اُس دن میں نسبتاً فارغ تھا۔
فراغت ایک ایسی اصطلاح ہے جس کا مطلب بدلتا رہتا ہے۔ فرنگی ایسی اصطلاح کو Relative term کہتے ہیں۔ کبھی فراغت اس لیے حاصل ہو جاتی ہے کہ واقعی کوئی کام نہیں ہوتا۔ کبھی کام ہوتا ہے مگر اسے مؤخر کر کے ذہن سے وقتی طور پر بوجھ ہٹا دیا جاتا ہے۔ میں بھی اُس دن اصلاً فارغ نہیں تھا۔ ادب کا طالب علم کبھی فارغ ہوتا بھی نہیں۔ شہر کے مرکز میں ایک کام سے گیا۔ کام ہو چکا تو مرکز کا چکر لگانے کو دل چاہا۔ پرانی یادیں ذہن میں لَو دینے لگیں۔ دکانیں جو ہمارے عہدِ شباب میں آباد تھیں‘ اب تھیں ہی نہیں۔ سنیما گھر مرحوم ہو چکا تھا۔ ریستورانوں کی بھرمار تھی۔ لوگ باگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ دفعتاً یاد آیا کہ یہیں ایک بہت پرانے دوست کے بیٹے کی بھی دکان ہے۔ پتا کرتا کرتا وہاں پہنچ گیا۔ بیس اکیس برس کا ایک خوش وضع لڑکا کھڑا تھا۔ یہ میرے دوست کا پوتا تھا۔ اسے دیکھ کر اور اس سے بات کر کے دل خوش ہو گیا۔ کہنے لگا: ابو اندر دفتر میں بیٹھے ہیں۔ اندر گیا! یہ اس بہت بڑی دکان کا عقبی حصہ تھا‘ جسے ایک شاندار دفتر میں تبدیل کیا گیا تھا۔ میرے دوست کا بیٹا ماشاء اللہ‘ شان وشوکت کے ساتھ اس دفتر میں بیٹھا تھا۔ ملازم آ جا رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر خوش ہوا۔ بات چیت ہوئی۔ اس کی کامیابیوں کا سن کر دل باغ باغ ہو گیا۔ وہ اس بہت بڑے کاروباری مرکز کی انجمنِ تاجران کا صدر تھا۔ بزنس اس کا مشرقِ بعید اور یورپ تک پھیلا ہوا تھا۔ محنت کی اور پروردگار نے خوشحالی عطا کی۔ وہیں بیٹھے بیٹھے میں سوچ میں گم ہو گیا۔ ایک بہت پرانا واقعہ یاد آ گیا۔
یہ کئی دہائیاں پہلے کا قصہ ہے۔ ہم پانچ چھ یونیورسٹی فیلو اکثر وبیشتر مل بیٹھتے تھے۔ ایک دوست پریشان رہتا۔ اس کا مسئلہ یہ تھا کہ اس کے بچے‘ بقول اس کے‘ پڑھائی میں دلچسپی نہیں لے رہے تھے۔ عرفِ عام میں ایسے بچوں کو نالائق کا لقب دیا جاتا ہے۔ وہ اپنی یہ پریشانی اکثر ہمارے ساتھ شیئر کرتا۔ ایک دن میں نے اور ایک دوست نے‘ اس سے پوچھا کہ چلو مان لیا وہ پڑھائی میں ایسے نہیں کہ تمہیں مطمئن کر سکیں۔ یہ بتاؤ کہ وہ چاہتے کیا ہیں؟ کہنے لگا: وہ بزنس کرنا چاہتے ہیں‘ کہتے ہیں دکانیں ڈال دیں۔ ہم نے اسے کہا کہ تم اللہ کا نام لے کر انہیں دکانیں ڈال دو۔ اب معلوم نہیں اس نے ہمارا مشورہ مانا یا کوئی اور وجہ تھی‘ بہرطور اس نے بچوں کو دکانیں ڈال دیں۔ جس دکان پر میں اُس وقت بیٹھا چائے پی رہا تھا‘ یہ اْنہی بچوں میں سے ایک بچہ تھا جو اب بچہ نہیں‘ بلکہ ایک کامیاب اور خوشحال تاجر تھا! میں سوچ رہا تھا کہ اگر یہ‘ میرے دوست کی خواہش کے مطابق‘ بی اے یا ایم اے کر لیتا تو موجودہ آسودگی کا شاید ایک چوتھائی حاصل کر پاتا!!
زندگی کی حقیقتوں میں ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ کوئی بچہ نالائق نہیں ہوتا۔ ہر بچے میں ایک چنگاری ضرور موجود ہوتی ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی بچے میں کوئی ٹیلنٹ نہ ہو۔ اس ٹیلنٹ کو دریافت کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ماں باپ ہر بزرجمہر سے مشورہ کرتے ہیں کہ بچے کو کون سی لائن اختیار کرنی چاہیے۔ صرف بچے سے نہیں پوچھا جاتا کہ اس کی دلچسپی کس شعبے میں ہے۔ جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔ ہمارے ہاں دو میں سے ایک خبط‘ ایک آزار‘ اکثر ماں باپ کو ضرور لاحق ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ بچہ ہر حال میں ڈاکٹر یا انجینئر بنے‘ یا ملٹری میں جائے یا سول سروس میں جا کر افسر بنے۔ اس کے لیے اسے مجبور کیا جاتا ہے۔ ایک صاحب کے بچے کے نمبر کم تھے۔ پری میڈیکل میں داخلہ نہیں مل رہا تھا۔ مجھے حکم دیا کہ داخلہ دلواؤں۔ میں نے پوچھا کہ ابھی سے اس کی کارکردگی کا یہ حال ہے تو میڈیکل کس طرح کرے گا؟ مگر ایسی باتیں کوئی نہیں سوچتا۔ ملازمت کے دوران احباب اپنے تعلیم یافتہ بچوں کے روزگار کے لیے کہتے تھے۔ میں انہیں کہتا کہ مقابلے کا امتحان دلوائیں۔ سفارش کے بغیر اچھی ملازمت ملے گی۔ ایک دن اہلیہ نے کہا کہ ہر نوجوان کو آپ سی ایس ایس کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ آپ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہر انسان کا ذوق‘ ذہنی سطح‘ پسند اور دلچسپی مختلف ہوتی ہے۔ دوسرا خبط یہ ہوتا ہے کہ بچہ باپ دادا کا پیشہ اپنائے۔ باپ دادا تاجر تھے تو یہ بھی تاجر بنے۔ وہ سیاست میں تھے تو یہ بھی الیکشن لڑے۔ وہ زمیندار تھے تو یہ بھی زمین داری کرے۔ وہ پروفیسر تھے تو یہ بھی استاد بنے۔ وہ وکیل تھے تو یہ بھی وکالت کرے۔ حالانکہ اکثر وبیشتر‘ ایسا نہیں ہوتا‘ نہ ہو سکتا ہے۔ اذہان اور طبائع مختلف ہیں۔ صلاحیتیں اور میلانات میں فرق ہوتا ہے۔ ہر کام ہر شخص کے بس میں نہیں ہوتا۔ ایک اور بیماری یہ ہے کہ بچے کو بس سرکاری نوکری ملے۔ پنشن ملے گی۔ ڈسپلن بھی نہیں ہو گا۔ مرضی سے جائیں اور جب چاہیں چھٹی کر لیں۔ گویا سرکاری نوکری عیاشی ہے یا پکنک! حالانکہ نوکریاں دینا‘ اصلاً نجی شعبے کا کام ہے۔
کیا ملازمت حاصل کرنا بہتر ہے یا دوسروں کو ملازمتیں دینا؟؟ ایک پرانی حکایت ہے۔ کسی نے دیکھا کہ ایک زخمی پرندہ گھونسلے میں پڑا ہے۔ ایک اور پرندہ اُڑ کر آتا ہے اور زخمی پرندے کے منہ میں چوگ ڈالتا ہے۔ دیکھنے والے نے نتیجہ یہ نکالا کہ اگر اس بیمار پرندے کو بیٹھے بٹھائے خوراک مل رہی ہے تو وہ کیوں کام کرے۔ زخمی پرندے کا رازق اس کا بھی تو رازق ہے۔ اس کے مرشد نے اسے کہا کہ بیوقوف!! تُو زخمی پرندے کے بجائے وہ پرندہ کیوں نہیں بنتا جو زخمی پرندے کو خوراک بہم پہنچا رہا ہے؟ گاؤں کے ایک عزیز نے ایک دن پیشکش کی کہ کمال کا دیسی مرغ کھانا ہے توگاؤں کے قریب‘ بڑی شاہراہ پر ایک ریستوران ہے‘ وہاں آئیے تاکہ کھلایا جائے۔ ریستوران دیکھ کر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ یہ کئی ایکڑ میں تھا۔ کئی ٹرک‘ کئی کاریں‘ کئی ویگنیں‘ کئی سوزوکیاں اور کئی موٹر سائیکل کھڑے تھے!! ایک طرف قطار اندر قطار‘ فیملیز کے لیے کمرے بنے تھے۔ دوسری طرف طویل برآمدوں میں کرسیاں اور میز رکھے تھے۔ کہیں تخت پوش تھے جن پر دیدہ زیب قالینیں بچھی تھیں! ایک طرف درجنوں چارپائیاں تھیں۔ ہر جگہ لوگ کھانا کھا رہے تھے یا چائے پی رہے تھے۔ کم از کم بیس پچیس کارندے مسلسل کام میں مشغول تھے۔ تنوروں پر روٹیاں پکائی جا رہی تھیں۔ باورچی طرح طرح کے سالن پکا رہے تھے۔ چائے الگ بن رہی تھی اور مسلسل بن رہی تھی۔ جو عزیز میزبانی کر رہے تھے‘ انہوں نے مالک سے ملاقات کرائی۔ ایک بے حد سادہ شخص‘ سر پر کپڑے کی ٹوپی پہنے‘ کاندھے پر چادر رکھے‘ ایک عام سی کرسی پر بیٹھا تھا۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ چوبیس گھنٹے چلنے والا یہ وسیع وعریض ریستوران یہ نیم تعلیم یافتہ شخص چلا رہا ہے۔ اس میں تکبر نام کا بھی نہیں تھا۔ بے حد نرم گفتار تھا۔ بتایا گیا کہ بکروں اور مرغیوں کی افزائش کا کام الگ ہے۔ گندم پیسنے کی مشین اس کی اپنی ہے۔ کھانے اور چائے کی کوالٹی ایسی ہے کہ ایک بار آنے والا بار بار آتا ہے۔ ارد گرد کے گاؤں سے کنبے بھی‘ شہریوں کی طرح‘ شام کا کھانا کھانے آتے ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر میرا تبصرہ بہت مختصر تھا۔ اگر بی اے ایم اے کرتا تو کسی ایک کو بھی ملازمت نہ دے سکتا۔ اب بیس پچیس بلکہ اس سے بھی زیادہ‘ خاندان اس کی وجہ سے پرورش پا رہے ہیں۔ کتنا ٹیلنٹ تھا اس عام سے دیہاتی میں کہ اتنا بڑا کاروبار چلا رہا تھا۔ اچھا ہوا کہ اس کے ماں باپ نے اسے ہارورڈ سے ایم بی اے نہ کرایا ورنہ ''ڈاؤن سائزنگ‘‘ کے فلسفے جھاڑ کر لوگوں کے گھر اجاڑ رہا ہوتا!!