"AHC" (space) message & send to 7575

عرب، وَیل اور شَر

ڈاکٹر مصطفی کمال محمود‘ جو امراضِ سینہ کے ڈاکٹر تھے۔ سکالر‘ ریسرچر‘ محقق اور تحقیقی کتب کے مصنف بھی تھے‘ 88 سال کی عمر پا کر 2009ء میں مصر میں فوت ہوئے۔ عربی زبان میں ان کا ایک لیکچر سنا تو ان کا کہنا تھاکہ تمام انسانیت کے ماں باپ کی زبان عربی ہے۔ انہوں نے دنیا کی بڑی زبانوں کی مثالیں دیں کہ وہ کب وجود میں آئیں اور ان کے ماخذ الفاظ عربی زبان سے لیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر انگریزی میں شوگر ہے تو یہ لفظ عربی کے لفظ ''سُکر‘‘ سے لیا گیا ہے۔
لوگو! زبانیں بنتی رہیں اور مٹتی رہیں۔ آج سے کوئی بارہ تیرہ سو سال قبل سارے یورپ میں لاطینی یا رومن زبان پھیلی ہوئی تھی۔ ان کی مٹی سے اطالوی‘ ہسپانوی اور فرانسیسی وغیرہ وجود میں آئیں۔ عربی زبان آج بھی قائم ہے اور قرآن کریم کی زبان قیامت تک اس زمین پر قائم رہے گی۔ جی ہاں! سارا جہاں عربی ہے۔ اس بڑے عالمی دائرے کو اگر پھیلایا جائے تو دنیا بھر کا ہر وہ شخص عربی ہے جو عربی بولتا ہے۔ اس دائرے کو مزید پھیلائیں تو ہر وہ شخص عربی ہے جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے۔ اس دائرے کے رقبے میں آ جائیں تو سوڈان‘ مصر‘ لیبیا‘ تیونس‘ الجزائر‘ مراکش اور موریطانیہ سمیت براعظم افریقہ کے کئی ممالک عربی زبان بولنے والے ہیں۔ عرب دنیا کی طرف دیکھیں تو یمن‘ عمان‘ متحدہ عرب امارات‘ بحرین‘ قطر‘ کویت‘ عراق‘ شام‘ لبنان‘ اردن اور فلسطین عرب ممالک ہیں۔ آخر پر اب اس دیس کی بات کہ جس کا نام سعودی عرب ہے اور اس سرزمین میں حرمین شریفین کا وہ مقدس اور مطہر قطعہ ارضی ہے جہاں حضور ختم المرسلینﷺ تشریف لائے اور اسی سرزمین سے اپنے اللہ کے ہاں تشریف لے گئے۔ ہمارے پڑوسی ملک ایران کے صوبے خوزستان کی زبان بھی عربی ہے اور ترکیہ کے شہر انطاکیہ کی زبان بھی عربی ہے۔ آئیے اب اللہ کے رسولﷺ کا ایک فرمان‘ جو عربوں کے بارے میں ہے‘ ملاحظہ کرتے ہیں: ''ام المومنین حصرت زینب بنت جحشؓ بتاتی ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نیند سے بیدار ہوئے تو آپﷺ کا چہرہ مبارک سرخ تھا۔ آپﷺ نے ''لا الہ الا اللہ‘‘ پڑھا اور فرمایا: عربوں کیلئے ''وَیل‘‘ ہے اس شر کی وجہ سے جو قریب آ گیا ہے۔ آج یاجوج و ماجوج کی دیوار میں اتنے دائرے کے برابر شگاف پڑ گیا ہے۔ (بخاری و مسلم)۔ حضرت زینب بنت جحشؓ 5ھ میں اُم المومنین کے شرف سے مشرف ہوئیں اور حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت کے آخری زمانے میں اپنے اللہ کے پاس چلی گئیں۔ معلوم ہوتا ہے ام المومنین نے فتح مکہ کے قریب حضورﷺ کا مذکورہ فرمان روایت فرمایا ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کے بعد اسلامی تاریخ اپنی تابناکی کے ساتھ ساتھ فتنوں یعنی آزمائشوں سے بھی بھری پڑی ہے۔ دونوں باتوں میں اہم ترین کردار عربوں کا ہے‘ اور یہ گزشتہ چودہ سو سالوں کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ یہ آج بھی جاری ہے اور یاجوج ماجوج کے خروج تک جاری رہے گا۔ یاد رہے! کسی ایک ملک یا چند ملکوں کو نشانہ بنا کر مذکورہ حدیث کا انطباق کرنا نہ صرف غلط بلکہ زیادتی ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایسا کرنا فرقہ واریت کو ہوا دینا اور فتنوں کی آبیاری کرنا ہے۔ ہمیں عرب دنیا کے سارے دائروں کو سامنے رکھ کر خیر خواہانہ اور اصلاحی بات کرنا ہو گی۔ یاد رکھیں! جوں جوں فتنے بڑھیں گے‘ یاجوج ماجوج کی دیوار کا دائرہ بھی وسیع ہوتا چلا جائے گا۔
مذکورہ حدیث میں دوسرا لفظ ''وَیل‘‘ ہے اس کا معنی ہلاکت و بربادی ہے۔ قرآن مجیدکی سورۃ الھمزہ‘‘ کا آغاز بھی وَیل‘‘ کے لفظ سے ہوتا ہے۔ فرمایا: ہلاکت و بربادی ہے ہر اس شخص کیلئے جو بہت زیادہ طعنے دینے والا ہے‘ بہت زیادہ عیب نکالنے والا (نقائص ڈھونڈنے‘ الزامات کی بوچھاڑ کرنے والا) ہے۔ وَیل کا لفظ صحیح مسلم ''کتاب الایمان‘‘ میں اس طرح آیا ہے: اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا ''جب کوئی شخص قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے سجدے کے مقام پر آتا ہے اور (اللہ کے آگے) سجدے میں گر جاتا ہے تو شیطان یہ دیکھتا ہے تو دور ہٹ کر رونا شروع کردیتا ہے اور ''یا وَیلۃ‘‘ (ہائے افسوس) کہہ کر کہتا ہے: آدم کے بیٹے کو سجدے کا حکم ہوا وہ سجدے کرنے لگ گیا اور جنت کا مالک بن گیا۔ مجھے سجدے کا حکم ہوا تو میں نے انکار کر دیا اور جہنم میرا ٹھکانہ بن گیا۔ اللہ اللہ! حرمین کی سرزمین دنیا بھر کے اہلِ اسلام کے سجدوں سے معمور اور شاد آباد ہے۔ حکمت و دانش کے حامل اہلِ علم کا کام ہے کہ وہ غلطیوں اور کوتاہیوں کی ناصحانہ انداز سے نشاندہی کریں اور احسن انداز سے دعوت دیں نہ کہ طعنہ زنی اور عیب چینی کریں۔ پھر مزید ظلم یہ کہ فتوے لگائیں۔ اس سے بڑا ظلم یہ کہ ایمان و اسلام کے دائرے کو اپنے کنٹرول میں لے لیں اور جس کو چاہیں اندر کر لیں جس کو چاہیں باہر نکال دیں۔ اللہ کی پناہ ایسے عمل سے جو فتنہ پرداز بن جائے۔
آج سے سو‘ دو سو سال قبل مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ ان کی سب سے بڑی حکمرانی ''خلافت عثمانیہ‘‘ تھی۔ دوسری بڑی بادشاہت ہندوستان میں ''مغلیہ سلطنت‘‘ تھی۔ تیسری حکمرانی ایران میں قاجار تھی۔ تینوں یکے بعد دیگرے یورپی طاقتوں کے ہاتھوں بے بس ہو گئیں۔ جب یہ گرتی چلی گئیں تو جنگ عظیم اول اور دوم میں یہی طاقتیں آپس میں لڑیں۔ وہ علاقے جو مسلمان تھے‘ مگر یورپی طاقتوں کے ہاتھوں میں تھے وہاں کے مجبور مسلمان یورپی طاقتوں کے فوجی بن کر ان کے مخالفوں سے لڑتے رہے۔ دوسری عالمی جنگ 1945ء میں ختم ہوئی تو 1947ء میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ 1975ء تک مسلم اور دیگر ممالک آزاد ہوتے رہے۔ یہ ممالک پورے طور پر آزاد نہ تھے کیونکہ ان ملکوں میں حکمرانی کا نظام کھڑا کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ مزید برآں! یہ ممالک اب ایک نئے بین الاقوامی نظام کا حصہ تھے۔ پرانے طاقتور آقائوں کے ساتھ چلنا اور اپنے ممالک کے مفاد میں ممکن حد تک کمپرومائز کرنا‘ یہ سب مجبوریاں تھیں۔ یہ مجبوریاں صرف مسلمانوں کی نہ تھیں جاپان‘ کوریا‘ ہانگ کانگ‘ تائیوان‘ جنوبی امریکہ کے ممالک اور افریقی ممالک بھی ان مجبوریوں میں تاحال شامل ہیں۔ صورتحال یہ ہو گئی کہ کہیں کہیں شاید حکمران ان مجبوریوں میں کچھ زیادہ ہی آگے چلے گئے مگر تیز طبیعت اپوزیشن رہنما حکمرانوں پہ بے جا تنقید پر اُتر آئے۔ دانشور کچھ زیادہ ہی طعن پر اتر آئے۔ بعض مذہبی لوگ بھی حدیں پار کرنے لگ گئے۔ اس صورتحال نے بعض ممالک کو اندرونی طور پر خلفشار کا شکار کر دیا۔
امام جمال الدینؒ اپنی شہرہ آفاق عربی ڈکشنری ''لسان العرب‘‘ میں ''وَیل‘‘ کا معنی آغاز میں ہی ''حُلولُ الشر‘‘ لائے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ شر یعنی فساد کسی شے میں داخل ہو کر اس کا حصہ بن جائے۔ سادہ لفظوں میں عرض کروں تو پانی کے گلاس میں سفید زہر ملایا جائے تو دیکھنے میں وہ پانی ہو گا مگر اس کے اثرات زہریلے بن جائیں گے۔ موجودہ حالات جو جنگوں کے حالات ہیں‘ ان حالات میں پاکستان وہ ملک ہے جس نے خلیجی خطے کے ممالک کے درمیان صلح و صفائی کا لازوال کردار ادا کیا۔ عالمی سطح پر بھی کردار ادا کیا۔ اب آگے بڑھ کر مکہ دفاعی معاہدہ بھی ہو گیا جس میں قوت کے ساتھ ساتھ باقی علاقائی اور دیگر مسلم ممالک نے بھی شامل ہونا ہے مگر یمن کے دو متحارب فریقوں میں سے ایک نے سعودی عرب پر حملے تیز کر دیے۔ سعودی عرب نے پہلے ہی بڑے حوصلے سے کام لیا ہے۔ جناب محمد بن سلمان نے شدید عالمی دبائو کے باوجود ابراہم اکارڈ کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ مگر سعودی عرب پر دونوں اطراف سے سمندروں کے دروازے بند کرنے کے بعد تیل کی پائپ لائن بھی تین جگہوں سے اڑا دی گئی ہے۔ پینے کا پانی بھی دھمکیوں کی زد میں آنے لگ گیا ہے۔ افسوس! پاکستان کو صلح و صفائی کا موقع بھی نہ دیا گیا۔ ''وَیل‘‘ کا معنی تعجب اور حیرت بھی ہے۔ مندرجہ بالا صورتحال پر ہر کلمہ گو حیرت و تعجب میں ہے۔ وہ مسلمانوں کے مابین لڑائی نہیں‘ اتحاد چاہتا ہے۔ اے اللہ کریم! تسبیح کے دانوں کی طرح مسلم ممالک کو 'میثاق مکہ‘ کی مٹھی میں کر دے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...