میں گزشتہ ماہ امریکہ اور کینیڈا کے وزٹ پر تھا۔ ایک ہفتہ امریکہ اور تین ہفتے کینیڈا میں گزرے۔ دوستوں نے تقریبات کا اہتمام کرکے عزت افزائی کی‘ جس پر میں ان کا ممنون بھی ہوں اور شکر گزار بھی۔ مرزا نسیم بیگ کمیونٹی میں ہم آہنگی کے علمبردار ہیں۔ 2010ء میں کینیڈا کو اپنا گھر بنانے کے بعد سے مرزا نے گریٹر ٹورنٹو ایریا میں کمیونٹی سروس کے ستون کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ ایک ریٹائرڈ پبلک سروس افسر کے طور پر مرزا نے خود کو طاقتور اور جامع کمیونٹی کی تعمیر کے لیے وقف کر دیا۔ ان کا کام کینیڈا کی اقدار کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ ہمدردی‘ شہری ذمہ داری اور مختلف اقوام میں اتحاد کے لیے گزشتہ پندرہ سالوں میں مرزا بیگ کی شراکتیں نہ صرف وسیع ہوتی رہیں بلکہ گہرا اثر بھی ڈالا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں گزشتہ برس انہیں کنگ چارلس III کے تاج پوشی تمغہ سے نوازا گیا۔ یہ ایک کینیڈین قومی اعزاز ہے جو اُن لوگوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے ملک کے لیے نمایاں اور دیرپا خدمات انجام دی ہوں۔ ان کی کوششوں نے مختلف پس منظر کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا اور کینیڈا کے کثیر الثقافتی جڑائو کو مضبوط بنایا۔ وہ مسی ساگا میں پاکستانی کمیونٹی کے بیرونی امور کے سیکرٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں‘ جہاں انہوں نے شہریوں کے لیے متعدد اقدامات کی داغ بیل ڈالی ہے۔ بین المذاہب مکالموں سے لے کر کمیونٹی کی فلاح کے لیے چندہ مہم تک‘ ان کی قیادت میں کمیونٹی نے فنڈز جمع کیے‘ پارک کی صفائی کی مہمات منظم کیں اور فوڈ بینک میں باقاعدگی سے حصہ لینے والی کمیونٹی کے طور پر اپنی پہچان بنائی۔ مرزا نسیم بیگ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کمیونٹی اور پولیس کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرتے ہیں تاکہ بات چیت کو فروغ اور عوامی حفاظت کو بڑھاوا دیں۔ وہ شہری قیادت میں ایک مثال ہیں اور کینیڈا میں ہم آہنگی اور خدمت کے مضبوط حمایتی۔ انہوں نے میرے اعزاز میں مسی ساگا کے ایک ریسٹورنٹ میں عشائیے کا اہتمام کیا۔ معروف ماہر قانون عاطف سہیل بٹ اور جہانزیب ایڈووکیٹ بھی میرے ہمراہ تھے۔ دیگر دوستوں میں کینیڈا کے ممبر پارلیمنٹ دیپک آنند‘ مسز ارونا دیپک‘ پشکار گوئل‘ بشارت ریحان اور میرے ہم نام دوست افتخار چودھری بطور خاص شامل تھے۔
افتخار چودھری بھوپال والا ضلع سیالکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور جی ٹی اے (گریٹر ٹورنٹو ایریا) میں پاکستانی کمیونٹی کے ایک کامیاب بزنس مین ہیں۔ لاہور میں وہ پاور جنریشن کے لیے مشینری کا کاروبار کرتے تھے اور 25سال قبل مسی ساگا منتقل ہو گئے۔ وہاں وہ پاکستانی کمیونٹی میں خاص مقام رکھتے ہیں اور بین الاقوامی تعلقات اور معیشت پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں۔ 2023ء میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں ایک تقریر کے دوران انہوں نے عالمی حالات اور پاکستان کے پوٹینشل کے تناظر میں کہا تھا کہ چند سالوں کے بعد پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے۔ اللہ ان کی زبان مبارک کرے اور پاکستان دن دگنی رات چگنی ترقی کرے۔ اللہ پاک وطن کو شریروں کے شر‘ حاسدوں کے حسد اور لٹیروں کی لوٹ مار سے بچائے اور یہ چمن ہمیشہ ہرا بھرا رہے۔ افتخار چودھری کینیڈا کی کنزروٹیو پارٹی سے رکن پارلیمنٹ کے لیے انتخاب بھی لڑ چکے ہیں اور اگلے انتخابات میں دوبارہ حصہ لیں گے۔ امید ہے کہ کامیاب ہوکر وہ پہلے سے زیادہ انسانیت کی خدمت کریں گے۔ کھانے کے محفل کو شرکا کی گفتگو اور شاعری نے ادبی نشست میں بدل دیا۔ دیپ آنند کے چند اشعار کے بعد بشارت ریحان نے اردو اور پنجابی کلام پیش کیا۔ یہ نشست کئی گھنٹے تک جاری رہی اور تمام شرکا خوب محظوظ ہوئے۔
میرے پنجابی دوست جسبیر سنگھ گوپا رائے کینیڈا میں تقریباً بیس سال سے پاکستان کے لیے ٹور اینڈ ٹریولز سروسز فراہم کر رہے ہیں اور پنجابی دوستوں کی خدمت میں دن رات مصروفِ عمل ہیں۔ پاکستانی پنجاب سے کوئی دوست کینیڈا چلاجائے تو وہ پھولے نہیں سماتے اور اس کی مقدور بھر خاطر مدارت کیے بغیر رہ نہیں پاتے۔ ان کے دل کی طرح ان کا دستر خوان بھی بہت کشادہ ہے۔انہیں کینیڈا میں آباد ہوئے تقریباً تین عشرے ہو چلے ہیں‘ اس قبل وہ پانچ سال تک انگلینڈ میں کام کرتے رہے۔ 1991ء میں وہ انگلینڈ اور 1996ء میں کینیڈا گئے۔ جسبیر سنگھ گوپا رائے گزشتہ پینتیس سالوں میں چالیس بار پاکستان کا وزٹ کر چکے ہیں۔ وہ رہتے توکینیڈا میں ہیں لیکن ان کا دل ہمیشہ پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ کینیڈا کی اکثر محفلوں میں پاکستانی اور انڈین پاکستان اور بھارت کا تقابلی جائزہ لیتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے بھی کوشاں رہتے ہیں۔
میری کینیڈا میں موجود بھارتی اور پاکستانی دوستوں‘ دانشوروں کے ساتھ جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں ان میں پاکستان اور بھارت کے حالات و معاملات کا بغور جائزہ لیا گیا۔ امریکہ اور کینیڈا‘ دونوں جگہوں پر بہت سے پاکستانی اور بھارتی باشندوں سے تبادلۂ خیالات ہوا تو دونوں ممالک کے لوگ اپنی حکومتوں سے نالاں دکھائی دیے۔ طرفین کے حکمرانوں کو عوام سے کوئی سروکار نہیں‘ سب کو اپنے مفادات کی فکر ہے۔ وہی بات کہ
سارا جھگڑا مفادات کا ہے
دیارِ غیر میں مقیم تارکین وطن خاص طور پر ادیب‘ شاعر اور دانشور حضرات کو عالم اسلام اور پاکستان کے حالات کے بارے میں بہت متفکر پایا۔ لوگوں کے ذہنوں میں اسلام اور پاکستان کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں ہیں‘ جن کا ازالہ ازحد ضروری ہے۔ صرف قرآن پاک کی تعلیمات سے ان غلط فہمیوں کو رفع کیا جا سکتا ہے اور میں سب دوستوں سے دست بستہ گزارش کرتا ہوں کہ آپ قرآن پاک کا از خود مطالعہ کریں تاکہ ذہنوں میں پائے جانے والے ابہام کو دور کر سکیں۔ اس کیلئے آپ کو کسی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے‘ کسی کی مدد اور سہارے کی چنداں ضرورت نہیں۔ بس ترجمے والا قرآن پاک لیں اور اس کا مطالعہ کریں۔ اس پر خود غور و فکر کریں‘ ان شاء اللہ آپ کے دماغ کی گرہیں کھلتی جائیں گی اور بہت سے عقدے وا ہو جائیں گے۔ بقول شاعر:
وہ کون سا عقدہ ہے جو وا ہو نہیں سکتا
ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا
ایک اور شاعر نے اسی تناظر میں کہا تھا:
اپاہج اور بھی کر دیں گی یہ بیساکھیاں تجھ کو
سہارے آدمی سے استقامت چھین لیتے ہیں
مرا پیغام دے دیجے یہ جا کر میرے لشکر کو
ہوس کے لشکری قوموں سے وحدت چھین لیتے ہیں