ہم سب جانتے ہیں کہ جنگیں انسانی المیے لے کر آتی ہیں‘ جو معاشی ہوتے ہیں اور معاشرتی بھی۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے متحدہ اور مشترکہ طور پر حملہ آور ہونے کے نتیجے میں شروع ہونے والی جنگ بھی اپنے ساتھ انسانی المیے لے کر آئی ہے۔ ایران کی ایک بڑی آبادی براہِ راست امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا شکار ہے۔ ہلالِ احمر ایران اور اسرائیلی محکمہ صحت نے اس جنگ میں اب تک کے نقصانات کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جو دل دہلا دینے والے ہیں۔
ہلالِ احمر ایران کے مطابق ایران میں جاں بحق افراد کی تعداد 1300سے تجاوز کر چکی ہے۔ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ بمباری سے 3643عوامی مراکز‘ 3090گھر تباہ ہوئے‘ 24طبی مراکز اور ہلالِ احمر کے 9دفاتر کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی محکمہ صحت کے مطابق 24گھنٹوں میں ایرانی حملوں سے 140افراد زخمی ہوئے‘ ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ جنگ کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 1619 اسرائیلی زخمی ہوئے۔ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے بتایا ہے کہ ایران پر حملہ شروع ہونے کے بعد دارالحکومت تہران سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین کشیدگی شروع ہونے کے بعد تقریباً 58ہزار افراد اندرون ملک بے گھر ہوئے ہیں جبکہ 11ہزار لوگوں نے شام کی جانب نقل مکانی کی ہے۔ نقل مکانی کا دکھ وہی سمجھ سکتے ہیں جو نقل مکانی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
دوسرا المیہ یہ ہے کہ جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند ہے اور توانائی کے سب سے اہم ذرائع یعنی پٹرولیم مصنوعات اور قدرتی گیس کی سپلائی دنیا بھر میں متاثر ہو رہی ہے۔ اس طرح مشرقِ وسطیٰ میں نیا تنازع عالمی معیشت کی مضبوطی کا امتحان لے رہا ہے اور جنگ کے بعد بھی عالمی معیشت کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہو گا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو پٹرول کی قیمت ڈیڑھ سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گی۔ پاکستان میں پچھلے چند روز کے دوران دو بار پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور خاصے عرصے کے بعد پٹرول کی قیمت ایک بار پھر 300روپے سے متجاوز ہو گئی ہے۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہوں گی۔
پٹرول اور گیس مہنگے مل رہے ہیں لیکن فی الحال دستیاب ہیں‘ خدشہ یہ ہے کہ اگر ان کی سپلائی منقطع ہو گئی تو ان کی دستیابی ناممکن ہو جائے گی جس کا نتیجہ پوری دنیا میں توانائی کے ایک نئے بحران کی صورت میں سامنے آئے گا اور اس کے کچھ آثار واضح ہونا شروع بھی ہو چکے ہیں۔ پچھلے دنوں پٹرول پمپوں پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی جو لمبی لمبی قطاریں نظر آئیں وہ اشارہ ہے کہ معاملات کو سنبھالنے اور زمینی حقائق کو پیشِ نظر رکھ کر ٹھوس اور جامع منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران پر جاری حملوں کے صرف پہلے 100گھنٹے ہی امریکہ کو بہت مہنگے پڑے اور اس عرصے میں کیے گئے حملوں پر امریکہ کے 3.7 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ یہ رقم پاکستانی کرنسی میں تبدیل کی جائے تو تقریباً 10کھرب 34ارب روپے بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس جنگ میں امریکہ کے یومیہ اوسطاً 891.4 ملین ڈالر اخراجات آرہے ہیں‘ جو پاکستانی کرنسی میں کم و بیش دو کھرب 49ارب روپے بنتے ہیں۔ یہ نقصانات امریکی اور پھر عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرنے والے ہیں۔
اس جنگ پر جو اخراجات اٹھ رہے ہیں اس کے اثرات کہیں نہ کہیں ضرور مرتب ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے اس ملک کی معیشت پر جو جنگ لڑ رہا ہوتا ہے اور اس کے بعد دوسرے ممالک کے عوام کی جیبوں پر۔ جنگیں بیروزگاری لاتی ہیں اور یہ یتیم پیدا کرتی ہیں۔ جنگیں خطِ افلاس کو اونچا کر دیتی ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آبادی کا مزید بڑا حصہ اس خط سے نیچے سرک جاتا ہے۔ جنگیں مفلسی لاتی ہیں۔ جنگیں مسائل پیدا کرتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ کسی کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ان حالات میں کیا کیا جائے۔ عالمی ادارے بے بس ہیں اور جن کے پاس طاقت ہے وہ اپنی طاقت کا بے محابہ استعمال کرتے چلے جا رہے ہیں۔ عقل مندی‘ استدلال اور اعتدال کو راستہ ملنا چاہیے لیکن عالمی یا مقامی کسی بھی قانون کو خاطر میں نہ لانے والے ان کا راستہ روکے کھڑے ہیں۔ ان راستہ روکنے والوں کو پیچھے کون ہٹائے گا یہ وقت ہی بتائے گا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں قوم سے خطاب میں کفایت شعاری کے اقدامات کا اعلان کیا ہے جن کے مطابق آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو ملنے والے ایندھن میں 50فیصد کمی کی جا رہی ہے تاہم ایمبولینسز اور ٹرانسپورٹ کو استثنا حاصل ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ دو ماہ کے لیے تمام سرکاری محکموں کی 60فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کی جا رہی ہیں جبکہ کابینہ کے تمام وزرا‘ مشیر‘ معاونین رضاکارانہ طور پر دو ماہ کی تنخواہ اور الاؤنسزچھوڑیں گے۔ اسی طرح ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں بھی 25فیصد کٹوٹی کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم کے مطابق تمام محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20فیصد کٹوتی اور دفاتر میں اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ گریڈ 20اور اس سے اوپر کے افسران کی تنخواہ سے دو دن کی کٹوتی کر کے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری اور نجی شعبے میں انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر 50فیصد سٹاف کام کرے گا۔ ہفتے میں صرف چار دن دفاتر کھلیں گے اور ہفتے میں ایک دن اضافی چھٹی دی جائے گی‘ اس کا اطلاق بینکوں پر نہیں ہو گا۔ فوری طور پر تمام سکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جا رہی ہیں جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کا اجرا کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے اور کئی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
میری نظر میں جنابِ وزیراعظم نے جو فیصلے کیے وہ نہایت بر وقت اور نہایت مستحسن ہیں جن کے دور رس اثرات سامنے آنے کی توقع ہے۔ اگر ان اعلانات پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد کیا گیا تو کوئی وجہ نہیں کہ ایران امریکہ جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی کٹھن اور نہایت تشویشناک صورتحال سے سرخرو ہو کر نہ نکلا جا سکے۔ کل جنگ کو دو ہفتے مکمل ہونے والے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے جلد ختم ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ اگر یہ آج کل میں ختم ہو گئی تو بھی اس کے اثرات مہینوں بلکہ برسوں مرتب ہوتے رہیں گے اور یہ اثرات محض مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ اس جنگ کے بعد جنوبی ایشیا‘ مشرقِ بعید اور یورپ تک سب کچھ تبدیل ہو جائے گا۔ شاید ہمیں اس جنگ سے پہلے والی دنیا ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔