صدیوں سے ہم اپنی بکریوں‘ گایوں اور بھینسوں کا دودھ استعمال کر رہے تھے۔ گاؤں کی تو خیر کیا بات تھی‘ دودھ‘ دہی‘ مکھن اور لسی کے جیسے دریا بہتے تھے۔ شہر میں بھی کبھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ جب تک دادکا (دھدیال) آباد تھا‘ گاؤں سے دودھ بھری بوتلیں آتی رہتی تھیں۔ گھر گھر گوالے آتے تھے۔ ہاں! پانی ملے دودھ کی شکایت تھی‘ مگر خالص دودھ پھر بھی عام تھا۔ اس سے دہی بھی گھر ہی میں بنتا تھا۔ سرِشام حلوائی دودھ کے کڑاہ چولہوں پر رکھ کے بیٹھ جاتے تھے۔ لوگ آتے تھے‘ خوبصورت سبز پیالوں میں بالائی سے بھرا خالص دودھ پیتے تھے۔ صحت بھی بنتی تھی‘ لطف بھی آتا تھا۔ پھر اچانک میڈیا سے بتایا جانے لگا کہ گوالے انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں‘ ان کے دودھ میں جراثیم ہیں‘ ان کے برتن گندے ہوتے ہیں‘ اس دودھ سے بچے بیمار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہا گیا کہ اس دودھ سے ٹی بی ہوتی ہے‘ اور یہ کہ گوالے ہر روز بھینسوں کو ٹیکا لگاتے ہیں جو بہت خطرناک ہوتا ہے۔ یوں خلق خدا کی برین واشنگ کی گئی۔ گوالوں اور گوالوں کے دودھ کے متعلق ذہنوں میں زہر بھرا گیا۔ جب زمین ہموار ہو چکی تو پھر ڈبوں میں بند‘ نام نہاد دودھ سے بازار بھر دیے گئے۔ اس دودھ پر بالائی آتی ہے نہ اس سے دہی بن سکتا ہے لیکن سرمایہ کاروں نے اربوں کھربوں کمائے اور کمائے جا رہے ہیں۔ عوام کو الّو بنایا گیا۔ سرمایہ دار جیت گئے‘ عام لوگ ہار گئے۔
ہم گاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہیں کا پانی پیا۔ کنوؤں کا‘ چشموں کا‘ تالابوں کا۔ ماشکی (بہشتی) گھر آتا تھا اور مشک سے سارے گھڑے بھر جاتا تھا۔ مسجد میں بھی وہی پانی ڈالتا تھا۔ جب ہم بڑی شاہراہ سے گاؤں کو جاتے تھے تو راستے میں ایک نشیب پڑتا تھا۔ وہاں ایک کنواں تھا جس کی تہہ میں چشمہ تھا۔ کنویں میں مینڈک بہت تھے۔ تمام راہگیر وہاں رک کر پانی پیتے تھے۔ مینڈکوں نے کبھی اعتراض کیا نہ مسافروں نے۔
پھر ہم شہر میں آ گئے۔ صحن میں ہاتھ سے گیڑنے والا نلکا تھا۔ اسی کا پانی پیتے تھے۔ سرکاری گھروں میں رہے۔ پائپوں سے جو پانی آتا تھا‘ سب وہی پیتے تھے۔ کچھ مقامات کا پانی بہت ہاضم تھا۔ جیسے ایبٹ آباد کا‘ اٹک کا اور خود ہمارے گاؤں کا۔ ہمارے ایک دوست کے والد ریلوے پولیس میں تھے۔ ان کے گھر کے لیے ہر روز ایک گھڑا پانی کا ٹرین کے ذریعے اٹک سے راولپنڈی آتا تھا۔ ہم کئی بار گاؤں سے چلتے وقت پانی سے بھرا گھڑا گاڑی میں رکھ لیتے۔ پشاور میں رہنے والے باڑہ گاؤں سے پانی منگواتے۔ وہ بھی کمال کا پانی تھا۔ صاف ستھرا اور ہاضم!! سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ پھر اچانک مشہور ہو گیا کہ یہ پانی جو ہم پیتے ہیں‘ اور کروڑوں لوگ پیتے ہیں‘ یہ صاف نہیں۔ اس میں جراثیم ہیں اور کیڑے۔ یہ صحت کے لیے مضر ہے۔ اس سے پیٹ میں جانور پیدا ہوتے ہیں۔ جو پانی پی کر لوگ سو سال سے زیادہ جیتے تھے‘ وہ نقصان دہ قرار پایا۔ ذہنوں میں زہر بھر اگیا ۔ ہم جیسے‘ گاؤں کے جم پل‘ دیسی بندے بھی جھانسے میں آ گئے۔ بتایا گیا کہ بوتلوں میں بکنے والا پانی پینا چاہیے کہ وہ جراثیم سے پاک ہے۔ پھر پانی بیچنے والی کمپنیاں‘ برسات میں نکلنے والے کیڑوں کی طرح چاروں طرف پھیل گئیں۔ آج حالت یہ ہے کہ ہر گھر میں ڈسپنسر رکھا ہے۔ دروازوں پر ٹرک آتے ہیں۔ خالی بوتلیں لے جاتے ہیں‘ پانی سے بھری بوتلیں دے جاتے ہیں۔ ہر مہینے ہزاروں روپے پانی خریدنے پر اُٹھ جاتے ہیں۔ جس معاشرے میں کبھی دودھ اور لسی کی قیمت لیتے ہوئے شرم آتی تھی‘ وہاں پانی کی خرید پر ہزاروں لگ رہے ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ جس گاؤں سے پانی کے گھڑے شہر میں لاتے تھے اور پیتے تھے‘ اُسی گاؤں میں اب جاتے ہیں تو کمپنی کی سپلائی کردہ‘ خریدی ہوئی‘ پانی کی بوتلیں ساتھ ہوتی ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
جنوبی ایشیا یعنی پاکستان وہند کا اپنا طرزِ تعمیر تھا۔ یہ خطہ چونکہ مجموعی طور پر گرم موسم رکھتا ہے اس لیے طرزِ تعمیر بھی ایسا تھاکہ مکان ہوادار تھے۔ مکانوں کا رُخ زیادہ تر جنوب کی طرف ہوتا تھا۔ صحن بڑے بڑے ہوتے تھے جن میں سایہ دار درخت لگائے جاتے تھے اور ثمردار بھی۔ خواب گاہوں‘ دالانوں اور برآمدوں کی چھتیں اونچی ہوتی تھی۔ دیواریں موٹی ہوتی تھیں۔ قدرت نے انسان کو یہی سکھایا ہے کہ ہر علاقے کا طرزِ تعمیر اُس علاقے کے موسم سے مناسبت رکھے۔ انگریز آئے تو انہوں نے اسی طرزِ تعمیر کو جاری رکھا۔ اونچی چھتیں اور موٹی دیواریں۔ لاہور کی ایک سرکاری عمارت میں‘ بجلی کے بغیر میں نے خود کئی کئی گھنٹے بیٹھ کر کام کیا اور پنکھے کے بغیر کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ انگریز سرکار نے گھر اور ڈاک بنگلے (ریسٹ ہاؤسز) بنائے تو ان کے چاروں طرف برآمدہ ہوتا تھا تاکہ کسی طرف سے کمروں کو براہ راست دھوپ نہ لگے۔ مگر پھر گردشِ ایام نے ہم سے ہمارا طرزِ تعمیر چھین لیا۔ حویلیوں کی جگہ کوٹھیوں نے لے لی۔ شروع شروع میں جو کوٹھیاں بنیں ان میں بڑے بڑے لان تھے مگر کچھ آبادی کے دباؤ کی وجہ سے اور کچھ روز افزوں جوع الارض (Land hunger) کی وجہ سے لان اور صحن غائب ہو گئے۔ موٹی دیواروں کی جگہ پتلی‘ کاغذی دیواروں نے لے لی۔ چھتیں جو اونچی ہوا کرتی تھیں‘ نیچے ہو گئیں۔ پنکھے‘ پھر کُولر اور پھر ایئر کنڈیشنر ضرورت بن گئے۔ آج اسلام آباد کی حالت یہ ہے کہ ایک ایک گھر میں تین تین خاندان قیام پذیر ہیں۔ گراؤنڈ فلور پر مالک مکان رہتا ہے۔ پہلی منزل بھی کرائے پر اٹھی ہوئی ہے اور بیسمنٹ (تہہ خانہ) بھی! کنال کے مکان میں صحن (لان) ماچس کی ڈبیہ کے سائز کا رہ گیا ہے۔ سوچیے‘ ہمارا طرزِ تعمیر کیا تھا اور اب کیا ہو گیا ہے۔ نیچی چھتوں اور پتلی کاغذی دیواروں کے سبب گھر آگ کے تنور بن گئے ہیں۔ بجلی بیچنے والوں کے وارے نیارے ہیں۔ بجلی کے بل عذاب بن چکے ہیں۔ گھٹیا سے گھٹیا ایئر کنڈیشنر بھی ڈیڑھ لاکھ روپے سے کم کا نہیں۔ ہم کہاں تھے اور کہاں آ گئے ہیں۔
اس خطے میں ہم صدیوں سے گرمیوں میں باہر صحن میں یا چھتوں پر سوتے تھے۔ گاؤں میں بھی اور قصبوں اور شہروں میں بھی۔ رات کو ہوا چلتی تھی۔ جون جولائی میں بھی پچھلی رات کو ٹھنڈک محسوس ہوتی تھی اور اوپر چادر یا کھیس لینا پڑتا تھا۔ جہاں جہاں بجلی آئی‘ رات کو صحن میں یا اوپر چھت پر‘ پیڈسٹل پنکھا لگا لیتے تھے۔ اگر میں غلطی نہیں کر رہا تو 1985ء تک باہر صحنوں میں اور چھتوں پر سونے کا رواج موجود تھا۔ پھر کہیں سے ایک ہتھوڑا گروپ نمودار ہو گیا یا نمودار کرایا گیا۔ لوگ اچھے بھلے رات کو صحن میں یا چھت پر سوتے۔ صبح کو ان کے سر ہتھوڑوں سے کُچلے ہوئے پائے جاتے۔ پنجاب کے اکثر شہروں میں یہ خونخواری پیش آئی۔ سہمی ہوئی مخلوق نے ہوادار صحنوں اور چھتوں کو خدا حافظ کہا اور کمروں میں محصور ہو گئی۔ آج تک پھر باہر نہیں نکلی نہ ہی یہ معلوم ہوا کہ ہتھوڑوں والے کون تھے۔ بچوں کے رنگ قدرتی ہوا اور باہر کی فضا سے محروم ہو کر زرد پڑ گئے ہیں۔ ہاں کولر اور ایئر کنڈیشنر خوب بک رہے ہیں اور بارہ مہینے بِکتے ہیں!! جیسے یہ سب کچھ کم تھا‘ اوپر سے ہمارے نصیب میں اولی گارکی (Oligarchy) کا اقتدار لکھا گیا ہے‘ یعنی امیر ترین افراد کی حکومت! فیصلے اور پالیسیاں انہی کے مفاد میں بنتی ہیں۔ وسائل ایک چھوٹی سی اقلیت کے پاس ہیں۔ طاقت خاندانی وراثت یا کاروباری شراکت کے طفیل اس اقلیت ہی کی جیب میں رہتی ہے۔
غرض دو گونہ عذاب است جان مجنوں را
بلائے صحبتِ لیلیٰ و فرقتِ لیلیٰ