"AIZ" (space) message & send to 7575

صلہ رحمی

عصرِ حاضر میں سائنس‘ ٹیکنالوجی اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہونے کے ساتھ ایک بات دیکھنے میں آئی ہے کہ بہت سے لوگ صلہ رحمی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو فراموش کر چکے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر صلہ رحمی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الرعد کی آیات: 19 تا 21 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''کیا وہ ایک شخص جو یہ علم رکھتا ہو کہ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے جو اتارا گیا ہے وہ حق ہے‘ اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھا ہو‘ نصیحت تو وہی قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔ جو اللہ کے عہد (وپیمان) کو پورا کرتے ہیں اور قول وقرار کو توڑتے نہیں۔ اور اللہ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے وہ اسے جوڑتے ہیں اور وہ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور حساب کی سختی کا اندیشہ رکھتے ہیں‘‘۔ ان آیاتِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عقلمند لوگ وہ ہیں جو وعدوں کو پورا کرتے اور جن رشتوں کو جوڑنے کا اللہ تبارک وتعالیٰ نے حکم دیا ہے‘ ان رشتوں کو جوڑتے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکامات پر درست طریقے سے عمل پیرا ہوتے ہیں۔ ان کے مدمقابل وہ لوگ جو رشتہ داریوں کو توڑتے ہیں‘ ایسے لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ کی گرفت کا نشانہ بنتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الرعد ہی کی آیت: 25 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں‘ ان کے لیے لعنتیں ہیں اور ان کے لیے برا گھر ہے‘‘۔ جو شخص اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ وعدہ خلافی کرتا اور قطع رحمی سے کام لیتا ہے ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت کا حقدار ہے اور اس کے لیے جہنم کے انگاروں کو تیار کر دیا گیا ہے۔
جہاں قرآن مجید میں صلہ رحمی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے وہیں احادیث مبارکہ میں بھی صلہ رحمی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ''جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں برکت ہو اور اس کی عمر (یعنی زندگی کے آثار وبرکات) میں اضافہ ہو‘ اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے‘‘۔ اسی طرح صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''رحم کا تعلق رحمان سے جڑا ہوا ہے‘ پس جو کوئی اس سے اپنے آپ کو جوڑتا ہے اللہ پاک نے فرمایا: میں بھی اس کو اپنے سے جوڑ لیتا ہوں اور جو کوئی اسے توڑتا ہے میں بھی اپنے آپ کو اس سے توڑ لیتا ہوں‘‘۔
مذکورہ بالا آیات مبارکہ اور حدیث پاک پر غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو ہر صورت صلہ رحمی سے کام لینا چاہیے اور قطع رحمی سے بچنا چاہیے جس کا اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ قریبی رشتے داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے۔ قریبی رشتے داروں میں سے حسنِ سلوک کے سب سے زیادہ حقدار ہمارے والدین ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی قرآن مجید میں کئی مقامات پر تلقین کی اور سورۂ بنی اسرائیل میں اس حوالے سے تفصیلی ہدایات جاری کی ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ بنی اسرائیل کی آیات: 23 تا 24 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف تک نہ کہنا‘ نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات چیت کرنا۔ اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے‘‘۔ اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی سخت تلقین کی گئی ہے‘ بالخصوص والدہ کے حق کو بڑی شدت کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔ والدین کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کے متعدد مقامات پردیگر قرابت داروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت: 26 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ''اور رشتے داروں کا اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرتے رہو اور اسراف اور بے جا خرچ سے بچو‘‘۔ صلہ رحمی کا تقاضا یہ ہے کہ بہن‘ بھائیوں‘ چچا‘ ماموں‘ پھپھو اور خالہ سے حسنِ سلوک کیا جائے اور اس حوالے سے درج ذیل کام کیے جا سکتے ہیں:
1۔ مالی معاونت کرنا: اگر وہ مالی اعتبار سے ضرورت مند ہوں تو ان کے کام آنا اور ان کی مالی معاونت کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی‘ غفلت اور تساہل سے کام لینا درست نہیں ہے۔ اسلام میں عام انسانوں اور جانوروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے‘ اس لیے اگر آپ کے قریبی لوگ تنگدستی کا شکار ہو جائیں تو ان سے بالاولیٰ حسنِ سلوک کرنا چاہیے اور مالی معاونت سے ان کی تنگیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
2۔ بیمار پرسی کرنا: اگر وہ بیماری کا شکار ہو جائیں تو ان کی بیمار پرسی میں کسی قسم کی کوتاہی اور غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے اور ہر ممکن طریقے سے ان کے علاج ومعالجہ میں معاونت کی کوشش کرنی چاہیے۔ کئی مرتبہ مریض کو علاج معالجے کیلئے مالی معاونت کی ضرورت ہوتی ہے اور کئی مرتبہ مالی معاونت سے بڑھ کر فقط خبرگیری اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ان کی خبر گیری اور حوصلہ افزائی کر دی جائے اور ان کے ساتھ پیار اور شفقت کا مظاہرہ کیا جائے تو فقط اس وجہ سے بھی ان کی بیماری میں خاطر خواہ کمی ہو جاتی ہے۔
3۔ خوشی غمی کے موقع پر ان کے کام آنا اور ان سے ملاقات کرنا: ہر انسان کی زندگی میں خوشیاں اور غمیاں آتی رہتی ہیں۔ اس موقع پر اپنے رشتہ داروں کے کام آنا‘ ان کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھنا اور ان کے غم کو اپنا غم سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس طریقے سے انسان نہ صرف یہ کہ دوسروں کے کام آتا ہے بلکہ ان کی دعائوں کا بھی حقدار بن جاتا ہے۔
4۔ جنازے اور تدفین میں شرکت: اپنے قریبی رشتہ داروں کے جنازے میں شرکت کرنی چاہیے اور ان کی تدفین کے عمل کو بھی انجام دینا چاہیے۔ یہ عمل یقینا بہت بڑا نیکی کا کام ہے اور اس میں کوتاہی کرنا کسی بھی طور پر درست نہیں ہے۔ بہت سے لوگ معاشی سرگرمیوں کے دوران جنازے اور تدفین میں شرکت سے گریز کرتے ہیں۔ یہ عمل کسی بھی طور پر پسندیدہ نہیں ہے۔
5۔ اعزہ واقارب کی وفات کے بعد ان کے لواحقین کے کام آنا: اعزہ واقارب کا انتقال ہو جانے کی صورت میں ان کے لواحقین اور ان کی اولادوں کے کام آنا بھی بہت بڑا کارِ خیر ہے۔ جب انسان اس کارِ خیرکو انجام دیتا ہے تو یقینا اس کی وجہ سے پسماندگان کے بہت سے معاملات بطریق احسن حل ہو جاتے ہیں۔
6۔ حسنِ سلوک نہ کرنے والے اعزہ واقارب سے بھی حسنِ سلوک کرنا: صلہ رحمی کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ان رشتہ داروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کیا جائے جو انسان کے ساتھ حسنِ سلوک پر آمادہ وتیار نہیں ہوتے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ''صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلے میں تعلق رکھے بلکہ حقیقی صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے‘‘۔
چنانچہ انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ اور نبی کریمﷺکے احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیشہ صلہ رحمی سے کام لینا چاہیے۔صلہ رحمی کی وجہ سے انسان کی عمر اور رزق میں اضافہ اور اس کیلئے جنت کی راہوں پر چلنا آسان ہو جاتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو صلہ رحمی کرنے کی توفیق دے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں