تقسیمِ ہند بٹوارا تھا یا آزادی؟
لفظ کا مفہوم لغت سے نہیں‘ اس کے استعمال سے طے ہوتا ہے۔ لغت بتاتی ہے کہ لفظ کن مراحل سے گزرا اور کس کس مفہوم میں مستعمل ہے۔ کلام کا سیاق وسباق یہ فیصلہ کرتا ہے کہ لفظ کا کون سا مفہوم مراد لیا جا سکتا ہے۔ سیاق وسباق صرف کلام کا نہیں‘ متکلم کا بھی ہوتا ہے۔ کوئی صاحبِ فکر یا تخلیق کار لفظ کو لغت سے اٹھاتا اور اسے ایک معانی دے دیتا ہے۔ اس کے کلام میں صرف وہی معانی لیے جائیں گے۔ لغت صرف تحلیل ہی میں معاونت کرے گی۔ 'خودی‘ کو علامہ اقبال نے ایک مفہوم دیا۔ جب یہ لفظ ان کی شاعری اور نثر میں زیرِ بحث آئے گا تو لازم ہو گا کہ اقبال کے طے کردہ معانی ہی مراد لیے جائیں۔ اسی طرح ہر علم (Discipline) کا بھی سیاق وسباق ہوتا ہے جہاں لفظ اصطلاح بن جاتا ہے۔ یہ سماجی علوم میں ہوتا ہے اور طبعی علوم میں بھی۔
تقسیمِ ہند کے پس منظر میں جو ادب تخلیق ہوا یا جو علمِ تاریخ وجود میں ہوا‘ اس میں لفظ 'بٹوارا‘ کا ایک مفہوم ہے۔ اس سیاق وسبا ق میں اس نے خاندانوں کو تقسیم کیا۔ لوگوں کو ہجرت پر مجبور کیا۔ قتل ہو ئے۔ عزتیں نیلام ہوئیں۔ خطے میں ایک مستقل دشمنی نے جنم لیا جس نے بعد از تقسیم‘ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کی۔ یہ سب کیا دھرا 'بٹوارے‘ کا ہے جس نے بلاوجہ کروڑوں انسانوں کو ایک تاریخی المیے سے دوچار کر دیا۔ 'پس ثابت ہوا یہ چند اقتدار پرست سیاستدانوں کا کیا دھرا ہے جنہوں نے شخصی اَنا یا مفادات کی خاطر بٹوارا کرایا‘ ورنہ اس کی ضرورت نہیں تھی‘۔
جو لوگ اس مقدمے سے اتفاق نہیں رکھتے‘ وہ کبھی بٹوارے کا لفظ استعمال نہیں کرتے۔ وہ اسے تقسیمِ ہند کہتے ہیں یا آزادی۔ ان کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو صرف انگریزوں سے آزادی مطلوب نہیں تھی۔ اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوتا تو انہیں ہندو اکثریت کے جبر کا سامنا ہوتا۔ انگریزوں کی رخصتی کے بعد‘ اگر ہندوستان کی ریاست جمہوری اصولوں پر قائم ہوتی تو ہندوئوں کا مستقل اقتدار وجود میں آتا۔ تقسیم کے وقت کم و بیش 73 فیصد آبادی ہندو تھی۔ یہ خیال ہندو نفسیات میں رچا بسا ہے‘ اور اس کے تاریخی آثار موجود ہیں کہ مسلمانوں نے اقلیت میں ہوتے ہوئے بھی‘ صدیوں تک ہندو اکثریت پر حکومت کی۔ انگریزوں کے بعد انہیں یہ موقع مل جائے گا کہ وہ تاریخ کے اس عمل کو معکوس کر دیں۔ اس لیے انگریزوں کی رخصتی ہی وہ مناسب وقت ہے جب اس خطے میں ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کا تہذیبی اور مذہبی مستقبل محفوظ بنا لیا جائے۔ بصورتِ دیگر ایک نئی محکومی ان کا مقدر بن جائے گی۔ اس کی پُرامن صورت یہ ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں کو ایک الگ مملکت بنا دیا جائے۔
تقسیم کو بٹوارا قرار دینے والے اس دلیل سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمان کل آبادی کا 25 فیصد تھے‘ اتنی بڑی آبادی معروف معنوں میں 'اقلیت‘ نہیں ہوتی‘اس تعداد کو نظر انداز کر کے یا اُسے محکوم بنا کر کوئی جمہوری ریاست نہیں چل سکتی‘اس لیے یہ امکان بہت کم تھا کہ مسلمان کسی نئی محکومی میں مبتلا ہو جاتے‘ آج ہم جو دشمنی دیکھ رہے ہیں یہ دراصل 'بٹوارے‘ کا نتیجہ ہے۔ بٹوارے نے ایک دشمنی کو جنم دیا اور یہ دشمنی قتلِ عام اور تذلیلِ انسانیت کے واقعات پر منتج ہوئی۔ اگر یہ نہ ہوتا تو یہ واقعات بھی نہ ہوتے۔ عام آبادی امن کے ساتھ رہ رہی تھی۔ اگر کوئی برہمن ذہنیت اپنی برتری قائم کرنا چاہتی تو ہندو عوام اسے مسترد کر دیتے‘ سیاسی حالات‘ سماجی حالات پر اثر انداز نہ ہوتے‘ ہندو مسلم فساد کے چند معمولی واقعات کو بنیاد بنا کر تقسیم کا مقدمہ قائم نہیں کیا جا سکتا تھا۔
آزادی کے مقدمے کو ماننے والے‘ اس کے جواب میں کہتے ہیں۔ ایک یہ کہ فسادات کی وجہ غیر منصفانہ تقسیم تھی نہ کہ قیامِ پاکستان کا مطالبہ۔ یہ باؤنڈری کمیشن‘ انگریزوں کی مسلم دشمنی اور برہمن ذہنیت کی عطا تھی‘ کانگرس جس کی نمائندہ بن گئی تھی۔ اگر کشمیر‘ حیدرآباد‘ جونا گڑھ اور پنجاب میں انصاف اور طے شدہ اصولوں پر مبنی پالیسی اپنائی جاتی تو فساد نہ ہوتا۔ دوسرا یہ کہ مسلم اکثریت نے تقسیم کی تائید کی۔ یہاں میں مولانا مودودی کی ایک بات نقل کرنا چاہوں گا جو اس اختلاف میں براہِ راست فریق نہیں تھے لیکن صاحب الرائے شخصیت کی حیثیت سے‘ ایک نقطہ نظر رکھتے تھے۔ نہرو نے ان فسادات پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ یہ دردِ زہ ہے۔ تاریخ دو ریاستوں کو جنم دے رہی ہے اور یہ درد اس کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے گویا ان کی شدت کو کم کرنا چاہا۔ مولانا مودودی کا تبصرہ تھا کہ اگر یہ دردِ زہ تو ہے تو پھر یہ کسی درندے کی پیدائش کی خبر ہے۔ گویا ان کے نزدیک یہ فسادات معمولی واقعات نہیں تھے جنہیں ایک جملے میں اڑا دیا جائے۔
پاکستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جوآزادی کے اس مقدمے کو درست نہیں سمجھتے۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں اس مقدمے کے برخلاف کوئی رائے رکھنا آسان نہیں‘ اس لیے وہ بٹوارے کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ تاریخ کے باب میں ایک سے زیادہ آرا ہو سکتی ہیں۔ تاریخ کے باب میں دو مختلف آرا نے‘ مسلمانوں میں دو فرقوں کو جنم دیا جو صدیوں سے قائم ہیں۔ یہ اختلاف معمولی نہیں مگر اسے گوارا کیا جاتا ہے۔ ہمیں تاریخِ ہند کے باب میں بھی اختلاف کو گوارا کرنا چاہیے۔ تاہم اس حوالے سے میری ایک دو گزارشات ہیں۔ تاریخ کے کسی واقعے کے بارے میں کوئی رائے رکھنا اورعہدِ حاضر پر اس کا اطلاق کرنا‘ دو مختلف باتیں ہیں۔ عہدِ حاضر پر اطلاق کا مطلب یہ ہو گا کہ ہمیں اس 'غلطی‘ کی اصلاح کرنا چاہیے۔ جب ہم بار بار بٹوارے کا ذکر کرتے ہیں تو گویا اس کا اظہار کرتے ہیں کہ قیامِ پاکستان کے واقعے کو ہم بادلِ نخواستہ قبول کر رہے ہیں۔ بہت سے دوست جو اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں‘ ان کے بارے میں میرا تاثر ہے کہ وہ تاریخی عمل کی 'اصلاح‘ کے حامی نہیں ہیں۔ وہ پاکستان کے بارے میں وہی جذبات رکھتے ہیں جو 'آ زادی‘ کا مقدمہ ماننے والے رکھتے ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ وہ اس کے استعمال سے گریز کر سکیں تو غلط فہمی پیدا ہونے کا امکان کم ہو جائے گا۔
دوسری گزارش عمومی ہے۔ محمد علی جناح کو قائداعظم مان لینے کے بعد یہ فرض نہیں ہو جا تا کہ مولانا ابوالکلام آزاد یا مولانا حسین احمد مدنی کو ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے۔ اسی طرح یہ بھی لازم نہیں کہ جس دل میں مولانا مدنی کا احترام اور محبت ہو‘ اس میں قائداعظم کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔ اہلِ پاکستان کے لیے قائداعظم بابائے قوم ہیں اور اس حیثیت میں وہ منفرد ہیں۔ اس اعتراف کے ساتھ دوسری شخصیات کو بھی دل میں بٹھایا جا سکتا ہے‘ ہمیں ان کے نقطہ نظر سے اختلاف ہے مگر اخلاص سے نہیں۔ کم از کم مجھے تو نہیں ہے۔ خوشی کی خبر ہے کہ اب دیوبندی مدارس میں 14 اگست کا جشن منایا اور قائداعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ اس پر یکسوئی لازم ہے کہ پاکستان ہماری پہچان اور ہمارا افتخار ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments