"SG" (space) message & send to 7575

امریکہ ایران معاہدہ اور پاکستان کا کردار

امریکہ اور ایران کے درمیان طے شدہ معاہدے کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کے اعلان کو عالمی امن کے قیام‘ معیشت کی بحالی اور تحفظ اور توانائی کے بحران کے سدباب کے حوالے سے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دنیا کے اہم ممالک کی جانب سے اس معاہدے پر تحسین کا اظہار یہ ظاہر کرتا ہے کہ دنیا آج کے دور میں جنگ وجدل کے بجائے ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کے حل کی خواہاں ہے ۔ امن معاہدے کے حوالے سے تقریب پاکستان کی میزبانی میں 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہو گی اور بتایا جا رہا ہے کہ اس تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ حکومتی ذمہ دار شرکت کریں گے۔ مذکورہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا کردار اور معاہدے میں ہونے والی پیش رفت پر وزیراعظم شہباز شریف سوشل میڈیا کے ذریعے پیغامات جاری کرتے رہے اور معاہدے کا حتمی اعلان بھی سب سے پہلے انہوں نے ہی سوشل میڈیا پیغام کے ذریعے کیا۔ اپنے اس پیغام میں وزیراعظم نے سعودی عرب‘ قطر اور ترکیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ فریقین نے عام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر کارروائیاں روکنا شامل ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی معاہدے کی تصدیق کے ساتھ مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے جہازو! اپنے انجن سٹارٹ کرو اور تیل کو بہنے دو۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جارحانہ اقدامات نے دنیا بھر میں خطرات اور خدشات پیدا کر دیے تھے اور دنیا کی معیشت ہل کر رہ گئی تھی اور پٹرولیم بحران کے اثرات سے دنیا کے اہم ممالک بھی محفوظ نہ رہے تھے۔ اس صورتحال میں یہ پاکستان تھا جس نے کمال ذمہ داری اور نیک نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ بندی کی کوششیں کیں۔ پاکستان سمجھتا تھا کہ اگر جنگ کا سلسلہ وسیع ہوتا ہے تو کوئی بھی اس ہیجانی کیفیت سے بچ نہیں پائے گا۔ پاکستان نے اس حوالے سے کوششیں شروع کیں‘ رابطوں کا سلسلہ وسیع کیا تو دنیا کے اہم ممالک نے پاکستان کی تائید کی۔ پاکستان نے پہلے مرحلے پر فریقین میں جنگ بندی کو یقینی بنایا اور ساتھ ہی مذاکراتی عمل کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔ اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کو ایک میز پر لانے اور ایشوز پر ایک دوسرے کے نقطہ نظر سے آگاہی کے لیے ممکنہ سہولت کاری کی۔ مذاکراتی عمل میں آنے والے اُتار چڑھائو کے باوجود پاکستان نے ثالثی اور سفارتی کردار جاری رکھا اور آج جب معاہدے کے اعلان سے دنیا بھر میں خوشی کی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے تو دنیا پاکستان کے کردار کو بھی سراہتی نظر آ رہی ہے۔ امریکہ ایران مذاکراتی عمل کے دوران اسرائیل کی بھرپور کوشش رہی کہ یہ مذاکراتی عمل آگے نہ بڑھے اور اس حوالے سے امریکی انتظامیہ پر بھی دبائو ڈالا گیا لیکن امریکہ نے اپنے مفاد میں مذاکرات پر پیش رفت جاری رکھی۔ امریکی انتظامیہ کو احساس ہوا کہ اسرائیلی مفادات کے لیے امریکہ نے جارحیت کا خطرہ مول لیا اور اب اسرائیل امریکہ کے اس دلدل سے نکلنے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے لبنان پر بمباری سے روکنے کے لیے اسرائیلی وزیراعظم سے گفتگو میں سخت لہجہ اختیار کیا۔ باوجود اس امر کے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے‘ اب بھی اسرائیل اس معاہدے کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ آسان الفاظ میں نئی پیدا شدہ صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس امن معاہدے سے دنیا کو جنگی تباہی‘ معیشت کے بحران اور مہنگائی کے رجحان سے نجات ملے گی‘ لیکن طویل مدتی طور پر یہ دیکھنا ہو گا کہ آیا امریکہ ایران جوہری معاملات پر اتفاق رائے کر پاتے ہیں یا یہ معاہدہ ایک عارضی وقفہ ثابت ہوتا ہے۔ بہرکیف یہ ایک ایسا موقع ہے جس پر پوری دنیا نے سکون کا سانس لیا ہے۔ اب آنے والے 60 دنوں میں یہ فیصلہ ہونا ہے کہ یہ خوشی عارضی ہو گی یا مستقل‘ اس لیے کہ تفصیلی معاملات کے حل کا سلسلہ ابھی چلنا ہے۔ فی الحال مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے عمل سے اسے مضبوط بنیاد میسر آئی ہے اور امریکہ اور ایران نے اس کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ آپس کے مسائل کو مل بیٹھ کر حل کریں گے اور معاملات آگے کی طرف چلائیں گے اور انہیں نتیجہ خیز بنائیں گے۔
بلاشبہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام سمیت بعض اہم ایشوز ہیں اور اگر فریقین نیک نیتی کے جذبے سے ان کا حل چاہیں گے تو حل نکل سکتا ہے۔ ایران نے اس سے قبل بھی عمان کے ثالثی عمل سے جوہری پروگرام پر بات چیت شروع کی تھی لیکن اس ثالثی عمل کی نتیجہ خیزی کے دوران ہی امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا لیکن اب امریکہ اور ایران کو اس جنگی صورتِ حال کے نتیجے میں اپنے ہونے والے نقصان کا احساس ہوا ہے اور دونوں ہی جنگ کا خاتمہ اور فیس سیونگ چاہتے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے مابین معاہدے کے عمل میں پاکستان کا مرکز ی کردار ہے لیکن امن معاہدے پر دستخطوں کے ساتھ یہ کردار اور ذمہ دار ی ختم نہیں ہو جائے گی بلکہ مزید بڑھ جائے گی۔ اس کا سب سے بڑا چیلنج آنے والے مشکل مذاکرات میں توازن قائم رکھنا ہو گا۔ اسلام آباد میمورنڈم صرف امریکہ ایران میں پیدا شدہ گمبھیر صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ ہی نہیں بلکہ یہ دنیا کے لیے ایک پیغام بھی ہے کہ اب دنیا میں فیصلے جنگوں کے ذریعے نہیں ڈائیلاگ کے ذریعے ہوں گے اور نیک نیتی سے معاملات کو حل کرنے کا جذبہ ہوگا تو ہی معاملات آگے بڑھیں گے اور ان کا حل بھی نکلے گا۔ پاکستان نے اس معاہدے میں اپنے کریڈٹ میں سعودی عرب‘ قطر اور ترکیہ کو بھی شامل کیا ہے اور ان کی شمولیت کا مقصد خطے میں امن واستحکام کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنا ہے۔ یہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی کا کریڈٹ تھا کہ پاکستان نے ایک حساس صورتحال میں سعودی عرب اور ایران کو باہم الجھنے نہیں دیا اور بہت حد تک ان کے تحفظات بھی دور کیے۔
امریکہ ایران معاہدے کے عمل میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کلیدی کردار کو بطورِ خاص سراہا گیا ہے جن کی امریکی انتظامیہ اور ایرانی لیڈرشپ تک براہِ راست رسائی تھی اور امریکہ اور ایران‘ دونوں پاکستان کی قومی قیادت پر بھروسا کرتے نظر آئے اور ان کے ذریعے ہی فریقین کے مابین بالواسطہ طور پر رابطہ قائم رہا‘ لیکن یہ پاکستان کی قومی قیادت کا اعزاز ہے کہ انہوں نے حکومت کو سفارتی محاذ پر آگے رکھا اور معاہدے کا حتمی اعلان وزیراعظم شہباز شریف نے کیا۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پاکستان کا یہ ثالثی کردار معاشی ترقی میں کیا کردار ادا کرتا ہے اور امریکہ اور دنیا کی اہم قوتیں اس ضمن میں کیا کردار ادا کرتی ہیں‘ اس لیے کہ معاشی طور پر مضبوط پاکستان ہی خطے میں امن واستحکام کا ضامن ہو سکے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں