"IYC" (space) message & send to 7575

آئیے حقیقی روزہ رکھیں!

میں کوئی مصلح نہیں ہوں‘ نہ ہی میرا شمار روحانیات کے ماہرین میں ہوتا ہے۔ میں کوئی موٹیویشنل سپیکر بھی نہیں ہوں کہ آپ کو بتاؤں کہ کیا درست ہے اور کیا غلط اور یہ کہ کامیابی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔ میرا شمار مبلغین میں بھی نہیں ہوتا کہ آپ کو نصیحت کر سکوں۔ میں خدائی فوجدار بھی نہیں ہوں۔ یہ ساری خوبیاں اپنے اندر نہ پانے کے باوجود پتا نہیں کیوں میرا دل آج اپنے قارئین کو تجاویز دینے‘ مشورے فراہم کرنے اور نصیحتیں کرنے کو چاہ رہا ہے۔ جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ شروع ہو چکا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہم پر روزے فرض کیے گئے ہیں تو ضروری ہے کہ یہ جو مہمان مہینہ آیا ہے اس کی خوب تواضع کی جائے‘ یعنی روزے رکھے جائیں لیکن صرف روزے نہیں حقیقی روزے‘ دکھاوے والے نہیں بلکہ رمضان المبارک کی روح کے مطابق والے روزے۔
روزے سبھی رکھتے ہیں اور ہر سال رکھتے ہیں لیکن آئیے امسال حقیقی روزے رکھنے کی کوشش کریں۔ جب روزہ رکھ لیں تو پھر یہ روزہ محض کھانا پینا ترک کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے‘ آنکھوں‘ ہاتھوں‘ زبان حتیٰ کہ سوچ کا بھی روزہ ہونا چاہیے۔ ضروری ہے کہ روزے کی حالت میں ہم بری چیزیں نہ دیکھیں‘ نہ کسی سے غلط انداز میں بات کریں اور نہ ہی کسی کے بارے میں غلط سوچیں۔ ایسے افعال کی اجازت ہمارا مذہب عام حالات میں بھی نہیں دیتا‘ روزے کی حالت میں تو بالکل بھی نہیں ہے کہ روزہ رکھ کر بندہ ایک خصوصی حالت میں ہوتا ہے اور خصوصی حالت کے تقاضے بھی خصوصی ہی ہوتے ہیں۔
اسی خصوصی حالت کا یہ بھی تقاضا ہے کہ دکان دار ٹھیک مال‘ پورے ناپ تول کے ساتھ مناسب قیمت پر فروخت کریں۔ پھل فروش اچھے پھل کے ساتھ گلا سڑا پھل شاپنگ بیگوں میں ڈالنے سے گریز کریں اور صرف ٹھیک پھل ہی‘ پورے وزن کے ساتھ فروخت کریں۔ دودھ بیچنے والے اچھا اور خالص دودھ ہی فروخت کریں اور مشینوں کے ذریعے بنا ہوا دودھ کم از کم رمضان کے مہینے میں فروخت کرنا ترک کر دیں۔ پاکستان میں دودھ کی کل پیداوار 65 ملین ٹن سالانہ ہے۔ اس طرح پاکستان دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔ ملک کی کل آبادی کو اگر 24 کروڑ مان لیا جائے تو اس حساب سے ہر شہری کے حصے میں روزانہ بس تھوڑا سا دودھ ہی آتا ہے‘ لیکن ہمارے شہروں کے ہر گلی بازار میں دودھ کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں جہاں دودھ ایسے فروخت ہو رہا ہے جیسے شہر کے باہر دودھ کی نہریں بہہ رہی ہوں اور دودھ فروش وہاں سے بالٹیاں بھر بھر کے بازار میں لا کر فروخت کر رہے ہوں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کیمیکل سے دودھ کی تیاری کا کاروبار زوروں پر ہے اور ایسا دودھ پینے والے شہری مختلف نوعیت کی پیچیدہ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ دودھ کے نام پر یہ مکروہ دھندہ کرنے والے کم نہیں ہیں۔ اسی لیے تو دکانوں پر دودھ 24 گھنٹے دستیاب رہتا ہے۔ ان لوگوں نے محض پیسے بنانے کے لیے اپنے گھروں یا دوسری خفیہ جگہوں پر کیمیکل سے دودھ تیار کرنے والی مشینیں لگا رکھی ہیں۔ مختلف میڈیا رپورٹیں بتاتی ہیں کہ دودھ مافیا غیر معیاری کھلا خشک دودھ خرید کر اس کے ایک کلو پاؤڈر میں 16 تا 18 لٹر پانی ملا کر جعلی دودھ تیار کرتا ہے۔ اس دو نمبر دودھ کی مقدار بڑھانے‘ اسے گاڑھا کرنے اور خالص دکھانے کے لیے اس میں سرف‘ گھی‘ میٹھا سوڈا‘ چینی‘ سوڈیم کلورائیڈ‘ یوریا کھاد‘ بلیچنگ پاؤڈر‘ پوٹاشیم ہائیڈرو آکسائیڈ‘ سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور مکئی کا آٹا سمیت نجانے کیا کچھ استعمال کیا جاتا ہے۔ دودھ کو مزید خالص دکھانے کے لیے ایک من دودھ میں 220 گرام کھویا‘ سنگھاڑے کا آٹا‘ اراروٹ ملا کر دودھ کی قدرتی مٹھاس اور ذائقہ پیدا کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ رپورٹوں سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ بھینسوں کے دو من دودھ میں غیرمعیاری ذرائع سے تیار کردہ 10سے 12من دودھ شامل کر کے کئی من ''تازہ‘‘ دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ دودھ تیار کرنے کا سستا ترین طریقہ ہے۔ یہی وہ دودھ ہے جو خالص کہہ کر فروخت کیا جاتا ہے اور یہی وہ سستا ترین دودھ ہے جس کی ایک گڑوی کے ساتھ اگلی ایک گڑوی بالکل مفت فراہم کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں دودھ میں اضافے کے لیے بھینسوں اور گائیوں کو حاملہ خواتین کی زچگی کے دوران لگایا جانے والا اوکسی ٹوسن انجکشن بھی لگایا جاتا ہے جو کسی بھی میڈیکل سٹور سے بہ آسانی دستیاب ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ٹینکروں اور پلاسٹک کے ڈرموں کے ذریعے سپلائی کیے جانے والے دودھ کو زیادہ دیرتک محفوظ بنائے رکھنے کے لیے اور ٹینکروں میں موجود دودھ کی بدبو کو ختم کرنے کے لیے کافور اور کیمیکلز بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایسا دودھ بیچ کر اس سے حاصل ہونے والے پیسے سے چیزیں خرید کر روزہ رکھنے کے بعد یہ سوچنا کہ روزہ قبول ہو گیا خام خیالی ہی ہو سکتی ہے۔
ایک اور نصیحت! سحری کے وقت اس سوچ کے ساتھ پیٹ بھر کر کھا پی لینا مناسب نہیں کہ سارا دن کچھ کھائے پیے بغیر گزارنا ہے۔ کم کھائیے لیکن اچھا اور صحت بخش کھائیے جس سے روزے کے باوجود صحت برقرار رہے۔ سحری کے وقت پراٹھے کھانا تو خود کو مزید موٹا بنانے کے مترادف ہے۔ سحری میں گھی میں سنے ہوئے پراٹھوں کے بجائے کوشش کریں کہ سادہ روٹی یا ڈبل روٹی استعمال کریں۔ حکما کا ماننا ہے کہ یہ معدے کے لیے مفید ہے۔ ان کے ساتھ رات کا بچا ہوا سالن محدود مقدار میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کوئی توانائی بخش جوس یا تازہ پھلوں کا رس استعمال کر سکتے ہیں یا کوئی پھل لے سکتے ہیں۔ گزشتہ سال ایک حکیم صاحب کا ٹی وی انٹرویو کیا تو انہوں نے بتایا کہ بہترین سحری رات کی بچی ہوئی روٹی دہی کے ساتھ کھانا ہے۔ میرے والد محترم مرحوم سحری کے وقت سادہ روٹی مکھن اور شکر کے ساتھ کھاتے اور افطاری تک تروتازہ اور سرگرم رہتے تھے۔ پیٹ بہت زیادہ بھر لیا جائے تو معدے کا نظام غیر متحرک ہوجاتا ہے اور نظامِ انہضام کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ ہمارا معدہ ایک خاص مقدار تک کی غذا ہضم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مخصوص مقدار سے زائد غذا کھانا اکثر مختلف قسم کی بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔ اس لیے بسیار خوری سے بچنا بے حد ضروری ہے۔
اسی طرح مشاہدے میں آتا ہے کہ جونہی افطاری کا وقت ہوتا ہے لوگ ایک بار پھر پکوڑوں‘ سموسوں‘ دہی بھلوں‘ بریانیوں‘ قورموں اور کئی طرح کے شربتوں سے پیٹ بھر لیتے ہیں جو روزے کی روح کے خلاف ہے۔ روزہ کھجور یا نمکین پانی سے افطار کیا جا سکتا ہے۔ طبی اور مذہبی دونوں اعتبار سے اس کی خاصی اہمیت و افادیت ہے۔ یہ دونوں چیزیں صحت کے لیے نہایت مفید ہیں۔ کھجور سے توانائی بحال ہوتی ہے اور نمکین پانی سے جسم میں چودہ یا سولہ گھنٹوں کی پیاس کی وجہ سے پیدا ہو چکی نمکیات کی کمی پوری ہو جاتی ہے۔
روزہ دار اپنے روزے کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتا اور شیطان کو مغلوب کرتا ہے۔ روزہ بندے کو مشکلات کو برداشت کا عادی بناتا ہے اور وہ برائی کا حکم دینے والے نفس پر غلبہ پانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ جب کوئی بندہ روزہ رکھتا ہے تو وہ اپنی نفسانی خواہشات کی مخالفت کرتا ہے اور آخر کا ر وہ ان خواہشات پر غلبہ پا لیتا ہے۔ روزہ رکھ کر بھی اگر بے ایمانی نہیں چھوڑنی تو پھر کیسا روزہ اور کیسی عبادت؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں