"IAS" (space) message & send to 7575

دیر آید درست آید

پاکستان کے موجودہ نظامِ حکمرانی کی ناکامی اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان نے انتہائی اہم بحث کو پھر سے جنم دیا ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بحث پہلے بھی ہوتی رہی ہے کہ نئے صوبے انتظامی بنیادوں پر قائم کیے جانے چاہئیں۔ یہ صائب تجویز دنیا میڈیا گروپ کے سربراہ میاں عامر محمود نے بہت پہلے دی تھی‘ جب وہ لاہور کے ضلعی ناظم تھے۔ وہ بیس پچیس سال سے اس تحریک کیلئے محنت اور کوشش کر رہے ہیں۔ امسال میاں عامر محمود صاحب نئے صوبوں کی یہ تحریک لے کر شہر شہر گئے‘ مختلف فورمز اور سیمینارز سے خطاب کیا اور اس کے حل کیلئے صائب تجاویز بھی پیش کیں اور ایک مفصل کتابچہ بھی تحریر کیا۔اس کاوش کے حوالے سے راقم الحروف نے بھی کئی ایک کالم لکھے۔
دیر آید درست آیدکے مصداق وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک میں انتظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ نظام میں بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ انتظامی یونٹ کہیں یا صوبے‘ اب ہمیں ان کی طرف جانا ہو گا۔ اس لیے عوامی مسائل کے حل کیلئے نئے صوبوں کے قیام پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حکومت کو خبردارکیا ہے کہ ''کاکروچوں‘‘ کے اکٹھے ہونے سے پہلے نظام درست کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے ایک ہی طرزِ حکمرانی جاری ہے مگر اس کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں‘ تاہم جمہوری نظام کے اندر بھی مختلف ماڈلز موجود ہیں‘ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے لیے زیادہ مؤثر اور عوام دوست انتظامی ڈھانچے پر غور کیا جائے۔
دوسری طرف پنجاب اور وفاق میں برسر اقتدار جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے بھی حکمران اشرافیہ کو خبردار کیا ہے کہ اس وقت سے بچنا چاہیے جب پنجاب میں بھی جنتر منتر شروع ہو جائے۔ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق کچی بستیوں سے لڑکے ڈنڈے لے کر نکلیں گے اور جوسامنے آئے گا اس کو کچل دیں گے کیونکہ بھوک‘ افلاس اور غربت نے لوگوں کی بس کرا دی ہے جبکہ حکمرانوں کی عیاشیاں بدستور جاری ہیں اور کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہے۔ دس ہزار کنال پر صرف بیس لوگ قابض ہیں۔ صرف وزیراعظم ہاؤس کا روزانہ کا خرچہ دس کروڑ روپے ہے۔ ایوان صدر کا خرچہ بھی اس سے کچھ کم نہیں ہوگا۔ چار گورنر ہاؤسز اور چار وزرائے اعلیٰ ہاؤسز کا حال بھی یہی ہے۔ ایک آدمی کیلئے ایک ایک ہزار سے زائد سرکاری ملازمین خدمت پر مقرر ہیں۔ ایسی صورتحال میں یہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکے گا۔ دوسری بات یہ کہ یہ ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک میاں نواز شریف‘ آصف علی زرادری اور عمران خان سمیت اس ملک کے تمام سیاسی اور عسکری سٹیک ہولڈرز مل کر نہیں بیٹھیں گے۔ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی تجویز سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ بلاشبہ محسن نقوی کا بیان اہم معاملہ ہے‘ اس پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ پاک فوج کے ترجمان نے اگرچہ وفاقی وزیر داخلہ کے بیان کو اُن کی ذاتی رائے قرار دیا ہے لیکن انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی کیلئے گڈ گورننس بہت ضروری ہے‘ گڈ گورننس کے بغیر معاملات حل نہیں ہو سکتے‘ اس لیے گڈ گورننس کیلئے کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا کیونکہ سکیورٹی اور سیفٹی کا دارو مدار گڈ گورننس پر ہے۔ ریاست ہو گی تو سیاست‘ شناخت اور تمام ادارے قائم رہیں گے۔
اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی ترقی‘ استحکام اور خوشحالی کا انحصارصرف ایسے نظام پر ہے جو ہر شہری کو بلا امتیاز برابر کا شہری سمجھے اور قانون کی نظر میں سب کیلئے یکساں انصاف فراہم کرے۔ ایک مضبوط اور مؤثر نظام وہی ہوتا ہے جس میں انصاف بروقت ملے‘ جان ومال کا تحفظ یقینی ہو‘ بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جائے‘ میرٹ کو فروغ دیا جائے اور ہر فرد کو تعلیم‘ صحت‘ روزگار اور عزتِ نفس کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔ اگر ریاستی نظام وقت کے تقاضوں کے مطابق مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے تو ایسی اصلاحات پورے معاشرے کے مفاد میں ہوں گی۔ جمہوری نظام کوئی برا نہیں ہوتا‘ اسے چلانے والے برے ہوتے ہیں اور پاکستان میں تو جمہوری نظام کو چلنے ہی نہیں دیا گیا۔ آزادی کے بعد 35 برس تو براہ راست آمر اقتدار پر قابض رہے۔ جمہوری حکومتوں کے دوران بھی عسکری حلقوں کا کبھی پس پردہ رہ کر اور کبھی کھل کر اقتدار میں دخل رہا ہے۔ بلاشبہ ایک ایسا نظام جس میں تمام شہری خود کو محفوظ‘ بااختیار اور برابر محسوس کریں وہی حقیقی معنوں میں مضبوط‘ مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے جب ''سسٹم کی تبدیلی‘‘ کی بات کی تو اُن کا اشارہ محض کسی ایک ادارے یا ایک حکومت کی تبدیلی کی طرف نہیں بلکہ مجموعی گورننس‘ انتظامی ڈھانچے‘ اختیارات کی تقسیم‘ میرٹ‘ احتساب اور عوامی خدمت کے نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت کی طرف تھا۔ ان کے مطابق اگر یہی نظام برقرار رہا تو دس سال بعد بھی ملک انہی مسائل پر بحث کرتا رہے گا‘ اس لیے ضروری ہے کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے‘ انتظامی ڈھانچے کو زیادہ مؤثر بنایا جائے اور اس کیلئے جتنی جلدی ممکن ہو سکے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام پر بھی قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔
حقیقی معنوں میں کسی بھی سسٹم کی تبدیلی کا آغاز سب سے پہلے حکمران طبقے‘ سیاسی قیادت‘ بیورو کریسی‘ ریاستی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے محکموں سے ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ جب تک فیصلے میرٹ‘ شفافیت‘ جوابدہی اور قانون کی یکساں عملداری کی بنیاد پر نہیں ہوں گے‘ صرف نعرے یا اعلانات عوام کی زندگی میں تبدیلی نہیں لا سکتے۔ اس عمل میں سب سے بڑی قربانی ذاتی مفادات‘ سیاسی مصلحتوں‘ اقربا پروری‘ بدعنوانی‘ غیر ضروری سرکاری مراعات اور اختیارات کا ناجائز استعمال ترک کرنا ہوگا۔ اگر ایسی اصلاحات عملی طور پر نافذ ہو جائیں تو عام شہری کو بہتر طرزِ حکمرانی‘ تیز رفتار سرکاری خدمات‘ روزگار کے بہتر مواقع‘ انصاف تک آسان رسائی‘ ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر تکمیل اور مجموعی طور پر ریاست پر اعتماد میں اضافہ جیسے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ تمام فوائد اسی وقت ممکن ہیں جب اصلاحات پر مسلسل اور غیر جانبدارانہ عملدرآمد کیا جائے۔ تبھی جاکر ہم پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی حقیقی منزل کو پا سکیں گے۔ جمہوریت ایک سیاسی نظام ہے جس میں اقتدار کی تمام راہیں عوام سے ہو کر گزرتی ہیں اور عوام ہی طاقت کا بنیادی مرکز ہوتے ہیں۔ اقتدار کا یہ نظام باقی تمام نظاموں سے اپنی بہت سی خصوصیات کی بنا پر اچھا ہے اور زیادہ کامیاب بھی‘ لیکن اس کی بہت سی کمزوریاں بھی ہیں۔ اس میں قابلیت کی نہیں صرف تعداد کی اہمیت ہوتی ہے‘ اسی لیے سیاسی و سماجی سطح پر بہت سی منفی صورتیں جنم لیتی ہیں۔ بقول ڈاکٹر اعظم:
یہی جمہوریت کا نقص ہے جو تختِ شاہی پر
کبھی مکار بیٹھے ہیں‘ کبھی غدار بیٹھے ہیں
حبیب جالب نے بھی اسی حسرت کا اظہارکیا تھا:
کبھی جمہوریت یہاں آئے
یہی جالب ہماری حسرت ہے
اور بقول مرتضیٰ برلاس:
نام اس کا آمریت ہو کہ ہو جمہوریت
منسلک فرعونیت مسند سے تب تھی اب بھی ہے
اظہر شمس جمہوری نظام کی رسوائی پہ اس طرح رقم طراز ہیں:
دہائی دے کے وہ جمہوریت کی ؍ نظام خوابِ رسوا کر رہا ہے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...