اس بات کا مشاہدہ کرنا کچھ مشکل نہیں کہ بہت سے والدین اپنی معاشی مصروفیات اور سماجی سرگرمیوں کی وجہ سے اپنی اولاد کی تربیت سے غافل رہتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے بچے اپنے وقت کو ضائع کر بیٹھتے اور ایسے امور میں مبتلا ہو جاتے ہیں جو کسی بھی طور مناسب نہیں ہوتے۔ والدین کو اپنی اولاد پر گہری نظر رکھنی چاہیے اور ان کے معمولات اور تربیت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دینا چاہیے۔ اس حوالے سے کتاب وسنت میں بڑی خوبصورت رہنمائی موجود ہے۔
1۔ اولاد کو ارکانِ اسلام کی بجا آوری کا درس دینا: اپنی اولاد کو ارکانِ اسلام کی بجا آوری کا سبق دینا چاہیے اور اس سلسلے میں اپنی عملی مثال ان کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ طہٰ کی آیت: 132 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس کے پابند رہو‘ ہم تجھ سے رزق نہیں مانگتے بلکہ ہم خود تجھے رزق دیتے ہیں‘ آخر میں بول بالا پرہیزگاری ہی کا ہے‘‘۔
2۔ اولاد کو گناہوں سے بچانے کی کوشش کرنا: جہاں انسان کو اپنی اولاد کو ارکانِ اسلام کی بجا آوری کی تلقین کرنی چاہیے وہیں ان کو گناہوں سے بچنے کی بھی تلقین کرنی چاہیے۔ بہت سے والدین اپنی اولادوں کو گناہ کے راستے پر چلتا دیکھ کر بھی ان کو سیدھے راستے پر آنے کی تلقین نہیں کرتے جس کی وجہ سے اولاد بہت زیادہ بگڑ جاتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ التحریم کی آیت: 6 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو جہاں خود اپنے آپ کو گناہ کے کاموں سے بچانا چاہیے وہیں اپنے اہلِ خانہ کو بھی گناہوں سے محفوظ رکھنا چاہیے۔
3۔ اولاد کو اچھے کاموں کی نصیحت کرنا: انسان کو ہمیشہ اپنی اولاد کو اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا چاہیے اور دینی و دنیاوی اعتبار سے جو کام مفید ہوں‘ ان کے بارے میں اپنی اولاد کی رہنمائی کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ لقمان کی آیات: 13 تا 19 میں حضرت لقمان کی بہت سی اہم نصیحتوں کا ذکر فرماتے ہیں۔ ان آیات مبارکہ پر غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو شرک سے بچنے کی تلقین کی‘ انہوں نے اس کو والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے علم سے آگاہ کیا کہ زمین وآسمان میں معمولی سی معمولی چیز بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے۔ اسی طرح آپ نے اپنے بیٹے کو نماز کی ادائیگی کی تلقین کی‘ اس کو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی انجام دہی کا سبق دیا۔ زندگی کے نشیب و فراز کے دوران آنے والی تکالیف پر صبر کرنے کی تلقین کی‘ لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا اور غرور سے بچ کر اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرنے کی نصیحت کی۔ اسی طرح آپ نے اپنے بیٹے کو اپنی آواز کو لوگوں کے سامنے دھیما رکھنے یعنی حسنِ اخلاق کی تلقین کی۔ حضرت لقمان کی ان نصیحتوں پر غور کیا جائے تو اس میں دینی اور دنیاوی اعتبار سے بہت سی خوبصورت باتوں کی تلقین موجود ہے۔ آج کل کے والدین اپنی اولاد کی مادی ضروریات‘ ان کی غذا اور لباس کا اہتمام تو کرتے ہیں لیکن ان کو اچھے اخلاق کی تلقین نہیں کرتے جبکہ ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کو دینی اور دنیاوی اعتبار سے مفید چیزوں کی نصیحت کیا کریں۔
4۔ اولاد کے علم میں اضافے کی کوشش کرنا: تربیتِ اولاد کیلئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ انسان اپنی اولاد کو دینی و دنیاوی اعتبار سے اچھی تعلیم دلانے کی کوشش کرے۔ علم ایک لازوال نعمت ہے۔ مال ودولت میں کمی بیشی ہو سکتی ہے لیکن علم اللہ تبارک وتعالیٰ کی ایسی عطا ہے جو انسان کوہمیشہ نفع پہنچاتی ہے اور انسان اگر محنت کرتا رہے تو اس میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ دولت خرچ کرنے سے کم ہوتی جبکہ علم استعمال کرنے سے بڑھتا اور پھیلتا ہے۔ اولاد کیلئے دنیاوی مال چھوڑنے سے بہتر ہے کہ ان کو بہتر اور نافع علم کے زیور سے آراستہ کیا جائے۔
5۔ اولاد کے وقت کو ضائع ہونے سے بچانا: والدین کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کے وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ المومنون میں فردوس کے حقدار اہلِ ایمان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ لغویات سے اجتناب کرتے ہیں۔ آج کل بہت سے بچے موبائل اور گیمز میں اپنے وقت کو برباد کرتے اور لغویات کے راستے پر چل نکلتے ہیں لیکن والدین ان پر توجہ دینے کے بجائے ان کے معمولات کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے مختلف طرح کے نفسیاتی عوارض پیدا ہوتے ہیں۔ ان عوارض سے اپنی اولادوں کو بچانا نہایت ضروری ہے۔ اگر اس پر توجہ نہ دی جائے تو اولاد کا مستقبل تاریک ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
6۔ اولاد کو بری صحبت سے بچانا: انسان کئی مرتبہ بری صحبت اور برے دوستوں کی وجہ سے تباہی اور ہلاکت کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الفرقان میں ایسے ظالم کا ذکر کیا جو اپنے دوست کی وجہ سے قیامت کے دن خسارے کا شکار ہو جائے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الفرقان کی آیات: 28 تا 29 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''ہائے افسوس! کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کر دیا کہ نصیحت میرے پاس آ پہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو (وقت پر) دغا دینے والا ہے‘‘۔ چنانچہ اپنی اولاد کو بری صحبت سے بچانا والدین کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ آئندہ زندگی میں بھی بری صحبت سے محفوظ رہ سکیں۔
7َ۔ اچھے کاموں میں اپنی اولاد کو شریک کرنا: انسان کیلئے یہ بات کافی نہیں کہ وہ محض خود ہی اچھے کام کرے بلکہ اپنی اولاد کو بھی ان اچھے کاموں میں شریک کرنا والدین کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں تعمیر بیت اللہ کا ذکر کیا کہ حضرت ابراہیم نے اس عظیم کام کو انجام دینے کیلئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہما السلام کو بھی اس کارِ خیر میں شریک کر لیا تھا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 127 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور جب ابراہیم اور اسماعیل کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے‘ (تو دعا کر رہے تھے) اے ہمارے رب ہم سے (یہ عمل) قبول کر‘ بیشک تو ہی سننے والا‘ جاننے والا ہے‘‘۔
8۔ اولاد کے لیے دعا کرنا: والدین کو اپنی اولاد کی کامیابی کیلئے دعا بھی کرنی چاہیے۔ اولاد کے حق میں والدین کی دعائیں بہت مؤثر ہوتی ہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ ابراہیم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ان دعائوں کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام کے لیے کی تھیں۔ چنانچہ ہمیں بھی اپنی اولاد کی کامیابی کے لیے ہمہ وقت دعاگو رہنا چاہیے۔
9۔ اولاد کو اچھے کاموں کی وصیت کرنا: جب انسان کا دنیا سے رخصت ہونے کا وقت قریب آ جائے تو انسان کو اپنی اولاد کو اچھے کاموں کی وصیت کرنی چاہیے تاکہ اولاد اس بات کو ذہن نشین کر لے کہ مجھے کن باتوں پر سختی سے کاربند رہنا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب علیہما السلام کی وصیتوں کا ذکر کیا ہے‘ جو انہوں نے اپنی اولاد کو کی تھیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 132 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور اسی بات کی ابراہیم اور یعقوب نے بھی اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے تمہارے لیے یہ دین چن لیا‘ سو تم ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو‘‘۔
اگر مذکورہ بالا نکات پر عمل کر لیا جائے تو یقینا اولاد کی کامیابی کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو اپنی اولادوں کی درست طریقے سے تربیت کرنے کی توفیق دے تاکہ وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں‘ آمین!