1979ء سے لے کر اب تک ایران میں برسر اقتدار طبقے نے اپنے ملک کا بہت نقصان کیا ہے۔ امریکہ کے ساتھ جنگ کے باعث اس کے اڑتیس اضلاع کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس پر انہیں کوئی ملال نہیں۔ نہ صرف ملال نہیں بلکہ ان کی بڑھکیں اور دعوے ابھی تک جاری ہیں۔ بقول جون ایلیا:
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
استاد نصرت فتح علی خان نے بھی ایک غزل میں اسی طرح کی صورتحال کی نشاندہی کی ہے:
دیکھ لیلیٰ تیرے مجنوں کا کلیجہ کیا ہے
خاک میں مل کے بھی کہتا ہے کہ بگڑا کیا ہے
میرے خیال میں ایرانی قیادت کو اس حد تک پہنچانے میں بڑا قصور ہمارے اردو وی لاگرز کا ہے جو پیسہ بنانے کے چکر میں ایران کی فتح کے گیت گا رہے ہیں اور چونکہ ایرانی اس زبان کو بڑی حد تک جانتے ہیں اس لیے وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم یہ جنگ جیت رہے ہیں لیکن حقیقت میں اہل ایران نے فتح کی اس خام خیالی میں اپنا بہت جانی ومالی نقصان کیا ہے۔ اگر وہ اردو زبان نہ سمجھتے ہوتے تو شاید معاملہ اس حد تک نہ پہنچتا۔ ایران میں جس قدر تباہی ہوئی ہے اس کو اپنی سابق پوزیشن پر آنے کے لیے ایک لمبا عرصہ لگے گا۔ مظفر رزمی نے ٹھیک کہا تھا:
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
میں اپنے گزشتہ سے پیوستہ کالم میں بھی عرض کی تھی کہ یہ معاشیات کا جھگڑا ہے اور اس لیے دونوں ملکوں کے مابین ہلکی پھلکی آنکھ مچولی جاری رہے گی۔ اپنے اپنے مفادات کے حصول تک یہ جنگ جاری رہے گی اور جنگ کی راکھ سے کوئی نہ کوئی چنگاری آگ پکڑتی رہے گی۔ یہ اسی بات کا نتیجہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھمکی دی ہے کہ معاہدہ نہ کیا تو اگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنا ئیں گے اور حملے تب تک جاری رہیں گے جب تک وہ یہ نہ کہہ دیں کہ بس بہت ہوگیا۔
معاشیات کے چکر والی بات امریکی صدر کی زبان پر بھی آ ہی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران میں توانائی (اسی تیل پر تو امریکہ کی نظر بد ہے) کے اہداف کو آخری مرحلے میں دیکھا جائے گا۔ امریکی صدر کا ماننا ہے کہ ایران میں ابھی جنگ لڑنے کی صلاحیت باقی ہے لیکن یہ بہت زیادہ نہیں۔ صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر 20 فیصد ٹیکس لینے کے اعلان پر 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں یہ کہتے ہوئے یوٹرن لے لیا کہ آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس لینے کا خیال ہی ان کے لیے ناپسندیدہ ہے۔
سعودی عرب‘ پاکستان‘ ترکیہ‘ مصر اور قطر نے ایران کو ریلیف لے کر دیا تھا اور بڑی کوششوں کے بعد ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ کرایا تھا لیکن ابھی اس معاہدے پرفریقین اور ثالثوں کے دستخطوں کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر دوبارہ حملے شروع کر دیے اور یہ حملے ایک ہفتے سے مسلسل جاری ہیں۔ امریکہ ایران کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے اور جواب میں ایران نے بحرین‘ کویت‘ اردن اور شام میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ بدقسمتی سے اس جنگ کے دوران جانی اور مالی نقصان مسلم ممالک کا ہی ہو رہا ہے۔ اور ان مسلم ممالک میں تنصیبات کا ہونے و الا نقصان امریکہ انہی ممالک سے پورا کرے گا‘ بلکہ دگنا معاوضہ لے گا اور اس امر کا اعلان امریکی صدر ٹرمپ کئی بار کر چکے ہیں۔
حال ہی میں امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے زیر اہتمام سعودی عرب سمیت گیارہ عرب ممالک کے اجلاس کا مقصد بھی ایران کے خلاف ایک نیا اتحاد قائم کرنا تھا۔ اس کے بدلے میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف حملوں کیلئے امریکہ سے مدد طلب کی گئی۔ یمن کے صنعا ایئر پورٹ پر سعودی عرب کی میزائلوں سے بمباری بظاہر اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہے۔ ایران کے خلاف اتحاد میں شامل عرب ممالک کو امریکہ اپنا اسلحہ بیچے گا جو ایران کے خلاف استعمال ہو گا‘ لیکن ایرانی رجیم کو اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ خطے میں نقصان مسلم ممالک کا ہی ہو رہا ہے۔ دوسر ی طرف اسرائیل کبھی نہیں چاہے گا کہ ایران اور عرب ممالک کی آپس میں صلح ہو جائے کیونکہ 1947-48ء میں جب اسرائیل نے عربوں کے خلاف جنگ لڑی تھی تو اس نے اس وقت اپنے آپ کو بہت غیر محفوظ تصور کیا اور اسے ایک خفیہ ایجنسی کی ضرورت شدت سے محسوس ہوئی یوں 13 دسمبر 1949ء کو موساد کا قیام عمل میں آیا۔ اسرائیل سمجھتا تھا کہ مسلم ممالک کی تعداد بہت ہے اور یہ ہر وقت لڑنے پر آمادہ رہتے ہیں اس لیے ہمیں ان کے ارادوں کا پہلے سے معلوم ہونا چاہیے۔ جب 1973ء میں مسلم ممالک نے اسرائیل پر سرپرائز اٹیک کیا تو اس اٹیک کا انہیں پہلے سے علم تھا۔ لیکن اس سے قبل جب 1967ء میں اسرائیل نے مسلم ممالک پر حملہ کیا تو یہ بالکل لاعلم تھے۔ اس طرح 1956ء میں بھی اپنی انٹیلی جنس کی بدولت مسلم ممالک کی مت مار دی۔ بدقسمتی سے اب یہ موساد ایران کے اندر تک گھسی بیٹھی ہے اور وہاں کی فیصلہ ساز قیادت کے اندر سرایت کر چکی ہے۔ جیسا کہ اسرائیل نے پہلے حماس کو بنایا پھر مبینہ طور پر اس میں اپنے لوگ شامل کرائے جن کی مدد سے اسرائیل حماس کے فیصلے خود کراتا تھا۔ چونکہ پی ایل او ختم ہو چکی تھی اور اب اسرائیل کو ان کو مارنے کیلئے کوئی بہانہ چاہیے تھا تو اسے حماس مل گئی اور پھر اسرائیل نے حماس کے لیڈروں کو چن چن کر مارا۔ اور 2020ء کے بعد ان کو ایران مل گیا۔ اس دوران حماس نے حملہ کیا اور اس کے اہم رہنما مارے گئے اور اب وہ ایران سے بھی حماس والا سلوک کر رہے ہیں۔ وہ ایران کو چھیڑتے جا رہے ہیں اور وہ چھڑتا جا رہا ہے‘ لہٰذا میرا شک یقین میں بدل چکا ہے کہ ایرانی رجیم کے اندر موساد کے جاسوس گھر کر چکے ہیں اور وہ ان سے اپنی مرضی کے فیصلے کروا رہے ہیں۔ اسرائیل نہیں چاہتا تھا کہ ایران امریکہ جنگ بند ہو کیونکہ یہ دراصل اسرائیل کی ہار ہے۔ اس جنگ کا بند ہونا امریکہ اور ایران کی جیت ہے اور اسرائیل کی ہار لیکن اسرائیل یہ ہار تسلیم نہیں کر رہا اور اس نے اپنے پتے کھیل کر ان کو دوبارہ جنگ کی آگ میں دھکیل دیا ہے۔ اب یہ جنگ رکتی چلتی رہے گی کہ یہ ایک طرح سے یکطرفہ جنگ ہے کیونکہ ایران تو کچھ بھی نہیں کر رہا اور خالی بڑھکیں مار رہا ہے جبکہ امریکہ اس کو مارے جا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ دعویٰ بے جا نہیں کہ ایرانی کی فضاؤں پر ہمارا مکمل کنٹرول اور قبضہ ہے۔
اب کیا کیا جائے مسلمانوں کا‘ مسلمانوں کا مسئلہ یہی ہے کہ وہ عقل کی بات ماننے کو تیار نہیں اسی لیے پچھلے پانچ سو سال سے مار کھا رہے ہیں ۔ جب ان کو منع کیا جاتا ہے تو یہ سنتے نہیں اور ہر جنگ کے بعد پہلے سے زیادہ نقصان اٹھا تے ہیں اس کے باوجود جنگ سے باز نہیں آتے۔ اس کی یقینی وجہ یہ ہے کہ موساد مسلمانوں کی جہادی تنظیموں میں داخل ہو چکی ہے۔ اسرائیل کو چونکہ 1948ء میں اپنی کمزوری کا پتا چل چکا تھا اس لیے اس نے تمام جہادی تنظیموں میں اپنے لوگ فٹ کیے۔ خفیہ ایجنسی کے اوپر بہت زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے اور پیسہ اسرائیل کے پاس بہت تھا اور اس نے یہ پیسہ خوب خرچ کیا اور نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments