ایک زمانہ تھا جب کسی شخص پر الزام لگتا تو گواہ ڈھونڈے جاتے‘ ثبوت پرکھے جاتے‘ قاضی کے روبرو فریقین کو سنا جاتا اور پھر فیصلہ صادر ہوتا تھا۔ انصاف دیر سے ملتا تھا مگر ملتا ضرور تھا‘ اور سب سے بڑھ کر‘ الزام لگنے سے پہلے انسان کو انسان سمجھا جاتا تھا۔ آج عدالت فیس بک پر لگتی ہے‘ گواہ ٹک ٹاک پر پیش ہوتے ہیں‘ ثبوت وَٹس ایپ کے فارورڈ شدہ پیغام میں ہوتا ہے اور جج ہر وہ شخص ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں سمارٹ فون ہے۔ فیصلہ سیکنڈوں میں ہوتا ہے اور سزا عزت و آبرو کی نیلامی‘ کردار کی بدنامی اور خاندان بھر کی رسوائی ہوتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ملزم کو اپیل کا حق بھی میسر نہیں ہوتا۔ یہ سوشل میڈیا ٹرائل کی وہ اندھیری دنیا ہے جس نے ہمارے معاشرے کو ایسی بھیڑ میں بدل دیا ہے جہاں جس کی آواز سب سے اونچی ہو گی‘ وہی سچا سمجھا جائے گا۔
ایسے ماحول میں کسی شریف آدمی کی پگڑی اچھالنا کتنا آسان ہو گیا ہے‘ یہ سب جانتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں پگڑی عزت کی علامت ہے۔ باپ کی پگڑی بیٹے کے سر پر فخر سے رکھی جاتی ہے‘ لیکن سوشل میڈیا نے اسے اچھالنا دنیا کا سب سے آسان کام بنا دیا ہے۔ کسی نامعلوم اکاؤنٹ سے پوسٹ لگتی ہے کہ فلاں صاحب کی خفیہ وڈیو لیک ہو گئی‘ فلاں افسر رشوت لیتے پکڑا گیا ہے یا فلاں استاد کا اپنی فلاں طالبہ سے نازیبا تعلق ہے۔ نہ تحقیق‘ نہ تصدیق اور نہ خبر کا کوئی مصدقہ ذریعہ۔ صرف سنسنی خیز سرخی‘ دھندلی تصویر یا ایڈٹ شدہ آڈیو کلپ۔ پھر ہزاروں لوگ اسے شیئر کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے ''مجھے پہلے ہی شک تھا‘‘، کوئی ایسے لوگوں کو بے نقاب کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ نیکی کے جذبے سے سرشار ہر شخص شیئر کے بٹن پر کلک اور ٹچ کرکے سمجھتا ہے کہ اس نے معاشرے کی بڑی خدمت کر دی مگر اسے اندازہ نہیں ہوتا کہ ایک کلک یا ایک ٹچ سے اس نے کسی کی عمر بھر کی کمائی ہوئی عزت مٹی میں ملا دی ہے۔
مجھے یاد ہے کہ گزشتہ برس ایک ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر کے بارے میں یہ جھوٹی خبر وائرل ہوئی کہ انہوں نے یتیم بچوں کے فنڈ میں خورد برد کی ہے۔ خبر کے ساتھ نہ کوئی دستاویز تھی‘ نہ آڈٹ رپورٹ‘ صرف ایک فیک آئی ڈی کی پوسٹ تھی۔ تین دن میں خبر پورے ضلع میں پھیل گئی۔ جن ہیڈ ماسٹر صاحب نے ساری زندگی اپنے سکول کو دے دی تھی‘ وہ اپنے ہی گاؤں میں نظریں جھکا کر چلنے لگے۔ ان کی بیٹی کی منگنی بھی ٹوٹ گئی۔ بعد میں انکوائری ہوئی تو پتا چلا کہ الزام سو فیصد جھوٹا تھا اور ذاتی رنجش رکھنے والے شخص نے یہ جھوٹ پھیلایا تھا۔ محکمے نے انہیں بے گناہ قرار دے دیا لیکن کیا سوشل میڈیا نے بھی ایسا کیا؟ نہیں! آج بھی گوگل پر ان کا نام سرچ کریں تو وہی جھوٹی خبر سب سے پہلے نظر آتی ہے۔ سرکاری کاغذات پر وہ بے گناہ ہیں مگر سوشل میڈیا کی عدالت میں آج بھی مجرم ہیں۔
یہی اصل المیہ ہے۔ سرکاری عدالت ملزم کو جرم ثابت ہونے تک بے گناہ مانتی ہے لیکن ہماری وائرل عدالت جرم ثابت نہ ہونے پر بھی ملزم کو مجرم ہی سمجھتی ہے۔ وائرل ہونا سچ ہونے کی دلیل کب سے بن گیا؟ اس نئے عدالتی نظام کا خطرناک اصول یہ ہے کہ جو چیز جتنی زیادہ وائرل ہو‘ وہ اتنی زیادہ سچی سمجھی جاتی ہے۔ پہلے پوچھا جاتا تھا کہ خبر مصدقہ ذریعے سے ہے یا نہیں‘ اب سوال ہوتا ہے کہ اسے کتنے لوگوں نے دیکھا ہے۔ ایک جھوٹ کو دس لاکھ لوگ دیکھ لیں تو وہ سچ سے زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ فیک نیوز اور مس انفارمیشن کی وہ منظم انڈسٹری ہے جو اب ایک باقاعدہ کاروبار بن چکی ہے۔ یوٹیوب کے ویوز‘ فیس بک پیج کی ریچ اور ٹک ٹاک فالوورز کیلئے کسی شریف آدمی کی عزت کو ایندھن بنا لیا جاتا ہے۔ ایک ہمدردی بھری کہانی بناؤ‘ اس میں مرچ مسالا لگاؤ‘ روتی ہوئی عورت یا مظلوم بچے کی تصویر لگاؤ اور عنوان ایسا رکھو کہ لوگ اسے دیکھنے اور سننے پر مجبور ہو جائیں: ''آخر اس معصوم کے ساتھ کیا ہوا؟ جان کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے‘‘۔ یوں ہمدردی کے نام پر نفرت کا کاروبار چل نکلتا ہے۔مس انفارمیشن فیک نیوز سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ فیک نیوز سراسر جھوٹ ہوتی ہے جبکہ مس انفارمیشن میں آدھا سچ اور آدھا جھوٹ ہوتا ہے۔ کسی کی پرانی تصویر کو نئے واقعے سے جوڑ دیا جاتا ہے یا دس سال پرانے بیان کو توڑ مروڑ کر آج کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ سننے والے کو بات سچی لگتی ہے کیونکہ تصویر اصلی اور آواز اسی شخص کی ہوتی ہے۔ مگر اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ سیاق و سباق بدل دیا گیا ہے۔ ہم سب اس جرم میں شریک ہیں۔ شاید آپ سوچیں کہ یہ یوٹیوبرز اور فیک آئی ڈیز کا قصور ہے مگر اس جرم میں ہم سب برابر کے شریک ہیں۔ وہ لمحہ یاد کیجیے جب آپ نے بغیر تصدیق کے کوئی خبر خاندان کے وَٹس ایپ گروپ میں فارورڈ کی‘ کسی کی ذاتی وڈیو دوسروں کو بھیجی یا ایسی پوسٹوں کے کمنٹس میں لکھا کہ ایسے لوگوں کو سرعام پھانسی دینی چاہیے‘ حالانکہ آپ اس شخص کو‘ اس واقعے کی اصل حقیقت کو جانتے تک نہیں تھے۔
ہم بھول گئے ہیں کہ اس حوالے سے ہمارے دین نے ہمیں کیا سکھایا ہے۔ قرآن مجید میں واضح حکم ہے: ''اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو‘‘ (سورۃ الحجرات)۔ تحقیق‘ تثبت اور تبین اسلامی صحافت کے بنیادی اصول ہیں مگر آج ہم انہیں فراموش کر چکے ہیں۔ ہم فیک آئی ڈیز کی خبروں پر یقین کرکے فوراً دوسروں کو نقصان پہنچا دیتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ کسی شخص کے جھوٹا ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ محض سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔ آج ہم سنی سنائی باتوں کے سب سے بڑے نشریاتی ادارے بنے ہوئے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس آگ کو کیسے بجھایا جائے؟ کیا اس وائرل عدالت کو بند کیا جا سکتا ہے؟ شاید پوری طرح نہیں! لیکن اس کے قاضیوں‘ یعنی خود کو ضرور سدھارا جا سکتا ہے۔ پہلا اصول ہے کہ رکیں‘ سوچیں اور پھر شیئر کریں۔ سنسنی خیز خبر سامنے آئے تو خود سے تین سوال پوچھیں: کیا اس کا کوئی مصدقہ ذریعہ ہے؟ کیا اس میں دوسرے فریق کا مؤقف شامل ہے؟ اور اگر خبر جھوٹی نکلی تو نقصان کون برداشت کرے گا؟ ان سوالوں کے جواب نہ ہوں تو شیئر کے آپشن سے دور رہیں۔ آپ کا ایک نہ کیا ہوا شیئر کسی کا گھر ٹوٹنے سے بچا سکتا ہے۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ قانون کو اپنا کام کرنے دیں۔ کسی نے واقعی جرم کیا ہے تو اس کیلئے قانون‘ عدالتیں اور متعلقہ ادارے موجود ہیں۔ آپ جج نہ بنیں اور گواہ بھی نہ بنیں! جب تک اپنی آنکھوں سے کچھ نہ دیکھا ہو۔ تیسرا اصول یہ ہے کہ متاثرہ شخص کی آواز بنیں۔ کسی بے گناہ کی پگڑی اچھالی جا رہی ہو تو خاموش تماشائی نہ بنیں بلکہ کمنٹس میں پوچھیں: ''اس کا کیا ثبوت ہے؟ کیا واقعہ تصدیق شدہ ہے؟‘‘ یہ ایک سوال وائرل آگ پر پانی کا پہلا چھینٹا ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ سائبر کرائم قوانین کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہو جو دوسروں کی عزت پامال کرکے اپنا کاروبار چمکاتے ہیں۔ فیک نیوز پھیلانے والے پیجز کو بند کرنا اور ان پر بھاری جرمانے عائد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ یہ عزتوں کا قتل ہے اور قتل سے کم جرم نہیں۔
ہمیں ایک مہذب معاشرہ بننا ہے‘ جہاں فیصلے شور سے نہیں شعور سے‘ بھیڑ سے نہیں‘ دلیل سے‘ اور وائرل ہونے سے نہیں‘ حق پر ہونے سے ہوں۔ آئیے! عہد کریں کہ سوشل میڈیا پر جج نہیں ذمہ دار شہری بنیں گے اور کسی کی پگڑی اچھالنے سے پہلے سو بار سوچیں گے‘ کیونکہ اچھلنے والی یہ پگڑی کل کو ہماری بھی ہو سکتی ہے۔ جب ہماری اپنی پگڑی اچھلے گی تب احساس ہوگا کہ ایک کلک اور ایک ٹچ کا بوجھ کتنا بھاری ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچ بولنے‘ سچ سننے اور سچ پر قائم رہنے کی توفیق دے‘ چاہے وہ وائرل ہو یا نہ ہو۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments