پمز آتشزدگی اور برطانیہ کا فائر سیفٹی نظام

وطن عزیز میں بدھ کے روز عین اُس وقت جب جشنِ میلاد النبیﷺ کے موقع پر شہر شہر‘ قریہ قریہ اور ہر کوچہ و بازار کو جھنڈ یوں اور بینرز سے آراستہ کرکے جلوس نکالے جا رہے تھے‘ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے باعث وہاں پر موجود 16 معصوم بچوں میں سے 14 جل گئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اے سی کا کمپریسر پھٹنے سے آگ بھڑک اٹھی اور یہ اندوہناک سانحہ پیش آیا۔ مگر سب سے زیادہ تکلیف دہ بات وہاں پر موجود عملے کی مجرمانہ غفلت اور بے حسی ہے۔ موقع پر موجود تمام عملہ محض تماشا دیکھتا رہا۔ بنیادی وجہ ایک مرتبہ پھر مؤثر فائر سیفٹی نظام کی عدم موجودگی ہے۔ یہ پہلا سانحہ نہیں‘ اور جب تک ہم اس طرح کے قومی سانحات کو ''حادثہ‘‘ کہہ کر فائل بند کرتے رہیں گے تب تک اسی طرح کے دل لرزا دینے والے واقعات پیش آتے رہیں گے۔ یہاں پر ایک اہم سوال یہ ہے کہ آگ کیسے لگ جاتی ہے؟ اس کی پانچ بنیادی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اوّل: پاکستان کے پبلک سیکٹر میں مینٹیننس کلچر کا جنازہ نکل چکا ہے جو کئی انسانی جنازوں کا سبب بنتا رہتا ہے۔ سرکاری ہسپتال میں اے سی لگ جاتا ہے‘ بل منظور ہو جاتا ہے لیکن اگلے 10 سال تک اس کی سروس نہیں ہو پاتی۔ کمپریسر میں گیس لیک ہو رہی ہو‘ تاریں ننگی ہوں‘ سرکٹ جل رہا ہو کسی کو کوئی پروا نہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ مینٹیننس کا بجٹ موجود نہیں ہے۔ اگر بہت بھی ہو تو کاغذی کارروائی مکمل کی جاتی ہے‘ مینٹیننس کیلئے اخبارات میں اشتہار چھپ جاتا ہے‘ ٹینڈر طلب کیے جاتے ہیں‘ ٹھیکیدار کا انتخاب ہوتا ہے اور مطلوبہ رقم منظور ہو کر قومی خزانے سے نکل جاتی ہے۔ اس طرح آڈٹ کے تقاضے پورے کرنے کیلئے فائلوں کا پیٹ بھرا جاتا ہے مگر موقع پر کام نہیں ہو پاتا جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک دن کمپریسر دھماکے سے پھٹ جاتا اور متعدد قیمتی انسانی جانیں لے جاتا ہے۔ دوم: فائر سیفٹی صرف کاغذوں تک ہے۔ قانون کہتا ہے کہ ہر بڑے ہسپتال میں‘ لازمی ہے کہ فائر الارم‘ سپرنکلر سسٹم اور ہر 50 فٹ پر فائر ایکسٹنگویشر (extinguisher) نصب ہو‘ ایمرجنسی ایگزٹ موجود ہو اور باقاعدگی سے عملے کی فائر ڈرل کرائی جائے مگر حقیقت یہ ہے کہ 80 فیصد سرکاری ہسپتالوں میں ایکسٹنگویشر کی مہر پانچ سال سے نہیں ٹوٹی‘ ایمرجنسی ایگزٹ پر سامان پڑا ہے‘ ڈیوٹی پر مامور عملے کو یہ نہیں پتا کہ آگ لگے تو پہلے کیا کرنا ہے۔ پمز میں اگر فائر الارم ہوتا‘ ڈیوٹی پر مامور عملہ تربیت یافتہ ہوتا تو 16 میں سے 14 بچے نہ مر جاتے کیونکہ تربیت یافتہ عملہ محض دو منٹ میں سب کو بحفاظت باہر نکال لیتا۔ سوم: ہمارے ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد 300فیصد زیادہ ہے۔ ایک کمرے میں چار کے بجائے 12 بیڈز ہیں‘ ایک ساکٹ میں تین تین ایکسٹینشن لگا دی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں وارڈ میں ہیٹر‘ اے سی‘ مانیٹر‘ آکسیجن مشین سب کچھ ایک ہی بجلی لائن پر چل رہا ہے۔ دوسری طرف خریداری میں سب سے سستا اور غیر معیاری کمپریسر‘ سستے تار اور غیر پائیدار سوئچ خرید کر مال کھایا جاتا ہے اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ چہارم: ہمارے نظام میں جوابدہی کا فقدان ہے۔ مجرمانہ غفلت‘ کرپشن اور فرائض منصبی میں کوتاہی پر کوئی پوچھتا نہیں۔ متعلقہ افراد ریٹائر ہو جاتے ہیں‘ مینٹیننس انچارج تبدیل ہو جاتے ہیں اور فائلیں ہمیشہ کیلئے بند ہو جاتی ہیں۔ جب باز پرس نہیں ہو گی‘ سزا بھی نہیں ہو گی جس کے نتیجے میں غفلت مزید بڑھے گی۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور‘ کراچی اور اسلام آباد سمیت ہر بڑے چھوٹے شہر کے سرکاری ہسپتالوں میں ہر سال شارٹ سرکٹ سے آگ لگتی ہے۔ دو چار دن یہ معاملہ خبروں کی زینت بنتا ہے‘ پھر سب بھول جاتے ہیں۔ پانچویں اور سب سے اہم وجہ عام انسانی جان کی قدر وقیمت نہ ہونا ہے۔ سب سے کڑوا سچ یہ ہے کہ ہم نے انسانوں کی درجہ بندی کی ہوئی ہے۔ اگر غریب کا بچہ سستے وارڈ میں مرتا ہے تو مرنے دیں۔ جنرل وارڈ میں 20 سال پرانا یونٹ چل رہا ہے تو کوئی فکر کی بات نہیں۔ دوسری جانب وی آئی پی وارڈ میں سہولتوں کا اعلیٰ ترین معیار یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ وہاں مہنگا ترین اے سی لگے گا‘ اس کی ماہانہ سروس بھی ہو گی۔ یہی دہرا معیار ہمیں لے ڈوبا ہے۔
میں گزشتہ چند برسوں سے برطانیہ میں زیر تعلیم ہوں۔ یہاں ہسپتالوں کو عبادت گاہ کا درجہ دیا جاتا ہے‘ نہ کہ کسی سرکاری دفتر کا۔ اگر برطانیہ کے ہیلتھ کیئر اور سیفٹی نظام کا جائزہ لیں تو یہاں تین بڑے قوانین لاگو ہیں۔ سب سے پہلا ہیلتھ اینڈ سیفٹی ایکٹ 1974ء ہے‘ جس کے تحت یہ آجر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملازم اور عوام (مریض) کی حفاظت یقینی بنائے۔ دوسرا ریگولیٹری ریفارم فائر سیفٹی آرڈر 2005ء ہے۔ اس میں ہر عمارت کیلئے ایک شخص نامزد کیا گیا ہے جو غفلت ثابت ہونے پر جیل جا سکتا ہے۔ تیسرا کیئر کوالٹی کمیشن ہے جو ہر ہسپتال کی سالانہ انسپکشن کرتا ہے اور اسے چار قسم کی درجہ بندی میں شامل کرتا ہے۔ خراب رپورٹ کی صورت میں اس ہسپتال میں کوئی مریض نہیں جاتا کیونکہ لوگ پہلے اس کی کارکردگی کا جائزہ لیتے اور پھر وہاں جانا پسند کرتے ہیں۔ 2019ء میں مانچسٹر رائل انفرمری میں آتشزدگی کا ایک چھوٹا سا واقعہ پیش آیا جس میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا مگر کیئر کوالٹی کمیشن نے ہسپتال میں موجود سہولتوں کو ناکافی قرار دیا۔ اس پر ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو کو مستعفی ہونا پڑا اور برطانوی پارلیمنٹ میں بھی اس پر سوالات اٹھائے گئے۔ این ایچ ایس (نیشنل ہیلتھ سروس) کا سالانہ بجٹ تقریباً 180 ارب پاؤنڈ ہے اور اس میں سے 12 ارب پاؤنڈ مینٹیننس کیلئے مختص ہیں۔ ہر ہسپتال کو سالانہ اوسطاً چھ ملین پاؤنڈ محض بلڈنگ اور مشینوں کی اَپ گریڈیشن کیلئے ملتے ہیں۔ قانون یہ ہے کہ اگر مشین کا مینٹیننس ریکارڈ پورا نہیں تو انشورنس کمپنی کلیم نہیں دے گی۔ اس لیے ہر کمپریسر کی ہر چھ ماہ بعد سروس کی جاتی ہے اور اس کا ریکارڈ آن لائن موجود ہوتا ہے۔ قانون یہ ہے کہ کمپریسر چھت پر اور وارڈ سے کم از کم 50 میٹر دور ہو گا۔ ہر ہسپتال میں ایک کُل وقتی فائر سیفٹی منیجر تعینات ہوتا ہے۔ ہر نرس اور ڈاکٹر کیلئے سالانہ دو گھنٹوں پر مشتمل فائر سیفٹی ٹریننگ کورس پاس کرنا لازم ہے۔ ہسپتال میں ہر تین ماہ بعد ریڈ کوڈ ڈرل کی جاتی ہے جس میں رات تین بجے بھی بچوں کے وارڈ کی ڈرل کر کے ڈمی بچوں کو باہر نکالا جاتا ہے۔ اس میں وقت کی پابندی پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ اگر اس پوری مشق میں چار منٹ سے زیادہ وقت لگے تو وارڈ انچارج کو وارننگ دی جاتی ہے۔ ہسپتال کا عملہ جانتا ہے کہ اگر وہ وارڈ میں ایک گرم ساکٹ دیکھیں اور رپورٹ نہ کریں تو کل کو آگ لگنے کی صورت میں وہ جیل جا سکتے ہیں۔ ہسپتال کے ہر کمرے میں دو ایگزٹ لازمی ہیں۔ دیواریں اس طرح تعمیر کی جاتی ہیں کہ وہ 60 منٹ تک آگ کو روک سکیں۔ آکسیجن اور بجلی کی لائنیں الگ الگ ہیں۔ ہر وارڈ میں سموک اور ہیٹ ڈیٹیکٹر نصب ہیں‘ جو سیدھا فائر بریگیڈ اور ڈائریکٹر کے موبائل پر الرٹ بھیجتے ہیں۔ فرق واضح ہے کہ برطانیہ میں سخت قوانین بنائے گئے ہیں‘ جن کی موجودگی میں حادثے سے پہلے دس بیریئرز ہیں مگر پاکستان میں حادثے کے بعد دس بہانے ہیں۔ وقت آن پہنچا ہے کہ پاکستان میں برطانوی طرز پر ایک مربوط اور منظم فائر سیفٹی نظام رائج کیا جائے جس کیلئے مطلوبہ قانون سازی کی جائے۔ ملک بھر کے ہسپتالوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے اور ان کو درکار وسائل اور ضروری سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ آئندہ آتشزدگی کے کسی نئے المناک حادثے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع نہ ہوں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...