"KNC" (space) message & send to 7575

صحت اور سیاست

یہ اچھی خبر ہے کہ عمران خان صاحب تندرست و توانا ہیں۔ اُن کی ایک آنکھ کو جو بیماری لاحق ہوئی تھی‘ وہ بھی تدریجاً رخصت ہو رہی ہے۔ ایک انجکشن اور لگے گا اور وہ بھی پوری طرح درست ہو جائے گی۔ الحمدللہ۔
یہ خبر ہم نے اُن کی بہن کی زبان سے سنی جو خود بھی ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے جس مسرت کے ساتھ یہ خبر سنائی اس نے خان صاحب کی صحت کے بارے میں پھیلی افواہوں کا خاتمہ کر دیا۔ اگر حکومتی ترجمان یہ کہتا تو قیل و قال کی گنجائش پیدا ہو سکتی تھی۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی۔ اس سے بھی یہ بھی معلوم ہوا کہ انہیں جیل میں علاج کی سہولت میسر ہے۔ صحت کے مسائل کو انسانی نظر سے دیکھنا چاہیے‘ سیاست کی نظر سے نہیں۔ ڈاکٹر عظمٰی صاحبہ کی گفتگو سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ عمران خان صاحب کی صحت کے بارے میں بے پر کی اڑائی جا رہی تھی۔ کسی نے انہیں مار دیا۔ کسی نے اندھا بنا دیا۔ اور کچھ نے تو ایسا زہر کھلانے کا شوشہ بھی چھوڑ دیا جو دھیرے دھیرے اثر کرتا ہے۔ فشارِ خون کا متوازن ہونا بتا رہا ہے کہ یہ بھی ایک افسانہ تھا‘ دیگر افسانوں کی طرح۔ اب لازم ہے کہ سیاست کو صحت سے الگ کر کے دیکھا جائے۔
سیاست کی باگ ہم نے تہذیب‘ نظریات اور اقدار کے ہاتھ سے لے کر جذبات کے ہاتھ میں تھما دی۔ جذبات بھی ایسے جو کسی قدر کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اس کا حتمی نتیجہ ہمارے سامنے آ چکا۔ ہماری سیاست اب اصولی اختلاف نہیں‘ ذاتیات کی اسیر ہو گئی ہے۔ ایک دوسرے کی ذات کو زیر بحث لانا‘ ذاتی اخلاقیات کو موضوع بنانا‘ پست زبان کا استعمال‘ جھوٹی کہانیوں کا انتساب‘ یہ سب اس بازارِ سیاست کا مال ہے۔ اس کے علاوہ اس دکان پر اب شاید ہی کچھ مل سکے۔ کچھ وقت پہلے‘ صرف ایک جماعت کی اس پر اجارہ داری تھی۔ اس کی برتری آج بھی موجود ہے کہ اس فن میں اس کا کوئی حریف پیدا نہیں ہو سکا۔ لیکن اتنی تبدیلی اب ضرور آ گئی ہے کہ وہ بلامقابلہ جیت نہیں سکتی۔ دوسری جماعتیں بھی حسب توفیق اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ اور تو اور مذہبی جماعتوں کے کارکن بھی اب کم نہیں۔ ذرا مولانا فضل الرحمن اور حافظ نعیم الرحمن صاحب یا ان کی جماعتوں کے بارے میں کچھ کہہ کر دیکھیں۔ سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس پر لفظوں سے جو نقش ونگار بنیں گے ‘ آپ تنہائی میں بھی دیکھیں تو خود سے شرمندہ ہوں۔
سیاستدان بھی بیمار ہوتے ہیں۔ انہیں علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر سیاست کو ذاتیات سے جدا رکھا جائے تو کوئی معقول آدمی اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ اگر وہ قیدی ہیں تو بھی اس حق سے محروم نہیں ۔ اگر ہم سیاست اور علاج کو الگ کر سکیں تو اس معاملے میں کسی نزاع کا پیدا ہونا غیر ضروری ہے۔ لوگ نواز شریف صاحب اور خان صاحب کی صحت کا موازنہ بھی کر رہے ہیں۔ نواز شریف صاحب کی علالت و بیماری ایک مانی ہوئی بات ہے۔ ان کے چہرے پر لکھا ہے۔ یہی معاملہ زرداری صاحب کا بھی ہے۔ انہیں دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ صحت مند ہیں۔ نواز شریف صاحب کا جب علاج ہوا تو وہ ان کی ضرورت تھی۔ عمران خان ماشاء اللہ ہمیشہ صحت مند رہے ہیں۔ عمر بھر صحت ان کی پہلی ترجیح رہی۔ سیاست کے مصروف ترین دنوں میں بھی انہوں نے اپنی ورزش کبھی قضا نہیں کی۔ صحت کے ساتھ‘ وہ خوراک کے معاملے میں بھی بہت محتاط ہیں۔ اسی لائف سٹائل کی وجہ سے وہ بیماریوں سے محفوظ رہے۔ انہیں کچھ روحانی عوارض ضرور لاحق ہوئے لیکن اس وقت میں اپنی بات جسمانی صحت کی حد تک محدود رکھنا چاہتا ہوں۔ جسمانی بیماریوں کے حوالے سے ان کی کوئی تاریخ نہیں۔ تاہم جو آدمی کل بیمار نہیں تھا‘ لازم نہیں کہ آج بھی بیمار نہ ہو۔ اگر کوئی ایسی علامت ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ لازم ہے۔ یہ بات بہت اہم نہیں ہے کہ ان کا علاج کہاں ہوتا ہے۔ اگر ڈاکٹروں کی ٹیم مستند ہے اور اس میں ان کا اپنا طبیب بھی شامل ہو جاتا ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
عمران خان صاحب کے مسائل نفسیاتی ہیں۔ ان کے اثرات ان کے جسم پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ انہیں اخبار اور ٹی وی کی سہولت میسر نہیں۔ ملاقاتوں پر بھی پابندی ہے۔ اس پابندی کو کئی دن ہو گئے ہیں۔ اس سے ان کا متاثر ہونا فطری ہے۔ پھر ان پر فرسٹریشن کا غلبہ ہے کہ ان کی سیاسی جماعت اور ایک صوبائی حکومت بانجھ ثابت ہوئی۔ وہ انہیں رہا کرانے کے لیے حکومت پر دباؤ نہیں ڈال سکے۔ رہائی کے معاملے میں وہ بے بسی کی تصویر ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان کا جسم اس کے اثرات سے محروم رہے۔ یہ تو ان کا لائف سٹائل کام آیا اور ان کے جسم نے ان نفسیاتی مسائل سے بہت کم اثر قبول کیا‘ تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی اثر نہ لیا ہو۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان کی بڑھتی ہوئی عمر۔ وقت کے ساتھ پہلوانوں کے جسم بھی ناتواں ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ آج وہ جسے ظلم کہہ رہے ہیں‘ وہ یہی مسائل ہیں۔ تنہائی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کتابیں البتہ انہیں مل رہی ہیں جو تنہائی کا بہترین علاج ہے۔ تاہم کتاب انسانی صحبت کا متبادل نہیں۔
میرا احساس ہے کہ تحریک انصاف میں اگر بیرسٹر گوہر جیسے متحمل مزاج لوگوں کو موقع دیا جائے تو تنہائی کا یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ یہ عمران خان صاحب کی بدنصیبی ہے کہ انہیں دانشمند لوگوں کی رفاقت کم ہی میسر ہے۔ جس دور میں جہانگیر ترین جیسے لوگ ان کے ساتھ تھے وہ ان کی فتوحات کا دور تھا۔ جب انہوں نے ایسے لوگوں سے چھٹکارا پایا‘ ان کے مسائل بڑھتے چلے گئے۔ وہ ان لوگوں میں گھرتے چلے گئے جن کے پاس عقل وبصیرت نام کی کوئی شے نہیں پائی جاتی۔ ان کی سیاست نے مفاہمت کے دروازے بند کیے اور خان صاحب کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا۔
یہ صورت حال بدل سکتی ہے۔ اقتدار کی سیاست میں جس کے ہاتھ میں طاقت ہوتی ہے اس سے معاملہ کرنا پڑتا ہے۔ اچھے سیاستدان وہی ہوتے ہیں جو عوامی طاقت کو ایک خوف کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ خودکو ریاست کے بالمقابل نہیں لا کر کھڑا کرتے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے مولانا فضل الرحمن کے اسلوبِ سیاست سے استفادہ کرنا چاہیے۔ جماعت اسلامی یہ تجربہ کر چکی۔ ان کی انتخابی طاقت کا ایک خوف اور بھرم تھا۔ جب اس نے انفرادی حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو یہ خوف دم توڑ گیا۔ تحریک انصاف نے ناکام احتجاجی تحریکیں چلا کر اپنا بھرم اور خوف ختم کر دیا۔ ریاست پر یہ واضح ہو چکا کہ وہ احتجاج سے عمران خان کو رہا نہیں کرا سکتے۔ دانشمندی یہ ہے کہ اب تحریک انصاف کوئی اور راستہ اختیار کرے۔ اب اس کا ہدف صرف یہ ہو کہ عمران خان کا علاج ہو‘ اگر وہ بیمار ہیں اور ان کے رہائی کے لیے ریاست کا دل پسیجے۔ یہ کام دانشمندی سے ہو گا‘ زور سے نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...