بجٹ کا ایک بار پھر تماشا

اسداللہ خان غالب نے کہا تھا
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
یہاں پاکستان میں ہر سال ایک بار قومی اسمبلی میں بجٹ کا تماشا ہوتا ہے اور پھر سارا سال بیچارے عوام تماشا بنے رہتے ہیں۔ وطنِ عزیز میں بجٹ نہ لفظوں کی ساحری ہے نہ حسین خوابوں کی جادو گری‘ بلکہ یہ اعداد وشمار کی ہیرا پھیری ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس سال بھی وہی کچھ ہو رہا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ہر سال ہوتا چلا آیا ہے۔ یعنی ملک کی محدود تعداد امیر تر بلکہ امیر ترین ہوتی جاتی ہے اور باقی سب غریب ترین ہو رہے۔ پنجابی میں مثل مشہور ہے جس کی تان اس ''مکدی گل‘‘ پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ جس کا قرض دینا ہو اس کی ہر بات ماننا پڑتی ہے۔ اس وقت حکومت کا مخمصہ یہ ہے کہ اگر وہ آئی ایم ایف کی ہدایات کو مان لیتی ہے تو عوام ناراض ہو جاتے ہیں اور اگر عوام کو خوش کرنے کیلئے اُن کی گردنوں کے گرد کَسے ہوئے شکنجے کو ذرا سا ڈھیلا کرتی ہے تو آئی ایم ایف ناراض ہو جاتا ہے۔ حکومت کا وتیرہ یہی ہے کہ عوام مرتے یا سسکتے ہیں اس کی اسے پروا نہیں۔ حکمرانوں کو ہر قیمت پر آئی ایم ایف کی خوشنودی درکار ہے۔ بنیادی حقیقت یہ ہے کہ حکمران ہر سال بیرونِ ملک سے سرمایہ کاری لانے کے سپنے دکھاتے ہیں‘ ملک میں انڈسٹری لگانے‘ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی نوید سناتے ہیں مگر ہر مالی سال کے اختتام پر نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ قرض پہلے سے کہیں بڑھ چکا ہوتا ہے‘ بڑے عالمی اداروں کے علاوہ غیر ملکی وملکی بینکوں سے کڑی سودی شرائط پر قرض کے پہاڑ عوام کے سروں پر لاد دیے جاتے ہیں۔ سرمایہ کاری نہیں ہوتی‘ برآمدات بڑھنے کے بجائے کم ہو جاتی ہیں‘ شرح نمو نیچے آ جاتی ہے اور مہنگائی کا گراف اوپر سے اوپر چلا جاتا ہے۔ طرح طرح کے من لبھانے والے نمائشی نعرے لگائے جاتے ہیں۔ اڑان پلان کے تحت برآمدات کا ہدف 60 ارب ڈالر کا طے ہوا مگر پہلے سال ہی پانچ فیصد سے زیادہ گراوٹ ہو گئی۔ تجارتی خسارہ گیارہ ماہ میں 17 فیصد بڑھ کر 34 ارب ڈالر سے بھی اوپر جا پہنچا۔ معیشت اور گورننس کا سارا کچا چٹھا کھولنے کے بعد آج کالم میں اہلِ پاکستان کو بتایا جائے گا کہ وہ آسیب کا سایہ کیا ہے کہ جس کی بنا پر ہر سال ملک ترقی کے بجائے تنزلی کی اتھاہ گہرائیوں کی طرف لڑھکتا جا رہا ہے۔
مالی سال 2025ء میں ایف بی آر کو تقریباً 13 ہزار ارب روپے کے ٹیکس کا ٹارگٹ دیا گیا جو عملاً 11700 ارب روپے کے قریب اکٹھا ہو سکا۔ ذرا یہ تلخ حقائق بھی سامنے رہنے چاہئیں کہ 25 کروڑ کی آبادی میں سے صرف 70 لاکھ افراد براہِ راست ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے بھی اکثر قابلِ ٹیکس آمدنی کو گھٹا کر دکھاتے ہیں۔ باقی ساری آبادی کو بالواسطہ ٹیکس‘ سیلز ٹیکس اور پٹرول پر عائد بھاری لیوی کے طور پر بہ جبر و اکراہ ادا کرنا پڑتے ہیں۔ تقریباً دو سال پہلے پاکستان پر بیرونی قرضہ 131 ارب ڈالر تھا جو اَب بڑھ کر 138 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ پاکستان کی کُل آبادی میں سے 45 فیصد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اُن کی تقریباً دو ڈالر یومیہ آمدنی کی قوتِ خرید بے پناہ مہنگائی کی بنا پر اور بھی کم ہوتی جاتی ہے۔ گزشتہ کئی برس سے پاکستان میں کوئی بڑی سرمایہ کاری نہیں آئی۔ براہ راست ٹیکس ادائیگی کا ہم اوپر ذکر کر چکے‘ اب جو جنرل سیلز ٹیکس پاکستان کے کم آمدنی والے حتیٰ کہ خطِ غربت سے نیچے 45 فیصد عوام بھی دینے پر مجبور ہیں‘ اس کی شرح اس وقت 18 فیصد ہے۔ یہ ٹیکس تمام تر اشیا اور خدمات جیسے بجلی وگیس کا بل‘ ٹرانسپورٹ کے ٹکٹ وغیرہ پر ادا کرنا پڑتا ہے۔ جو بینظیر انکم سپورٹ کا مستحق ہے وہ ماچس کی ڈبیہ پر بھی جی ایس ٹی ادا کر کے اسے خریدے گا۔ اب شنید ہے کہ نئے بجٹ میں یہ ٹیکس 19 فیصد کر دیا جائے گا اور مزید کئی ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔ جنرل سیلز ٹیکس کے علاوہ پٹرول پر 117.41 روپے فی لیٹر لیوی اس لیے ادا کرنا ہوتی ہے تاکہ حکومت کے پاس مزید پٹرول خریدنے کیلئے وافر رقم موجود ہو۔ اس کے علاوہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی 2.50 روپے فی لیٹر لی جاتی ہے۔ ایک محنت کش کو ایک لیٹر میں پٹرول کی قیمت کے علاوہ کئی قسم کے ٹیکسز ادا کرنا ہوتے ہیں۔ اسی پر بس نہیںبلکہ پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی بنا پر ہر چیز کی قیمتیں جب مزید بڑھتی ہیں تو اس چکی میں پاکستان کی تقریباً 70 فیصد آبادی پس جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 1998ء میں ہم ایٹمی قوت بنے اور اب 2026ء میں ربِ ذوالجلال کے فضل وکرم سے ثالثی کی بنا پر عالمی سطح پر ہماری ملکی ساکھ بہت بلند ہوئی ہے مگر جب دنیا کی نظر ہماری پسماندہ معیشت اور ہماری کرپشن زدہ بیڈ گورننس پر پڑتی ہے تو وہ اس تضاد پر بہت حیران ہوتی ہے۔ اگر ہماری سیاسی قیادت نے اپنی مفاد پرستی میں کمی نہ کی تو ہم اس مالی بھنور اور معاشی گرداب سے کبھی نہیں نکل پائیں گے۔ یہی وہ آسیب کا سایہ ہے جو ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیتا۔
اس وقت ہماری معیشت کا انحصار صرف دو طرح کی آمدنیوں پر ہے۔ ایک تو سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر اور دوسری زراعت۔ زیادہ تر ترسیلاتِ زر سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ سے وصول ہوتی ہیں۔ 2025ء میں یہ ترسیلاتِ زر 38.5 بلین ڈالر تھیں۔ 45 درجے سینٹی گریڈ کی شدید گرمی میں کام کرنے والے ہمارے لاکھوں مزدور ان رقوم سے اپنا اور پاکستان دونوں کا کچن چلا رہے ہیں۔ مگر ہم نے وطن واپس آنے کے بعد ان کی مستقل آمدنی اور ان کیلئے کوئی اولڈ ایج سکیم تک نہیں دی۔ حالات کے اتار چڑھاؤ جیسا کہ آج کل جنگی حالات ہیں‘ میں یہ ترسیلات گھٹتی بڑھتی رہتی ہیں۔ لہٰذا ہماری غذائی ضروریات اور برآمدات کا مرکزی انحصار زراعت پر ہے‘ جو ہمارا دوسرا بڑا ذریعۂ آمدنی ہے۔ حکومتوں کی ناقص پالیسیوں نے زراعت کو بھی تباہی و بربادی سے دوچار کر دیا ہے۔ بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب کی زرعی زمین کی خاصیت اور موسمی حالات یکساں ہیں مگر انڈیا میں کسان کو بے پناہ سہولتیں حاصل ہیں۔ کسان بورڈ کے صدر نے بتایا کہ انڈیا میں یوریا کی ایک بوری پاکستانی کرنسی کے مطابق 900 روپے کی ہے جبکہ پاکستان میں تقریباً پانچ ہزار روپے کی۔ اسی طرح ڈی اے پی فرٹیلائزر کی بوری بھارت میں چار ہزار روپے جبکہ یہاں اس کی کم از کم قیمت پندرہ سے سولہ ہزار روپے ہے۔ انڈیا میں حکومت کسان کو مفت بجلی فراہم کرتی ہے اور یہاں بجلی کے ریٹس ناقابلِ برداشت ہیں۔ جنوبی پنجاب میں حکمران اشرافیہ نے اپنے منافع کی خاطر وائٹ گولڈ یعنی کپاس کو تباہ کر کے اور قانون کو پاؤں تلے روند کر وہاں شوگر ملیں لگا لیں اور گنا اُگا لیا‘ جس سے زیر زمین پانی کی سطح بہت نیچے چلی گئی۔ اربوں ڈالر کی کاٹن برآمدات ختم ہو چکی ہیں۔ حکمران 10 جون کو بجٹ پیش کرنے سے پہلے عوام کو بتائیں کہ پنجاب اور سندھ میں کس کس کی شوگر ملیں اور کس کس کے آئی پی پیز ہیں۔
لاہور میں ہمارے پڑوسی وہاڑی میں درمیانی درجے کے زمیندار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے آلوؤں کی فصل رُل گئی ہے۔ اب کسان آلوؤں کی بوریوں کو کولڈ سٹوریجز میں ڈال جاتا ہے کیونکہ اُن کی کوئی ڈیمانڈ نہیں۔ جب تک ہمارے حکمران اپنی مفاد پرستی‘ عوامی بستیوں سے دور کئی کئی ایکڑوں پر مشتمل شاہانہ رہائشگاہوں اور درجنوں گاڑیوں والے پروٹوکول کو نہیں چھوڑیں گے اس وقت تک ہمارے سروں سے آسیب کا سایہ ہٹنے والا نہیں۔ جب تک عوام کا دکھ درد محسوس کرنے والے عوامی نمائندے منتخب نہیں ہوتے اس وقت تک معاملہ یونہی لشتم پشتم چلتا رہے گا اور کسی بجٹ کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں