمپ کی طرف سے ہونے والے تبصرے مضحکہ خیز سے کہیں بڑھ کر معنی خیز بھی ہیں۔ کسی کو عمران خان کی چیخیں سنائی دیتی ہیں تو کسی کو رہائی کیلئے ان کی بے تابی دکھائی دیتی ہے۔ عمران خان کے ایامِ اسیری کی جمع تفریق کریں تو حاصل قید و بند ہی نکلتا ہے جبکہ حالیہ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو عمران خان کی اسیری اور بیماری کا تمسخر اڑانے والوں کے اپنے بھی سبھی پرچے آؤٹ ہوتے چلے جاتے ہیں؛ یعنی پڑھتا جا‘ شرماتا جا۔
سیاست کی اس میوزیکل چیئر میں کیسی کیسی بدعتیں حصہ بقدرِ جثہ یہ سبھی مل کر بڑھاتے چلے آئے ہیں۔ جن عذابوں اور عتابوں سے گزر کر اقتدار میں آتے ہیں وہ سود سمیت لوٹانے کیلئے تمام حدیں بے دریغ پار کر ڈالتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت میں جو ''نیوندرے‘‘ سیاسی مخالفین کو ڈالے گئے تھے وہ سبھی کئی اضافوں کے ساتھ صبح دوپہر شام لوٹائے جا رہے ہیں‘ تاہم یہ بات طے ہے کہ عمران خان اپنے دورِ حکومت میں جنہیں اسیر اور زیر عتاب دیکھنا چاہتے تھے‘ وہ سبھی پرانے چیمپئن اور منجھے ہوئے تھے۔ کوئی پروڈکشن آرڈر پر منسٹر انکلیو کا باسی بنا رہا تو کسی نے لرزتے ہاتھوں اور کپکپاتی ٹانگوں کے ساتھ وہیل چیئر پر بیماری کارڈ پکڑے رکھا۔ نواز شریف کی بیماری کا وہ سٹیج لگا کہ وہ کئی سرکاری ہسپتالوں میں زیرِ علاج رہے‘ سرکاری طبی رپورٹوں میں حالت اس قدر نازک بتائی گئی کہ بیرونِ ملک علاج کیلئے کابینہ سے منظوری لے کر عمران خان کو اجازت دینا پڑی۔ یہ اور بات ہے کہ طبی بنیادوں پر ریلیف پانے والے سبھی ایسے شفایاب ہوئے کہ آج تک کسی کو بخار بھی نہیں ہوا۔ اپنے موجودہ حلیفوں کی بدولت ماضی میں طویل اسیری کاٹنے والوں کا پرچہ تو پہلے بھی آؤٹ ہو چکا ہے لیکن ان دنوں ضیا شاہد مرحوم کے انٹرویو کا ایک کلپ خوب وائرل ہے کہ موصوف نے ایام اسیری کہاں اور کیسے گزارے۔ سیاسی اسیر بھی جادوئی بیماریوں کا شکار رہے ہیں‘ اِدھر اسیری ختم اُدھر بیماری ختم۔
آج کل عمران خان کی صحت کو لے کر سیاست زوروں پر ہے۔ اس عمر میں بینائی کا اوپر تلے ہو جانا ویسے اچھنبے کی بات نہیں ہے مگر یہ بیماری کی نوعیت پر منحصر ہوتا۔ خان صاحب کی بینائی کا فرق تو اب آیا ہے مگر انہوں نے اقتدار میں آتے ہی اپنی آنکھوں سے دیکھنا چھوڑ دیا تھا۔ وہ سر چڑھے مشیروں اور مخصوص بابوؤں کی آنکھ سے دیکھا کرتے تھے اور کانوں میں زہر گھولنے والوں کو تو معتبر اور اہم ہی سمجھتے رہے۔ بینائی کا خسارہ تو دورانِ اسیری ہوا ہے جبکہ 'اَکھ دا چانن‘ تو برسوں پہلے اقتدار کو پیارا ہو چکا تھا۔ دوستوں اور جانثاروں سے ہاتھ دھونے کے علاوہ انہیں مخالفین کی صف میں کھڑا کرنے کیلئے سرکاری وسائل کیساتھ ساتھ مصاحبین کا تعاون بھی برابر حاصل رہا۔
اَکھ دا چانن مر جاوے تے
نیلا پیلا لال برابر
الغرض عمران خان پر یہ حالاتِ پریشاں یونہی نہیں آئے‘ نامعلوم اہلیت اور صفرکارکردگی کے حامل مشیروں اور مصاحبین کو سرکاری وسائل اور فیصلہ سازی نا صرف سونپے رکھے بلکہ ان کے اُوٹ پٹانگ اقدامات اور مضحکہ خیز گورننس پر بھی ہمیشہ تائید اور توثیق کی مہر ثبت کرتے رہے۔ سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا‘ کبھی جیل میں ٹی وی جیسی معمولی سہولت کو اَنا کا مسئلہ بنایا تو کبھی دیگر بنیادی سہولتوں کو‘ آج وہ سبھی قرض انہیں سود سمیت لوٹائے جا رہے ہیں تو کیسا گلہ کیسی شکایت!
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
البتہ ایک بات طے ہے کہ عمران خان نے دورانِ اسیری نہ کسی بیماری کا ڈھونگ رچایا‘ نہ کوئی واویلا کیا‘ نہ ڈیل کا عندیہ بھیجا‘ نہ کوئی ریلیف طلب کیا جبکہ ملاقات سمیت دیگر سبھی سہولتوں سے بھی محروم رہے۔ سیاسی سرکس کے یہ سبھی آئٹم ہر دور میں چہروں کی تبدیلی کے ساتھ یونہی چلتے آرہے ہیں۔ ایوان سے زندان اور زندان سے ایوان کی جادوگری کے روپ بہروپ دیکھنے اور بھگتنے کے باوجود سبھی اپنی اپنی اَنا اور ضد پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ضد اور اَناؤں کا یہ کھیل مزید کیا رنگ دکھاتا ہے اس کا اندازہ لگانا کوئی معمہ ہے نہ ہی راکٹ سائنس‘ یہ میوزیکل چیئر یونہی چلتی رہے گی جبکہ نفرتوں اور سیاسی مخالفت کی فصلیں اگلی نسلیں بھی یونہی کاٹتی رہیں گی۔
اُدھر وزیر داخلہ نے علیمہ خان کو عمران خان کے علاج میں رکاوٹ قرار دے دیا ہے جبکہ عظمیٰ خان نے تو براہِ راست الزام لگا ڈالا ہے کہ عمران خان کو خدشہ ہے کہ یہ لوگ مجھے مار ڈالیں گے۔ اسی بلیم گیم کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے عمران رہائی فورس بنانے کا اعلان کر دیا ہے‘ تاہم یہ معمہ حل طلب ہے کہ اس فورس کا لائحہ عمل کیا ہو گا۔ فورس کی ممبر شپ کے کارڈز اگلے چند دنوں میں تیار ہو جائیں گے۔ آگے آگے دیکھیے سٹریٹ موومنٹ کا مستقبل کیا ہوتا ہے جبکہ ''لڑائی‘‘ کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے۔ سہیل آفریدی کے سبھی اعلانات نہ صرف عمرانی مزاج کے عین مطابق ہیں بلکہ اُن سبھی توقعات پر پورا اترتے نظر آرہے ہیں جو گنڈاپور پوری کرنے میں ناکام رہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) عمران خان سے حصہ بقدر جثہ وہی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں جو یہ کئی دہائیوں تک ایک دوسرے سے کرتے رہے۔ پھر انہیں اقتدار اور وسائل کے بٹوارے کے فارمولے نے میثاقِ جمہوریت کے نام پر اکٹھا کر دیا۔ ویسے بھی اقتدار سے دوری اور طویل ہجر نے انہیں ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کا سبق دیا۔ البتہ عمران خان نے ان دونوں کو احتساب کے نام پر ریاستی جبر کا جو نیوندرا ڈالا تھا آج خان کو وہی لوٹایا جا رہا ہے جبکہ اضافی نیوندرا افتادِ طبع کے مرہون منت ہے۔ یہ حساب کب تک نکلتا اور چلتا رہے گا اس کا اندازہ تو واقفانِ حال کو بخوبی ہے لیکن عمران خان کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ یہ دن بھی دیکھنا پڑیں گے۔ دنیائے کرکٹ کے 14کپتانوں نے عمران خان کی صحت پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا ہے‘ اب دیکھتے ہیں کہ انہیں حکومت سے کیا جواب ملتا ہے۔ احتیاطاً ان کپتانوں کو ایک خط اور لکھ رکھنا چاہیے کہ بقول شاعر:
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں کیا وہ لکھیں گے جواب میں
پون صدی بیت گئی‘ سیاستدانوں کے نیوندرے ایک دوسرے کی طرف بڑھتے اور نکلتے ہی چلے آرہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ان کے انڈے بچے بھی نکلتے نظر آرہے ہیں کیونکہ میوزیکل چیئر میں کسی ایک کو گیم نکالا تو بھگنا پڑتا ہے۔ سبھی اپنے اپنے حصے کا بھگتان کر کے بھی دوبارہ بھگتنے کیلئے نیا نیوندرا ڈال دیتے ہیں۔ اس طرزِ سیاست کی اصل وجہ وہی ہے جو کالم کے آغاز میں بیان کی تھی کہ سیاست کے سینے میں دل اور کھوپڑی میں دماغ نہیں ہوتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں