جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو اپنا صوبہ بنانے اور اس کی مصنوعات پر پچاس فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیاں دیں تو دراصل امریکہ نے اپنے ہی اتحادی کو یورپ کی طرف دھکیل دیا تھا۔ کیا اب بدلتا ہوا یورپ ایک نئے عالمی نظام کیلئے کوشاں ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے اور آج ہم اس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
گزشتہ دنوں جب فرانسیسی شہر سٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ یورپ اور کینیڈا اکٹھے زیادہ مضبوط ہیں تو وہ صرف دو فریقوں کی بات نہیں کر رہے تھے‘ وہ دوسری عالمی جنگ کے بعد تشکیل پانے والے پورے مغربی نظام کی قبر پر کتبہ لگا رہے تھے۔ دوسری طرف جب ایک لاکھ سے زائد لوگ برطانوی پارلیمنٹ سے کہتے ہیں کہ ہمیں واپس یورپ میں لے جاؤ‘ تو وہ بریگزٹ نہیں بلکہ امریکی قیادت والے دور کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان دونوں اقدامات کے دور رس اثرات مرتب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ سب سے بڑا سیاسی اثر یہ ہے کہ اب مغرب کی تعریف بدل رہی ہے۔ 1949ء سے مغرب کا مطلب تھا: امریکہ‘ یورپ بشمول برطانیہ اور کینیڈا۔ نیٹو اس کی فوجی قوت کا اظہار تھا۔ اب امریکہ خود اس اتحاد پر ٹیرف لگا رہا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست کہنے اور کینیڈا اور یورپ پر بڑے ٹیرف لگانے کی دھمکی نے نیٹو کے مشترکہ دفاع کے آرٹیکل پانچ سے زیادہ طاقتور آرٹیکل کو جنم دیا ہے اور اس کا نام ہے بداعتمادی۔
کیا کینیڈا اور یورپ مل کر طاقت کا ایک تیسرا ستون بنا پائیں گے؟ کینیڈین وزیراعظم کارنی نے خود کہا کہ ہم تیسرا بلاک نہیں بننا چاہتے‘ جو محض بہتر اخلاق کے ساتھ بڑی طاقتوں کی نقل کرے۔ لیکن حقیقت میں وہی بن رہا ہے۔ یورپی کمیشن کی سربراہ اُرسُلا وان ڈیر لین نے اسے مشترکہ خوشحالی اور اقتصادی زون کا نام دیا ہے‘ جس میں مشترکہ اسلحہ سازی‘ ٹیکنالوجی اتحاد اور اے آئی وغیرہ پر کام شامل ہے۔ یہ نیٹو کا متبادل نہیں بلکہ نیٹو کے اندر ایک ایسا نیا گروپ ہے جس میں امریکہ کو شامل نہیں کیا گیا۔ یورپ میں اب یہ جملہ عام ہے کہ امریکہ کے بغیر بھی یورپ کی دفاعی خودمختاری ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف برطانیہ کیلئے یہ سیاسی خودکشی سے واپسی کا راستہ ہے۔ اگر لیبر حکومت نے نوجوان اورتعلیم و تربیت‘ کھیلوں اور تربیت کے ایکسچینج پروگرام (Erasmus) کا راستہ کھول دیا تو 2029ء کے الیکشن تک یورپی یونین میں واپسی کا ایشو برطانیہ کی سب سے بڑی سیاسی بحث بن جائے گا۔ اس کا مطلب سکاٹ لینڈ کی آزادی کی تحریک کا کمزور ہونا بھی ہے کیونکہ سکاٹ لینڈ یورپی یونین کا حصہ رہنا چاہتا تھا۔ علاوہ ازیں نایاب معدنیات اور توانائی کی نئی سپلائی چین سب سے اہم اور فوری اثر ہے۔ آج دنیا کی معیشت دو چیزوں پر چلتی ہے: بیٹری اور چپ۔ دونوں کی تیاری کیلئے 34 نایاب معدنیات چاہئیں۔ چین اس وقت ان معدنیات کی 70 فیصد پراسیسنگ پر قابض ہے۔ امریکہ نے کینیڈا پر ٹیرف لگا کر اپنے لیے یہ راستہ بند کر دیا ہے۔ کینیڈا کے پاس یہ تمام 34 معدنیات موجود ہیں۔ دنیا کا تیسرا بڑا یورینیم‘ دوسرا بڑا نکل‘ چوتھا بڑا کوبالٹ ذخیرہ کینیڈا کے پاس ہیں۔ مارک کارنی نے اب یورپ کو پیشکش کی ہے کہ کینیڈا مارکیٹ اور ریسرچ کے عوض یورپ کو خام مال دینے کیلئے تیار ہے۔
وزیراعظم کارنی کے خطاب میں ایک چھوٹا سا جملہ تھا جسے میڈیا نے نظر انداز کر دیا۔ وہ یہ کہ ہمارے نوجوان ایک دوسرے کے ہاں رہ سکیں‘ کام کر سکیں‘ پڑھ سکیں۔ دراصل یہ یوتھ ایکسپیرینس سکیم اور ایراسمس کی واپسی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگلے پانچ سال میں ایک لاکھ کینیڈین نوجوان یورپ میں اور ایک لاکھ یورپی نوجوان کینیڈا میں کام کریں گے۔ برطانوی نوجوان جو بریگزٹ کے بعد یورپ میں کام نہیں کر سکتے تھے‘ اب دوبارہ برلن اور پیرس جا سکیں گے۔ لندن کے ہسپتالوں اور تعمیرات کے شعبے میں جو ایک لاکھ 40 ہزار یورپی ورکرز کم ہوئے ہیں اور جن کا ذکر لندن کے میئر صادق خان نے بھی کیا ہے‘ وہ واپس آ سکیں گے۔ اسے برین ڈرین نہیں بلکہ مغرب کی نئی برین سرکولیشن کہا جا سکتا ہے۔
سٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ میں کینیڈین وزیراعظم نے جو تقریر کی‘ اس نے دوسری عالمی جنگ کے بعد کے عالمی نظام کی سب سے بڑی دراڑ کو دنیا کے سامنے کھول دیا ہے۔ یہ تقریر صرف ایک تقریر نہیں تھی‘ یہ ایک اعلان تھا کہ مغرب اب ایک نہیں رہا۔ اس سے قبل 16 ستمبر کو یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین نے اپنے سالانہ سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اعلان کیا کہ یورپ کینیڈا کے ساتھ تعلقات کو اعلیٰ ترین سطح پر لے جانا چاہتا ہے اور وہ کینیڈا کو یورپی یونین کا پہلا ایسوسی ایٹ ممبر بنانے کا دروازہ کھولنا چاہتی ہیں۔ یہ لفظ یورپی تاریخ میں پہلی بار استعمال ہوا۔ یورپی معاہدوں میں ''ایسوسی ایٹ ممبر‘‘ جیسی کوئی چیز سرے سے موجود نہیں تھی۔ کسی زمانے میں جرمنی نے یہ اصطلاح یوکرین کیلئے سوچی تھی مگر کبھی نافذ نہ ہو سکی۔ اگلے ہی دن 17ستمبر کو کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی پارلیمنٹ میں داخل ہوئے تو ان کا ایسا شاندار استقبال ہوا کہ جیسا یورپ نے کبھی کسی غیر یورپی لیڈر کا نہیں کیا تھا۔ایک رکن تو کینیڈا کی ہاکی جرسی پہن کر آیا۔
صدر ٹرمپ کی کینیڈا کو دھمکیاں اسے سٹراسبرگ لے گئیں۔ اس طرح ٹرمپ نے اپنے ہی پڑوسی اور ایک بڑے حلیف کو یورپ کی گود میں دھکیل دیا۔ ادھر لندن میں اب ایک نیا سیاسی زلزلہ برپا ہے۔ بریگزٹ کو ریورس گیئر لگ چکا ہے۔ برطانیہ نے 2016ء میں 51.9 فیصد ووٹوں سے یورپی یونین کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مگر گزشتہ دس سال میں صورتحال الٹ چکی ہے۔ پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کیلئے ایک درخواست دائر ہوئی‘ جس پر ایک لاکھ سے زائد دستخط ہو چکے ہیں۔ برطانوی قانون کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ دستخط ہو جانے پر پارلیمنٹ کو اس ایشو پر بحث کرنا پڑتی ہے۔ اب 12 اکتوبر کو ہاؤس آف کامنز میں باضابطہ طور پر بریگزٹ کو واپس لینے پر بحث ہونے جا رہی ہے۔ یہ دس سال میں پہلی بار ہوگا کہ پارلیمنٹ میں کھلے عام ''ری جوائن‘‘ کا لفظ گونجے گا۔ یہ صرف ایک درخواست نہیں‘ ایک تازہ سروے کے مطابق 61 فیصد برطانوی عوام اب یورپی یونین میں واپس جانا چاہتے ہیں‘ جو آج تک کی بلند ترین شرح ہے۔ لندن کے مئیر صادق خان نے ایک اطالوی اخبار کو انٹرویو میں پانچ نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے۔ لیبر پارٹی اس ایشو کو شاید اگلے الیکشن کے منشور میں شامل کرے۔ وزیراعظم اینڈی برنہم‘ جو جولائی میں وزیراعظم بنے‘ ان سے اقوام متحدہ جاتے ہوئے جب صحافیوں نے پوچھا کہ کیا آپ اگلے الیکشن منشور میں یورپی یونین میں واپسی کا وعدہ شامل کریں گے تو انکار کے بجائے ان کا کہنا تھا کہ یہ سوال کسی اور دن کیلئے ہے۔ برطانوی وزیر برائے یورپی امور نے بھی ہاؤس آف کامنز میں یہ یقین دہانی کرانے سے انکار کر دیا کہ برطانیہ دوبارہ یورپی یونین میں شامل نہیں ہو گا۔ وجہ صاف ہے‘ برطانوی معیشت چیخ رہی ہے۔ برطانیہ کا بجٹ نگران ادارہ او بی آر کہتا ہے کہ بریگزٹ کے سبب برطانیہ کی طویل مدتی پیداوار 4فیصد کم رہے گی اور درآمدات و برآمدات 15 فیصد کم ہو چکی ہیں۔
یورپ بدل رہا ہے۔ اب یہ 1990ء والا یورپ نہیں رہا جہاں امریکہ محافظ تھا اور یورپ اس کا بازار۔ اب یہ ایک نیا یورپ ہے جو مجبوری میں خود مختار ہو رہا ہے۔ یہ نیا اتحاد نظریاتی ہے‘ تجارتی نہیں۔ وزیراعظم کارنی نے اپنی تقریر میں بار بار کہا کہ ہم قانون کی حکمرانی‘ انسانی وقار اور جمہوریت کے دفاع کیلئے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ یہ امریکہ اور چین‘ دونوں کیلئے پیغام ہے کہ دنیا میں ایک تیسرا فریق بھی ہے‘ یہ بدلتا ہوا یورپ ہے۔ خودمختار ہوتا ہوا یورپ۔ اب یورپ امریکہ کے سائے سے نکل کر اپنی کہانی خود لکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments