"SG" (space) message & send to 7575

آزاد کشمیرمیں افہام و تفہیم کی ضرورت

گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔غیر حتمی نتائج کیے مطابق اس نے 24 میں سے 10 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے ‘ مسلم لیگ( ن) کو چھ نشستیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ آزاد امیدواروں نے سات نشستیں جیتی ہیں۔ان انتخابات میں بلاول بھٹو زرداری نے پُر زور مہم چلائی اور اس کا نتیجہ ان کو کامیابی کی صورت میں ملا ہے۔اگرچہ پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ یہ انتخابات شفاف نہیں تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی انتخابی مہم بہت کمزور تھی ۔پیپلز پارٹی کوشش کر رہی ہے کہ وہ مقتدرہ سے مفاہمت کی بنیاد پر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں اپنی حکومتیں بنا ئے یا وہ مخلوط حکومت کے طور پر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کام کرنے کو بھی تیار ہے بشرطیکہ وزیر اعظم آزاد جمو ں و کشمیر اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان ان کے ہوں۔پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ حکومت ان سے 28 ویں ترمیم میں حمایت چاہتی ہے تو اس کے بدلے میں اسے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دینا ہوگا ۔تاہم مسلم لیگ (ن) کی کوشش ہے کہ آزاد کشمیر میں حکومت ان کی ہو اور وزیراعظم بھی انہی کا ہو تاکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) میں طاقت کا توازن برقرار رہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی 28 ویں ترمیم کی بنیاد پر اپنی شرائط کو منوا سکے گی یا اسے کس حد تک سمجھوتے کی سیاست کرنا پڑے گی۔ مقتدرہ چاہے گی کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) میں اقتدار کے فارمولے میں توازن پر مبنی پالیسی ہو تاکہ دونوں جماعتوں کو ساتھ رکھا جا سکے۔
گلگت بلتستان کے انتخابات کے بعد اگلا معرکہ 27 جولائی کو آزاد جموںو کشمیر کے انتخابات کا ہے‘لیکن انتخابات سے قبل آزاد کشمیر میں حکومت اور کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان محاذآرائی دیکھنے کو مل رہی ہے۔یہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان مزید کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے اور وہاں الیکشن کا ماحول ناسازگاربھی ہو سکتا ہے ۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات تسلیم کر لیے تھے لیکن ایکشن کمیٹی کی سیاسی ضد کی وجہ سے کچھ معاملات پر اتفاق نہ ہو سکا اورکمیٹی نے وہ راستہ اختیار کیا جو تشدد کا راستہ تھا۔ حکومت کے بقول انہوں نے ہر سطح پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی پیشکش کی اور کہا کہ ہم ہر صورت مذاکرات کے ذریعے ہی راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسے لگتا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو مذاکرات سے زیادہ بگاڑ کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آزاد کشمیر کی سیاست میں محازآرائی کی سیاست سے گریز کریں اور بالخصوص طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے۔خود آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بھی مفاہمت اور مذاکرات کی بات کی ہے اور کہا ہے کہ معاملات کو سیاسی بنیادوں پر حل کیا جائے گا‘لیکن اس کے لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لوگوں کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اپنے سخت گیر مؤقف سے پیچھے ہٹنا ہوگا تاکہ حکومت سے بات چیت کا عمل آگے بڑھ سکے۔ اگر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لوگ ضد پر قائم رہتے ہیں تو مذاکرات کی بات آگے نہیں بڑھ سکے گی۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عام انتخابات سے قبل آزاد کشمیر کے معاملات میں سازگار حالات پیدا کیے جائیں تاکہ سب جماعتیں آزادانہ بنیادوں پر انتخابات میں حصہ لے سکیں۔ اگر حالات سازگار نہیں رہتے تو آزادانہ انتخابات یا پُرامن انتخابات ممکن نہیں ہو سکیں گے۔کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنیادی طور پر مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے اور صوبائی خود مختاری پر زور دے رہی ہے ۔ اس کا مؤقف ہے کہ اس معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا جبکہ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مہاجرین کی 12 نشستوں کا فیصلہ منتخب اسمبلی کرے گی۔سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہو گی جو کہ بغیر اسمبلی کے ممکن نہیں ۔حکومت نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی بلا وجہ معاملات میں خرابیاں پیدا کر رہی ہیں اور انتشار کو ہوا دینا اس کے ایجنڈے کا حصہ بن گیا ہے اس لیے اس تنظیم پر پابندی لگانا یا اسے کالعدم قرار دینا حکومت کی مجبوری بن گئی تھی۔لیکن کسی بھی تنظیم پر پابندی لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتابلکہ ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ اس طرح کی پابندیوں سے معاملات اور بگڑ جاتے ہیں۔اس لیے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہے اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو اس بات پر راضی کرنا ہوگا کہ وہ بھی اپنے رویے میں سختی کو کم کرے اور مفاہمت کی طرف آگے بڑھے۔آزاد کشمیر حساس علاقہ ہے اور بھارت کی یہاں کے معاملات پر نظر رہی ہے۔اس لیے حکومت کو آزاد کشمیر کے معاملے میں حساسیت کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور اس تاثر کی نفی ہونی چاہیے کہ حکومت طاقت کا استعمال کرنا چاہتی ہے۔ آزاد کشمیر میں حالات خراب ہوتے ہیں تو بھارت اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔پہلے ہی بھارت اور افغانستان کے تعلقات کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے ۔ یہاں حالات کی خرابی کے باعث دہشت گردی کے مزیدواقعات سامنے ا ٓسکتے ہیں۔تاہم حکومت کی اس بات میں بھی وزن ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو باہر کے ایجنڈے پر حالات کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔اگر ایسا ہے تو حکومت کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ذمہ داروں کے ساتھ مل کر ان لوگوں کی نشاندہی کرنی چاہیے تاکہ ان کرداروں کو سامنے لایا جا سکے جو حالات کو بگاڑنے کے ذمہ دار ہیں۔البتہ یہ بات سمجھ آتی ہے کہ گلگت بلتستان ہو یہ آزاد کشمیر کے معاملات ‘ وفاقی حکومت کو وہاں صوبائی خود مختاری اور بہت سے ترقیاتی امور پر زیادہ توجہ دینا ہوگی کیونکہ لوگ بہت زیادہ شدت کے ساتھ اپنے بنیادی حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ان کی اسلام آباد سے ناراضی کی وجہ بھی بنیادی حقوق کی عدم فراہمی ہے۔اس لیے حکومت کو سمجھنا ہو گا کہ وہاں لوگوں میں ناراضی کیوں ہے اور کیوں ایکشن کمیٹی جیسی تنظیمیں اپنی اہمیت کو بڑھا رہی ہیں۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت دونوں جماعتوں کی قیادت ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کی ہے اور اس پر اتفاق کیا ہے کہ ہم نے معاملات کو بند گلی میں نہیں دھکیلنا اور مفاہمت کا راستہ ہی اختیار کرنا ہے۔مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ اس وقت جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کچھ لوگ جے کے ایل ایف کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اوراس پر پاکستان کے سخت تحفظات ہیں ۔ اسی لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی بہت سی سرگرمیوں کو حکومت منفی طور پر دیکھ رہی ہے۔لیکن اگر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لوگ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو حکومت نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے۔ معاملات کا حل بھی بات چیت کے ذریعے ہی نکل سکتا ہے۔لیکن بات چیت کا راستہ ڈکٹیشن کی بنیاد پر نہیں چلنا چاہیے اور اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ ریاست کی حکومت کو دباؤ ڈال کر اپنی شرائط منوا سکتا ہے تو ایسا ممکن نہیں ہوگا۔بہرحال وفاقی حکومت کے لیے اس وقت سب سے اہم مسئلہ آزاد جموں و کشمیر کے حالات کو درست کرنے کا ہونا چاہیے اور اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ جلد از جلد کشمیر کے معاملات پرامن طور پر حل ہوں۔یہی پاکستان کے مفاد میں ہے اور کشمیری عوام کے مفاد میں بھی ہے کہ معاملات کا حل بات چیت اور افہام و تفہیم کی سیاست سے تلاش کیا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں