"SG" (space) message & send to 7575

پاک بھارت مذاکرات کے امکانات؟

پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ متنازع ایشوز پر مذاکرات کی بات کی لیکن بھارت نے ہمیشہ گریز کیا۔ خصوصاً نریندر مودی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے اب تک دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات پر ڈیڈ لاک ہے‘ جس کی بنیادی وجہ مودی حکومت کا کشمیر اور پانی کے ایشوز پر انتہا پسندانہ طرزِ عمل ہے۔ پاکستان کی تقریباً ہر حکومت نے برسرِاقتدار آنے پر یہی مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات اور بھارت کے ساتھ متنازع ایشوز پر مذاکرات کیلئے تیار ہے‘ لیکن ہر مرتبہ بھارت نے مذاکرات سے گریز کی پالیسی اختیار کی۔ امریکہ سمیت اہم عالمی قوتوں نے بھی پاکستان اور بھارت کے مابین تناؤ اور ٹکراؤ کے خدشات کے پیشِ نظر دونوں ممالک پر زور دیا کہ مل بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے اپنے باہمی تنازعات کا حل نکالیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی جب کشمیر سمیت دیگر ایشوز پر ثالثی کی پیشکش کی تو بھارتی حکومت نے ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہوئے اس امکان کو مسترد کر دیا۔
جب عالمی سطح پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ متعدد ممالک نے نہ صرف اپنے باہمی تنازعات مل بیٹھ کر حل کیے بلکہ باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ بھی اختیار کیا۔ اس طرح دنیا بھر میں جنگ و جدل کے بجائے مذاکرات کے رجحان کو تقویت ملی۔ اس ضمن میں کہا جاتا ہے کہ مذاکرات کی بات وہی کرتا ہے جس کا کیس مضبوط ہوتا ہے جبکہ مسائل کے حل کیلئے مل بیٹھنے سے وہی فریق گریز کرتا ہے جس کا مؤقف کمزور ہو اور جسے مذاکرات کی میز پر ایکسپوز ہونے کا خدشہ ہو۔ بھارت اس وقت اسی کیفیت سے دوچار دکھائی دیتا ہے۔ بھارت نے عالمی محاذ پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم کو تیز کرتے ہوئے پاکستان کی پوزیشن کمزور کرنے کیلئے بہت زور لگایا اور دہشت گردی کے رجحانات سے پاکستان کو جوڑنے کی ناکام کوشش کی‘ لیکن پہلگام واقعے میں بھارت کی الزام تراشی بھارت کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کا باعث بنی۔ مذکورہ واقعے کو جواز بناتے ہوئے بھارت نے جب الزام تراشی کا سلسلہ شروع کیا تو پاکستان کی قیادت نے اس پر محض سیاسی ردِعمل دینے کے بجائے اسے ایک ٹیسٹ کیس بنانے اور اس کی شفاف تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا لیکن بھارت تحقیقات پر آمادہ نہ ہوا۔ دنیا نے پاکستان کے مؤقف کی پذیرائی کی اور یہی وہ نکتہ تھا جس نے پاکستان کے بڑے عالمی اور علاقائی کردار کی راہ ہموار کی۔ مئی 2025ء میں جب بھارت نے پاکستان پر جارحیت کی کوشش کی تو اسے منہ کی کھانا پڑی۔ افواجِ پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان دفاعی اعتبار سے ناقابلِ تسخیر ہے اور اس پر جارحیت مسلط کرنے کی ہر کوشش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ دنیا بھر میں پاکستان کی اس کامیابی کو سراہا گیا۔ اس لیے کہ دنیا جانتی تھی کہ بھارت طاقت کے نشے میں سرشار ہو کر پاکستان پر چڑھ دوڑنے کے دعوے کرتا رہا لیکن اس کی جارحیت اس کیلئے بڑی حماقت ثابت ہوئی۔ عسکری میدان میں شکست کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کے عزائم ظاہر کیے تو پاکستان نے اس یکطرفہ اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
ایک جانب پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات پر بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی قائم ہے تو دوسری جانب پاکستان اور بھارت کی 117 ممتاز شخصیات کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعظم نریندر مودی کو بھجوائے جانے والے مکتوب میں کشیدگی ختم کرنے‘ سفارتی تعلقات کی بحالی اور عوامی رابطوں کے فروغ پر زور دیا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ اس عمل سے خطے میں امن و استحکام آئے گا۔ مذکورہ مکتوب‘ جس پر بھارت کے سابق آرمی چیف سمیت دونوں ملکوں کے سفارتکاروں‘ خارجہ امور کے ماہرین اور دانشوروں کے دستخط ہیں‘ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل ایشوز سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ہائی کمشنرز کی دوبارہ تقرری‘ ویزہ سروس کی بحالی اور کمرشل پروازوں کیلئے فضائی حدود کھولنے پر زور دیا گیا۔ پاکستان کا ہمیشہ سے اصولی مؤقف رہا ہے کہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کیلئے کشمیر سمیت بنیادی تنازعات پر بیٹھ کر بات کی جائے اور دنیا کے دیگر ممالک کی طرح مسائل کا سیاسی حل نکالا جائے‘ لیکن اس راہ میں اصل رکاوٹ بھارتی قیادت کا انتہا پسندانہ رویہ ہے۔ اب مذکورہ مکتوب کے تناظر میں بڑا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا بنیادی تنازعات کو نظرانداز کرکے مذاکرات اور تعلقات کی بحالی کی خواہش پر کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے؟ جب بھارتی قیادت کشمیر میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد سے گریزاں ہو اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کے عزائم رکھتی ہو تو پھر دونوں فریق کسی مشترکہ نکتے پر کیسے متفق ہو سکتے ہیں؟ بھارت اس وقت عالمی اور علاقائی سطح پر رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کا ادراک نہیں کر پا رہا کیونکہ افواج پاکستان کے ہاتھوں بھارت کو عبرتناک شکست اور بعد ازاں امریکہ ایران جنگ میں پاکستان کے ثالثی کے کردار نے خطے میں پاکستان کو ایک بڑے اور مؤثر کردار کا حامل بنا دیا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ بھارت بدلے ہوئے حالات اور عالمی و علاقائی رجحانات کو سمجھنے سے قاصر ہے اور پاکستان سے بدلے کی آگ میں جلتا جا رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان اور بھارت کی اعلیٰ شخصیات کی جانب سے لکھا گیا یہ مکتوب کیا کردار ادا کرے گا؟ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں وزرائے اعظم نے اس مکتوب کا جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ ویسے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان معاملات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں‘ کسی بھی محاذ پر پیش رفت کیلئے اپنی اپنی ریاستی طاقتوں کو ساتھ لینا ناگزیر ہوگا کیونکہ اس کے بغیر اعلیٰ شخصیات کا کردار علامتی تو ہو سکتا ہے‘ حقیقی نہیں۔
'شائننگ انڈیا‘ کا نعرہ لگا کر برسرِاقتدار آنے والی قیادت آج بھارت کو اس مقام پر لے آئی ہے کہ کینیڈا اور امریکہ سمیت متعدد ممالک اپنے ہاں دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری بھارتی ریاست پر عائد کرتے نظر آئے ہیں۔ اسی طرح فاشسٹ مودی حکومت کی طرف سے بھارت کے اندر اقلیتوں کا جینا دوبھر کر دیا گیا ہے۔ بھارت کے اندرونی حالات نے اسے دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کی چکن نیک کہلانے والی ریاستوں کے معاملات آج بھی حل طلب سیاسی تنازعات اور آزادی کی تحریکوں کی یاد دلاتے ہیں لیکن بھارت اپنے اندرونی مسائل اور تضادات پر توجہ دینے کے بجائے پاکستان کیخلاف محاذ آرائی میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور انکی حکومت کیلئے سب سے بڑا مسئلہ پاکستان ہے اور وہ پاکستان کو اپنے عوام کے سامنے ایک مستقل خطرے کے طور پر پیش کرکے انکی توجہ اصل داخلی مسائل سے ہٹانا اور خود کو سیاسی طور پر محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ کیا ایسا ممکن ہو پائے گا؟ فی الحال اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ذہنی ناہمواری‘ مذہبی تقسیم اور ذات پات کا نظام بھارت کے مستقبل کیلئے خطرناک بنتا جا رہا ہے۔ ان حالات کی سنگینی پر عالمی میڈیا بھی مسلسل تشویش کا اظہار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ بھارت کو کوئی بیرونی طاقت ناکام نہیں بنا رہی یہ اس کی اپنی حکومتی پالیسیاں ہیں جو اسکی سلامتی اور مستقبل کیلئے خطرناک ثابت ہو رہی ہیں۔ مگر اس کی قیادت کو نہ اسکا احساس ہے اور نہ ہی ادراک۔ اس پر صرف پاکستان کا خوف سوار دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے بھارت کو عسکری محاذ پر شکست دینے کے بعد خود کو کسی نئے تناؤ کا شکار بنانے کے بجائے معاشی استحکام اور ترقی کی راہ اختیار کی ہے۔ دنیا اب اس خطے میں بھارت کے بجائے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں