چڑیوں کی آنکھ کا تارا

یہ وہ خطاب ہے جو انتظار حسین نے اُس شخص کو دیا جسے انہوں نے اس حال میں دیکھا کہ چڑیاں اس پر گری پڑی ہیں‘ سر پر بیٹھی ہیں‘ کندھوں پر بیٹھی ہیں اور جنہیں جگہ نہیں ملتی وہ اس کے گرد چکر کاٹ رہی ہیں۔ انتظار صاحب لاہور کی فیروزپور روڈ پر ایک ڈبل ڈیکر بس میں بیٹھے سفر کر رہے تھے کہ انہوں نے اوپر سے یہ منظر دیکھا۔ لان کے بیچوں بیچ ایک شخص کھڑا تھا‘ لمبا مگر دبلا‘ گویا ایک چھڑی۔ بال کیچڑی اور اُلجھے ہوئے‘ طوطے کے رنگ کا ڈھیلا اوورکوٹ پہنے ہوئے۔ یہ محمد حسن لطیفی تھے جو ہر صبح چڑیوں کو دانہ ڈالتے تھے اور اس علاقے کی چڑیوں کے منظورِ نظر بن گئے تھے۔ جن دنوں انتظار حسین نے انہیں دیکھا ان دنوں ان کی مالی حالت نہایت خستہ تھی‘ مگر انہوں نے اپنے لیے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ البتہ بھوکے کتوں‘ چڑیوں اور محتاجوں کیلئے ان کا ہاتھ دوستوں کے سامنے ہمیشہ پھیلا رہتا تھا۔
ابتدا میں دل کے یہ سخی شخص خاصے صاحبِ حیثیت تھے۔ وہ لدھیانہ کے رہنے والے تھے اور اُسے ''ارضِ لُد‘‘ کہا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرانے عہد نامے میں جس ''ارضِ لُد‘‘ کا ذکر آتا ہے وہ دراصل لدھیانہ ہی ہے۔ لدھیانہ میں انہوں نے اپنے مکان کا نام ''شاطو‘‘ (Chateau) رکھا تھا اور وہیں ''شاطو پریس‘‘ کے نام سے ایک چھاپہ خانہ قائم کیا۔ وہ نظم کہتے تھے مگر مشاعروں میں پڑھنے یا رسالوں میں شائع کروانے کے قائل نہ تھے۔ اپنے اشعار اشتہار کی صورت میں شاطو پریس میں چھاپتے اور شہر شہر بسے اہلِ ذوق کو بذریعہ ڈاک بھیج دیتے تھے۔ ہجرت نے انہیں غریب بنا دیا۔ اس پر جوان اکلوتے بیٹے کی موت کا صدمہ۔ اس کے بعد باقی زندگی پراگندہ حالی میں گزری۔ انہیں پاکستان میں سر چھپانے کیلئے کوئی مستقل گوشہ میسر نہ آیا۔ اس پریشان حالی نے ان کی شاعری کو بھی متاثر کیا‘ ورنہ انتظار حسین جیسے صاحبِ نظر ادیب نے انہیں بہت اچھا شاعر قرار دیا ہے۔
لطیفی صاحب نے غزل بھی کہی اور نظم بھی‘ مگر ان کا زیادہ تر کلام اشتہاری کتابچوں میں بکھر گیا۔ آخری برسوں میں انہوں نے اس بکھرے ہوئے مواد کو جمع کرنے کی کوشش کی مگر وہ خود ہی اس قدر بکھر چکے تھے کہ نہ اپنے آپ کو سمیٹ سکے نہ اپنے کلام کو۔ مندر جہ بالا سطور انتظار حسین کی کتاب ''ملاقاتیں‘‘ سے ماخوذ ہیں۔ ظاہر ہے کہ انتظار صاحب لطیفی صاحب کے بارے میں جو کچھ جانتے تھے اسے بہتر انداز میں بیان کر سکتے تھے۔ اس مضمون نگار کے پاس نہ وہ معلومات ہیں اور نہ وہ انشا پردازی۔ میں نے اپنے ایک اور مضمون میں چشتی برادران سے اپنے تعلق کا ذکر کیا ہے۔ پچاس کے عشرے کے وسط میں اعجاز چشتی صاحب نے اس وقت کے لائل پور کی سرگودھا روڈ پر ''مائی دی جھگی‘‘ کہلانے والے علاقے میں ایک متروکہ جائیداد حاصل کی۔ بہت سے کمروں اور بڑے صحن پر مشتمل اس عمارت میں انہوں نے ایک پرائمری سکول قائم کیا جو بعد میں ہائی سکول اور پھر کالج بن گیا۔ طلبہ کو مفت تعلیم دی جاتی تھی۔ تنخواہ یافتہ اساتذہ کم اور رضاکار اساتذہ زیادہ تھے جن میں یہ مضمون نگار بھی شامل تھا۔ میں گورنمنٹ کالج میں اپنے تعلیمی اوقات کے بعد سائیکل پر شہر کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جاتا اور روز کم از کم ایک اور زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے پڑھاتا۔ بچے ٹاٹ پر بیٹھتے اور استاد ایک ہلتی ڈگمگاتی کرسی پر۔ خوشی کی بات ہے کہ انہی طلبہ میں سے ایک ریاض شاہد بعد میں مقامی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کر کے لائل پور کا میئر بن گیا۔
ایک دن پڑھانے گیا تو مذکورہ حلیے کا ایک شخص دیکھا۔ حیرت ہوئی کہ یہ کون ہے؟ چشتی صاحب نے تعارف کروایا اور بتایا کہ یہ اسی عمارت میں رہتے ہیں۔ میں نے کئی بار اُن سے گفتگو کر کے ان کے حالات جاننے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی۔ وہ اکثر پرندوں کو دانہ کھلانے میں مصروف رہتے تھے۔ انہوں نے اپنی کوٹھڑی کے دروازے پر بڑے حروف میں ''شاطو (ارضِ لُد)‘‘ لکھ رکھا تھا۔ جو بھی ان الفاظ کا مطلب پوچھتا وہ مسکرا کر کہہ دیتے: ''کبھی پھر بتاؤں گا‘‘۔ اس طرح وہ میرے لیے ایک معمہ ہی رہے۔ صرف اتنا اندازہ ہوتا تھا کہ یہ کوئی غیرروایتی شخص ہے۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ وہ ایک اچھے شاعر بھی ہیں۔ نہ انہوں نے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کوئی شعر سنایا۔ بعد میں ابا جی کے تبادلے کی وجہ سے میں لائل پور سے سیالکوٹ چلا گیا اور لطیفی صاحب سے روزانہ کی ملاقات ختم ہو گئی۔ انتظار حسین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ مئی 1959ء میں اس دنیا کے دکھوں سے نجات پا کر خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
تقریباً بیس برس پہلے جب میں لاہور گیا اور حسبِ معمول نئی کتابوں کی تلاش میں نکلا تو انتظار حسین کی یہی کتاب مجھے مل گئی۔ جب میں صفحہ 237تک پہنچا تو ذہن میں 47برس پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔ اپنی زندگی میں اگر کسی درویش اور تارک الدنیا انسان کو دیکھا تو وہ یقینا لطیفی صاحب تھے۔ وہ اتنے کم گو تھے کہ میری سلام کا جواب بھی اکثر نہ دیتے‘ صرف مسکرا دیتے اور کوشش کرتے کہ گفتگو سے بچتے ہوئے اپنی کوٹھڑی میں چلے جائیں۔ اس کتاب کے ضمیموں میں لطیفی صاحب کا ایک شعر درج ہے جو بہت مشہور ہے مگر اکثر لوگوں کو معلوم نہیں کہ اس کا خالق کون ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایک نظم کے چند اشعار بھی شامل ہیں جن کا انتخاب انتظار حسین نے کیا۔ بے حد ذہین اور باصلاحیت ہونے کے باوجود وہ اپنے مخصوص مزاج کے باعث شعر و ادب میں وہ مقام حاصل نہ کر سکے جس کے اہل تھے۔
ادبی جریدہ ''نقوش‘‘ نے دسمبر 1987ء میں اُن پر ایک خصوصی نمبر شائع کیا۔ وہ ایک پہلو دار اور انوکھی شخصیت کے مالک تھے۔ ن م راشد جیسے بڑے شاعر بھی ان کے حلقۂ احباب میں شامل تھے۔ لطیفی صاحب 11 دسمبر 1905ء کو لدھیانہ کے ایک خوشحال گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد فوج کے ٹھیکیدار تھے اور بیس برس تک مسلسل لدھیانہ میونسپلٹی کے چیئرمین رہے۔ چار بہنوں کے اکلوتے بھائی ہونے کے باوجود وہ اس بگاڑ سے محفوظ رہے جو عموماً امیروں کے اکلوتے بیٹوں کا مقدر بن جاتا ہے۔ بچپن سے ہی مطالعہ اور تحریر ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے بی اے‘ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے انگریزی میں ایم اے اور لندن سکول آف جرنلزم سے صحافت میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ فارسی‘ عربی‘ فرانسیسی‘ جرمن اور اطالوی زبانیں بھی انہوں نے اپنے شوق سے سیکھیں اور ان پر اس قدر عبور حاصل کیا کہ نہ صرف بول سکتے تھے بلکہ لکھ بھی سکتے تھے۔ شاعری انہوں نے اردو اور فارسی دونوں میں کی جبکہ مضامین عموماً انگریزی یا فرانسیسی میں لکھتے تھے۔
اپریل 1932ء میں انہوں نے لدھیانہ سے ''مطالعہ‘‘ کے نام سے ایک ہفت روزہ جاری کیا جس میں صرف ان کی اپنی تحریریں شائع ہوتی تھیں۔ وہ ایک اچھے مقرر بھی تھے۔ ایک موقع پر برطانوی حکومت کے خلاف چار گھنٹے طویل تقریر کرنے کے جرم میں انہیں نظر بند بھی کیا گیا۔ ان کے بارے میں مزید معلومات کیلئے اس مضمون نگار نے خلیق ابراہیم خلیق کے ایک مضمون سے بھی استفادہ کیا ہے۔ خلیق صاحب کے مطابق حسن لطیفی شاعر‘ ادیب‘ صحافی‘ مقرر‘ سیاستدان اور سماجی مصلح تھے۔ ان کے کلام کا بڑا حصہ جدید طرز کی نظموں پر مشتمل تھا۔
لطیفی لدھیانہ میں بڑی جائیداد چھوڑ کر آئے تھے مگر پاکستان میں انہوں نے کسی مہاجر کی طرح کلیم داخل نہیں کیا۔ ان کے نزدیک یہ ان کی خودداری کے خلاف تھا۔ چنانچہ انہوں نے مختلف شہروں میں فقیروں اور خانہ بدوشوں کی طرح زندگی گزاری۔ لائل پور میں ان کے قیام کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی اس وقت ان کے علمی اور ادبی مقام سے لاعلم تھا۔ آج سوچتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ شاید میں ان کے ساتھ وہ برتاؤ نہ کر سکا جس کے وہ مستحق تھے۔ اس لیے میں ان کی روح سے صدقِ دل کے ساتھ معافی چاہتا ہوں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں