"IAS" (space) message & send to 7575

قسطوں میں موت کیوں؟

پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مہینے بعد رد و بدل ہوتا تھا پھر حکومت نے یہ دورانیہ پندرہ دن کردیا‘ اس کے بعد قیمتوں میں رد و بدل ہفتہ وار ہونے لگا۔ پھر بھی جب دل نہ بھرا تو حکومت نے عوام کو موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رکھنے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کرنے کا پلان بنا لیا۔ ہمارے ایک دوست نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل بلکہ اضافہ دن میں پانچ بار ہونا چاہیے اور یہ نیک کام مساجد کے پیش اماموں کے سپرد کردینا چاہیے کہ وہ اذان کے ساتھ مسجد کے سپیکر میں عوام کو پٹرول کی قیمت میں اضافے کی خبر بھی سنا دیا کریں۔ اس طرح کسی وزیر یا مشیر کو پریس کانفرنس کی بھی زحمت نہیں اٹھانا پڑے گی۔ ایک دوسرے دوست نے حکومت کو یہ صائب مشورہ دیا ہے کہ ہر روز تیل کی قیمتیں بڑھا کر عوام کو قسطوں میں مارنے کے بجائے ایک بار ہی ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں من چاہا اضافہ کرکے انہیں موت کے سپرد کر دینا چاہیے۔ شاکر شجاع آبادی نے تو بہت پہلے یہ مشورہ دے دیا تھا‘ پتا نہیں حکومت نے ان کا یہ مفید مشورہ ابھی تک کیوں نہیں مانا:
ایویں مار نہ شاکر قسطاں وچ
یکمشت مکا تیڈی جان چھُٹے
ایک اور منچلے نے حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عالمی جنگوں اور ان میں ہونے والے نقصانات کے ساتھ منسلک کرنے کی تجویز دیتے ہوئے دھمکی ملنے پر 10روپے‘ میزائل چلنے پر 50روپے اور جنگی جہاز تباہ ہونے پر 200روپے فی لٹر پٹرول کی قیمت بڑھانے کا مشورہ دیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے ایک پرانا لطیفہ یاد آ گیا۔ ایک شخص ٹرین میں سفر کر رہا تھا۔ ہر سٹیشن پر اترتا‘ اگلے سٹیشن کی نئی ٹکٹ لیتا اور پھر اسی ٹرین میں بیٹھ جاتا۔ ساتھ بیٹھے مسافر نے حیران ہو کر پوچھا :بھائی جہاں جانا ہے‘ وہاں تک کی ایک ہی ٹکٹ کیوں نہیں لے لیتے؟ اس نے جواب دیا: ''ڈاکٹر نے لمبا سفر کرنے سے منع کیا ہے‘ اس لیے تھوڑا تھوڑا سفر کرتا ہوں‘‘۔ شاید اسی لیے ہماری حکومت نے ایک ہی بار مارنے کے بجائے عوام کو قسطوں میں مارنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اگر ایک ہی بار میں عوام کو مار ڈالا تو بار بار بوجھ کس پر ڈالیں گے؟
ملک میں ڈیزل کی قیمت صرف ایک ہفتے میں تقریباً 16 فیصد بڑھ گئی ہے۔ اسی دوران افغانستان میں ڈیزل کی قیمت میں صرف ڈیڑھ فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ بھارت‘ بنگلہ دیش‘ مالدیپ اور نیپال میں بالکل بھی اضافہ نہیں ہوا۔ سوال یہ ہے کہ جب تیل کی ایک ہی عالمی منڈی ہے تو اس کے باوجود مقامی طور پر اثرات مختلف کیوں ہیں؟ میرے ایک دوست نے اگلے روز بتایا کہ لاہور سے ملتان جاتے ہوئے جیسے ہی نواز شریف انٹرچینج ٹول پلازہ سے رنگ روڈ پر چڑھے ایم ٹیگ سے 100روپے منہا ہو گئے۔ وہ حیران رہ گئے کیونکہ ابھی چند دن پہلے ہی رنگ روڈ پر داخلے کا ٹول 70روپے تھا۔ اسی طرح موٹر وے پر سفر کرتے ہوئے جب خانیوال انٹرچینج سے ملتان روڈ پر اترے تو تقریباً 1300روپے ٹول کٹ گیا حالانکہ چند دن پہلے یہی فیس ایک ہزار روپے سے کچھ ہی زیادہ تھی۔ شاہراہوں اور موٹر ویز کے ٹول ٹیکس میں بار بار اضافہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ آخر یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کیا موٹر ویز اور شاہراہوں پر بھی پٹرول مہنگا ہونے کے اثرات پڑتے ہیں کہ ہر چند ماہ بعد ٹول ٹیکس بڑھا دیا جائے؟ حکومت کا بنیادی فرض یہ ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ‘ انصاف‘ تعلیم‘ صحت اور بنیادی سہولیات فراہم کرے۔ ان خدمات کی فراہمی کیلئے حکومت عوام سے ٹیکس وصول کرتی ہے جو دنیا کے ہر مہذب ملک میں ایک تسلیم شدہ اصول ہے‘ لیکن جب ٹیکسوں کی تعداد بڑھتی جائے‘ بوجھ عام آدمی پر منتقل ہوتا رہے اور اس کے بدلے عوام کو مناسب سہولتیں نہ ملیں تو سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر یہ رقم کہاں خرچ ہو رہی ہے؟
پاکستان میں آج ایک عام شہری اپنی روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر مرحلے پر کسی نہ کسی صورت میں ٹیکس کی ادائیگی کرتا ہے۔ وہ اشیائے ضروریہ خریدے تو سیلز ٹیکس‘ گاڑی میں سفر کرے تو پٹرول پر لیوی‘ موٹروے استعمال کرے تو ٹول ٹیکس‘ بجلی اور گیس استعمال کرے تو مختلف سرچارجز اور ٹیکس۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ نئے محصولات عائد کرنا حکومت کا آمدنی بڑھانے کا سب سے آسان ذریعہ بن گیا ہے جبکہ اخراجات میں کفایت شعاری‘ ٹیکس نیٹ کی توسیع اور مالی نظم و ضبط پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے بلکہ دی ہی نہیں جاتی۔ سوال یہ ہے کہ اتنے زیادہ ٹیکسوں کے بدلے میں حکومت عوام کو کیا سہولت دے رہی ہے؟
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے مگر ان مصنوعات پر پٹرولیم لیوی میں اضافے کا‘ جو براہِ راست حکومت کے خزانے میں جاتی ہے‘ بین الاقوامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے کیا تعلق ہے؟ کوئی نہیں! عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوں یا زیادہ‘ ہمارے ملک میں ہمیشہ بلند ہی رہتی ہیں کیونکہ عوام کو ملنے والے ریلیف کا بڑا حصہ مختلف لیویز اور ٹیکسوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ٹول ٹیکس بھی ایک مستقل مالی بوجھ بن چکا ہے۔ شہری سوال کرتے ہیں کہ اگر سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کیلئے ٹیکس پہلے ہی ادا کیے جا رہے ہیں تو بار بار اضافی ادائیگی کی کیا تُک بنتی ہے‘ اور ان رقوم کے استعمال میں شفافیت کس حد تک موجود ہے؟
حکومت کا مؤقف ہوتا ہے کہ یہ محصولات قومی ترقی‘ قرضوں کی ادائیگی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کیلئے ضروری ہیں۔ یہ دلیل اپنی جگہ لیکن عوام یہ بھی چاہتے ہیں کہ وصول کیے گئے محصولات کے استعمال کی واضح تفصیلات سامنے آئیں‘ غیرضروری سرکاری اخراجات کم کیے جائیں اور ٹیکس کا بوجھ زیادہ منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جائے۔ ایک صحتمند معیشت کی بنیاد صرف زیادہ ٹیکس وصول کرنے پر نہیں بلکہ عوام کے اعتماد پر بھی قائم ہوتی ہے۔ جب شہری محسوس کریں کہ ان کے دیے ہوئے ٹیکس کے بدلے بہتر سڑکیں‘ معیاری تعلیم‘ مؤثر صحت کی سہولتیں‘ محفوظ ماحول اور شفاف حکمرانی مل رہی ہے تو ٹیکس دینا ایک قومی ذمہ داری محسوس ہوتا ہے نہ کہ مجبوری۔ ہم دنیا کے اس ملک میں رہتے ہیں جہاں سرکاری سکول اور ہسپتال ٹھیکے پر چل رہے ہیں‘ جہاں بغیر کام کیے ٹھیکیداروں کو اور بغیر بجلی بنائے آئی پی پیز کو سالانہ اربوں روپے دے دیے جاتے ہیں۔ جہاں عوام کو مہنگی بجلی یہ کہہ کر بیچی جاتی ہے کہ بجلی کی کھپت زیادہ ہونے پر اخراجات زیادہ ہورہے ہیں‘ لیکن اگر عوام بجلی گیس کم استعمال کریں تب بھی یہ کہہ کر زیادہ بل بھیجا جاتا ہے کہ کم استعمال سے کھپت کم ہونے پر اخراجات پورے نہیں ہورہے۔ جب پٹرول کی قیمت بڑھانی ہو تو پچاس روپے تک بڑھا دی جاتی ہے اور جب کم کرنی ہو تو یہ پیسوں میں کم کی جاتی ہے۔ یعنی سرمایہ کاروں کو فائدہ فوری فراہم کیا جاتا ہے جبکہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے انتظار کی سولی پر لٹکایا جاتا ہے۔
آخرمیں میری حکومت سے اپیل ہے کہ خدارا قوم پر رحم کریں‘ یہ قوم تھک گئی ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہو گا کہ عوام کی برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ کرکے جس طرح آہستہ آہستہ عوام کا خون نچوڑ رہی ہے‘ اس کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ معاشی اصلاحات کا مطلب صرف نئے محصولات عائد کرنا نہیں بلکہ سرکاری فضول خرچی کا خاتمہ‘ بدعنوانی پر قابو پانا‘ ٹیکس چوری کی روک تھام اور ریاستی وسائل کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنانا بھی ہے۔ جب تک یہ توازن قائم نہیں ہوتا‘ ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...