"RKC" (space) message & send to 7575

عمران خان کا انتقام

انسانی مزاج بڑا دلچسپ ہے۔ بنانے پر آئے تو ایک چائے والے کو ڈیڑھ ارب آبادی کے ملک کا وزیراعظم بنا دے‘ الٹانے پر آئے تو پچاس سال سے حکمرانی کرتے بادشاہ کو لیبیا میں ایک پل کے نیچے مار ڈالے۔ انسانوں کو خوش یا راضی رکھنا آسان کام نہیں ۔ قران پاک میں خدا خود فرماتا ہے کہ انسان بڑا بے انصاف اور ناشکرا ہے۔ اگر انسان اُس خدا سے بھی‘ جس نے ہزاروں لاکھوں نعمتیں اس کو عطا کی ہیں‘ گلہ کرنے بیٹھ جاتا ہے تو کسی فانی بندے یا بادشاہ کی کیا اوقات ہے۔ سوال یہ ہے انسان کسی صورت خوش کیوں نہیں ہوتے ؟اور جب یہ علم ہے کہ انسان کی فطرت میں ناشکری ہے تو پھر دوسروں کے اوپر بادشاہ کیوں لگنا چاہتا ہے‘ اپنے لیے تخت یا دوسروں کے لیے تختہ کیوں چاہتا ہے؟ ایک گھر میں بعض دفعہ بہن بھائی بھی محبت پیار سے نہیں رہ سکتے اور بڑے ہوتے ہی جائیداد یا بچوں کے رشتوں پر جھگڑ پڑتے ہیں۔ تو ایک ملک جس کی آبادی ڈیڑھ ارب ہو یا پچیس کروڑ ہو‘ وہاں کیسے آپ سب کو خوش اور مطمئن کر سکتے ہیں؟ جب آپ کو علم ہے کہ انسان کو خوش اور مطمئن کرنا مشکل ہے تو پھر یہ بھاری پتھر اٹھانے کے لیے جنونی کیوں بن جاتے ہیں؟ اس کے لیے اتنی محنت‘ کوشش‘ مشکلات‘ جیل‘ جلاوطنی اور پھانسی تک بھگتنے کو تیار کیوں ہو جاتے ہیں۔ آخر اس حکمرانی میں ایسا کیا رکھا ہے کہ آپ ہر صورت سب سے بڑی کرسی پر بیٹھنا چاہتے ہیں چاہے اس کی کچھ بھی قیمت ہو۔ میں کوشش کے باوجود اس انسانی جذبے کو نہیں سمجھ سکا کہ آخر وہ کیا چیز ہے جو ان تمام خطرات کا سامنا کرنے کی جرأت و ہمت دیتی ہے۔ مان لیا کہ تاریخ میں یہ درج ہوجائے گا کہ فلاں ولد فلاں ملک کا وزیراعظم یا بادشاہ بنا تھا‘ تو اس سے آپ کو کیا فرق پڑے گا کہ آپ تو منوں تلے مٹی میں دبے ہوں گے۔
یہ باتیں مجھے اس لیے یاد آ رہی ہیں کہ آج کل ہمارے دوست سلمان اکرم راجہ کی اپنی پارٹی لیڈروں کے ساتھ ایک مہا بھارت چل رہی ہے‘ جس میں اب تک سکور برابر چل رہا ہے۔ اس لڑائی میں پنجاب سے سلمان اکرم راجہ تو خیبر پختونخوا سے جنید اکبر خان‘ مشعال یوسفزئی‘ بیرسٹر گوہر اور دیگر آمنے سامنے ہیں۔ خیبر پختونخوا سے بندے بدلتے رہتے ہیں لیکن سلمان اکرم راجہ اکیلے ہی لڑتے رہتے ہیں۔ اب تازہ ترین لڑائی مشعال یوسفزئی کے ساتھ چل رہی ہے اور ایک دوسرے پر الزامات سوشل میڈیا پر کھڑکی توڑ ہفتہ منا رہے ہیں۔ شاید سلمان اکرم راجہ کو لگتا ہے کہ وہ گوربا چوف کی طرح روس کی کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل ہیں جس کے سامنے کسی کو چوں تک کرنے تک کی اجازت نہیں ہے۔ دوسری طرف خیبر پختونخوا کے مزاج میں پنجاب کی سیاسی لیڈرشپ کے آگے سرنگوں ہونے کا مزاج نہیں۔ انہوں نے برسوں کی محنت کے بعد عمران خان کو تو مان لیا کہ چلو پشتو نہیں آتی لیکن جینز تو ہم سب کے ایک ہی ہیں۔ نیازی بھی کبھی افغان ہی تھے جیسے درانی‘ ترین‘ خاکوانی قبائل‘ جو پنجاب میں آ کر بس گئے تھے۔ عمران خان واحد بندہ ہے جسے پشتو نہیں آتی مگر پشتونوں نے اسے اپنا لیڈر مان لیا۔ ایک دفعہ ایک پشتون دوست نے مجھے یہ قصہ سنایا کہ ان کا ایک پنجابی دوست ان سے ملنے آیا‘ وہ گھر بیٹھے اُردو میں باتیں کر رہے تھے تو ان کی والدہ نے سن لیا۔ انہوں نے بیٹے کو بلا کر پوچھا: تمہارا دوست مسلمان ہے؟ انہوں نے بتایا کہ بالکل مسلمان ہے۔ تو ماں حیران ہو کر بولی: یہ کیسا مسلمان ہے جسے پشتو نہیں آتی۔ ہمارے ملک میں پشتون‘ سندھی اور بلوچ اپنی مادری زبانوں کے بارے میں بہت حساس ہیں۔ بات ہو رہی تھی پنجاب اور پختون لیڈروں کی‘ جو اس وقت دست وگربیاں ہیں اور ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ جب یہ لڑائی میں نے سوشل میڈیا پر دیکھی اور سلمان اکرم راجہ کا غصہ بھرا جواب سنا تو پتا نہیں کیوں مجھے ان سے کافی ہمدردی ہوئی۔ میں نے برسوں ان کی قابلیت اور کام کو بڑے قریب سے دیکھا ہے۔ وہ ان چند نامور وکیلوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی قابلیت اور محنت سے اپنا نام اور مقام بنایا ہے اور ان کا شمار سپریم کورٹ کے بڑے وکلا میں ہوتا ہے۔ ٹی وی شوز میں وہ بہت نپی تلی رائے دینے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی میڈیا اور سول سوسائٹی میں بھی بہت عزت رہی ہے۔ جب عمران خان نے سپریم کورٹ میں پاناما کا مقدمہ کیا تو ان کی اس قابلیت کو سامنے رکھ کر ہی شریف فیملی نے سلمان اکرم راجہ کو اپنا وکیل بنایا۔ وہی تھے جنہوں نے پاناما کیس میں مشہور زمانہ قطری خط عدالت میں پیش کیا تھا۔ اس خط پر بڑی لے دے ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا مشورہ دینے والے بھی راجہ صاحب ہی تھے۔
نواز شریف کی طرح عمران خان کی بھی ایک خوبی ہے کہ وہ اپنے دوستوں اور محسنوں کو تو بھول سکتے ہیں لیکن اپنے مخالفین کو نہیں بھولتے‘ نہ ہی معاف کرتے ہیں۔ لیکن دونوں کا مخالفین کو فکس کرنے کا اپنا اپنا انداز ہے۔ اگر آپ عمران خان کو دیکھیں تو انہوں نے دو طرح سے اپنے دشمنوں یا مخالفین کو ہینڈل کیا یا ان سے سکور سیٹل کیا۔ پہلے دیگر جماعتوں کے وہ سیاستدان جو اُن پر دن رات تبرا پڑھتے تھے اور خانگی زندگی کی ناکامیوں پر ان کا مذاق اڑاتے تھے خان صاحب نے ان کو ایک ایک کر کے اپنی پارٹی میں شامل کر لیا۔ وہ سب اس چکر میں آتے چلے گئے کہ پی ٹی آئی کا بڑا ووٹ بینک بن چکا تھا لہٰذا وہ گالی گلوچ سیاسی بریگیڈ اس ووٹ بینک سے ایم این اے‘ سینیٹر یا وزیر بن جانے کے لالچ میں پی ٹی آئی میں آ گئی۔ خان صاحب نے ان کی کمزوری استعمال کی اور اب برسوں سے وہ خان کے گیت گاتے اور خوشامدیں کرتے ہیں۔ وہی جو پہلے دن رات تبرا پڑھتے تھے اب کہتے کہ خان تو فرشتہ ہے۔ خان نے سلمان اکرم راجہ کو بھی اپنی لسٹ میں رکھا ہوا تھا کہ پاناما کیس میں شریف خاندان کی وکالت کا بدلہ لینا تھا۔ خان کا انداز ہے کہ جو گڑ کھا کر مر جائے اسے زہر کیا دینا لہٰذا جیسے دوسروں کو گڑ کھلا کر اپنا گرویدہ بنایا ایسے ہی راجہ صاحب پرجال پھینکا گیا۔ انہیں لگا کہ تقدیر انہیں بڑا کردار ادا کرنے کا موقع دے رہی ہے‘ وہ ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔ خان نے انہیں سیکرٹری جنرل بنا دیا‘ وہ شخص جس نے کبھی کونسلر کا الیکشن بھی نہیں لڑا تھا۔ کورٹ روم بحث اور سیاسی لڑائی کافرق راجہ صاحب کو معلوم نہ تھا۔ اب راجہ صاحب کی پچھلے تین سال میں یہ حالت ہو چکی ہے کہ ان کی پریکٹس چھوٹ چکی ہے‘ چوبیس گھنٹے وہ سیاست میں ہیں‘ کبھی وارنٹ نکل رہے ہیں تو کبھی عدالتوں میں پارٹی ورکرز اور لیڈروں کیلئے خوار ہو رہے ہیں۔ اب ہر روز کوئی نہ کوئی پارٹی لیڈر اٹھ کر ان پر الزامات لگا دیتا ہے۔ کبھی علیمہ خان ان پر سوال اٹھادیتی ہیں تو کبھی مشعال یوسفزئی الزامات لگا دیتی ہیں۔ کسی دن ان کا بیرسٹر گوہر تو کبھی جنید اکبر سے پھڈا ہو جاتا ہے۔ کبھی شیر افضل مروت اور کبھی شاندانہ گلزار کچھ کہہ دیتی ہیں۔ بشریٰ بیگم تو ان کے منہ پر ہی سخت زبان استعمال کرتی تھیں۔ ہمارا پڑھا لکھا‘ سمجھدار دوست سکون کے ساتھ رہ رہا تھا مگر اب روز سوشل میڈیا پر کسی نہ کسی کے ساتھ لڑ رہا ہوتا ہے۔ غصے میں خان کو اپنا استعفیٰ بھیجتا ہے تو وہ آگے سے تھپکی کے ساتھ جواب ملتا ہے کہ دل چھوٹا نہ کرو‘ لگے رہو۔ لگتا ہے کہ خان کا دل ابھی بھرا نہیں۔ مشعال یوسفزئی اور شاندانہ گلزار کے کانوں سے دھواں نکالنے والے الزامات سن کر لگتا ہے کہ خان کا سکور ابھی سیٹل نہیں ہوا۔ جب بھی سلمان اکرم راجہ پارٹی چھوڑنے لگتا ہے خان تھپکی دے کر فیض صاحب کا شعر سنا دیتا ہو گا۔ چند روز اور مری جان‘ فقط چند ہی روز۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...