حادثات کا ہجوم ہے‘ جس نے گھیر رکھا ہے۔ ہری پور کی آیت نور پر ہونے والا ظلم دل میں ترازو ہو گیا ہے۔ اسلام آباد کے ہسپتال میں آگ میں پگھلتے گلاب ہیں کہ ذہن ان کے علاوہ کسی کے بارے میں سوچنے پر آمادہ نہیں۔ پھر نیپال میں آنے والا طوفان ہے۔ لمحوں میں ہستی کھیلتی بستیاں دلدل میں بدل گئیں۔ عمارتیں اور پل یوں اُڑ رہے تھے کہ جیسے روئی کے گالے۔
ایک مدت ہوئی قلم کی باگ عقل و خرد کے حوالے کیے۔ ہمیشہ تجزیہ مطلوب رہا ہے کہ سماج کو اس کی ضرورت ہے۔ جذبات نے قلم سے لپٹنا چاہا تو انہیں نظر انداز کیا اور جھٹک دیا۔ آدمی مگر کبھی کبھی بے بس ہو جاتا ہے۔ جذبات کچھ اس طرح اُمڈ آتے ہیں کہ ان کی طرف متوجہ ہونا پڑتا ہے۔ پھر اقبال بھی سرگوشی کرتے ہیں:
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
آیت نور انسانی وحشت اور درندگی کا شکار ہو گئی۔ اس کی ایک تصویر نے پریشان کر رکھا ہے۔ باپ کے کندھوں پر سوار اس کی معصوم آنکھوں میں عجیب سا سکون ہے۔ باپ کے چہرے پر کھلی مسکراہٹ بتا رہی ہے کہ کیسے اس کا وجود گھر کی رونق ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ وہ صبح کام کیلئے گھر سے نکلتا تھا تو وہ سو رہی ہوتی تھی۔ شام کو لوٹتا تو دہلیز پر کھڑی باپ کی منتظر ہوتی۔ وہ اکلوتی اولاد ظلم کی بھینٹ چڑھ گئی۔ اگر وہ زندہ رہ جاتی ہے تو بھی عمر بھر اسے چین نصیب ہوتا نہ ماں باپ کو۔ چین تو اب بھی نہیں ملے گا۔ ایک زخم ہے جو شاید ہی بھر سکے۔
اسلام آباد کی وہ معصوم کلیاں جو بِن کھیلے مرجھا گئیں انہیں کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔ ان معصوموں کی کیفیت کو تو میں نہیں جانتا لیکن یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ ان کے والدین پر کیا گزری ہو گی۔ بہن بھائی‘ قریبی اعزہ کس کرب میں مبتلا ہوں گے۔ ہم جیسوں کا ان سے کوئی خونی رشتہ نہیں تھا لیکن لگتا ہے کہ ایک تیر جگر کے پار ہو گیا۔ تجزیہ ہوتا رہے گا۔ ذمہ داروں کا تعین بھی شاید ہو جائے۔ اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ مجرم پکڑے جائیں اور سزا بھی ہو جائے۔ یہ سب کچھ مگر اس دکھ کی تلافی نہیں کر سکتے جن سے ان بچوں کے والدین گزر رہے ہیں۔ میں چشمِ تصور سے وہ منظر دیکھنا چاہتا ہوں تو تصور کی آنکھ بھی دھندلا جاتی ہے۔ اس کو یارا نہیں کہ یہ منظر دیکھ اور دکھا سکے۔
اور اب نیپال... ایسے واقعات انسانی تاریخ میں کبھی کبھی ہوتے ہیں۔ انسانی بستیاں الٹ گئیں اور پلک جھپکنے کی دیر تھی کہ سارا منظر بدل گیا۔ بڑی بڑی عمارتیں خس و خاشاک کی طرح اُڑ گئیں۔ یہ طوفان کہاں سے اٹھا؟ پانی آسمان سے برسا یا زمین نے اگل دیا؟ زلزلہ آیا یا پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ گئے؟ ابھی تک کوئی کچھ نہیں جانتا۔ نیپال کے ساتھ تبت میں بھی یہی ہوا۔ علاقے کے بڑے بوڑھے بتا رہے ہیں کہ طوفان پہلے بھی آتے رہے مگر ایسے مناظر انہوں نے نہیں دیکھے۔ سب نقصان پر افسردہ ہیں۔ انسانی جانوں کے زیاں پر آزردہ ہیں۔ کتنے ہیں جو مفقود الخبر ہیں۔ ان کے بارے میں یہ توقع کم ہے کہ کوئی اچھی خبر آئے گی۔ کیا یہ بستیاں دوبارہ آباد ہو سکیں گی؟ کیا نیپال جیسا ملک اتنے وسائل رکھتا ہے کہ اس نقصان کے اثرات سے بچنے کا سامان کر سکے؟ کیا عالمی برادری مدد کو پہنچے گی؟ شاید یہ سب کچھ ہو جائے مگر سوال یہ ہے کہ وہ مرد‘ وہ خواتین‘ وہ بچے جو اس حادثے کی نذر ہو گئے‘ ان کو کوئی واپس لا سکے گا؟ آیت نور‘ اسلام آباد کے بچے‘ نیپال کے طوفان میں مرنے والے... کیا ان کیلئے زندگی ختم ہو گئی؟ کیا یہ کوئی کھیل تھا جو ختم ہو گیا؟
ان سوالات کا جواب صرف مذہب کے پاس ہے۔ یہ سب قیامت کے وجود کی گواہی دے رہے ہیں۔ یہ بتا رہے ہیں کہ ایک دنیا ایسی ضرور ہونی چاہیے جہاں آیت نور کے زخموں کا مداوا ہو۔ جہاں اسلام آباد کے بچوں کو ایک اچھا مستقبل ملے۔ ان کے والدین ان کو کھلکھلاتا دیکھیں۔ یہاں صدمہ سہنے والے بے گناہ اجر پائیں اور گناہ گاروں کو سزا ملے۔ جو آخرت اور دوسری زندگی پر یقین رکھتا ہے اس کیلئے یہ خوشخبری ہے۔ عالم کے پروردگار نے اس کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اس دنیا میں لوگوں کو آزمائے گا۔ خوف سے‘ بھوک سے‘ مال اور جان کے ضیاع سے۔ جو اس آزمائش میں پورا اتریں گے ان کیلئے خوشخبری ہے۔ یہ وہ ہیں جو آزمائش میں صرف ایک بات کہتے ہیں: لاریب‘ ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں (ایک دن) اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔
اس دنیا کا نظام اپنے وجود میں خلا رکھتا ہے۔ اسے ایک دوسری دنیا ہی سے بھرا جا سکتا ہے۔ یہاں حادثات کا دروازہ بند نہیں ہو سکتا۔ غیر مرئی قوت کی مداخلت کے علاوہ انسانی غلطیوں سے ہونے والے حادثات اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی تلافی ایک ایسی زندگی کے بغیر ممکن نہیں جو ایسے حادثات کے امکانات سے پاک ہو۔ زلزلے سے بچاؤ کی تدابیر سے نقصانات کو کم تو کیا جا سکتا ہے‘ ختم نہیں۔ ترقی یافتہ دنیا بھی حادثات سے پوری طرح محفوظ نہیں۔ اسی طرح وبائیں ہیں جن کا دروازہ بند نہیں ہو سکا۔ بیماریاں ہیں کہ ختم نہیں ہو رہیں۔ انسانی کاوش سے ہم ایک خلا کو دور کرتے ہیں تو نیا خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ دکھائی یہ دیتا ہے کہ یہ سلسلہ ختم ہونے والا نہیں۔ حادثات سے پاک دنیا کی خواہش تو کی جا سکتی ہے‘ ایسی دنیا تخلیق نہیں کی جا سکتی۔ اس کیلئے ہمیں اسی طاقت کی طرف رجوع کر نا ہو گا جس نے یہ دنیا بنائی اور پھر اس میں موجود خلا کی نشاندہی کرتے ہوئے اُس دنیا کے برپا ہونے کی نوید بھی سنائی جس میں وہ خلا نہیں ہوں گے جو یہاں ہیں۔ اُس کا کہنا یہ بھی ہے کہ ہم دنیا میں جو حادثات دیکھتے ہیں‘ یہ در اصل اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قیامت شدنی ہے۔ اگر ہم موت کو زندگی کا اختتام مان لیں تو پھر سوائے پچھتاوے کے ہمارے دامن میں کچھ نہیں بچتا۔ آیت نور کے والدین کا دکھ صرف اس یقین دہانی سے ختم ہو سکتا ہے کہ ایک دنیا ایسی ہو گی جس میں آیت نور اس درندگی سے پوری طرح محفوظ ہو گی جو اس دنیا میں اُس نے دیکھی۔ ہم اسلام آباد میں مرجھا جانے والے پھولوں کے والدین کو اسی وقت مطمئن کر سکتے ہیں جب ان سے ایک ایسی دنیا کا وعدہ ہو جن میں وہ اپنے بچوں کو ہنستا کھیلتا دیکھیں گے۔ نیپال میں جو کچھ ہوا اس کو بھی کسی عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں کسی کی حق تلفی نہ ہو گی۔
ہم انسان ہیں۔ دنیا کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں۔ ان سے مفر نہیں مگر ہمیں یہ اطمینان ہے کہ اس کائنات کا نظام ایک ایسی ہستی کے ہاتھ میں ہے جو حکیم ہے۔ جو دلوں کے بھید جانتی ہے۔ جو آخری درجے میں انصاف کرنے والی ہے۔ اگر ہم اس دنیا کی زندگی کو اس کی بڑی سکیم کو سامنے رکھتے ہوئے سمجھ سکیں تو ان واقعات کو ایک حد تک سمجھ سکتے ہیں۔ آخرت کے بغیر البتہ ان کی کوئی توجیہ ممکن نہیں۔ پھر صرف پچھتاوا ہے اور اَن گنت سوالات ہیں جن کا کوئی جواب ہمارے پاس نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments