میں اپنے کالموں میں ملکی اشرافیہ میں شامل طبقات کی بات کرتا رہتا ہوں کہ یہ کس طرح عوام کا استحصال کر تے ہیں۔ ان طبقات میں مذہبی قیادت بھی شامل ہے۔ گزشتہ دنوں بچوں سے ملنے امریکہ اورکینیڈا گیا ہوا تھا۔ یہاں بھی اس طبقے کے کارناموں کے چرچے سننے کو ملے۔ ان ترقی یافتہ‘ عوامی اور فلاحی ریاستوں میں ہمارے قابل اور ٹیلنٹڈ بچے بچیوں کیلئے اعلیٰ تعلیم کے بعد بہتر روزگار کا دروازہ کھلا ہوا ہے لیکن نام نہاد واعظوں نے وہاں بھی اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بنا کر اور اختلافات کو ہوا دے کردین کے تشخص کو مسخ کیا ہے اور پاکستانیوں کے راستے میںکانٹے بکھیرنے کے علاوہ تعلیم کے ساتھ روزگار کے دروازے بھی ان کیلئے مسدود کر دیے۔ نہ صرف یہ بلکہ وہاںپر دہائیوں سے مقیم تارکین وطن کیلئے کئی طرح کی مشکلات بھی پیدا کی ہیں۔ ابھی یورپ میں ایک گینگ پکڑا گیا ہے جو انگریز بچیوں سے زیادتی کے جرائم میں ملوث تھا۔ ان افراد کو پینسٹھ سال کے قریب سزا ہوئی ہے۔ امریکہ اور کینیڈا میں میرے اعزاز میں منعقدہ تقریبات میں بہت سے صحافی‘ کالم نگار‘ شاعر اور دانشور دوستوں نے اسی بات کا رونا رویا کہ ہمارے رہنما معاشرے کو کس طرف لے جا رہے ہیں۔ اللہ بھلا کرے جاوید احمد غامدی صاحب کا جو وہاں پر اسلام کا روشن چہرہ پیش کر رہے ہیں‘ ورنہ ہمارے ایک معروف عالم کے بارے کہا جاتا ہے کہ کئی سال کینیڈا میں رہنے کے بعد پاکستان واپس آتے ہوئے وہاں پر اوور سیز پاکستانیوں کے چندے سے خریدی گئی مسجد اور اسلامک سنٹر کی زمین بھی لگے ہاتھوں فروخت کر آئے۔ اللہ پاک ان کے حال پر رحم کرے‘ لیکن انہوں نے اپنے تئیں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ تو صرف ایک جھلک ہے‘ اس طرح کے درجنوں بلکہ سینکڑوں واقعات ریکارڈ پر ہیں۔ یہودونصاریٰ تو ترقی کیلئے جدوجہد کی فکر اور تدابیر کر رہے ہیں جبکہ ہمارے لوگوںکا سارا زور باہمی اختلافات کو ہوا دینے اور ایک دوسرے کے خلاف فتویٰ بازی پر ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے تو بہت پہلے یہ بات کہہ دی تھی کہ
مکتب و مُلا و اسرارِ کتاب؍ کورِ مادر زاد و نورِ آفتاب
دینِ کافر فکر و تدبیرِ جہاد؍ دینِ ملّا فی سبیل اللہ فساد
ایسی شکایات بھی سننے میں آئی ہیں کہ بعض عاقبت نااندیش لوگ من گھڑت تراجم اور مسائل بیان کر کے لوگوں کے ایمان پر ڈاکا ڈالتے ہیں‘ واللہ اعلم بالصواب۔ تمام شعبہ ہائے زندگی کو اپنی سوچ‘ فکراور نظریے کے مطابق بنانا ان کا ایجنڈا ہے۔ ہمارے اپنے ہاں اکثر واعظین کا حال یہ ہے کہ اونچے سے اونچا وعظ‘ اعلیٰ سے اعلیٰ بات کہیں گے لیکن ان کے اپنے کردار کو اُس بات سے کوئی مناسبت نہیں ہوتی جس کی وہ لوگوں توقع رکھتے ہیں۔حالانکہ سورۃ البقرہ کی آیت: 44 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ''کیا لوگوں کو تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو، پھر کیوں نہیں سمجھتے‘‘۔ ایک مسلمان کیلئے قرآن مجید کتابِ ہدایت ونصیحت اور ذریعۂ حکمت ہے۔ یہ ایک لائحہ عمل ہے‘ منشور ودستورِ زندگی ہے۔ قرآن مجید میں ارشادِ ربانی ہے کہ ''اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے، پھر ہے کوئی سمجھنے والا‘‘۔(سورۃ القمر: 32)۔ یہ واعظین ٹیلی ویژن پروگراموں اور بحثوں میں ایک دلیل ٹھونک بجا کر دیتے ہیں اور وہ یہ کہ حضرت عمرؓ نے چوری کی سزا میں ہاتھ کاٹنے کا صریح حکم قحط کے زمانے میں معطل کر دیا تھا‘ مگر خود اس دلیل سے نصیحت نہیں پکڑتے۔
خود کو بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
قرآن مجید میں احکامات دو طرح کے ہیں۔ ایک محکمات اور دوسرے متشابہات۔ کسی بھی حکم الٰہی کے بارے میں جاننے کیلئے لازم ہے کہ متشابہات کو محکمات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔ اس تصور کو ایک آیت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں‘جو محکمات میں سے ہے: واَن لیس للانسان الا ما سعٰی (النجم: 39)۔ اس کا مطلب ہے کہ ''انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کیلئے وہ کوشش کرے‘‘ لیکن ہم نے واعظین سے یہی سنا کہ اللہ توفیق دے تو ہی ہم سے کوئی نیکی ہو سکتی ہے۔ یقینا! مگر ساتھ ہی یہ اصول بھی بیان ہونا چاہیے کہ ''اور جو اس (اللہ) کی طرف رجوع کرتا ہے اسے (ہی وہ سیدھی) راہ دکھاتا ہے‘‘ (الشوریٰ: 13)۔ اسی طرح سورۂ رعد کی آیت: 11 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ''بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے‘‘۔ مولانا ظفر علی خان نے اس شعر میں اسی جانب اشارہ کیا ہے:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
دراصل دینِ اسلام اس تصورِ دین سے بالکل مختلف ہے جو ہم آج تک نام نہاد علما سے سنتے آئے ہیں۔ سورۃ البقرہ کی آیت: 170 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ''اور جب اُن سے کہا جائے اللہ کے اتارے (ہوئے راستے) پر چلو تو کہیں گے: ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا‘ چاہے اُن کے باپ دادا کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہی ہدایت‘‘۔ دراصل قرآن پاک اللہ نے میرے اور آپ کیلئے ہی اتارا ہے لیکن پتا نہیں ہم اسے خود پڑھتے اور سمجھتے کیوں نہیں؟ حالانکہ قرآن عین انسانی عقل کے مطابق بات کرتا ہے لیکن ہمیں تو آج تک یہی بتایا گیا کہ ایمان اور استدلال (دلیل) دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ دراصل یہ ہماری اپنی کم علمی اور تنگ نظری ہے۔ سورۂ انفال کی آیت: 22 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ''اللہ کی نظر میں وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں جو گونگے بہرے (بنے رہتے) ہیں اور عقل سے کام نہیں لیتے‘‘۔ بات یہ ہے کہ قرآن پاک کی ہر آیت اپنے پڑھنے والے سے مکالمہ کرتی ہے۔ معلوم نہیں لوگ کیسے قرآن مجید جیسا خزانہ چھوڑ کر روایات کی تلاش میں دہائیوں تک بھٹکتے پھرے۔ آج ایسے مسلمانوں کی ضرورت ہے جن کا دین صرف اسلام ہو‘ جو قرآن و سنت سے استدلال کریں۔ سورۂ یونس کی آیت: 100 ہے: ''کوئی متنفس اللہ کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لا سکتا اور اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ ان پر گندگی ڈال دیتا ہے‘‘۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عقل کا استعمال اور استدلال ایمان کی بنیادی شرط ہے۔ اب میں فرقوں میں بٹے‘ اپنی اپنی انا میں مدہوش مسلمانوں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ کیا یہ دنیا بھر میں اپنی بے مائیگی کو نہیں دیکھتے۔ کیا یہ اب بھی نہیں جان پائے کہ اللہ کی رسی چھوڑ کر یہ ٹکڑوں میں بٹ چکے ہیں۔ شاید دل مردہ ہونے سے اپنی ذلت کا احساس ہی نہ ہوتا ہو۔ سورۂ حج کی آیت: 46 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ''پس کیا وہ زمین میں نہیں پھرے تاکہ انہیں وہ دل حاصل ہوتے جو انہیں سمجھ دے سکتے، یا ایسے کان حاصل ہوتے جن سے وہ سن سکتے۔ پس آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں‘‘۔ آج قرآن پاک کی تعلیمات سے دوری مسلم امت کے زوال کا سبب بن رہی ہے۔ عزت اسی میں ہے کہ امتِ مسلمہ قرآن مجید کی تعلیمات کی طرف لوٹ آئے‘ بصورت دیگر ہم دنیا بھر میں ذلیل وخوار ہوتے رہیں گے۔ بقول اقبال:
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر