میر تقی میرؔ نے کہا تھا:
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا
ہماری عدلیہ کا معاملہ بھی شیشہ گری سے ملتا جلتا ہے۔ اس لیے جو کچھ عرض کرنا ہے‘ احتیاط کا دامن تھام کر عرض کرنا ہے۔ میرا طریقہ نہیں کہ اپنے سابقہ کالموں کو دہراؤں یا ان کے حوالے دے کر اپنی ''دور اندیشی‘‘ کی داد طلب کروں۔ البتہ بعض اوقات ماضی کو حال سے جوڑنے کیلئے ایسا کرنا پڑتا ہے۔ اس طالب علم نے نومبر 2025ء کے ایک کالم بعنوان: ''آئین کھڑا منہ تک رہا ہے‘‘ میں لکھا تھا '' پیر‘ دس نومبر کو سینیٹ میں حیرت زدہ آئین کھڑا منہ تک رہا تھا اور دستورِ پاکستان کو شق وار بدلا بلکہ دوبارہ تحریر کیا جا رہا تھا۔ ہمارے حکمران عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے کے دعویدار ہیں اور فخریہ خادمِ عوام کہلاتے ہیں‘ پھر وہ عوام کے سامنے جوابدہی سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں کہ اپنے گرد طرح طرح کی فصیلیں چُن رہے ہیں۔ کیا انہیں خبر نہیں کہ سیل کو دیوار و در سے واسطہ کوئی نہیں ہوتا۔ 27ویں آئینی ترمیم میں عدالتی نظام کو حکومت کے ماتحت لانے کیلئے ہر وہ حربہ استعمال کیا گیا جو آزاد عدلیہ کے تصور سے متصادم ہے۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ ہمارے حکمران دیارِ مغرب کی عدالتوں کی قصیدہ خوانی تو کرتے ہیں مگر اپنے ملک کی اعلیٰ عدالتوں کو اپنے گھر کی لونڈی بنانے پر ہرگز شرمسار نہیں ہوتے۔ ہمیں بلاول بھٹو سے بڑی امیدیں تھیں۔ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ سے تعلیم یافتہ ہیں۔ وہ انگلستان میں قانون کی حکمرانی‘ جمہوریت کی سربلندی اور غیرتحریر شدہ آئین کی پاسداری اور بالادستی کے نظارے بچشم خود دیکھتے رہے مگر اندر سے وہ بھی ایک فیوڈل لارڈ ہی نکلے۔ عدالتوں کو پابہ زنجیر کرنے والے اقدامات سے پیپلز پارٹی نے اپنے سیاسی مستقبل پر خود آری چلائی ہے۔‘‘
اس المیے کا رضا ربانی جیسے چند سینئرز کو شاید کچھ اندازہ ہوا۔ اسی 27ویں ترمیم کے نتیجے میں چیف جسٹس آف پاکستان کو بے اختیار کر کے اُن کے آدھے اختیارات سیاسی اکثریت رکھنے والی سپریم جوڈیشل کونسل کو اور آدھے وفاقی آئینی عدالت کو تفویض کر دیے گئے ہیں۔ اب اسی ترمیم کے سہارے اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز کے تبادلے کر دیے گئے ہیں۔ اگرچہ سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججز کے تبادلوں کی مخالفت کی مگر ان کا بس ایک ووٹ ہی تھا۔ اگر اُسی وقت 27 ویں آئینی ترمیم پر اعلیٰ عدلیہ کے تحفظات سامنے آتے تو شاید وطنِ عزیز کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی نے بدستور اپنے مصالحت پسندانہ رویے کو جاری رکھتے ہوئے ججز کے تبادلوں کے سلسلے میں حکمران جماعت کی ہاں میں ہاں ملا ئی۔ البتہ پیپلز پارٹی نے اس حکومتی مشق کو روکنے کیلئے کوئی اصولی مؤقف اختیار کرنے کے بجائے حکمران جماعت پر دباؤ ڈال کر دو ججز کے تبادلے رکوا لیے۔ یہ دونوں ججز صاحبان اسلام آباد ہائیکورٹ میں عدالتی فرائض انجام دے رہے ہیں۔
ہم جیسے قانون کی پیچیدگیوں اور مو شگافیوں سے ناواقف لوگوں کیلئے یہ سمجھنا بہت دشوار ہے کہ ایک جج‘ جو کسی عدالت میں سینئر ترین ہوتا ہے اور اس کا تبادلہ اس کی مرضی کے خلاف کر کے اسے جونیئر ترین کیسے بنا دیا جاتا ہے۔بظاہر اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ تادیبی کارروائی ہے۔ اگر یہ تبادلے بطور سزا کیے گئے ہیں تو پھر ان ججز پر مِس کنڈکٹ کا مقدمہ چلنا چاہیے جہاں انہیں اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا پورا موقع حاصل ہو۔ سول ملازمتوں میں سروس ٹریبونل ہوتا ہے جہاں اس طرح کی کارروائی کے نتیجے میں افسران اپنا مؤقف پیش کرتے ہیں اور بسا اوقات ان کے خلاف کی گئی کارروائی کو روک دیا جاتا ہے۔ چند ہفتے قبل لاہور ہائیکورٹ نے ایک فیصلہ دیا ہے جس کے مطابق کسی عہدے پر کام کرنے والے ملازم کی سنیارٹی کو مستقل ہونے کی تاریخ سے نہیں بلکہ عارضی یا ایڈہاک ابتدائے ملازمت سے شمار کیا جائے گا۔ مگر یہاں تبادلوں سے سینئر جج جونیئر بن جاتا ہے‘ یہ کیسے؟ یہ تو انصاف اور منطق کی صریح خلاف ورزی دکھائی دیتی ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں سنیارٹی لسٹ میں دوسرا نمبر تھا۔ اب لاہور ہائی کورٹ کی سنیارٹی لسٹ میں اُن کا بارہواں نمبر ہو گا۔ جسٹس بابر ستار اسلام آباد ہائیکورٹ کی لسٹ میں تیسرے نمبر پر تھے‘ اب پشاور جا کر ان کا نمبر چھٹا ہو گا۔ اسی طرح جسٹس ثمن رفعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں چھٹے نمبر پر تھیں‘ سندھ ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ میں ان کا نمبر 18واں ہوگا۔
پاکستان میں سول سرونٹس کی طرح ججز کے تبادلوں کی کوئی روٹین موجود نہ تھی۔ ججز کی تقرری جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس کی منظوری پارلیمانی کمیٹی برائے عدلیہ دیتی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ تبادلے آئین کے آرٹیکل 175(2) میں نئی ترمیم کے بعد کیے گئے ہیں۔ اس ترمیم سے پہلے کسی بھی جج کے ایک ہائیکورٹ سے دوسرے ہائیکورٹ میں تبادلے کیلئے اس کی رضامندی ضروری تھی۔ 27ویں ترمیم کی ایک نئی شق کے تحت ججز کی مرضی کے بغیر تبادلوں کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو مل گیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کے ان تبادلوں کے بارے میں بڑے اصولی اور قانونی تحفظات تھے۔ انہوں نے ان تحفظات کا اظہار بھی کیا ۔ چیف جسٹس نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وجوہات کے بغیر تبادلے تادیبی کارروائی کا تاثر دے سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ججز کے خلاف الزامات کیلئے سپریم جوڈیشل کمیشن موجود ہے تو پھر تبادلے کیوں؟
جسٹس بابر ستار نے ممکنہ تبادلوں کے بارے میں چیف جسٹس کو خط لکھا تھا جس میں انہوں نے استدعا کی تھی کہ تبادلوں سے پہلے اُن کا مؤقف سنا جائے مگر انہیں اس کا موقع نہیں ملا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو مسندِ عدل پر بیٹھ کر انصاف بانٹتے ہیں مگر انصاف طلبی کیلئے جب ان کی باری آئی تو انہیں دادِ فریاد کا کوئی فورم میسر نہ تھا۔
وکلا برادری کے بھی ججز کے تبادلوں کے بارے میں شدیدتحفظات ہیں۔ لاہور بار ایسوسی ایشن نے مذکورہ بالا تینوں ججز کے تبادلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔ سینئر وکیل حامد خان نے لاہور بار کے صدر کی طرف سے وفاقی آئینی عدالت کے بجائے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ 27ویں ترمیم کی غیر آئینی شاخ پر جو آشیانہ بنانے کی کوشش کی جائے گی وہ ناپائیدار ہوگا۔ ججز کے تبادلوں کیلئے جس ترمیمی آرٹیکل کا سہارا لیا گیا ہے‘ انہوں نے نہ صرف اس آرٹیکل کو بلکہ ساری 27ویں ترمیم کو آئینِ پاکستان میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق کے صریحاً منافی قرار دیا ہے۔ دیکھئے عدالتِ عظمیٰ سے کیا فیصلہ صادر ہوتا ہے۔
دنیا کی نظروں میں ہمارا پیغام بہت بلند ہے۔ ہمیں ہر اس کارروائی سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے ہمارے تشخص کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہو۔ حکمران آئینِ پاکستان کو بازیچۂ اطفال بنانے سے گریز کریں۔