اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے دنوں میں سے آج 14 اگست کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے کہ 1947ء میں اس دن میں ہم نے آزادی کی فضا میں سانس لیا اور غلامی کے دنوں کا اختتام ہوا۔ خوش قسمتی سے 2026ء کا یوم آزادی ہمیں 'جمعۃ المبارک‘ کے دن نصیب ہو رہا ہے۔ ہجری کیلنڈر کے حساب سے پاکستان 27 رمضان المبارک کو معرضِ وجود میں آیا۔ اگر یہ رات قدر والی تھی تو تب پاک وطن کا ظہور شبِ قدر میں ہوا۔ قارئین کرام! 2026ء کے یوم آزادی پر میری نظر سورۃ الانفال کی آیت: 26 پر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ''(مسلمانو!) ذرا وہ وقت بھی یاد کرو جب تمہاری تعداد (مشرکین کے مقابلے میں) بہت تھوڑی تھی‘ اپنے ہی دیس میں تم (وسائل کے لحاظ سے) کمزور بنا دیے گئے تھے‘ (ایسے حالات میں) تم لوگ ڈر رہے تھے ( کہ طاقتور اکثریتی) لوگ تم پر جھپٹا ماریں گے اور اٹھا کر کہیں کا کہیں پھینک ڈالیں گے‘ اس صورتحال میں اللہ نے تم کو نیا ٹھکانا دیا‘ اپنے خصوصی وسائل کے ساتھ تمہاری مدد کی‘ تم لوگوں کو پاکیزہ وسائل سے رزق فراہم کیا تاکہ تم لوگ (اللہ کا) شکر ادا کرتے رہو‘‘۔ اللہ اللہ! مذکورہ یاد دہانی مدینہ منورہ میں موجود ان مومنوں کو کرائی جا رہی ہے جو مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں آئے تھے۔ اے اہلِ پاکستان! آج ہم 2026ء میں سورۃ الانفال کی 26ویں آیت میں اپنے ملنے والے خطۂ ارضی کو تلاش کریں تو وہ ''پاکستان‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد تو آ گئی۔ بنیانٌ مرصوص کی صورت میں ہم نے اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لی۔ مگر! ہمارے رزق کے وسائل پاکیزہ ہیں؟ کرپشن سے پاک ہیں؟ بددیانتی سے پاک ہیں؟ رشوت سے پاک ہیں؟ پاکیزہ رزق کا سب سے بڑا وسیلہ ''عادلانہ نظام‘‘ ہے۔ اگست کے مہینے میں اس کی ایک جھلک کراچی میں 24 سالہ نوجوان میر رضا علی کا وحشیانہ قتل ہے۔ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان پاک وطن سے محبت کا اظہار کرتا ہے اور ریڑھی سے کاروبار کا آغاز کرتا ہے۔ وہ اپنا برینڈ بنا ڈالتا ہے۔ ایک نوجوان محنت سے ترقی کرتے ہوئے سینکڑوں نوجوانوں کو روزگار دیتا ہے۔ 25 اگست کو اس کی شادی تھی۔ اب ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے فردوس کی دلہن عطا فرمائے۔ مگر اس گلے سڑے نظام کی بدبو سارے دیس کے وقار کو گدلا کر رہی ہے۔
سات اگست 2026ء ہمارے لیے ایک مبارک دن بن کر طلوع ہوا۔ مکۃ المکرمہ میں ایک معاہدہ ہوا۔ کیا خوبصورت منظر تھا کہ مکہ مکرمہ کی سرزمین کہ جسے حرم کہا جاتا ہے اور اس شہر کی حدود حرم کا تعین حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا تھا۔ ہزاروں سالوں بعد انہی حدود کا احیا ختم المرسلین رحمت دو عالمﷺ نے کیا تھا۔ اس کے بارے میں آخری الہامی کتاب قرآن مجید نے فرمایا: ''جو اس میں داخل ہوا وہ امن میں داخل ہو گیا‘‘۔ میں سمجھتا ہوں سرزمین حرمین کے دائیں جانب سے ترکیے اور بائیں جانب سے پاکستان نے جب معاہدے پر دستخط کیے کہ تینوں میں سے کسی ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا تو یوں لگا کہ بین الاقوامی غلامی سے نکلنے کا آغاز ہو گیا۔ یہ مبارک بارش کے پہلے تین قطرے ہیں۔ ایک ایک کرکے مسلم ملک اس میں شامل ہوتے جائیں گے تو بارش موسلادھار بن جائے گی۔ اس معاہدے کے لیے ہماری قیادت نے جو کردار ادا کیا وہ بھی دنیا بھر میں تحسین کی داد وصول کر رہا ہے۔ الحمدللہ! پاک وطن کی عزت کے لیے دنیا بھر میں منظر کچھ یوں بن گیا ہے جیسے برسات کے موسم میں‘ یومِ آزادی کے دن پر پھولوں کی پتیوں کی برسات ہو رہی ہو۔ کیا مہکی مہکی برسات ہے۔
مکہ مکرمہ سے ہجرت کی تیاریاں تھیں تو مدینہ منورہ میں پہنچ کر ایک نیا نظام بنانے کی بھی تیاریاں تھیں۔ اسی دوران اللہ نے اپنے پیارے رسولﷺ کو آسمانوں پر بلایا۔ آپﷺ مکہ مکرمہ سے پرواز کرکے مسجد اقصیٰ اور پھر آسمانوں پر تشریف لے گئے۔ ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بڑی محبت سے آپﷺ کا استقبال کیا۔ آپﷺ کی امت کے لیے سلام بھیجا۔ قارئین کرام! ربیع الاول کے مبارک دنوں کا بھی آغاز ہو رہا ہے۔ یعنی اس بار پاکستان کا یومِ آزادی گویا ربیع الاول کے دنوں کا استقبال کر رہا ہے۔ اے امتِ اسلام! حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہمارے پیارے رسولﷺ کی امت کے ساتھ اس قدر محبت ہے کہ وہ حضورﷺ کے واسطے سے ہم اہلِ اسلام کو پیغام بھیجتے ہیں کہ جنت کی مٹی طیبہ ہے‘ پانی میٹھا ہے‘ اس کے میدان چٹیل ہیں‘ شجر کاری اس میں ضروری ہے۔ جنت میں درخت لگانے کا وظیفہ سبحان اللہ‘ الحمدللہ‘ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر ہے۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ ہے۔ (بحوالہ ترمذی‘ مسند احمد‘ سندہٗ صحیح)
لوگو! غور کرو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا کہ دیس اور وطن میں نے دے دیا‘ آزادی عطا کر دی‘ اب رزق حاصل کرنا ہے تو وسائل کا طیب ہونا ضروری ہے۔ سرکاری محکموں کی زمین 25 کروڑ لوگوں کی زمین ہے۔ سڑکوں‘ بازاروں‘ فٹ پاتھوں کی زمین 25 کروڑ لوگوں کی زمین ہے۔ پارکوں‘ یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کی زمین 25 کروڑ لوگوں کی زمین ہے۔ ان پر قبضہ کرو گے‘ یہاں اپنی عمارتیں بنائو گے‘ یہاں دکانیں سجائو گے تو یاد رکھو! یہاں اُگنے والی فصلوں‘ یہاں بننے والی فیکٹریوں کی مصنوعات‘ حتیٰ کہ باغ اور لان کے پھل پھول کا بھی حساب دینا پڑے گا۔ 25 کروڑ پاکستانیوں کو حساب دینا پڑے گا۔ اے لوگو! اگر تمہارے ذکر واذکار جنت کے چٹیل میدانوں میں گلستان اگائیں گے‘ چمنستان مہکائیں گے‘ گل وگلزار کی بہاریں لائیں گے تو یاد رکھو! 25 کروڑ انسانوں کے غصب کیے ہوئے اموال اور حقوق نے جنت کی ساری بہاروں کو خزائوں میں تبدیل کر دیا تو تب کون سے ٹھکانے میں جائو گے؟ خود سوچ لو!
لاہور کے تھانے میں ایک بھیک مانگنے والی لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔ جو اس کا رہبر و محافظ تھا وہی راہزن بن گیا۔ پورے کا پورا تھانہ معطل ہو گیا۔ 74 افراد اب گھر میں بیٹھے ہیں۔ اب بتایا جا رہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو مگر اس سسٹم میں کچھ بھی ممکن ہے۔ جی ہاں! یہ وہی سسٹم ہے جس کے بارے میں خود وزیر داخلہ نے فرمایا کہ یہ ناکام ہو چکا ہے‘ اس کی تبدیلی ضروری ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ حکمرانوں کو احساس ہو رہا ہے کہ حکمرانی ایک کھڑا پانی بن چکی ہے۔ اس میں بدبو پیدا ہو چکی ہے‘ اس میں روانی لازمی ہے۔ حکمرانی میں روانی یہ ہے کہ کسی ملزم کے ساتھ کوئی رو رعایت نہ برتی جائے۔ ہر گنہگار کو‘ خواہ کتنا ہی بااثر اور پیسے والا ہو‘ سزا ضرور ملے۔ ہمیں آج کے دن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے کہ پاک وطن کی نعمت ملی۔ شکر کا طریقہ حکمرانوں کیلئے عدل کی فراہمی ہے اور ہم اہلِ وطن کے لیے استحکام میں حصہ داری ہے۔ تحفظ کے اداروں کیلئے شب بیداری اور خطرے کا تدارک ہے۔ جی ہاں! پاک وطن کے جانباز اپنی جانوں کی بازی لگا رہے ہیں۔ سرحدوں کے پار اس جانثاری کو ساری دنیا نے دیکھا تو سرحدوں کے اندر ہم سب کی آنکھیں دیکھ رہی ہیں۔ ایسے حالات میں لازم اور اولین فرض یہ ہے کہ 14 اگست کو عزم کیا جائے۔ ایسا عزم کہ جس میں تصمیم ہو‘ جان کی تعمیر ہو‘ کرپشن سے پاک ضمیر ہو‘ عدل کی ایسی زنجیر ہو جس تک ہر ہاتھ کی ایسی رسائی ہو کہ تسہیل ہی تسہیل ہو۔ صوبوں کی تعداد تبدیل ہو‘ بلدیاتی نظام میں وقت کی تقویم ہو‘ نچلی سطح پر اختیارات اور اموال کی تقسیم ہو۔ ہاں! ایسی تبدیلی ہو کہ قومی تبدیلی عالمی تبدیلی کے ساتھ ہمرکاب ہو جائے۔ اس رکاب میں جس پاکستانی کے بھی پائوں ہوں گے وہ شہسوار ہوگا۔ سسٹم کا گھوڑا تیز دوڑے گا۔ ایسے گھوڑے پر ہر پاکستانی کا کردار ملک کو گلستان بنا دے گا۔ اس کا کردار جنت کی زمین کو بھی گل وگلزار بنا ڈالے گا۔ اس 14 اگست کو عمل کی پرواز عطا کر یا پروردگار۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments