برطانیہ کی سیاست‘ معیشت اور معاشرت پر بریگزٹ‘ کورونا وائرس اور روس یوکرین جنگ نے بہت گہرے اثرات مرتب کیے ہیں‘ جن کے باعث برطانوی حکومت کی کشتی ایسے بھنور میں پھنس چکی ہے جس سے نکلنا مشکل نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے دس برسوں میں ان تینوں بڑے عوامل نے سات وزیراعظم تبدیل کر دیے ہیں اور روایتی طور پر ایک مضبوط اور مستحکم معیشت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ برطانوی ایوانِ اقتدار میں پہلا بھونچال اس وقت آیا جب 2016ء میں برطانوی عوام کی اکثریت نے ریفرنڈم میں بریگزٹ کے حق میں ووٹ دیا اور برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہو گیا۔ یورپی ممالک سے آزاد تجارت کا دور ختم ہوا تو یورپ کے ساتھ تجارت میں رکاوٹیں کھڑی ہو گئیں۔ کسٹم ڈیوٹی کے نفاذ سے برآمدات اور درآمدات‘ دونوں مہنگی اور سست ہو گئیں جس سے زرعی اور صنعتی شعبوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ تجارتی حجم سکڑنے لگا تو برطانیہ میں سرمایہ کاری کی رفتار اور شرح‘ دونوں میں کمی نظر آئی۔ بڑی کمپنیوں نے لندن کے بجائے ڈبلن اور ایمسٹرڈیم میں دفاتر کھولنا شروع کر دیے۔ مشرقی یورپ سے سستی لیبر آنا بند ہوئی تو ہسپتال‘ فارم اور لاری ڈرائیوروں کا بحران سر اٹھانے لگا۔ برسرِ اقتدار کنزرویٹو پارٹی بریگزٹ پر اندرونی سطح پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی تو ڈیوڈ کیمرون‘ تھریسا مے‘ بورس جانسن اور لزٹرس سب اسی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ یہی تقسیم عوام میں بھی نظر آئی‘ وہ دو حصوں میں بٹ گئے اور یہ تقسیم آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
2019-20ء میں کورونا وائرس نے جہاں پوری دنیا کو اپنے خونیں حصار میں جکڑے رکھا وہاں برطانوی معیشت میں اس کے باعث گزشتہ سو برسوں میں سب سے بڑی مندی کا رجحان دیکھنے کو ملا۔ معاشی گراوٹ پر قابو پانے کیلئے حکومت نے کھربوں پاؤنڈ خرچ کیے تو قرضہ آسمان پر جا پہنچا اور قومی قرضہ مجموعی قومی پیداوار کے سو فیصد سے بھی اوپر چلا گیا۔ علاوہ ازیں سپلائی چین کا تسلسل ٹوٹا‘ دکانیں اور فیکٹریاں بند ہوئیں تو مہنگائی زور پکڑنے لگی۔ اُنہی دنوں بورس جانسن کی حکومت پارٹی گیٹ سکینڈل میں پھنس گئی۔ یہ سکینڈل تھا لاک ڈاؤن میں عوام پر سختی اور خود پارٹی کرنے کا۔ اس سے ان کی مقبولیت میں خاطر خواہ کمی آئی اور یوں عوام اور حکومت کے مابین خلیج گہری ہوتی گئی۔ رہی سہی کسر 2022ء میں روس یوکرین جنگ نے نکال دی۔ روس سے سستی گیس کی فراہمی بند ہوئی تو برطانیہ میں انرجی بحران کے باعث مہنگائی کا زور دار دھماکا ہوا جس کی بازگشت آج بھی گھر گھر سنائی دیتی ہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں تین گنا تک جبکہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہو گیا۔ گندم‘ تیل اور کھاد کی قیمت بڑھی تو برطانوی معیشت زبردست دباؤ کا شکار ہوئی۔ بینک آف انگلینڈ نے مہنگائی روکنے کیلئے شرحِ سود میں اضافہ کیا تو گھروں کا قرضہ اور کرایہ دونوں بڑھنے لگے۔ وزیراعظم لز ٹرس کا منی بجٹ اسی مہنگائی کے دور میں آیا جس میں ٹیکس کم کر کے خرچ بڑھانے کی کوشش کی گئی مگر مارکیٹ اچانک گر گئی اور وہ محض 49 دن تک وزیراعظم بن پائیں۔ اس کے بعد رشی سوناک کا دور آیا‘ جن کا سب سے بڑا وعدہ تھا کہ وہ بجلی اور گیس کے بل کم کریں گے مگر وہ نہ کر سکے۔ برسرِ اقتدار جماعت کو 2024ء کے عام انتخابات میں سخت عوامی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا اور کنزرویٹو پارٹی کو الیکشن میں شکست ہوئی۔ چودہ سال بعد لیبر پارٹی برسرِ اقتدار آئی۔ سر کیئر سٹارمر مسلسل انہی عوامل کے دباؤ میں رہے اور مہنگائی پر قابو پانے میں کامیاب نہ ہو سکے تو شدید عوامی ردِعمل کے نتیجے میں چند روز قبل پارٹی قیادت مانچسٹر سے نو منتخب رکنِ پارلیمنٹ اینڈی برنہم کے حوالے کر کے وزیراعظم ہاؤس سے رخصت ہو گئے۔ لہٰذا ان تینوں بڑے عوامل نے برطانوی سیاست‘ معیشت اور معاشرت پر بہت گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔
مجموعی طور پر ایک طرف برطانوی معیشت سست روی کا شکار ہے تو دوسری طرف مہنگائی مسلسل اونچی اڑان بھر رہی ہے۔ عوام میں مقبولیت کھو جانے کے باعث گزشتہ دس برسوں میں سات جبکہ پانچ برسوں میں چار وزیراعظم تبدیل ہو چکے ہیں۔ اب عوامی سطح پر معاشی استحکام سب سے بڑا مطالبہ بن گیا ہے کیونکہ لوگ بڑے وعدوں سے تھک چکے ہیں۔ بریگزٹ نے برطانیہ کا ڈھانچہ کمزور کیا‘ کورونا نے اس کے جسم پر زخم لگائے اور روس یوکرین جنگ نے بلوں میں اضافہ کر کے ان زخموں پر نمک چھڑک دیا۔ اسی لیے اب اینڈی برنہم کی دو کلیدی ترجیحات ہیں۔ اوّل: استحکام یقینی بنانا اور دوم: مہنگائی کا خاتمہ کرنا۔
مگر اس سارے قضیے کا سب خوبصورت اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں سات وزیراعظم بدلنے کے باوجود برطانیہ میں جمہوریت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ نہ کسی جانے والے وزیراعظم کی طرف سے دھرنا دیا گیا اور نہ ہی عوامی سطح پر اعتماد کھونے والی اور الیکشن میں شکست کھانے والی پارٹی نے دھاندلی کا شور مچایا۔ وزیراعظم آتے اور جاتے رہے مگر نظام قائم رہا اور تمام ادارے اپنی اپنی جگہ پر کام میں مگن رہے۔ اس کی چار بڑی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ مضبوط پارلیمانی نظام ہے جس میں عہدہ شخصیت سے بڑا ہے۔ برطانوی وزیراعظم پارلیمنٹ کا رکن ہوتا ہے جو اکثریتی پارٹی کا لیڈر بن جاتا ہے۔ جب وزیراعظم بدلتا ہے تو پارلیمنٹ‘ عدلیہ‘ سول سروس اور بادشاہت جیسے ادارے وہیں رہتے ہیں۔ حکومت کا انجن نہیں‘ صرف ڈرائیور بدلتا ہے۔ اسی لیے چار وزرائے اعظم بغیر عام انتخابات کے آئے کیونکہ پارٹی لیڈر بدلنے سے خود بخود وزیراعظم بھی بدل جاتا ہے۔ یہی خوبصورت روایت برطانوی پارلیمان کی مضبوطی اور جمہوری نظام کے استحکام کی ضامن ہے۔ دوم طاقت کا واضح بٹوارہ ہے۔ وزیر اعظم پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے اور پارلیمان جب چاہے اس سے سوال کر سکتی ہے۔ ہر ہفتے وزیراعظم کو جواب دینا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں عدالتیں حکومت کے فیصلوں کو کالعدم کر سکتی ہیں۔ بریگزٹ کے دوران سپریم کورٹ نے ہی حکومت کو روکا تھا۔ بادشاہ یا ملکہ علامتی سربراہ ہیں اور وہ غیر سیاسی رہ کر حکومتی نظام کو استحکام دیتے ہیں۔ میڈیا آزاد ہے اور بیورو کریسی حکومت کی نہیں‘ ریاست کی وفادار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم بدلنے سے سرکاری کام نہیں رکتا۔ تیسری بڑی وجہ مضبوط ادارے اور تاریخی روایات ہیں۔ اگرچہ برطانیہ کا آئین تحریری نہیں لیکن 300سال پرانی روایات آئین سے زیادہ طاقتور ہیں۔ ہار مان کر استعفیٰ دینا ایک مروجہ روایت ہے۔ ڈیوڈ کیمرون‘ تھریسا مے‘ بورس جانسن‘ لز ٹرس‘ رشی سوناک‘ سر کیئر سٹار مر سب نے خود استعفیٰ دیا۔ ان میں سے کوئی بھی کرسی سے نہیں چپکا۔ الیکشن کمیشن‘ بینک آف انگلینڈ‘ بی بی سی جیسے ادارے آزاد اور خودمختار ہیں۔ اس لیے ان بحرانوں کی موجودگی میں بھی مارکیٹ اور عوام کا اعتماد نہیں ٹوٹا۔ چوتھی بڑی وجہ عوام کا جمہوریت پر یقین کی حد تک اعتماد ہے۔ ہر بحران کے بعد عوام نے ووٹ کے ذریعے فیصلہ کیا۔ 2019ء میں بورس جانسن کو اکثریت دی‘ 2024ء میں کنزرویٹو پارٹی کو تاریخی شکست دے کر لیبر پارٹی کو لایا گیا۔ عوام‘ فوج اور پولیس سب پارلیمنٹ کے تابع ہیں‘ کسی شخص کے نہیں۔ اس لیے بدترین سیاسی بحران میں بھی سڑکوں پر بغاوت یا کسی فرد اور ادارے کی طرف سے مداخلت کا سوال پیدا نہیں ہوا۔ برطانیہ میں جمہوریت افراد پر نہیں بلکہ مضبوط اداروں‘ قانون کی عملداری اور روایات کی پاسداری پر کھڑی ہے۔ جب تک پارلیمنٹ چل رہی ہے‘ انتخابات ہو رہے ہیں‘ میڈیا آزاد ہے اور عدلیہ خود مختار ہے تو وزیراعظم کے دس بار بدلنے سے بھی نظامِ مملکت پر کوئی فرق پڑتا ہے نہ جمہوریت کی ٹرین پٹری سے اترتی ہے۔ یہی حقیقی جمہوریت ہے‘ جس میں طاقت کا اصل سر چشمہ عوام ہیں جو اپنے ووٹ سے حکومت بنا بھی سکتے ہیں اور گرا بھی سکتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments