پون صدی سے زیادہ آسمانِ صحافت پر جلوہ گر رہنے والا آفتابِ عالمتاب 16مئی کو غروب ہو گیا۔ میرے رب کا فرمان ہے: کل من علیھا فان( روئے زمین پر ہر شے فنا ہونے والی ہے)۔ 17مئی کو ہزاروں لوگوں کے ہمراہ ہم نے 96 سالہ جناب الطاف حسن قریشی کو دعائے مغفرت کے ساتھ جامعہ اشرفیہ لاہور میں سوئے خلد روانہ کیا۔ ان کی نمازِ جنازہ جامعہ اشرفیہ کے شیخ الحدیث مولانا یوسف خان نے پڑھائی جس میں وزرا‘ سیاستدان‘ علمائے کرام‘ دانشور‘ صحافی‘ اساتذہ کرام‘ تاجر اور عام شہری شامل تھے۔
الطاف حسن قریشی کی زندگی جہدِ مسلسل اور عملِ خیر کا تسلسل تھی۔ قریشی صاحب کے خاندان نے مشرقی پنجاب سے نومبر 1947ء میں پاکستان کو ہجرت کی اور پہلے ہارون آباد اور بعد ازاں لاہور پہنچے۔ یہاں ان سے بڑے بھائی گل حسن محکمۂ انہار میں سینئر کلرک تھے۔ قریشی صاحب نے ان سے ٹیلی گرافی سیکھی اور یوں وہ ساڑھے سولہ سال کی عمر میں محکمہ انہار میں سگنیٹر بھرتی ہو گئے۔ دورانِ ملازمت انہوں نے ادیب عربی اور پھر عربی و سیاسیات کے ساتھ بی اے کر لیا۔ بعد ازاں انہوں نے ایم اے سیاسیات میں پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ اسی دوران ایوب خان کا مارشل لاء لگ چکا تھا اور وہ صدارتی نظام نافذ کرنے کا اشارہ دے چکے تھے۔ غلط کو غلط کہنا اور حق گوئی قریشی صاحب کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ ایم اے کے فائنل امتحانات میں اہم ملکوں کے دساتیر پر مبنی ایک پرچے میں سوال تھا کہ آپ صدارتی نظام کے حق میں ہیں یا پارلیمانی نظام کے؟ قریشی صاحب نے 'حالاتِ حاضرہ‘ کی پروا کیے بغیر لکھا کہ پاکستان کے جغرافیائی حالات کے مطابق پارلیمانی نظامِ حکومت سازگار ہے جبکہ صدارتی نظام علیحدگی کے رحجانات کو ہوا دے گا۔ قریشی صاحب کے کلاس فیلوز کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ایسے جواب کے ذریعے تم نے اپنی ناکامی پر مہرِ تصدیق ثبت کی ہے مگر پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات کے جرمن چیئرمین نے قریشی صاحب کی بہت تعریف کی۔ ایم اے سیاسیات میں قریشی صاحب ساری یونیورسٹی میں اوّل آئے۔
1948ء میں محکمہ انہار کی طرف سے قریشی صاحب کی پوسٹنگ لاہور میں تھی۔ انہیں معلوم ہوا کہ مولانا مودودیؒ اچھرہ کی ایک مسجد میں مغرب کی نماز میں درسِ قرآن دیں گے۔ قریشی صاحب مولانا کے درس میں شامل ہونے لگے‘ یوں ان کی مولانا مودودیؒ کے ساتھ ذہنی و قلبی قربت بڑھتی چلی گئی۔ ایک بار قریشی صاحب نے بتایا 11مئی 1953ء کا اخبار آیا تو میری نگاہ اس سرخی پر پڑی ''ابو الاعلیٰ مودودی کو عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا‘‘۔ بقول قریشی صاحب یہ خبر پڑھ کر مولانا مودودی کا باوقار‘ شگفتہ اور سرخ و سفید چہرہ میری آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔ ہر لحظہ ان کے اندر اضطراب بڑھنے لگا۔ اس اضطرابی کیفیت میں اُن کے دل کی یہی آواز شعروں میں ڈھلنے لگی۔ چند اشعار ملاحظہ کیجئے۔
وہ اور ہی ہوں گے کم ہمت‘ آلام و مصائب سہہ نہ سکے
شمشیر و سناں کی دھاروں پر جو حق و صداقت کہہ نہ سکے
تم دار و رسن کی منزل کو اربابِ تعیش کیا جانو
ہم جام شہادت پی پی کر وہ کہہ گئے جو کچھ کہہ نہ سکے
دل میں اتر جانے والے یہ اشعار دو باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں‘ ایک یہ کہ 1953ء کی جواں عمری میں ہی قریشی صاحب کے رگ و پے میں مولانا مودودیؒ کی محبت اور ان کا نظریہ اتر چکا تھا۔ دوسرا یہ کہ اگر قریشی صاحب نظریاتی صحافت کے بجائے دنیا کے شعر و ادب کے مسافر بن جاتے تو آج وہ پاکستان کے صفِ اوّل کے شاعر اور افسانہ نگار ہوتے۔ ایم اے سیاسیاست میں اوّل آنے کا تمغہ سینے پر سجائے ہوئے جب الطاف قریشی نے دیال سنگھ کالج اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات میں درخواست دی تو وہ دونوں جگہ میرٹ پر سب سے اوپر تھے مگر ان کے بجائے ذاتی تعلقات والوں کو ملازمت دیدی گئی۔ یہ ڈی میرٹ اب ہماری سیاسی و معاشرتی زندگی میں ہر جگہ دکھائی دیتا ہے۔ اس پر قریشی صاحب بددل تو نہیں مگر بدمزہ ضرور ہوئے۔ تاہم انہوں نے اپنا راستہ بدل لیا۔ پھر قدرت نے انہیں وہ مقام عطا کیا جو قسمت والوں ہی کو ملتا ہے۔
پچاس کی دہائی میں جماعت اسلامی کے ایک سینئر رہنما ملک نصراللہ خان عزیز تھے۔ 1958ء کے مارشل لاء کے بعد اُن کے صاحبزادے ظفر اللہ خان نے ممتاز انگریزی ماہنامے ''ریڈرز ڈائجسٹ‘‘ کے طرز پر پاکستان میں ایک پرچہ متعارف کرانے کا آئیڈیا پیش کیا۔ مشاورت سے اس کا نام ''اردو ڈائجسٹ‘‘ طے پایا۔ ریڈرز ڈائجسٹ کی طرح اس میں ادب و سیاست‘ دلچسپ حکایتیں‘ افسانے حیران کن سائنسی ایجادات وغیرہ بہت کچھ تھا۔ الطاف حسن قریشی اس کے ایڈیٹر بنے۔ قریشی صاحب نے اس ڈائجسٹ میں اپنے اداریوں‘ تجزیوں اور انٹرویوز کے ذریعے اسے ایک سنجیدہ مگر دلچسپ ماہنامہ بنا دیا۔
1970ء کی دہائی میں قریشی صاحب سے نیازمندی کا آغاز ہوا۔ قریشی صاحب سے پہلے کسی بڑی شخصیت سے انٹرویو کا مطلب ایک خشک اور بور سی دستاویزی تحریر تھی جسے پڑھنا کڑوی دوا نگلنے کے مترادف تھا۔ الطاف حسن قریشی نے بڑی سے بڑی شخصیت کے ساتھ انٹرویو کو ماحول کی منظر نگاری اور اپنے شگفتہ اور پُرکشش طرزِ تحریر کے ذریعے ایک دلچسپ مکالمے اور تبادلۂ خیال کی نشست کا رنگ دے دیا۔ قاری یوں محسوس کرتا کہ وہ بھی اس نشست میں بنفسِ نفیس موجود تھا۔ قومی و علمی شخصیات میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی‘ مولانا ابوالحسن علی ندوی‘ چودھری محمد علی‘ جسٹس اے آر کارنیلئس‘ اے کے بروہی‘ ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیا وغیرہ کے ساتھ ان کے انٹرویوز یادگار نوعیت کے ہیں۔ اسی طرح مسلم زعما شاہ فیصل شہید‘ مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی‘ سلیمان دیمرل‘ بلند ایجوت اور دیگر کے ساتھ انٹرویو پاکستان اور اسلامی دنیا کے درمیان پُل کا کام دیتے رہے۔ اس کے ساتھ ادارۂ اردو ڈائجسٹ نے ہفت روزہ زندگی کا آغاز نوجوان مجیب الرحمن شامی کی زیر ادارت کر دیا۔ بھٹو کے دورِ حکومت میں سندھ‘ بلوچستان‘ سرحد اور آزاد کشمیر میں سیاسی تنازعات اُٹھ کھڑے ہوئے۔ ان حالات کا قریشی صاحب اور شامی صاحب نے گہرا تجزیہ کیا اور ساتھ ساتھ ان کا حل بھی پیش کیا۔ یہ بات مزاجِ شاہاں کو بہت ناگوار گزری۔ اس دور میں الطاف حسن قریشی اور مجیب الرحمن شامی کئی بار گرفتار ہوئے۔ قریشی صاحب کی ایک دلچسپ گرفتاری کا ذکر بہت ضروری ہے۔ جنرل ضیا الحق نے جولائی 1977ء میں جب اقتدار پر قبضہ کیا تو کچھ عرصہ بعد قریشی صاحب کو پہلی مرتبہ آپریشن فیئر پلے کی تفصیلات پانچ گھنٹے طویل انٹرویو میں بتائیں۔جب اگلے ماہ قریشی صاحب نے اداریہ لکھا کہ ''شیر اپنا شکار کسی اور کو نہیں دیتا‘‘ تو انہیں مارشل لاء قوانین کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ مارشل لاء کوئی بھی تنقید برداشت نہیں کرتا‘ چاہے دوستوں کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو۔ کالم کی تنگ دامانی اس تفصیل کو بیان کرنے میں مانع ہے جو الطاف حسن قریشی نے مولانا ظفر احمد انصاری اور جناب مصطفی صادق صاحب کے ساتھ مل کر 1973ء کا متفقہ دستور بنوانے میں اپنی تحریروں اور متعدد ملاقاتوں کے ذریعے تاریخی مصالحتی کردار ادا کیا‘ وگرنہ ذوالفقار علی بھٹو تو ایک سول آمرانہ دستور بنانے پر تلے ہوئے تھے۔ مسلسل آٹھ دہائیوں تک عملِ خیر کے راستے پر گامزن رہنے اور پاکستان کو اسلامی جمہوری فلاحی ریاست بنانے کیلئے انجام دینے کے بعد اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے ہیں۔ اللہ ان کی حسنات کو اضافوں کے ساتھ شرفِ قبولیت بخشے اور ان کی سئیات سے درگزر فرمائے اور انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے‘ آمین!