ایک غریب گھرانے کا واحد کفیل اچانک روزگار چھن جانے سے بیمار ہو گیا اور اس کی اہلیہ لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرکے خاندان کا پیٹ پال رہی تھی کیونکہ گھر میں نوبت فاقوں تک پہنچ چکی تھی ۔ پھر ایک دن بچوں کے بیمار والد کا انتقال ہو گیا تو کسی صاحبِ ثروت نے ان کے گھر کھانا بھیجا‘ بچوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا‘ اور وہ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ اب ایسا اچھا کھانا ہمیںکب نصیب ہو گا کیونکہ کھانے میں ملنے والی بریانی میں چاول کم اور گوشت زیادہ تھا۔ ان بچوں میں سے ایک بچے نے فی البدیہہ کہا کہ جب امی فوت ہوں گی۔
ارباں ہتھ کرن مزدوری
رزق حلال نئیں پیندی پوری
کجھ کھاندے نے گھیو دی چوری
اوکھا ہو گیا لینا ساہ‘ اللہ میاں تھلے آ
وزیراعلیٰ پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ وہ کاہنہ ٹیوشن سنٹر حادثے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی موت کے ذمہ داروں کو معاف نہیں کریں گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان بچوں کی موت کا ذمہ دار کون ہے‘ وہ یا ان کی سیاسی جماعت‘ کیونکہ پنجاب میں گزشتہ چالیس برسوں کے دوران سب سے زیادہ مسلم لیگ (ن) بلکہ شریف خاندان کی حکومت رہی ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی روشن مثال ہمارے سامنے ہے‘ ان کی اہلیہ محترمہ کے والد بھی حکمران تھے۔ ان کے دو بھائی بھی خلیفہ تھے‘ ان کے دادا بھی خلیفہ رہے تھے۔ جب حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒکو خلافت ملی تو انہوں نے سب کچھ لوگوں میں تقسیم کر دیا کہ اس سب پر عوام کا حق ہے۔ یہ پنجاب کے حکمرانوں کیلئے بھی سنہری موقع ہے کہ خود کو عمر بن عبدالعزیزؒ کا حقیقی جانشین ثابت کریں اور حکومتی وسائل عوام پر خرچ کریں۔
کاہنہ ٹیوشن سنٹر میں پڑھانے والی خاتون کے سسرنے ساری زندگی محنت مزدوری کر کے تین چار مرلے کا گھر بنایا تھا‘ جس میں تین کمرے تھے۔ تین بچوں کی شادی ہو چکی تھی‘ ان کے پاس ایک ایک کمرہ تھا۔ ٹیوشن پڑھانے والی خاتون کا خاوند چونکہ ایک حکومتی آپریشن کے دوران فروٹ والی ریڑھی سے محروم ہو گیا تھا اور فروٹ والی سرکاری ریڑھی بھی اس کو نہ مل سکی‘ اس لیے یہ خاتون اپنا گھر چلانے کیلئے بچوں سے دو دو سو‘ تین تین سو روپے لے کر ان کو ٹیوشن پڑھا رہی تھی۔ اس طرح کوئی آٹھ نو ہزار روپے جمع ہو جاتے تھے جس سے ان کا گھر بمشکل چل رہا تھا۔ حالانکہ اس علاقے میں محکمہ اوقاف کی کئی کنال زمین بے آباد پڑی ہے جو اس خاتون جیسے خاندانوں میں تقسیم کی جا سکتی ہے‘ لیکن ایسا کیوں ہو گا؟
لوگ قبروں پہ شمعیں جلاتے رہے
زندہ لوگوں کے گھر میں اندھیرا رہا
اب کاہنہ حادثے کے بعد سے پولیس اُس خاتون اور اس کے اہلِ خانہ کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ تمام محکمے اس علاقے میں جھونک دیے گئے ہیں‘ ایل ڈے اے سے لے کر واسا ‘ٹیپا اور لیسکو تک کے اہلکار وہیں مصروف ہیں۔ سڑکیں صاف ہو رہی ہیں‘ پانی کا نکاس یقینی بنایا جا رہا ہے۔ پولیس والوں نے تو وہاں مستقل ڈیرے ڈال لیے ہیں کہ پتا نہیں کب کوئی اعلیٰ حکومتی شخصیت وہاں کا دورہ کر لے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کوئی بھی حادثہ رونما ہونے کے بعد ہی سرکاری محکمے اورمخیر حضرات جائے وقوعہ پر کیوں پہنچتے ہیں‘ اس سے پہلے حالات کا جائزہ کیوں نہیں لیا جاتا۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ ایک غریب کے مرنے کے بعد ہی اس کے گھر کھانا کیوں پہنچتا ہے‘ پہلے کیوں نہیں؟
حادثات کے بعد جتنے مرضی نوٹسز لے لیے جائیں‘ مگرحقیقت یہی ہے کہ ہمارے اصل مسائل غربت‘ جہالت‘ بے روزگاری اور مہنگائی ہیں۔ کاہنہ میں اب اس خاتون ٹیچر پر مقدمہ بھی بنا دیا گیا۔ خاوند کی بے روزگاری‘ غربت اور مہنگائی سے لڑنے والی اب تھانوں اور عدالتوں میں دھکے کھائے گی‘ اور آخر میں حاصل کیا ہو گا؟ مختصر بات یہی ہے کہ جب تک غربت‘ جہالت‘ بیروزگاری اور مہنگائی کے مسائل حل نہیں ہوں گے‘ چھتیں گرتی رہیں گی‘ غریب مرتے رہیں گے‘ آپ کس کس کو گرفتار کریں گے؟ اگر حکومت عوام کیلئے کچھ کرنا چاہتی ہے تو ملک سے غربت اور مہنگائی کا خاتمہ کرے‘ لوگوں سے روزگار چھیننے کے بجائے روزگار کے مواقع بڑھائے‘ عوام کو شعور دے۔ بیماری کو جڑ سے پکڑنا چاہیے۔ جب آپ لوگوں کو روزگار کے مواقع دیں گے تو ان کے گھر خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔ یہ با ت صد فیصد درست ہے کہ حکمرانوں کی آنیاں جانیاں اخبارکا پیٹ تو بھر سکتی ہیں‘ زمین پر کوئی تبدیلی نہیں لا سکتیں۔
اصل مسئلہ چھتوں کے گرنے یا نوٹس لینے کا نہیں بلکہ غربت‘ جہالت‘ بے روزگاری اور مہنگائی کا ہے۔ جب ایک استاد محض تین سو روپے ماہانہ فی بچہ لے کر تعلیم دینے کی کوشش کر رہی تھی تو اس پر مقدمہ بنا دینا کہاں کا انصاف ہے؟ یہ ریاست اور معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو محفوظ چھت‘ روزگار اور معیاری تعلیم فراہم کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک غربت اور جہالت کا خاتمہ نہیں ہو گا‘ ایسے حادثات بار بار ہوتے رہیں گے اور غریب ہی ان کا شکار بنتے رہیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ دکھاوے کے اقدامات کے بجائے عوامی مسائل کی جڑ پر ہاتھ ڈالے۔ روزگار کے مواقع بڑھائے تاکہ لوگ اپنے گھروں کو بہتر بنا سکیں اور محفوظ زندگی گزار سکیں۔ اگر حکومت عوام کو روزگار دے گی تو ان کے گھر خودبخود ٹھیک ہو جائیں گے۔ محض گرفتاریوں اور مقدمات سے نہ غربت ختم ہو گی نہ جہالت‘ بلکہ یہ مسائل مزید بڑھیں گے۔ اصل حل یہی ہے کہ ریاست عوامی فلاح کو ترجیح دے اور غربت کے خلاف عملی اقدامات کرے۔ جو حکومت کا کام ہے وہ یہ باہمت خاتون کر رہی تھی‘ حکومت کو تو اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور مستقبل کا ایسا لائحہ عمل طے کرنا چاہیے کہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے اور غریب کا بچہ بھی سستی تعلیم حاصل کر سکے۔ حکومت وقت کو بوسیدہ گھروں کی مرمت خود کرانی چاہیے۔
سب خرابیوں کی جڑ کرپٹ نظام ہے۔ تعلیم شعور پیدا کرتی ہے‘ اس لیے جہالت حکمرانوں کواچھی لگتی ہے اور شعور اشرافیہ کی موت ہے۔ غریبوں کے نام پر اشرافیہ اقتدار میں آکر مزے لوٹتی ہے۔ اشرافیہ کی لٹ مار کی وجہ سے ہی غربت ہے‘ اس لیے تمام بیماریوں کی جڑ اشرافیہ ہے۔ حکومت پر بھی ان حالات کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے‘ سرکاری سکولوں میں تعلیم کا معیار کیوں اچھا نہیں کیا جاتا تاکہ بچے ٹیوشن پڑھنے ہی نہ جائیں؟ سرکاری سکولوں کا حال یہ ہے کہ بیشتر سکولوں میں بچوں کی تعداد کے تناسب سے اساتذہ دستیاب نہیں ہیں اور نجی سکول غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ حکمران اپنی مراعات پر تو کھلے دل سے پیسے خرچ کرتے ہیں مگر تعلیم کیلئے حسبِ ضرورت خرچ کرتے۔ یہ کسی ٹیوشن سنٹر یا سکول کی چھت نہیں گری‘ یہ اس سسٹم کی چھت گری ہے جہاں تقریباً ہر محکمہ خراب چل رہا ہے۔ حکمران قوم کے بچوں کو اچھی اور معیاری تعلیم ہی مہیا کر دیں‘ وہ با شعور ہو کر خود ہی ملک کا نظام درست کر لیں گے۔ ٹیوشن سنٹر بند کروا کے عوام کو کیا پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ اگر اس مکان کی چھت رات کو گرتی اور صرف اس خاندان کے بچے متاثر ہوتے تو کیا پھر بھی مقدمہ درج ہوتا‘ اگر ہوتا تو کس پر اور کیوں؟ اس غریب خاندان کے خلاف کارروائی کرنے والوں کو خدا کا خوف کرنا چاہیے۔