ایک تصویر اور ڈاکٹر امجد ثاقب

بعض اوقات مصور حضرات اپنے کمالِ فن سے کیمرے کی آنکھ میں کوئی ایسا لمحہ یا منظر محفوظ کر لیتے ہیں جو دنیا تک وہ پیغام پہنچا دیتا ہے جو بڑی بڑی کتابیں اور رپورٹیں اہل دانش وبینش تک پہنچانے سے قاصر رہتی ہیں۔
ماضی میں ہم نے دیکھا کہ کئی بار افریقہ پر مسلط کی گئی جنگوں کی لپیٹ میں آئے ہوئے دم توڑتے انسانوں یا قحط زدہ بچوں کی چند تصویریں ساری دنیا میں وائرل ہوئیں اور اہلِ درد کو تڑپا گئیں۔ اسی طرح گزشتہ دو سالوں کے دوران اسرائیلی بمباری کی زد میں آئے ہوئے بچوں کی بہت سی تصاویر میڈیا کی بڑی بڑی رپورٹوں سے زیادہ اثر انگیز ثابت ہوئیں۔ 12 مارچ کو ہم نے جو تصویر دیکھی وہ ہماری روزمرہ زندگی سے تعلق رکھتی ہے‘ کسی جنگ زدہ علاقے سے نہیں۔ جمعرات کو یہ تصویر ایک معاصر میں شائع ہوئی۔ اسے دیکھ کر آنکھیں نم ہو گئیں اور دل بہت غمزدہ ہوا۔ سوچا کہ قارئین کو قصۂ غم سناؤں گا۔ تب دماغ سے صدا آئی کہ شکوہِ ظلمت شب کے بجائے اپنے حصے کی کوئی شمع جلانے کی تدبیر کرنی چاہیے۔ ہم ایک کم ہمت آدمی ہیں‘ ہماری جلائی ہوئی شمع کسی کٹیا میں ٹمٹماتے ہوئے چراغ جیسی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب ایک حیران کن شخصیت ہیں‘ انہوں نے گزشتہ بیس بائیس برس کے دوران نہ صرف اپنے حصے کی شمع جلائی ہے بلکہ لاکھوں لوگوں کے حصے کی شمعیں بھی جلائی ہیں۔ انہوں نے عملِ خیر کے حوالے سے وہ قرض بھی اتارے ہیں جو اُن کے ذمے واجب الادا نہ تھے۔آج تو ملک کا بچہ بچہ ڈاکٹر صاحب کو جانتا ہے۔ ساری دنیا میں اُن کا شہرہ ہے۔ اُن کو ہارورڈ اور آکسفورڈ جیسی بڑی بڑی یونیورسٹیاں خدمت خلق میں کارہائے نمایاں انجام دینے کی داستان سننے کیلئے دعوتِ خطاب دیتی ہیں۔ پاکستان جیسے غریب ملک سے غربت کے خاتمے اور مائیکرو فنانسنگ کی دنیا میں عظیم انقلاب برپا کرنے کے حوالے سے دنیا بھر کی دانش گاہوں میں اُن کے خیالاتِ عالیہ سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ آج ڈاکٹر صاحب محتاجِ تعارف نہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے ان کے ساتھ اخوت ومحبت اور احترام باہمی کے تعلقات قائم ہیں۔ بہت سے دوستوں کا خیال ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے خدمت خلق کیلئے اپنی زندگی میں بہت بڑے انقلابی فیصلے کئے ہیں مگر میری فقیرانہ رائے یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو مبدأ فیاض سے توفیقِ خاص ملی ہے۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا‘ سی ایس اسی کا امتحان دیا تو ڈپٹی کمشنر بن گئے۔ اگر ڈاکٹر صاحب طب کے شعبے میں ہوتے تو آج نامور طبیب ہوتے۔ بیورو کریسی میں رہتے تو آج کم از کم چیف سیکرٹری ہوتے۔ ادبی دنیا میں قدم رکھتے تو کم از کم آج عالمی شہرت یافتہ ادیب ہوتے۔ میڈیا میں آتے تو صفِ اوّل کے کالم نگار اور تجزیہ کار ہوتے اور اگر زر ومال کی دنیا میں جلوہ گر ہوتے تو شاید بڑے بڑے مالداروں کو پیچھے چھوڑ جاتے مگر خالق دو جہاں نے انہیں عملِ خیر اور خدمتِ خلق کے لیے چُن لیا۔ انہوں نے بیورو کریسی کی اعلیٰ ملازمت سے استعفیٰ دیا اور خود کو انسانوں کی خدمت کیلئے وقف کر دیا۔ آج کوئی دوسرا اُن کے مقام ومرتبے تک نہیں پہنچا۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران انہوں نے صرف دس ہزار روپے سے قرضِ حسنہ کے جس پروگرام کا آغاز مسجد کی چٹائیوں اور کچے گھروندے کے تپتے ہوئے صحنوں میں بیٹھ کر کیا تھا اب تک وہ چھوٹے قرضوں کی مد‘ لوگوں کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کے پروگراموں‘ بے گھر لوگوں کو اپنی صحت دینے اور سب سے بڑھ کر میکرو فنانسنگ کے شعبے میں ایسے کرشمے دکھائے ہیں کہ دنیا بھر کے بڑے بڑے معیشت دان جب تک پاکستان آ کر بچشم خود اس عظیم انقلاب کو دیکھ نہیں لیتے‘ اس وقت تک انہیں یقین نہیں آتا۔ بلاسود مائیکرو فنانسنگ ڈاکٹر صاحب کا ایک حیران کن کارنامہ ہے۔ اتنی خطیر رقوم پاکستان کے چھوٹے بڑے اہلِ خیر کی طرف سے آتی ہیں۔ قرض لینے والے کی کوئی لمبی چوڑی تحقیق نہیں کی جاتی۔ اسے اس شرط پر چھوٹا قرضہ دیا جاتا ہے کہ جونہی وہ اپنے قدموں پر کھڑا ہو جائے گا‘ مناسب اقساط کے ذریعے قرضہ واپس کرے گا۔ اکثر صورتوں میں قرضِ حسن لینے والے قرضِ حسن دینے والے بن جاتے ہیں۔ میں نے ایک طالب علم کی حیثیت سے دنیا بھر کی مائیکرو فنانسنگ سکیموں کا سرسری مطالعہ کیا ہے مگر مجھے مکمل طور پر بلاسود یا سروس چارجز کے بغیر کوئی ایک پروگرام نہیں ملا۔
یہ مائیکرو فنانسنگ کیا ہے؟ اس پروگرام کے دریا کو ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب نے خوبصورت نثر نگاری اور کمال ہنر مندی کے ساتھ کوزے میں بند کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بے وسیلہ لوگوں کی اکثریت مال ودولت سے تو محروم ہوتی ہے مگر عزتِ نفس سے نہیں۔ مروجہ طریقے سے ہم خیرات بانٹ کر انہیں عزتِ نفس سے بھی محروم کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بقلم خود لکھتے ہیں ''اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا تھا کہ غربت‘ بھیک اور سود سے بچو۔ غربت کفر تک لے جاتی ہے۔ بھیک تذلیل ہے اور سود اللہ سے کی جانے والی جنگ۔ ہمیں نہ تو کفر اور تذلیل گوارا ہے اور نہ ہی ہم اللہ اور اس کے رسولﷺ سے جنگ کے روادار ہو سکتے ہیں۔ اخوت مواخاتِ مدینہ کے انتہائی بابرکت اصول پر قائم ہے‘‘۔
گزشتہ چند برس کے دوران ڈاکٹر امجد ثاقب نے ایک بڑا بنیادی اور اہم ترین کام بھی شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے قصور میں بغیر فیس کے ایک بورڈنگ ہاؤس والا وسیع و عریض کالج برائے طلبہ قائم کیا ہے۔ اسی طرح کا ایک کالج برائے طالبات چکوال میں قائم کیا گیا ہے۔
جمعرات کے روز جب میں نے وہ تصویر دیکھی جس کا میں نے کالم کے آغاز میں ذکر کیا ہے تو میرے دل ودماغ میں تادیر مشاورت ہوتی رہی۔ دماغ نے کہا کہ محض دردمندی کوئی بڑی بات نہیں عملی قدم اٹھاؤ۔ تب میرے دماغ نے ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب کی طرف رہنمائی کی کہ تمہیں یہ تصویر ڈاکٹر صاحب سے شیئر کرنی چاہیے۔ نیز اپنے اس خواب پر بھی تبادلۂ خیال کرنا چاہیے جسے تم برسوں سے اپنی پلکوں میں بسائے ہوئے ہو۔ فیصل آباد کے ایک فوٹو گرافر نے اپنے کیمرے کی آنکھ میں ایک دلگداز منظر محفوظ کر لیا۔ اس منظر میں آٹھ سے بارہ برس کے کمہلائے ہوئے تین پھول سے بچے سائیکلوں کی ایک دکان پر سائیکلوں کے کل پرزے فٹ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ یہ تصویر جمعرات کے معاصر میں دیکھی تو آنکھیں نم ہو گئیں۔ یقین کیجئے مجھے ان تین بچوں میں سے ایک نامور ڈاکٹر‘ ایک جرنیل اور تیسرا کوئی بڑا سول آفیسر دکھائی دے رہا تھا۔ جب اس عمر کے بچوں کو ریستورانوں اور دکانوں میں اور بچیوں کو گھروں میں کام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو دل لہو سے بھر جاتا ہے۔ یہ ہونہار بیج بھی تو تناور سربفلک شجر بن سکتے ہیں۔
چلئے پنجاب سے آغاز کر لیتے ہیں۔ یہاں ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ان سب کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا یقینا کوئی آسان کام نہیں۔لیکن تعلیم سب کا حق ہے۔ آئیں ڈاکٹر صاحب! یہ حق ادا کریں۔ آپ پکاریں گے تو اس حق کی ادائیگی کیلئے ہزاروں لوگ لپکے چلے آئیں گے۔ حکومتوں کے کرنے کا یہ کوہِ ہمالیہ جتنا بڑا کام وہ ان شاء اللہ انجام دے لیں گے کیونکہ وہ صاحبِ جنوں ہیں۔ انہی کے لیے تو فیض احمد فیض نے کہا تھا:
انہی کے فیض سے بازارِ عقل روشن ہے
جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں