2023ء کی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق پاکستان کی تقریباً 79 فیصد آبادی کی عمر 40 سال سے کم ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے اس حقیقت کو ایک ممکنہ ''آبادیاتی منافع‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے‘ یہ امید دلائی جاتی رہی ہے کہ نوجوان آبادی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بنے گی اور ایک نوجوان ملک اپنے نسبتاً عمر رسیدہ ہمسایوں سے آگے نکل جائے گا۔ لیکن جس آبادیاتی منافع (Demographic Dividend) کا انتظار تھا‘ وہ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ اس کے برعکس ہمارے سامنے نوجوانوں کی ایک ایسی نسل ہے جس نے مواقع کو اپنے سامنے سے گزرتے دیکھا ہے۔
بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کے نوجوان یونہی نامساعد حالات کا شکار نہیں ہوئے بلکہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں اور اداروں کی پالیسیوں وترجیحات نے انہیں مسلسل نظر انداز کیا ہے۔ مسئلہ نوجوانوں میں صلاحیت یا امنگ کی کمی کا نہیں بلکہ اس سیاسی‘ معاشی اور تعلیمی نظام کا ہے جو نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو اپنے اندر سمونے کیلئے کبھی تیار ہی نہیں کیا گیا۔ روزگار کے اعداد وشمار اس صورتحال کو واضح کرتے ہیں۔ پاکستان ادارۂ شماریات کے لیبر فورس سروے 2024-25ء کے مطابق 15 سے 24 سال کے نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 12.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے‘ جو چار سال پہلے 11.1 فیصد تھی۔ 15 سے 29 سال کے نوجوانوں میں یہ شرح 10.3 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد ہو گئی ہے۔ اسی عرصے میں مجموعی بیروزگاری 6.3 فیصد سے بڑھ کر 6.9 فیصد ہو گئی جبکہ اکنامک سروے 2025-26ء نے اسے 7.1 فیصد قرار دیا ہے۔ اس دوران ملک کی لیبر فورس میں تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا اور یہ 8 کروڑ 56 لاکھ تک پہنچ گئی‘ لیکن روزگار کے نئے مواقع اس رفتار سے پیدا نہیں ہوئے۔ خواتین کی صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ خواتین میں بیروزگاری 8.9 فیصد سے بڑھ کر 9.7 فیصد ہو گئی ہے۔ ہماری معیشت اپنی بڑھتی ہوئی افرادی قوت کو روزگار فراہم نہیں کر پا رہی اور اس کی سب سے بھاری قیمت نوجوان ادا کر رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو اس بحران کی ایک بڑی وجہ ہمارا تعلیمی نظام ہے۔ تقریباً ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں جبکہ پاکستان ایجوکیشن سٹیٹسٹکس رپورٹ 2023-24ء کے مطابق سکول میں داخل ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد پرائمری سے مڈل تک پہنچتے پہنچتے تعلیم چھوڑ دیتی ہے۔ دوسری طرف تعلیم پر سرکاری اخراجات مسلسل کم ہوئے ہیں۔ 2018-19ء میں تعلیم پر جی ڈی پی کا دو فیصد خرچ کیا جا رہا تھا‘ جو 2020-21ء میں 1.4 فیصد اور 2024-25ء میں صرف 0.8 فیصد رہ گیا۔ اکنامک سروے کے مطابق ایک سال میں تعلیم پر اخراجات 899.6 ارب روپے سے کم ہوکر 356.5 ارب روپے رہ گئے‘ یعنی ایک سال میں 60 فیصد سے زیادہ کمی۔ لیکن مسئلہ صرف وسائل کی کمی تک محدود نہیں‘ ہمارے بیشتر سکول آج بھی معلومات کی ترسیل کو تعلیم سمجھتے ہیں۔ نوجوانوں میں تجزیاتی فکر‘ تخلیقی صلاحیت‘ سوال اٹھانے کی جرأت اور مسائل حل کرنے کی مہارت پیدا کرنے کے بجائے ہمارا امتحانی نظام یادداشت اور رٹنے کی صلاحیت کو انعام دیتا ہے۔ پالیسی ساز ان مسائل سے بے خبر نہیں‘ اصل مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم کو کبھی وہ ترجیح نہیں دی گئی جس کی وہ مستحق تھی۔
یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے کیونکہ دنیا میں کام اور روزگار کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی ''فیوچر آف جابز رپورٹ 2023ء‘‘ کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں دنیا میں تقریباً 6 کروڑ 90 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا ہونے جبکہ 8 کروڑ 30 لاکھ ملازمتیں ختم ہونے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2027ء تک کارکنوں کی تقریباً 44 فیصد مہارتیں متاثر ہوں گی اور لگ بھگ 60 فیصد افرادی قوت کو نئی مہارتیں سیکھنے کی ضرورت ہو گی۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ ہم بڑی حد تک نوجوانوں کو ان ملازمتوں کیلئے تیار کر رہے ہیں جو ختم ہو رہی ہیں‘ جبکہ اُن نئی ملازمتوں کیلئے تیاری نہ ہونے کے برابر ہے جو ان کی جگہ لے رہی ہیں۔
دنیا کے بعض ممالک نے‘ جنہیں پاکستان جیسی ہی نوجوان آبادی میسر تھی‘ اس موقع کو ضائع نہیں ہونے دیا۔ بنگلہ دیش اور ویتنام نے برآمدات پر مبنی صنعتی شعبے قائم کیے جنہوں نے لاکھوں کم ہنرمند نوجوانوں کو روزگار دیا۔ بعد میں تعلیم اور مہارتوں میں بہتری کے ساتھ یہ ممالک زیادہ قدر والی صنعتوں کی طرف بڑھے۔ پاکستان کو بھی ایسا بلکہ شاید اس سے زیادہ موقع ملا‘ لیکن ہم نہ مطلوبہ صنعتی بنیاد قائم کر سکے اور نہ ہی ایسا تعلیمی نظام بنا سکے جو معیشت کی بدلتی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ نوجوان آبادی خود بخود آبادیاتی منافع میں تبدیل نہیں ہوتی‘ اس کیلئے ریاست کو شعوری منصوبہ بندی اور مسلسل سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے۔
روزگار کی فراہمی میں ناکامی کے اثرات صرف بیروزگار افراد تک محدود نہیں رہتے۔ جب ایک معیشت اپنے نوجوانوں کو روزگار نہیں دیتی تو وہ ان کی پرورش اور تعلیم پر خرچ کیے گئے وسائل کا ممکنہ فائدہ بھی کھو دیتی ہے۔ اسی طرح مایوسی بھی جگہ بنانے لگتی ہے۔ غیر رسمی روزگار‘ غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک جانا‘ شہری زندگی سے لاتعلقی اور ایسی آوازوں کی طرف رغبت جو نوجوانوں کو ان کی محرومی کی کوئی توجیہ فراہم کرتی ہوں۔ جس ملک میں ہر دس میں سے تقریباً آٹھ افراد کی عمر 40 سال سے کم ہو اور ان کی بڑی تعداد باعزت روزگار سے محروم ہو‘ وہاں یہ محض معیشت کا مسئلہ نہیں رہتا‘ بلکہ یہ محرومی معاشی ترقی‘ سماجی استحکام اور معاشرتی ہم آہنگی کیلئے بھی ایک ساختی خطرہ بن جاتی ہے۔ البتہ امکانات کا دروازہ ابھی بند نہیں ہوا۔ ڈیجیٹل اکانومی نے پاکستانی نوجوانوں کیلئے فری لانسنگ‘ آن لائن اور ڈیجیٹل خدمات کے ذریعے آمدنی کے نئے راستے کھولے ہیں۔ اسی طرح گرین اکانومی میں قابل تجدید توانائی اور ماحولیاتی انتظام کے شعبوں میں روزگار کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ خواتین کی لیبر فورس میں شرکت جو دنیا کی کم ترین شرحوں میں شامل ہے‘ پاکستان کیلئے معاشی ترقی کا شاید سب سے بڑا غیر استعمال شدہ اثاثہ ہے۔ لیکن اس کیلئے خواتین کی نقل وحرکت‘ تحفظ‘ بچوں کی نگہداشت اور کام کی جگہ پر امتیازی رویوں جیسی رکاوٹوں کو عملی طور پر دور کرنا ہوگا۔
یہ امکانات اپنی جگہ اہم ہیں لیکن یہ بحران خود بخود ختم نہیں ہو گا۔ اس کیلئے ایسا تعلیمی نظام درکار ہے جو یادداشت کے بجائے تجزیاتی سوچ‘ تخلیقی صلاحیت اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو۔ تعلیم کیلئے مالی وسائل کو بتدریج اس معیار کے قریب لانا ہوگا جسے ہم ایک طویل عرصے سے نظرانداز کرتے آ رہے ہیں۔ نئی مہارتیں سکھانے کیلئے ایسے ادارہ جاتی انتظامات کی ضرورت ہے جن میں صنعت اور آجر بھی شریک ہوں تاکہ تربیت مستقبل کی معاشی ضروریات سے ہم آہنگ ہو سکے۔ اس سوچ کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے کہ فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم اُن طلبہ کا ثانوی راستہ ہے جو روایتی تعلیم میں کامیاب نہیں ہو سکے‘ اس کے برعکس اسے باعزت‘ معیاری اور مناسب وسائل سے آراستہ راستہ بنانا ہو گا جو نوجوانوں کو ہنرمند روزگار تک پہنچائے۔ پاکستان کے نوجوانوں کی محرومی کسی پیدائشی کمزوری‘ صلاحیت کی کمی یا امنگوں کے فقدان کا نتیجہ نہیں بلکہ ان فیصلوں کا مجموعی نتیجہ ہے جو گزرے برسوں میں ہم نے کیے ہیں: تعلیم پر کتنا خرچ کرنا ہے! معیشت کو کس انداز میں تشکیل دینا ہے! کن لوگوں کیلئے مواقع پیدا کرنے ہیں اور کن کو نظر انداز کرنا ہے!
مایوسی کی اس خاکستر میں امید کی چنگاری بھی پوشیدہ ہے۔ اگر غلط فیصلے ہمیں یہاں تک لائے ہیں تو بہتر فیصلے ہمیں یہاں سے نکال بھی سکتے ہیں۔ پاکستان کے پاس آج بھی حقیقی آبادیاتی منافع حاصل کرنے کیلئے ضروری انسانی سرمایہ موجود ہے۔ جس چیز کی کمی رہی ہے وہ ایک ایسا نظام تعمیر کرنے کا سیاسی عزم ہے‘ جو نوجوانوں کی صلاحیت کو تعلیم‘ ہنر‘ روزگار اور قومی ترقی میں تبدیل کر سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments