میں تھوڑی دیر قبل یونیورسٹی آف لیسٹر میں ایک مصروف دن گزار کر گھر واپس لوٹا ہوں اور چار اکتوبر کو ہونے والے گھریلو تشدد کے دو واقعات پر مشتمل ایف آئی آرز کے متن میرے سامنے ہیں۔ پہلی ایف آئی آر راولپنڈی میں تعینات ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی مدعیت میں ان کے شوہر کے خلاف ویمن پولیس سٹیشن راولپنڈی میں درج کرائی گئی ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کا حصہ بنیں اور آج کل راولپنڈی جیسے اہم ضلع میں امن و امان اور ریاستی رِٹ کی علامت ہیں‘ مگر ایک تھانے کی دہلیز پر انصاف کیلئے ہاتھ پھیلائے کھڑی ہیں۔ ان کی درخواست میں لکھا ہے کہ ان کے شوہر نے ان پر جسمانی‘ ذہنی اور نفسیاتی تشدد کیا ہے۔ پولیس نے ان کے شوہر کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے انہیں چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ دوسری ایف آئی آر ننکانہ صاحب کی تحصیل شاہکوٹ کے تھانہ صدر میں انیس سالہ لڑکی کے چچا کی مدعیت میں درج کی گئی ہے‘ جس میں مبینہ طور پر لڑکی کے سسرال والوں نے اسے ایک کمرے میں بند کر کے پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ یوں ماچس کی ایک تیلی سے اس کی زندگی‘ خواب اور وجود راکھ میں بدل گیا۔ نیم مردہ حالت میں اسے فیصل آباد کے ہسپتال لایا گیا‘ جہاں وہ چند گھنٹوں بعد زندگی کی بازی ہار گئی۔ یہ دو مناظر ایک ہی اندوہناک کہانی کے دو باب ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک عورت کے پاس طاقت‘ اختیار‘ تعلیم و شعور کیساتھ معاشی خود انحصاری تھی‘ اسلئے وہ اپنے اوپر ہونیوالے تشدد پر خاموش نہیں رہی جبکہ دوسری کے پاس تعلیم تھی نہ ریاستی اختیار‘ جسکے باعث وہ اپنے اوپر ہونیوالے ظلم و بربریت پر آواز بلند نہ کر سکی۔ وہ خاموش رہی اور پھر ہمیشہ کیلئے خاموش کر دی گئی۔
ان دونوں واقعات میں ہمارا اصل مجرم نہ اے ڈی سی صاحبہ کا شوہر ہے اور نہ اس مقتول لڑکی کا مبینہ قاتل شوہر اور اس کا خاندان جس نے پٹرول چھڑکا‘ ہمارا اصل مجرم وہ ایک جملہ ہے جو ہمارے ہاں ہر رخصتی پر والدین بڑے فخر سے دہراتے ہیں کہ بیٹی اس گھر سے تمہاری ڈولی جا رہی ہے‘ اب تمہارا جنازہ ہی اُس گھر سے نکلے گا۔ اس ایک جملے میں ہم اپنی بیٹی اور بہن کی پوری زندگی کا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ ہم نے اس پر واپسی کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا ہے۔ ہم نے اس کے والدین کے گھر کو اس کیلئے جہنم سے بھی بدتر بنا دیا کہ واپس آنے پر معاشرے میں ہماری ناک کٹ جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں نکاح کے کاغذ پر دستخط کرتے وقت ایک لڑکی اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرتی ہے اور شادی کے بعد اپنی جان اُن اجنبی لوگوں کے سپرد کر دیتی ہے جو اس کے سسرال میں شامل ہیں۔
اس جملے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ جب ایک عورت کو یہ یقین ہو کہ واپسی ناممکن ہے تو وہ ہر ظلم کو اپنا مقدر سمجھ کر اپنے ہونٹ سی لیتی ہے۔ پہلے تھپڑ کو اپنی غلطی سمجھ کر خاموش رہتی ہے‘ دوسرے کو وہ شوہر کا غصہ سمجھتی ہے۔ تیسرے پر وہ بچوں کے مستقبل کا سوچتی ہے اور چوتھے پر اسے ظلم سہنے کی عادت ہو جاتی ہے۔ یہ خاموشی رضا نہیں‘ بے بسی ہے۔ یہ بے بسی ہم نے خود اس کے ذہن میں بوئی ہے۔ یہاں چند سوالات اہم ہیں۔ پہلا سوال عدالتی انصاف سے متعلق ہے۔ تشدد کرنے والے شوہر کا چودہ روزہ ریمانڈ قابلِ تحسین ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ اس طرح کے کیسوں میں اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔ خاندان کے بڑے بزرگ بیٹھتے ہیں‘ جرگہ ہوتا ہے اور مستقبل کا واسطہ دے کر عورت پر بیان واپس لینے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ جب وہ دباؤ میں آ کر صلح کر لیتی ہے تو عدالت شوہرکو باعزت بری کر دیتی ہے۔ وہ شخص گھر واپس جا کر پہلے سے زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے کیونکہ اب اسے نظامِ انصاف سے بچ نکلنے کا راستہ معلوم ہو گیا ہے۔ ہمیں گھریلو تشدد کیلئے الگ سے فاسٹ ٹریک اور خاتون ججز پر مشتمل عدالتیں قائم کرنی چاہئیں جو بہرصورت چھ ماہ میں انصاف پر مبنی فیصلے کریں۔
ایسے تمام واقعات میں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ شوہر ذہنی طور پر بیمار تھا۔ لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے بیمار کس نے بنایا؟ بچپن سے ایک لڑکے کو سکھایا جاتا ہے کہ تم حاکم ہو جبکہ تمہاری بہن تم سے کمتر ہے۔ تمہارا رونا کمزوری ہے‘ تمہارا مارنا طاقت ہے۔ اسے پستول اور بندوق دی جاتی ہے اور بہن کو گڑیا دے کر بہلایا جاتا ہے۔ لڑکے کو بتایا جاتا ہے کہ تم مرد ہو اور تم نے گھر چلانا ہے‘ اس لیے تمہارا حکم آخری ہوگا۔ لہٰذا شادی کے بعد وہ بیوی کو برابر کے بجائے اپنی محکوم سمجھتا‘ اور اسے قابو میں رکھنا اپنا حق سمجھتا ہے۔
تیسرا اہم سوال معاشی غلامی کی زنجیریں ہیں۔ عورت کی معاشی خودمختاری آج بھی ایک خواب ہے۔ اگر ایک عورت اپنے شوہر سے الگ ہونا بھی چاہے تو وہ کہاں جائے گی؟ اس کے پاس آمدن کا کوئی متبادل ذریعہ نہیں۔ والدین کہتے ہیں کہ ہم تمہیں ساری زندگی نہیں رکھ سکتے اور معاشرہ طلاق یافتہ عورت کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا۔ اس معاشی اور معاشرتی بلیک میلنگ کی وجہ سے عورت روز نجانے کتنی مرتبہ مرتی ہے‘ لیکن ایک بار بھی اس دلدل سے باہر نکلنے کا فیصلہ نہیں کرتی۔ اے ڈی سی صاحبہ اس لیے بچ گئیں کیونکہ وہ معاشی طور پر خودمختار ہیں۔ ان کے پاس اپنی نوکری‘ تنخواہ اور شناخت ہے۔ لیکن اس انیس سالہ لڑکی کے پاس کیا تھا؟ اس لیے اس کا جنازہ ہی اسی گھر سے نکلا‘ جیسا کہ رخصتی کے وقت اس کے والدین نے اس کے کان میں بولا ہو گا۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟ یہ کالم ماتم یا سینہ کوبی کیلئے نہیں‘ اس کا مقصد اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے۔ سب سے پہلے اپنی فکر بدلیں۔ خدا کیلئے اپنی بیٹیوں سے ڈولی اور جنازے والا جملہ کہنا بند کریں۔ اس کی جگہ یہ کہیں کہ بیٹی یہ گھر تمہارا تھا اور ہمیشہ تمہارا رہے گا۔ اگر تمہیں کوئی تکلیف ہو تو اپنے ماں باپ کے پاس واپس آ جانا۔ تمہاری زندگی ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ اس ایک جملے کی تبدیلی ایک نسل کی سوچ بدل سکتی ہے۔ بیٹیوں اور بہنوں کو وراثتی جائیداد میں حصہ دیں جو انہیں شریعت نے بھی دے رکھا ہے۔ بیٹوں کی تربیت بھی اہم ہے۔ اپنے بیٹوں کو سکھائیں کہ نکاح حاکم اور محکوم کا رشتہ نہیں‘ بلکہ دو برابر انسانوں کا معاہدہ ہے۔ قانون کی عملداری یقینی بنانے کیلئے ضلع میں ویمن پروٹیکشن سنٹر فعال کریں جس میں پولیس‘ وکیل‘ ڈاکٹر اور ماہرینِ نفسیات ایک ہی چھت تلے ہوں۔ تھانوں میں خاتون تفتیشی افسران کی تعداد بڑھائی جائے۔ گھریلو تشدد کے مقدمات کو دہشت گردی کی عدالتوں کی طرح فاسٹ ٹریک پر چلایا جائے۔
اے ڈی سی صاحبہ داد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے ایف آئی آر درج کرا کے ہمارے سماج کی اَن گنت اَن دیکھی زنجیریں توڑی ہیں‘ جن کے خوفناک حصار میں جانے کتنی معصوم بیٹیاں اور بہنیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے کرتے ہر روز کئی مرتبہ موت کو گلے لگاتی ہیں اور ان میں درجنوں بد نصیب کبھی چولہے کے پھٹنے کے بہانے اور کبھی پٹرول چھڑک کر سفاکیت کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہیں۔ انہوں نے یہ مقدمہ درج کروا کر صرف اپنے لیے نہیں‘ ان تمام لڑکیوں کیلئے بھی آواز اٹھائی ہے جو اب منوں مٹی تلے سو گئی ہیں۔ وہ دقیانوسی سماجی روایات کے فرسودہ دباؤ کو خاطر میں نہیں لائیں کہ لوگ جانے کیا کہیں گے۔ اگر گھریلو تشدد میں ایک خاتون کی جان چلی جائے تو لوگوں نے کیا کہنا یا کیا کر لینا تھا؟ صرف اس کے بچے اس کی میت پر آہ و زاریاں کرتے ہیں اور اس کے بوڑھے والدین جیتے جی مر جاتے ہیں۔ ظلم برداشت کرنے سے بہتر ہے کہ آواز بلند کریں‘ بلکہ چیخ اٹھیں۔ اس سے قبل کہ آپ کی آواز کو شاہکوٹ کی بد نصیب لڑکی کی طرح ہمیشہ کیلئے خاموش کر دیا جائے اور ڈولی کے بعد سسرال سے جنازے میں واپسی ہو۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ آخر ہم کب تک اپنی بیٹیوں کی ڈولیاں سجاتے اور پھر ان کے جنازے اٹھاتے رہیں گے؟ آخر کب تک؟
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments