"AIZ" (space) message & send to 7575

زندگی کی حقیقت

انسان پوری زندگی مختلف طرح کے منصوبے مرتب کرتا اور مختلف قسم کے اہداف کے حصول کے لیے کوشاں رہتا ہے لیکن اکثر وہ اس حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے کہ زندگی کا یہ سفر کسی بھی وقت اختتام پذیر ہو سکتا ہے۔ اس زمین پر جو بھی آیا ہے‘ اس کو ایک دن پروردگارِ عالم کی طرف واپس جانا ہی پڑے گا۔ تاریخِ انسانیت اس بات پر شاہد ہے کہ انتہائی قیمتی اور معزز لوگ بھی زمین پر بے مثال اور شاندار زندگی گزارنے کے بعد ایک دن تہِ خاک چلے گئے۔ اس زمین پر آنے والی مقدس ہستیاں بھی ایک وقتِ مقررہ پر اپنے پروردگار کے پاس لوٹ گئیں۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگی کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے پیغام کو عام کرنے کیلئے وقف کیے رکھا‘ وہ لوگ بھی اس دھرتی پر ہمیشہ کے لیے نہ رہ سکے۔ ہر انسان نے اپنی زندگی میں اپنے اعزہ واقارب‘ دوست احباب اور قریبی رشتہ داروں کے جنازوں کو اٹھتے ہوئے دیکھا ہے لیکن اس کے باوجود نجانے کیوں انسان کے ذہن میں یہ خیال گردش کرتا رہتا ہے کہ شاید وہ خود موت کی وادی میںنہیں اترے گا‘ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دوسروں کو موت آنی ہے‘ اسی طرح ہر انسان نے ایک دن قبر میں اترنا ہے۔ چنانچہ انسانوں کو ہمیشہ موت کے بعد والی زندگی کے لیے تیاری رکھنی چاہیے۔
میں نے زندگی میں مختلف دوست احباب کی اموات اور بہت سے قریبی اعزہ واقارب کو خود سے جدا ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ اسی طرح مجھے زندگی میں بے شمار جنازوں میں شرکت کا موقع ملا ہے۔ ان جنازوں میں شرکت کے دوران ہمیشہ میں نے یہ محسوس کیا کہ زندگی ناپائیدار ہے اور موت سے کوئی فرار نہیں۔ چند روز قبل کھڈیاں کے قریب رہنے والے ایک قریبی ساتھی عطاء الرحمن نے بتایا کہ اس کی والدہ بیمار ہیں اور ان کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پانچ جولائی کی رات کو یہ اندوہناک اطلاع ملی کہ وہ صحت یاب نہیں ہو سکیں اور وفات پا گئی ہیں۔ عطاء الرحمن ایک نیک‘ سلجھا ہوا اور خدمتِ خلق کرنے والا نوجوان ہے۔ اس کی والدہ کی جدائی کی خبر سن کر مجھے شدید دھچکا پہنچا۔ میرے ذہن میں ماضی کے بہت سے واقعات ابھرنا شروع ہو گئے اور اپنی والدہ مرحومہ کے انتقال کے لمحات دماغ کی سکرین پر چلنے لگے۔ بچپن میں والدہ نے جس شفقت کا مظاہرہ مجھ سے کیا‘ اس کی یادیں بھی آنا شروع ہو گئیں۔ سکول جانے سے پہلے وہ میرے لیے ناشتے کا بندوبست کرتیں‘ سکول جاتے وقت میرے یونیفارم کو تیار کرتیں اور گھر واپس آنے پر کھانا کھلاتیں۔ وہ میری تعلیم کے حوالے سے بہت زیاددہ فکرمند رہتی تھیں۔ کم نمبر آنے پر دکھ اور رنج کا اظہار کرتیں اور اچھے نمبر آنے پر بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔ والد محترم کے انتقال کے بعد انہوں نے ہماری بہت زیادہ دلجوئی کی اور اس بات کی بھرپور کوشش کی کہ ہمیں والد کی کمی محسوس نہ ہو۔ وہ ہماری تعلیم اور ضروریات کے حوالے سے پہلے سے بھی زیادہ مستعد ہو چکی تھیں لیکن شوہر کی جدائی کی وجہ سے وہ اکثر غمزدہ رہتی تھیں اور ان کی کمی کو بڑی شدت سے محسوس کیا کرتی تھیں۔ میرے ذہن کے کسی گوشے میں یہ بات نہیں تھی کہ وہ اچانک اس دنیائے فانی سے کوچ کر جائیں گی۔ والد محترم کے انتقال کے بعد وہ فقط پانچ برس زندہ رہیں اور 1992ء میں وفات پا گئیں۔ والدہ کی وفات یقینا میرے لیے بہت بڑا صدمہ تھا اور ان کی جدائی کو برداشت کرنا بظاہر بے حد مشکل محسوس ہوتا تھا۔ تاہم اللہ تبارک وتعالیٰ نے رحمت کی اور بتدریج صبر اور قرار عطا کیا‘ تاہم حقیقت یہ ہے کہ آج ان کو دنیا سے رخصت ہوئے 34 برس کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن خوشی کے ہر موقع پر ان کی یاد ستاتی ہے اور دکھوں کا کوئی لمحہ ایسا نہیں کہ جب ان کی کمی محسوس نہ ہوتی ہو۔
انسان کو زندگی میں خواہ کتنی ہی نعمتیں میسر کیوں نہ آ جائیں‘ وسائل اور مالی کشادگی کے حصول کے ساتھ ساتھ دنیا میں عزت ووقار بھی حاصل ہو جائے‘ تب بھی والدین کی جدائی کا صدمہ فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کہ کسی کی دعا والدین کی دعا کا متبادل نہیں بن سکتی۔ اسی طرح جس شفقت‘ خلوص‘ محبت اور پیار کا مظاہرہ والدین اپنی اولادوں سے کرتے ہیں‘ اس کا متبادل کسی دوسرے کی شفقت اور محبت نہیں ہو سکتی۔ دنیا میں بہت سے لوگ عروج کے ساتھی ہوتے ہیں لیکن عروج ہو یا زوال‘ والدین ہمیشہ آپ کے ہمراہ ہوتے ہیں۔ دنیا میں بہت سے لوگ آسودگی اور راحت کے وقت آپ کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن والدین ہر آن‘ ہر لحظہ اور ہر لمحہ آپ کے ساتھ ہوتے ہیں۔ بالخصوص والدہ کی محبت کا متبادل کسی دوسرے کی محبت نہیں ہو سکتی۔ ماں انسان کی کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مسرور ہوتی اور اولاد کی ناکامی پر اولاد سے بڑھ کر دکھ اور رنج محسوس کرتی ہے۔ اولاد کو تکلیف میں دیکھ کر جس طرح ماں کرب محسوس کرتی ہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے خالق ومالک اللہ تبارک وتعالیٰ نے کلامِ حمید میں بہت سے مقامات پر انسانوں کو والدین سے حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ خصوصاً سورۂ بنی اسرائیل کی آیات: 23 تا 24 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ''اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں‘ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف تک نہ کہنا‘ نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات چیت کرنا۔ اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے‘‘۔
نبی کریمﷺ کی احادیث مبارکہ میں بھی والدین بالخصوص والدہ سے حسنِ سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی رسول کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ پوچھا: اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ اس کے بعد کون؟ آنحضرتﷺ نے تیسری بار فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون ہے؟ رسول کریمﷺ نے فرمایا: پھر تمہارا باپ ہے۔
والدین کی جدائی جہاں انسان کے لیے شفقت‘ محبت‘ پیار اور دعائوں کے خلا کا سبب بنتی ہے‘ وہیں زندگی کی یہ حقیقت بھی انسان پر واضح ہو جاتی ہے کہ جس طرح دنیا کے مخلص ترین اعزہ واقارب اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے ہیں‘ اسی طرح ہر انسان کو ایک دن اس دنیائے فانی سے کوچ کرنا پڑے گا اور موت کے بعد پروردگارِ عالم کی بارگاہ میں پیش ہونا ہو گا‘ جہاں انسان کی کامیابی یہی ہو گی کہ وہ آگ سے بچ کے جنت میں داخل ہو جائے۔ اس وقت دنیا کی ہیبت وحشمت‘ سرمایہ ومال‘ کنبہ وقبیلہ‘ حسب ونسب انسان کے کسی کام نہیں آئے گا بلکہ انسان کے اپنے اچھے اعمال ہی اس کے کام آئیں گے۔ چنانچہ انسان کو اس قسم کے صدمات کے موقع پر زندگی کی حقیقت کو صحیح طور پر سمجھتے ہوئے خود کو موت کے بعد آنے والی زندگی کے لیے ہمیشہ تیار رکھنا چاہیے اور اس حوالے سے تیاری کرتے رہنا چاہیے۔
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو دوسروں کی موت سے عبرت حاصل کرکے اپنی اصلاح کرتے اور سیدھے راستے پر چلنے کا عزم کرتے ہیں اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو گمان کرتے ہیں کہ موت ان کو اچکنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو موت کے بعد آنے والی زندگی کی ابھی سے تیاری کرنے کی توفیق دے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں