حکومت بلا ناغہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھارہی ہے۔بجلی کے بلوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے جو صورتِ حال پیدا ہورہی ہے وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کا جینا محال کردیا ہے‘ بالخصوص غریب اور پسے ہوئے طبقات مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عوام پیدا ہی پٹرول اوربجلی کے اخراجات ادا کرنے کیلئے ہوئے ہیں اور اس پر عوام کی جانب سے جو ردِعمل سامنے آرہا ہے وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس بات کو واضح تر کرتا جارہا ہے کہ اگر حکومت نے عام آدمی کو ریلیف نہ دیا تو حالات اس حد تک بگڑ جائیں گے کہ پھر حکومت کے لیے انہیں سنبھالنا ممکن نہیں ہوگا۔
کھل جائیں گے اک روز زبانوں پہ پڑے قفل
خاموشی ہے طوفاں کی علامت اُسے کہنا
عوام کو طفل تسلیاں دینے کے لیے حکومت مختلف حربے آزما رہی ہے۔ وزیراعظم نے اسی سلسلے میں بجلی کے بلوں سے متعلق یکے بعد دیگرے اجلاس بلا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ عوام کی پریشانیوں کا حل نکالنا چاہ رہے ہیں ‘لیکن ان کی طرف سے جو بیانات دیے گئے ان سے پوری طرح واضح ہوگیا کہ وہ عوامی مسائل سے واقف ہی نہیں ہیں۔ وہ آٹے دال کا بھاؤ نہیں جانتے اور نہ ہی انہیں ایسی اشیاخریدنے کے لیے کسی تگ و دو کی ضرورت پیش آتی ہے۔ بجلی کے بھاری بلوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے عوام میں سخت بے چینی ہے‘ لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں۔ مہنگائی کا یہ حال ہے کہ غریب روٹی کا جو نوالہ کھاتے تھے وہ نوالہ بھی چھین لیا گیا ہے۔ جس کی تنخواہ 40ہزار اور بجلی کابل50 ہزار ہو‘ بتایا جائے کہ وہ بل کہاں سے ادا کرے؟
ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی ابتری اور حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کے باعث مہنگائی‘ بیروز گاری‘ بدانتظامی‘ بدعنوانی اور بدامنی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کے سبب عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔حکمرانوں کی بے حسی اس وقت عروج پر پہنچ جاتی ہے جب انہیں نہ عوام کا خوف ہو اور نہ احتساب کی فکر۔ایک طرف مہنگائی کا بوجھ اٹھاتے عوام ہیں اور دوسری طرف سرکاری وسائل پر پلتی شاہانہ زندگیاں ہیں۔عوامی مسائل کا حل سیاستدانوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔بلکہ حکمران روز صبح یہ دیکھنے باہر نکلتے ہیں کہ عوام کو کہاں اور کیوں ریلیف مل رہا ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی طرف سے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کی پریشانی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ اسی طرح عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایے بھی بڑھ رہے ہیں۔ انٹرسٹی کرایوں میں کم از کم 200روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ شہر میں چلنے والے رکشوں اور ویگنوں کے کرائے بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔ہو سکتا ہے وزیراعظم اس بات سے واقف ہی نہ ہوں کہ قیمتیں بڑھنے سے عام آدمی کیسے متاثر ہوتا ہے اور اس کی پریشانیاں ملک میں انتشار پھیلانے کا باعث بن سکتی ہیں۔ انہیں چاہیے کہ کچھ زیرک مشیروں سے مشورہ کر کے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے مسائل کو کیسے بڑھارہا ہے۔ ساتھ ہی انہیں یہ بھی جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اگر عوام مسلسل پریشانیوں کا شکار ہوتے رہیں تو ان کا ردعمل ریاست کے لیے کن مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کا یہ جاننااس لیے ضروری ہے کیونکہ وہ اپنے بیانات وغیرہ سے ایسی صورتحال پیدا کررہے ہیں جس سے عوام کے غم و غصے میں اضافہ ہورہا ہے۔ ملک کو انتشار سے بچانے کے لیے صرف ایک ہی راستہ بچا ہے اور وہ یہ کہ عوام کو فوری طور پر ریلیف دیا جائے۔
موجودہ حکومت نے اپنے اقتدار کے دوران عوام پر پٹرولیم بم چلا کر انہیں قبرستان کی جانب دھکیلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس پر مستزاد یہ کہ وزیراعظم کو حکومتی پالیسیوں کے نتیجہ میں بڑھنے والی مہنگائی اتنا بڑا مسئلہ ہی نظر نہیں آرہی۔ انہوں نے باور کرایا ہے کہ بجلی کا بل تو دینا ہی پڑے گاکیونکہ ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے پورے کرنے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات پرآئی ایم ایف کی شرط کے مطابق عائد کردہ لیوی کی شرح بڑھادی گئی ہے۔ بجلی کے ہوشربا بلوں سے عوام میں اشتعال پیدا ہونا بھی فطری امر ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اہلِ اقتدار کو عوام کے روٹی‘ روزگار اور غربت‘ مہنگائی کے مسائل کا کیوں احساس نہیں؟ اگر ہماری اب تک کی کسی بھی حکومت کو عوام کیلئے فلاحی ریاست کے آئینی تقاضے پورے کرنے کا احساس نہیں ہوا اور انہیں مسائل کی دلدل کی جانب ہی دھکیلا جاتا رہا ہے تو عوام اپنی آئینی ذمہ داریوں سے بھی خوش اسلوبی کے ساتھ عہدہ برا نہیں ہو سکتے۔ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجہ میں امیر اور غریب طبقات کے مابین خلیج مزید وسیع ہو رہی ہے اور خطِ غربت کے نیچے کی آبادی سرعت کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ ملک چاہے جس آزمائش سے بھی گزر رہا ہو‘ ملک کی معیشت چاہے دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ جائے‘ باوسیلہ مراعات یافتہ حکمران اشرافیہ کے طبقات کی بودوباش میں کوئی کمی نہیں آتی‘ نہ یہ طبقات ملک کی خاطر اپنی مراعات کی معمولی سی بھی قربانی دینے پرتیار ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس حکومتی انتظامی اتھارٹی کا سارا زور بے بس اور لاچار عوام پر ہی چلتا ہے جنہیں براہِ راست اور بالواسطہ انواع و اقسام کے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبایا جاتا ہے اور پٹرولیم مصنوعات‘ بجلی‘ گیس‘ پانی اور جان بچانے والی ادویات تک کے نرخ ان کی پہنچ سے دور کر دیے جاتے ہیں۔ ڈالر کے نرخ بڑھنے سے اٹھنے والے مہنگائی کے طوفان بھی عام آدمی کی کمر ہی دہری کرتے ہیں؛ چنانچہ بے وسیلہ عوام مرے کو مارے شاہ مدار کی عملی تصویر بنے زندہ درگور ہوتے نظرآرہے ہیں‘ جن کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہو تی۔ ان سے روزگار چھین کر انہیں بے روزگار کیا جارہا ہے‘ان کے کاروبار کو بند کیا جارہا ہے‘مزدور اور ریڑھیوں والے سب سے ز یادہ پریشان ہیں۔بد قسمتی سے ملک پر مخصوص طبقات کا قبضہ ہے جو قومی فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں اور انہیں مختلف سطحوں پر مراعات اور فوائد حاصل ہیں۔جب ملک کے حکمران عوام کے روزمرہ کے مسائل سے بے نیاز ہو جائیں اور انہیں انتہادرجے کی غربت سے دوچار کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں اور پھر ان کی غربت کا مذاق اڑتے نظرآئیں تو ان کے پاس مزاحمت کرنے یا خود کو موت کی وادی کی جانب لے جانے کے سوا اور کیا راستہ بچے گا؟ ایسے بے انتہا دکھوں اور لاچاری میں گھرے خاندانوں کے خاندان آج سوگ میں ڈوبے نظر آتے ہیں۔ جہاں بھوک اور فاقہ کشی کا راج ہوگا تو وہ اپنی اور اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کیلئے بالآخر چھینا جھپٹی تک ہی آپہنچیں گے۔آج ملک میں جس تیزی کے ساتھ سماجی برائیاں اور جرائم بڑھتے جارہے ہیں‘ عوام کے بڑھتے اقتصادی مسائل اس کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ حکمرانوں کو عوامی مایوسیوں اور محرومیوں کو اس نہج تک نہیں لے جانا چاہیے کہ وہ تنگ آمد بجنگ آمد پر اترآئیں۔ حکومتی پالیسیوں کے نتیجہ میں ملک کو خانہ جنگی کی جانب ہی دھکیلا جارہا ہے جس کے انجام سے بالخصوص حکمران اشرافیہ میں شامل طبقات کوآگاہ ہونا چاہیے۔حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کا بہترین طریقہ اگلے کالم میں ان شاء اللہ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments