جنگجوئوں کو خدائی خدمت گار بنانے والا

ایک جنگجو معاشرے کو امن پسند اور خدائی خدمت گار بنانے کا کرشمہ کب اور کیسے رونما ہوا؟ پچھلی صدی کے تیسرے عشرے میں یہ کرشمہ خان عبدالغفار خان (باچا خان) نے ممکن بنایا تھا۔ آج کے خیبر پختونخوا اور اُس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبے میں اس عوامی تحریک کا مقصد اس علاقے کی پختون آبادی کے لیے داخلی خودمختاری کا حصول تھا۔ خودمختاری بطور ایک آدرش‘ نہ واضح شکل اور نہ تراشے ہوئے خطوط۔ ابہام کی دھند میں لپٹا ہوا ایک خواب‘ جس نے لاکھوں قبائلیوں کے دلوں کو گرما دیا۔ اُنہوں نے سرخ رنگ کی قمیص پہنی تو سرخ پوش کہلائے۔ اس تحریک کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس نے بے زمین کسانوں اور کم آمدنی والے محنت کشوں کو برطانوی راج کے خلاف میدانِ جنگ میں اتارا۔ اس تحریک نے اپنے صوبے میں جاگیرداروں اور بڑے زمینداروں پر مشتمل اشرافیہ کی اقتدار پر گرفت کو بھی جنگ کی دعوت دی۔ یہ بھی ہندوستان کے کسی اور علاقے میں نہ ہوا تھا۔ قوم پرستی کی جنگ کسی اور جگہ طبقاتی جنگ میں تبدیل نہ ہوئی۔ انگریز راج کی دشمنی نے اس تحریک کو منطقی طور پر کانگریس کا قریبی حلیف بنا دیا۔ تحریک کی قیادت دو بھائیوں کے ہاتھوں میں تھی۔ خان عبدالغفار خان اور ڈاکٹر خان‘ جنہوں نے طب کے علوم برطانیہ میں پڑھے اور کچھ عرصہ لندن میں بطور ڈاکٹر کام بھی کیا۔
1901ء تک موجودہ خیبر پختونخوا کا بطور صوبہ کوئی جداگانہ وجود نہ تھا۔ یہ علاقہ پنجاب کا حصہ سمجھا تھا۔ لارڈ کرزن نے آزاد قبائل پر برٹش راج کی گرفت مضبوط کرنے کے لیے 1901ء میں اسے پنجاب سے علیحدہ کر کے جداگانہ صوبہ بنایا۔ پنجاب پر انگریزوں کے قبضے سے چھ سال قبل برٹش جنرل Napier نے سندھ فتح کر لیا تھا مگر سندھ مالی طور پر اتنا کمزور تھا کہ اسے جداگانہ صوبہ بنانا ممکن نہ تھا لہٰذا مجبوراً اسے بمبئی صوبے کا حصہ بنا دیا گیا۔ خدائی خدمت گاروں نے 1937ء اور 1946ء میں دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی۔ ڈاکٹر خان وزیراعلیٰ بنے مگر ان حکومتوں میں بھی خان عبدالغفار خان نے کوئی عہدہ قبول نہ کیا۔ ان کا تعلق چارسدہ کے ایک خوشحال متوسط گھرانے سے تھا‘ جس نے اپنے ایک فردکو برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ باچا خان کے ایک بیٹے عبدالعلی خان بھی آکسفورڈ (برطانیہ) میں پڑھے‘ جو ایچیسن کالج میں میرے پرنسپل تھے۔ خان عبدالغفار خان کیلئے باچاخان کا نام بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ باچا خان دراصل ''بادشاہ خان‘‘ کی ایک شکل ہے۔ یہ لقب انہیں ان کی عوامی مقبولیت اور قیادت کی بنیاد پر دیا گیا۔ 1915ء سے 1918ء کے درمیان خان عبدالغفار خان نے تقریباً 500 دیہات کا دورہ کیا تاکہ پشتون قوم میں تعلیم‘ شعور اور اتحاد پیدا کریں۔ اس انتھک جدوجہد کو دیکھ کر لوگوں نے انہیں احتراماً بادشاہ خان پکارنا شروع کر دیا جو بعد میں باچا خان بن گیا۔ باچا خان بہرام خان کے گھر 1890ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا سیف اللہ خان اپنے علاقے پر انگریزوں کے قبضے کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والوں میں شامل تھے۔ پردادا‘ عبیداللہ خان کو درانی حکمرانوں نے ان کی روشن دماغی اور قوم پرستی کی وجہ سے پھانسی کی سزا دی تھی۔باچا خان کا بچپن سکول گئے بغیر گزرا کیونکہ ان کے علاقے اور اس کے آس پاس کوئی سکول‘ ہائی سکول تو دور کی بات پرائمری سکول تک نہ تھا۔ اس وقت اس علاقے میں پشتو زبان کی ایک رباعی عام تھی جس کا مفہوم تھا کہ انگریز کے بنائے ہوئے سکولوں میں پڑھنا کفر کے مترادف ہے‘ سکولوں میں پڑھنے والوں کو جنت میں جگہ نہیں ملے گی اور وہ دوزخ میں بھی دھکے کھاتے پھریں گے۔ شمال مغربی ہندوستان کے لوگوں کی اکثریت قبولِ اسلام سے پہلے ہندو مت سے تعلق رکھتی تھی اور تاریخی طور پر ان لوگوں میں یہ عقیدہ رائج تھا کہ علم صرف برہمنوں کے لیے ہے‘ حالانکہ پختونخوا اور پوٹھوہار کا یہ علاقہ اپنے وقت میں تعلیم وتمدن کے اعتبار سے دنیا کا سب سے مہذب اور ترقی یافتہ خطہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ باچا خان کے بہادر باپ کا کارنامہ ہے کہ اُنہوں نے اپنے دونوں بیٹوں (ڈاکٹر خان اور باچا خان) کو مدرسے میں تعلیم دلوائی۔ دونوں بھائیوں نے قرآن شریف گھر میں پڑھا۔ باچاخان میٹرک کا امتحان دے رہے تھے کہ جب انہیں برٹش آرمی میں کمیشن لے کر بھرتی ہونے کی پیشکش ہوئی۔ انگریز افسروں کا توہین آمیز سلوک دیکھ کر باچا خان پہلے ہی دن چھائونی سے بھاگ گئے۔ سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد علی گڑھ کالج میں داخل ہوئے۔ اُن کے بھائی نے (جو برطانیہ میں پڑھ رہے تھے) والدین کو خط لکھ کر تجویز دی کہ غفار خان کو بھی انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے برطانیہ بھیجا جائے۔ اباجان مان گئے مگر اماں کو اپنے دوسرے بیٹے سے جدائی منظور نہ تھی۔ 1912ء میں‘ جب باچا خان کی عمر 22 برس تھی‘ والدین نے ان کی شادی کر دی۔ اگلے برس پہلا بیٹا عبدالغنی خان پیدا ہوا‘ جو بڑا ہو کر مشہور شاعر بنا۔ 1915ء میں عبدالولی خان پیدا ہوئے۔
1901ء میں جب انگریز حکومت نے اس خطے کو شمال مغربی سرحدی صوبے کا نام دے کر پنجاب سے علیحدہ کیا تو یہاں ایک انتہائی ظالمانہ قانون نافذ کیا گیا‘ جسے Frontier Crimes Regulation Act (ایف سی آر اے) کہتے ہیں۔ یہ امر باعثِ شرم ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد بھی اس قانون کے تحت عوام دوستوں‘ قوم پرستوں اور جمہوریت پسندوں کو سالہا سال کی قید بامشقت کی سزائیں سنائی گئیں۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد انگریز حکومت نے ممکنہ بغاوت کے خاتمے کیلئے مزید اختیارات حاصل کیے تو باچا خان اس کے خلاف جلسۂ عام کرنے والوں میں سرفہرست تھے۔ اُس وقت اس جلسے میں ایک لاکھ سے زائدلوگ شریک ہوئے۔ حکومت نے باچا خان کو گرفتار کر کے پائوں میں لوہے کی بیڑیاں ڈال دیں۔ باچا خان نے آزادی کی خاطر بڑی پامردی اور ناقابلِ تصور ہمت اور حوصلے سے اپنی زندگی کے 30 سال جیلوں میں کاٹے۔ 15 سال انگریز کی جیلوں میں اور 15سال پاکستان کی جیلوں میں۔ اپنی سوانح عمری میں باچا خان نے لکھا: مجھے ہمیشہ جیل کی اُس کال کوٹھڑی یا ایسی بیرک میں رکھا گیا جس کی روشنی رات کو گل کر دی جاتی تھی۔ حیدر آباد جیل میں مجھے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔ میں اس جیل میں بیمار ہو گیا۔ گردے اور پائوں خراب ہو گئے مگر جیل کے حکام مجھے غلط ملط دوائیں دیتے رہے۔ زیادہ بیمار ہوا تو لاہور جیل منتقل کر دیا گیا۔ بیماری اور بڑھی تو منٹگمری جیل بھیج کر وہاں کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا۔ اس طرح میری صحت روز بروز گرتی رہی۔ حکومت مجھے سزائے قید کے ساتھ جرمانہ بھی کرتی تھی۔ میری جائیداد کا ایک حصہ محض پندرہ ہزار جرمانہ کی عدم ادائیگی کے عوض ضبط کر لیا گیا حالانکہ اس کی قیمت 50 ہزار سے زائد تھی۔ پچاس کی دہائی کے وسط میں باچا خان کو صوبہ سرحد سے بے دخل کر دیا گیا۔ باچا خان نے جلا وطنی کا یہ کٹھن عرصہ لائل پور میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ وہ بھی وہاں کی سب سے معروف اور ہر دلعزیز شخصیت میر عبدالقیوم‘ جو ایک ممتاز وکیل تھے‘ کے گھر۔ میں اس وقت مقامی گورنمنٹ کالج سٹوڈنٹس یونین کا عہدیدار تھا (یا رہ چکا تھا) اور تقریری مقابلوں میں جوش وخروش سے حصہ لیتا۔ اس وجہ سے میر صاحب مجھے اچھی طرح جانتے تھے اور بڑی شفقت سے پیش آتے تھے۔ اُنہوں نے ایک دن مجھے اپنے گھر بلایا تاکہ میں ان کے معزز مہمان سے مل سکوں۔ مجھے کچھ پتا نہ تھا کہ مہمان کون ہے۔ میں سائیکل چلاتے میر صاحب کے گھر گیا تو وہ مجھے بیٹھک کے ساتھ والے کمرے میں لے گئے۔ ایک بوڑھا شخص چارپائی پر لیٹا ہوا تھا۔ سر پر سفید بال‘ چھوٹی سفید داڑھی‘ عمر سے زیادہ بڑھاپے والا چہرہ۔ صاف دلی‘ بردباری‘ اولوالعزمی‘ استقامت اور سچائی نے ان کے چہرہ کے گرد ایک ہالہ بنا رکھا تھا۔ میں انہیں اور وہ مجھے دیکھ رہے تھے۔ چہرہ شناسا تھا مگر پتا نہ تھا کہ وہ کون ہیں۔ میر صاحب نے مہربانی کی اور بتایا کہ یہ باچا خان ہیں۔ (جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں