سلطنت روم سے رومانیہ تک

گزشتہ چند روز سے میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کیلئے رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ میں موجود ہوں جس میں میرا تحقیقی مقالہ بھی منتخب ہو چکا ہے۔ یہ ستمبر کی ایک دلآویز صبح ہے اور میں اس تاریخی شہر کی پتھریلی گلیوں میں کافی کا کپ ہاتھ میں لیے گھوم پھر رہا ہوں۔ میری ایک طرف انیسویں صدی کی فرانسیسی طرز کی عمارتیں ہیں جن کی بدولت اسے مشرقی یورپ کا چھوٹا پیرس (Little Paris) کہا جاتا ہے‘ اور دوسری طرف جدید طرزِ تعمیر کی شاہکار محل نما پارلیمنٹ کی عظیم الشان عمارت کا سایہ ہے جسے ڈکٹیٹر صدر نیکول چاؤ شیسکو کے حکم پر تیرہ برس کی طویل مدت میں اور لگ بھگ چار ارب یورو کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا۔ آج کا رومانیہ مجھے اسی عجیب تضاد کی چادر میں لپٹا ہوا سلطنتِ روم کا استعارہ نظر آتا ہے۔ ایک ایسا روم جو کبھی بام عروج پر تھا‘ پھر زوال پذیر ہوا‘ اور آج تاریخی سلطنت کی ایک اولاد کی شکل میں میرے سامنے کھڑا ہے۔ رومانیہ صرف ایک ملک نہیں یہ سلطنتِ روم کی سوانح کا ایک روشن باب ہے۔ عروج و زوال کی اس داستان کو آسان بنانے کیلئے اسے تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ سلطنتِ روم کے جاہ و جلال اور حسن و جمال کا مظہر ہے جب دنیا روم کے قدموں میں تھی۔ یہ عروج کوئی ایک دن کا قصہ نہیں بلکہ پانچ سو سال کی مسلسل ریاضت تھی جسکے تین بنیادی ستون تھے۔ پہلا ستون فوجی نظم و ضبط پر مشتمل تھا۔ روم کی فوج دنیا کی پہلی پروفیشنل فوج تھی۔ ایک عام رومی سپاہی روزانہ 40کلو گرام وزن اٹھا کر 30کلو میٹر پیدل مارچ کرنے کی صلاحیت و طاقت رکھتا تھا۔ اسی فوج نے بحیرۂ روم کا سینہ چیر کر سمندر کے پانیوں پر حکمرانی کی۔ آج بخارسٹ سے صرف دو گھنٹے کی دوری پر آدمکلسی میں شہنشاہ تراجان کی فتح کی یادگار پر نصب ایک ٹرافی اسی فوجی برتری کی گواہی دے رہی ہے۔ اس سلطنت کا دوسرا ستون قانون و انصاف کا مربوط نظام تھا جسکے باعث روم نے دنیا کو یہ باور کرایا تھا کہ قانون بادشاہ سے بڑا ہوتا ہے۔ پوری رومی سلطنت میں ایک قانون‘ ایک سکہ‘ اور ایک ہی لاطینی زبان نافذ العمل تھی۔ ایک شامی تاجر اگر سپین میں مر جاتا تو اس کا مقدمہ بھی اسی قانون کے تحت ہوتا۔ یہی وہ نظام تھا جس نے رومی تجارت کو بین الاقوامی سطح پر بے پناہ فروغ دیا۔ تیسرا ستون سلطنتِ روم کی مسلسل توسیع اور مال و دولت کا حصول تھا۔ رومانیہ کا جنم بھی اسی عروج کا نقطہ کمال تھا۔ سنہ 101ء سے 106 عیسوی تک شہنشاہ تراجان نے دو خونریز جنگوں کے بعد ڈاسیا کو فتح کیا اور ڈاسیا ہی آج کا رومانیہ ہے۔ دراصل یہ روم کی آخری اور سب سے قیمتی فتح تھی۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ ڈاسیا میں سونے اور چاندی کی کانوں سے روم کو اتنا سونا ملا کہ روم نے 123 دن تک جشن منایا‘ دس ہزار گلیڈی ایٹرز کی لڑائیاں ہوئیں اور پورے روم میں ٹیکس معاف کر دیا گیا۔ اسی دولت سے بادشاہ تراجان نے روم میں 35 میٹر اونچے ستون پر مشتمل وہ یادگاری فورم بنوایا جسکے کھنڈرات آج بھی آپ کو حیران کر دیتے ہیں۔ اس ستون پر کندہ 155 مناظر ڈاسیا کی جنگ کے عکاس ہیں۔ لہٰذا جب میں نے بخارسٹ کے قومی عجائب گھر میں ڈاسیا کے بادشاہ دیسی بالس کا ہیلمٹ دیکھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ سلطنتِ روم کے عروج کا زمانہ چند لمحات کیلئے لوٹ آیا ہو۔ اس وقت روم کی آبادی صرف دس لاکھ تھی مگر اس کی سرحدیں موجودہ عراق سے سکاٹ لینڈ تک پھیلی ہوئی تھیں۔
اس کہانی کا دوسرا حصہ سلطنتِ روم کے زوال کا احاطہ کرتا ہے کیونکہ وقت کا پہیہ چلتا رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر بڑی سلطنت اپنے ہی وزن سے گرتی ہے۔ روم کے زوال کے پانچ بڑے اسباب تھے‘ اور حیرت انگیز طور پر ان پانچوں کا تعلق رومانیہ سے جڑا ہے۔ اول: حد سے زیادہ پھیلاؤ کے نتیجے میں سلطنت اتنی بڑی ہو گئی کہ اس کی سرحدوں کی حفاظت ممکن نہ رہی۔ فوج کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے میں کئی مہینے لگتے تھے۔ دوم: معاشی دیوالیہ پن نے اپنا کردار ادا کیا کیونکہ جنگوں پر اتنا سرمایہ خرچ ہوتا تھا کہ سکوں تک میں ملاوٹ شروع ہو گئی تھی۔ تیسری صدی عیسوی میں رومی سکے میں چاندی کی مقدار 95 فیصد سے کم ہو کر صرف پانچ فیصد رہ گئی اور مہنگائی آسمان پر پہنچ چکی تھی۔ رومیوں کے زوال کی تیسری نمایاں وجہ سیاسی عدم استحکام تھا جس کے باعث صرف 50 سال (235 سے 284ء) میں 20 سے زیادہ بادشاہ قتل ہوئے۔ فوج جسے چاہتی تخت پر بٹھا دیتی‘ جسے چاہتی قتل کر دیتی۔ چوتھی بڑی وجہ وحشی قبائل کا دباؤ تھا جس کے نتیجے میں شمال سے گوتھ‘ وینڈل‘ فرینک اور مشرق سے ساسانی حملے مسلسل بڑھ رہے تھے۔ آخر میں ان تمام اسباب کا نچوڑ 270ء میں نکلا۔ شہنشاہ اوریلیان‘ جو ایک بہت قابل فوجی تھا‘ اس نے وہ فیصلہ کیا جس نے روم کی پوری نفسیات بدل دی۔ اس نے حکم دیا کہ ڈاسیا خالی کر دیا جائے‘ تمام رومی لشکر‘ افسران اور انتظامیہ دریائے ڈینیوب کے جنوب میں واپس چلے جائیں۔ یہ رومی تاریخ کا پہلا باضابطہ پسپائی کا اعلان تھا۔ روم نے پہلی بار مانا کہ وہ اب اپنی فتوحات کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ یوں رومانیہ ہی روم کے زوال کا پہلا نوحہ بنا‘ جس کے بعد زوال کی رفتار تیز ہو گئی۔ 395ء میں سلطنت مشرقی اور مغربی‘ دو حصوں میں بٹ گئی‘ جسے کئی صدیوں تک کسی دشمن نے میلی آنکھ سے نہیں دیکھا تھا۔ سنہ 410ء میں گوتھوں نے خود روم شہر کو لوٹ لیا۔ زوال کا یہ سلسلہ بڑھتا رہا اور 476ء میں آخری مغربی شہنشاہ رومولس آ گسٹولس کو ایک وحشی سردار اوڈوایسر نے تخت سے اتار دیا۔
سلطنتِ روم کے عروج و زوال کی اس داستان کا آخری اور تیسرا حصہ موجودہ رومانیہ ہے جو سلطنتِ روم کے کھنڈرات پر کھڑی ایک نئی تہذیب ہے اور جس کے دارالحکومت بخارسٹ میں گزشتہ چند دنوں سے میں گھوم رہا ہوں۔ دراصل یہ رومانیہ کا نیا جنم ہے۔ رومانیہ صدیوں تک تین ریاستوں میں بٹا رہا۔ والاچیا جس کا ہیرو ولاد ٹیپس تھا جس پر ڈریکولا کی کہانی بنی۔ مالدووا جس نے عثمانیوں کے خلاف جنگیں لڑیں‘ اور ٹرانسلوانیا جو ہنگری اور آسٹریا کے زیرِ اثر رہا۔ 1859ء میں الیگزینڈر کوزا نے والاچیا اور مالدووا کو ملایا‘ اور 1918ء میں ٹرانسلوانیا بھی ملا تو جدید رومانیہ بنا۔ دراصل یہ بکھرے ہوئے روم کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش تھی۔ لہٰذا آج کی رومانی ثقافت اسی استعارے کی بہترین مثال ہے۔ یہاں 86 فیصد آبادی آرتھوڈوکس مسیحی ہے‘ ان کے گرجوں کی دیواریں اندر سے پوری طرح بازنطینی پینٹنگز سے سجی ہوتی ہیں‘ جیسے شمالی مالدووا کے وہ گرجا گھر جو یونیسکو کی تاریخی ورثے کی حامل عمارات میں شامل ہیں۔ آج کے جدید رومانیہ میں لاطینی زبان‘ مشرقی مذہب‘ اور فنِ تعمیر میں فرانسیسی‘ عثمانی اور کمیونسٹ تینوں رنگ نظر آتے ہیں اور یہی تنوع اس کا حقیقی حسن ہے۔ آج کا رومانیہ اب کوئی فراموش شدہ صوبہ نہیں بلکہ معاشی طور پر یہ یورپی یونین کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ کلُوج ناپوکا شہر کو مشرقی یورپ کی سیلیکون ویلی کہا جاتا ہے‘ جہاں ہزاروں نوجوان آئی ٹی کمپنیوں میں کام کر رہے ہیں۔ یوکرین جنگ کے بعد رومانیہ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ یہ نیٹو کا اہم رکن ہے‘ امریکی فوج کا سب سے بڑا ہوئی اڈہ میخائل کوگالنیچانو یہیں ہے۔ بحیرۂ اسود پر اس کی بندرگاہ قونسٹانٹا آج یوکرین کے اناج کی دنیا تک ترسیل کا سب سے بڑا راستہ ہے۔ وہی کلیدی کردار جو کبھی رومی دور میں تھا‘ آج پھر اسی کے پاس ہے۔
سلطنتِ روم سے لے کر رومانیہ تک کئی صدیوں پر محیط اس داستان سے ہمیں ایک ہی سبق ملتا ہے کہ ثبات صرف تغیر ہی کو حاصل ہے۔ وقت کے سمندر میں جانے کتنی سلطنتوں‘ اَن گنت بادشاہتوں اور شہنشاہوں کے سفینے ہمیشہ کیلئے ڈوب چکے۔ تاریخ کے کوڑے دان میں گمنامی کی چادر اوڑھے جانے کتنے ایسے کردار اوندھے منہ گرے پڑے ہیں جنہیں یہ خوش فہمی تھی کہ ان کی فصلِ گُل پر ہمیشہ رنگِ بہار ہی نمایاں رہے گا اور وہ خزاں رُت سے سدا ناآشنا رہیں گے۔وائے افسوس!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...