چالیس برس گزر گئے... چالیس برس! جب میں یہ عدد لکھتا ہوں تو میرے اپنے ہاتھ کانپ جاتے ہیں۔ چالیس برس پہلے ہمارے والد گرامی اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ مجھے آج تک وہ شام یاد ہے جب گھر کے صحن میں حسبِ معمول ہم سب پاکستان ٹیلی ویژن پر خبرنامہ دیکھ رہے تھے۔ خبرنامہ ختم ہوتے ہی والد گرامی نے سینے میں درد کی شکایت کی اور گھر میں موجود ابتدائی طبی امداد کی کچھ ادویات طلب کیں‘ مگر افاقہ نہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے چند لمحوں میں وہ اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ یوں رنگ و نور سے تاباں وہ درخشندہ چہرہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا اور ہماری زندگی کی خوشیاں ہم سے روٹھ گئیں۔ میں اُس وقت اتنا کم عمر تھا کہ موت کا مطلب بھی پوری طرح نہیں جانتا تھا۔ مجھے لگا تھا کہ ابا جی سو گئے ہیں‘ ابھی اٹھ جائیں گے‘ چھوٹے بھائیوں کو کندھے پر بٹھائیں گے اور بازار لے جائیں گے۔ لیکن وہ ایسی ابدی نیند سو چکے تھے جس سے آج تک کوئی نہیں جاگا۔ چالیس سال سے میں اسی نیند کے ٹوٹنے کا انتظار کر رہا ہوں اور ان کی راہ تکتے تکتے میری منتظر نگاہیں پتھرا گئی ہیں۔ ان کی اچانک موت کے بعد ہماری والدہ ماجدہ نے درد و الم میں ڈوبتی ہماری کشتی کو آنسوؤں کے گرداب سے نکال کر زندگی کے حسین نظاروں کی طرف دھکیلنا شروع کیا۔ والدہ محترمہ نے خزاں رُت میں ہمیں بہاروں کے حصار میں رکھا اور خود زمانے کی تند و تیز ہواؤں کا مقابلہ کیا۔
اور پھر تین سال پہلے... ہم سات بھائیوں کی جنت‘ ہماری والدہ محترمہ نے بھی اسی راہِ عدم کو اختیار کیا جس کے ہم مسافر ہیں۔ اگر باپ کی موت بچپن کی یتیمی ہے تو ماں کی موت بڑھاپے کی یتیمی ہے۔ باپ جاتا ہے تو سر سے سائبان اٹھ جاتا ہے‘ ماں جاتی ہے تو دل سے قرار روٹھ جاتا ہے۔ والدہ کے جنازے پر میں نے پہلی بار خود کو مکمل طور پر یتیم محسوس کیا۔ پچاس سال کا ہو کر بھی اس قبر پر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا‘ کیونکہ اس قبر میں میری ماں کے ساتھ میرا بچپن‘ میرے خواب اور ان سے وابستہ خوشیاں بھی دفن ہو رہی تھیں۔
زندگی اور موت کا یہ فلسفہ کتنا ظالم ہے۔ زندگی عارضی مہمان ہے‘ جبکہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ہم ساری زندگی گھر بناتے‘ جائیدادیں جوڑتے اور نام کمانے میں لگے رہتے ہیں‘ لیکن موت کا ایک جھونکا سب کچھ اڑا لے جاتا ہے۔ میرے والد نے ہمارے لیے نجانے کتنے خواب دیکھے ہوں گے‘ لیکن موت نے انہیں مہلت ہی نہ دی۔ ہماری جان سے پیاری ماں نے اپنی ساری زندگی ہمیں دے دی‘ اپنا آرام اور خواہشیں ہم پر نچھاور کر دیں‘ مگر وقت آنے پر وہ بھی خالی ہاتھ اسی مٹی میں جا کر ہمیشہ کے لیے سو گئیں۔
گزشتہ اتوار جب ہم بھائیوں نے ان دونوں کی اجتماعی دعائے مغفرت کا اہتمام کیا تو میرا دل غم سے پھٹ رہا تھا۔ دعا کے الفاظ وہی تھے لیکن میری آنکھوں کے سامنے دو قبریں تھیں۔ ایک چالیس سال پرانی قبر‘ جس کا کتبہ دھندلا پڑ چکا ہے‘ اور دوسری نئی قبر‘ جس کی مٹی ابھی کچھ گیلی ہے۔ باپ اور ماں چند گز کے فاصلے پر مٹی کی چادر اوڑھے سو رہے ہیں۔ والدہ ماجدہ کی تیسری برسی کا سب سے کربناک منظر قبرستان میں پیش آیا‘ جسے ہمارے بچوں نے تخلیق کیا۔ والدہ محترمہ کا اپنے پوتے پوتیوں سے رشتہ محض رشتہ نہیں بلکہ روح کا بندھن تھا۔ وہ ان کے لیے جاگتی‘ سوتی اور جیتی تھیں۔ جب کوئی بچہ بیمار پڑ جاتا تو وہ ساری رات اس کی صحت و سلامتی کے لیے قرآن پڑھتیں اور اس کے ماتھے پر اپنا ٹھنڈا ہاتھ رکھتیں۔ انہوں نے ان معصوموں کو ایسی محبت دی کہ آج وہ زخم بن کر ان کے دلوں میں رس رہی ہے۔ اس مرتبہ اجتماعی دعائے مغفرت کے روز جب تمام بچے قبرستان گئے تو میرے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ان ننھے ہاتھوں میں گلاب کے تازہ پھول تھے۔ انہوں نے دادی جان کی قبر پر پھول نہیں چڑھائے‘ گویا اپنے دل نکال کر رکھ دیے۔ ایک پوتی قبر کے کتبے سے لپٹ کر سسک رہی تھی ''دادی اماں! آپ ہمیں چھوڑ کر کیوں چلی گئیں؟‘‘ ایک پوتا قبر کی مٹی کو چوم رہا تھا‘ جیسے وہ مٹی نہیں بلکہ اس کی دادی کے قدموں کی خاک ہو۔ وہ سب اب بھی اس انتظار میں ہیں کہ شاید دادی اماں کل واپس آ جائیں گی‘ انہیں پھر کہانی سنائیں گی اور لوریاں دیں گی۔ پھر وہی بچے چند قدم آگے بڑھ کر اپنے دادا کی قبر پر جا کھڑے ہوئے‘ جن کی گود میں کبھی بیٹھے نہیںاور جنہیں انہوں نے کبھی دیکھا تک نہیں۔ ایک دادا جو اپنے خون کو دیکھنے کی حسرت دل میں لیے چلا گیا اور پوتے پوتیاں اپنی دادا کی شفقت سے محروم رہ گئے۔ انہوں نے اس قبر پر بھی پھول رکھے اور فاتحہ پڑھی۔ خون بول رہا تھا۔ مٹی میں سوئے دادا اور مٹی پر کھڑے پوتوں پوتیوں کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ایک لمحے میں ختم ہو گیا۔ میں نے سوچا‘ کاش میرے والد دیکھتے کہ ان کے وہ پوتے پوتیاں‘ جنہیں انہوں نے کبھی نہیں دیکھا‘ ان کی قبر پر کھڑے ان کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دعا کر رہے ہیں۔
اسی لمحے میرے بھتیجے ضرار حیدر نے ایک وڈیو بنائی۔ وہ ایک چیخ اور نوحہ تھا۔ اس کمسن بچے نے اپنی دادی کو جس کرب سے یاد کیا‘ اس کی آواز کی لرزش اور آنسو سن کر کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔ وہ کہہ رہا تھا ''دادی اماں! گھر خالی ہو گیا ہے‘ آپ کے بغیر سب کچھ ادھورا ہے‘‘۔ وہ سچ کہہ رہا تھا۔ ماں کے بغیر گھر گھر نہیں رہتا‘ صرف مکان رہ جاتا ہے۔ ہماری والدہ ماجدہ اور بچوں کی دادی اماں کے بغیر صحن میں وہ ہنسی نہیں گونجتی‘ نہ وہ خوشبو آتی ہے۔ والدین اور اولاد کا رشتہ اس کائنات کا سب سے گہرا راز ہے۔ ماں باپ اپنی اولاد کے لیے جیتے ہیں اور ان کے چلے جانے کے بعد اولاد ساری زندگی ان کی یاد میں تڑپتی ہے۔ باپ کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھنے والا بچہ جوان ہو کر اسی باپ کی چارپائی کو کندھا دیتا ہے۔ ماں کی گود میں سونے والا بچہ بڑا ہو کر اسی ماں کو قبر کی گود میں سلا دیتا ہے۔ یہی زندگی کا فلسفہ اور موت کا دستور ہے۔ آنے والا ہر شخص جانے کے لیے آتا ہے۔ جانے کتنے غم ہیں زمانے میں لیکن ماں باپ کے بچھڑنے کا غم سب سے بڑا اور یہ گھاؤ سب سے گہرا ہے۔ یہ وہ غم ہے جو گھر گھر میں بسیرا کیے ہوئے ہے۔کسی کے دل میں باپ کی ڈانٹ کی یاد ہے جو آج دعا لگتی ہے‘ تو کسی کے کانوں میں ماں کی لوری گونجتی ہے جو اب کہیں سنائی نہیں دیتی۔
اسلام آباد ایئر پورٹ پر برطانیہ کی پرواز کے انتظار میں بیٹھا میں سوچ رہا ہوں کہ ماں باپ کی موجودگی سے قیمتی کوئی نعمت اور ان کے چھن جانے سے بڑا کوئی غم نہیں۔ اگر وہ زندہ ہیں تو ان کے پاس بیٹھیں‘ ان کے ہاتھ چومیں‘ ان کے پاؤں دابیں‘ ان سے باتیں کریں اور ان کی دعائیں لیں‘ اس سے پہلے کہ وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائیں اور آپ کے ہاتھ میں صرف پھول رہ جائیں‘ اور سامنے مٹی کا ڈھیر ہو۔ جن کے والدین اس دنیا سے جا چکے ہیں‘ وہ انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں کیونکہ آپ کے آنسوؤں اور دعا کے سوا اب انہیں کوئی تحفہ نہیں پہنچتا۔
اللہ کریم ہمارے والد گرامی‘ جنہیں اس دنیا سے گئے چالیس برس ہو گئے‘ اور والدہ محترمہ‘ جو تین سال پہلے رخصت ہوئیں‘ دونوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی قبروں کو تاحدِ نگاہ وسیع کر دے۔ جن جن کے پیارے مٹی کی چادر اوڑھے ہمیشہ کے لیے آسودۂ خاک ہو گئے‘ اللہ کریم ان تمام مرحومین کی کامل مغفرت فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر عطا فرمائے‘ کیونکہ صبر و رضا ہی ہمیں زندہ رکھے ہوئے ہیں‘ ورنہ یہ غم تو ہمیں کب کا مار چکا ہوتا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments