"SG" (space) message & send to 7575

افغانستان سے دہشت گردی، پاکستان کیلئے بڑا چیلنج

افغانستان سے پاکستان میں دراندازی اور سرحدی علاقوں کے ساتھ دہشت گردوں کی نقل و حرکت پاکستان کیلئے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج ہے۔ پاکستان نے بارہا افغان انتظامیہ کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا اور انہیں شواہد فراہم کرکے دہشت گردوں کے مراکز اور ان کی سرگرمیوں کے خلاف مؤثر اقدامات پر زور دیا لیکن ہر مرتبہ طالبان کی جانب سے یقین دہانیوں کے باوجود دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہا۔ پاکستان نے اس ضمن میں دوست ممالک خصوصاً قطر اور ترکیہ کو بھی اس مسئلے سے آگاہ کیا اور اپیل کی کہ وہ افغان طالبان پر اپنی سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کرنے کیلئے دباؤ ڈالیں مگر ان ممالک کی جانب سے طالبان انتظامیہ کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور دینے کے باوجود خاطر خواہ نتائج سامنے نہ آ سکے۔
اگلے روز کراچی میں رینجرز کیمپ پر دہشت گردانہ حملے میں رینجرز کے تین جوانوں کی شہادت نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خصوصی نشانے پر ہیں۔ سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ دہشت گرد سمجھتے ہیں کہ سکیورٹی اداروں کو ٹارگٹ کرکے پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کیا جا سکتا ہے تاہم یہ سکیورٹی اداروں کا بڑا کریڈٹ ہے کہ انہوں نے وطنِ عزیز کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قربانیاں دے کر ایک روشن تاریخ رقم کی ہے اور آج بھی وہ اپنے اسی عزم پر کاربند نظر آتے ہیں۔ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کے افغانستان میں نیٹ ورک اور پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کے شواہد ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
کراچی ملک کا معاشی حب ہے اور یہاں امن و امان کی صورتحال براہِ راست ملکی معیشت سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن سمجھتا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچانے کیلئے کراچی کو غیر مستحکم کیا جائے۔ سکیورٹی فورسز نے کراچی میں ہونے والی دہشت گردی پر فوری ردِعمل دیا اورتین دہشت گردوں کو موقع پر ہلاک جبکہ ایک کو گرفتار کرکے یہ ثابت کیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے حوالے سے ہر وقت الرٹ ہیں۔ گرفتار ہونے والے دہشت گرد‘ جس کا نام عثمان علی ہے‘ کی شناخت ایک افغان شہری کے طور پر ہوئی ہے۔ گرفتار دہشت گرد نے اس مذموم کارروائی کی تفصیلات بھی حساس اداروں کو فراہم کیں اور بتایا کہ اس کا تعلق جماعت الاحرار سے ہے۔ اسے افغانستان میں باقاعدہ تربیت دی گئی اور وہ خودکش جیکٹس تیار کرنے کی مہارت رکھتا ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ کراچی پہنچنے سے پہلے ہی افغانستان میں تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے تھے۔ اس دہشت گرد کے بیان اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد نے یہ بات واضح کی ہے کہ افغان سرزمین کا استعمال پاکستان میں دہشت گردی کیلئے ہو رہا ہے اور اس کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد امیدیں اور توقعات یہ تھیں کہ افغان طالبان برسراقتدار آنے کے بعد نہ صرف افغانستان کے اندر اپنی انتظامی رِٹ قائم کریں گے بلکہ ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے حوالے سے کی جانے والی شکایات کا بھی ازالہ کریں گے‘ لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس۔ جب سے طالبان برسراقتدار آئے ہیں افغان سرزمین پر دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اور خصوصاً بلوچستان‘ خیبر پختونخوا اور اس سے ملحقہ علاقے ان کا ہدف بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان نے بارہا افغان انتظامیہ کو دہشت گرد تنظیموں اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث گروہوں کے حوالے سے شواہد فراہم کیے۔ ہر بار انہوں نے اپنی ذمہ داریوں سے صرفِ نظر برتا۔ طالبان انتظامیہ کے دور میں ہونے والی دہشت گردی ماضی میں اشرف غنی اور حامد کرزئی کے ادوار کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رہی ہے۔ اس ضمن میں شائع ہونے والی مختلف رپورٹس میں بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے سدباب کے حوالے سے سنجیدہ نہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ٹی ٹی پی‘ جماعت الاحرار‘ داعش خراسان اور دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی ان کی اپنی حکومت کی بقا کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ لہٰذا وہ دہشت گردی کے سدباب کیلئے مؤثر اقدامات کرنے کے بجائے الٹا پاکستان اور دیگر متاثرہ ممالک کو یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ چونکہ یہ واقعات ان ممالک میں رونما ہوتے ہیں اس لیے ان کے خلاف کارروائی بھی انہی کی ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بارہا سفارتی کوششوں کے باوجود پاکستان نے دیکھا کہ طالبان اس حوالے سے کوئی مؤثر کردار ادا کرنے کیلئے تیار نہیں اور اس ضمن میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو پاکستان کی فورسز نے سرحد کے ساتھ دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنانا شروع کیا جس کے خاطر خواہ نتائج بھی سامنے آئے۔بھارت بھی پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کیلئے افغان سرزمین کا کھلے عام استعمال کر رہا ہے۔ وہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں اور مختلف گروہوں کو فنڈنگ اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کے حوالے سے انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس اور اس واقعے میں گرفتار ہونے والے افغان شہری کے اعترافی بیان نے بھی اس حقیقت کی تصدیق کر دی ہے۔ کراچی دھماکے کے بعد افواجِ پاکستان کی طرف سے پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف جو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا‘ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس کی مذمت تو کر دی لیکن وہ ہمیشہ کی طرح یہ بتانے سے قاصر رہے کہ آخر ان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیاں کیوں جاری ہیں۔ دوحہ معاہدے میں افغان طالبان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور دہشت گردی کے سدباب میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں گے لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو افغان طالبان نے دوحہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی کی اور اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے مراکز اور پناہ گاہوں سے مسلسل صرفِ نظر کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان سمیت خطے کے وہ تمام ممالک‘ جو یہ سمجھتے تھے کہ افغانستان میں سیاسی تبدیلی کے ذریعے امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے گا‘ شدید مایوسی کا شکار ہوئے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ روس‘ جس نے افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا ہے‘ وہ بھی افغانستان میں ہزاروں دہشت گردوں کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن کیلئے خطرناک قرار دے رہا ہے۔ پاکستان نے اسی لیے سفارتی کوششوں کے بعد دہشتگردوں کے خلاف ازخود کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جس کی تائید عالمی قوانین بھی کرتے ہیں۔ لہٰذا پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کے مراکز کو نشانہ بنانے کا جواز موجود ہے اور اس کے خاطر خواہ نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔
نئی صورتحال میں جب دشمن یہ دیکھ رہا ہے کہ بھارت کو جنگی محاذ پر پسپا کرنے کے بعد اب سفارتی محاذ پر امریکہ ایران جنگ بندی اور ان کے مابین مذاکراتی عمل کو ممکن بنانے پر دنیا بھر میں پاکستان کا ڈنکا بج رہا ہے تو اس نے دہشت گردی کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ کراچی حملہ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی جوابی کارروائی سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اب دہشت گردی کے خلاف زیروٹالرنس پالیسی پر گامزن ہے۔ دہشت گردی کا ہر ایک واقعہ قومی سلامتی‘ معیشت اور عوامی اعتماد پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ملک میں یہ سوچ و اپروچ بھی نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے کہ داخلی سلامتی کے معاملات پر تمام سیاسی قوتوں‘ ریاستی اداروں‘ میڈیا اور سول سوسائٹی کو ایک پیچ پر آنا ہوگا۔ اس لیے کہ قومی یکجہتی ہی ان کے عزائم ناکام بنانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں