مشرق کا جنیوا اور مذاکرات

اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات کیلئے جذبۂ بے اختیارِ شوق کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ وہ بلا تاخیر ایران کے ساتھ کامیاب ڈائیلاگ چاہتے ہیں‘ مگر ان کی دھمکیوں اور طعنوں کو دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ بنا ہوا کام بگاڑنا چاہتے ہیں۔ مذاکرات کی کامیابی کا ایک راز کاش کوئی ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھا سکے کہ جب تک معاہدۂ امن پر دستخط نہ ہو جائیں اس وقت تک وہ اپنے اوپر ''زبان بندی‘‘ کا حکم لاگو رکھیں۔
آج سے تقریباً نوے برس قبل شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے مستقبل میں جھانکتے ہوئے ایک خواہش کا اظہار کیا تھا جو اَب پوری ہوتی ہوئی ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ یوم اقبالؒ کے موقع پر علامہ کی خواہش یا دعا کو ایک بار پھر یاد کیجئے۔
پانی بھی مسخر ہے‘ ہوا بھی ہے مسخر
کیا ہو جو نگاہِ فلکِ پپر بدل جائے!
دیکھا ہے ملوکیتِ افرنگ نے جو خواب
ممکن ہے کہ اس خواب کی تعبیر بدل جائے!
طہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے!
امریکہ کی قیادت میں مغرب نے پانی اور ہوا کے علاوہ اب افلاک کی تسخیر کا پروگرام بھی بہت پھیلا دیا ہے مگر یہ ساری تسخیرِ کائنات دنیا کا امن و سکون اور انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے نہیں بلکہ اس کی تباہی و بربادی کیلئے ہے۔ نیتن یاہو نے تقریباً دو برس تک غزہ کو امریکی سرپرستی میں کھنڈرات کا ڈھیر بنایا۔ اسرائیلی افواج نے 80 ہزار فلسطینیوں کو شہید اور تقریباً پونے دو لاکھ کو شدید زخمی کیا۔ برنی سینڈرز امریکہ کا انتہائی واجب الاحترام سینیٹر ہے‘ اس نے امریکہ میں خطاب کرتے ہوئے حاضرین کے سامنے اُن 18 ہزار بچوں کی تصاویر پیش کیں جنہیں اسرائیل نے نہایت سفاکی سے شہید کر دیا تھا۔ یہ تصاویر واشنگٹن پوسٹ نے شائع کی ہیں۔ برنی سینڈرز نے امریکی عوام کو جھنجھوڑتے ہوئے بتایا کہ امریکہ نے اس دوران جنگ کیلئے 22 ارب ڈالرز اسرائیل کو دیے۔ براؤن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق غزہ میں دو سالہ اسرائیلی کشت و خون اور تباہی و بربادی کا 70 فیصد خرچہ امریکہ نے ادا کیا۔ گویا امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے سے معصوم بچوں کو خاک و خون میں تڑپایا گیا۔ اس بار اسرائیل کے بہلانے پھسلانے پر امریکہ نے ایران پر تقریباً چھ ہفتوں پر مشتمل ایک بے مقصد جنگ مسلط کی۔ اس جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو منہ کی کھانا پڑی۔ ایران نے اپنے ہوم میڈ میزائلوں سے اسرائیل کے اندر اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر تباہی مچائی۔ اس جانی و مالی اور معاشی تباہی کو دیکھ کر پاکستان سفارتکاری کیلئے آگے بڑھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پُرخلوص اور اَنتھک سفارتکاری کو بہت سراہا گیا‘ یوں پاکستان نے امریکی و ایرانی وفود کو 47 برس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے لا بٹھایا۔ اس براہ راست ڈائیلاگ میں بہت سے امور پر دو طرفہ اتفاق ہو گیا تھا‘ مگر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ اچھی بات یہ کہ گفت و شنید کی ڈور ابھی تک نہیں ٹوٹی۔ اس دوران پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے فریقین کے باہمی اختلافات باہمی اتفاق میں بدلنے کیلئے شبانہ روز محنت کی۔ غالب امکان یہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا راؤنڈجلد شروع ہو جائے گا۔
اقبال نے عالمِ مشرق کے جنیوا تہران کے علاوہ برصغیر میں ایک اسلامی مملکت کا خواب دیکھا تھا‘ یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو چکا ہے اور آج ایٹمی قوت اسلامی جمہوریہ پاکستان سارے جہان کا مرکزِ نگاہ بن چکا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ایران پر مسلط کردہ دو امریکی و اسرائیلی جنگوں کے نتیجے میں ایران کو بہت بڑا جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا‘ مگر ایران اور عالم اسلام کو بہت سے ثمرات و فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں۔ سب سے پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ جس ایران کو بدامنی پھیلانے والی یہ قوتیں ترنوالہ سمجھ رہی تھیں وہ ان کیلئے لوہے کا چنا ثابت ہوا۔ ایران کی اس برتری کو ساری دنیا میں بہت سراہا گیا ہے۔ایک اور فائدہ یہ ہوا کہ ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی جارحیت کو ساری دنیا نے نہ صرف مسترد کردیا بلکہ اس کی شدید مذمت کی گئی۔ یہ حالیہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ نیٹو اور یورپی یونین سمیت کئی مغربی ممالک نے ایران کے خلاف امریکی جنگ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ مغربی دنیا کی رائے عامہ غزہ کے بعد اب ایران کے ساتھ ہے۔ آج یورپ و امریکہ میں کہیں سروے کروا لیں وہاں اکثریت ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خلاف اور ایران کے حق میں ہو گی۔ مغرب کی قیادت بھی امریکی و اسرائیلی مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہی ہے۔ مسیحیوں کے سب سے بڑے روحانی پیشوا پوپ لیو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اس ظلم و جارحیت سے باز رہنے کی تلقین کی تو انہوں نے پوپ کو طعنے دیے اور ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی مگر پوپ نے اپنے مذہبی و اخلاقی فریضے سے دست کش ہونے سے انکار کردیا۔ ایران پر مسلط کردہ جنگ کا ایک انمول فائدہ یہ بھی ہے کہ تقریباً نصف صدی کے بعد عربوں کو احساس ہو گیا ہے کہ خطے میں ان کا اصل دشمن ایران نہیں اسرائیل ہے۔ یوں عرب و عجم پاکستان کی رفاقت میں بہت قریب آ رہے ہیں۔ہماری دعا ہے کہ جنگ بندی کے اختتام سے قبل مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز ہو جائے۔ ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ کئی معاملات پر پیشرفت ہوئی ہے مگر ابھی بہت سا فاصلہ باقی ہے۔ یقینا اس فاصلے میں ایٹمی موضوع سرفہرست ہے۔ یورینیم افزودگی بالخصوص پُرامن مقاصد کی خاطر ہر قوم کا استحقاق ہے۔ تاہم ایران کئی بار ایٹم بم نہ بنانے کا اعلان کر چکا ہے۔ اس لیے امریکہ اپنی '' داخلی فیس سیونگ‘‘ کیلئے اس معاملے کو ہرگز نہ الجھائے۔
ایران کیلئے دوسرا اہم ترین مسئلہ آبنائے ہرمز کا ہے۔ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ایران نے ساری دنیا کو معاشی عذاب سے نکالنے کیلئے آبنائے ہرمز سے جہازوں کے بآسانی گزرنے کیلئے یہ بحری راستہ کھول دیا۔ اس پر ایران کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے امریکہ نے ایرانی بندر گاہوں کی ناکہ بندی کر دی ہے۔ امید ہے کہ دوسرے رائونڈ کے مذاکرات سے قبل امریکہ یہ ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ایران کا تیسرا مطالبہ برائے تاوان بھی بالکل جائز ہے۔ کسی ملک پر بے مقصد‘ بلا جواز اور بلا اشتعال جنگ مسلط کرنے والے ملک کو ہر جانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں کئی ملکوں کو جارح ممالک کی طرف سے ہرجانہ ادا کرنے کی مثالیں موجود ہیں۔ ایران کے منجمد اثاثوں کو بھی بالآخر ایران کے حوالے کردیا جانا چاہیے۔ یورپ و امریکہ کی رائے عامہ جتنی ایران اور عالم اسلام کے حق میں آج ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ مختلف قدغنوں کے ہوتے ہوئے ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں کا جس جوانمردی سے مقابلہ کیا اس کی دھاک ساری دنیا پر بیٹھ چکی ہے۔جس جرأت و مہارت سے ایران نے جنگ جیتی ہے اس حکمت و دانش سے اسے مذاکرات کی لڑائی بھی جیت لینی چاہیے۔
آج حکم الامت کا ایک نہیں کئی خواب شرمندہِ تعبیر ہونیوالے ہیں۔ امتِ مسلمہ کی وحدت اور تہران کے عالمِ مشرق کا جنیوا بننے کا خواب برادر اسلامی ملک ایران کو پاکستان کی رفاقت میں امنِ عالم اور وحدتِ امت کا یہ سنہری موقع ہرگز ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ آج خلدِ بریں میں علامہ اقبالؒ اپنے ان اشعار کی عملی تعبیر دیکھ کر کتنے خوش ہوں گے۔
عرب کے سوز میں سازِ عجم ہے؍ حرم کا راز توحیدِ امم ہے
تہی وحدت سے ہے اندیشۂ غرب؍ کہ تہذیبِ فرنگی بے حرم ہے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں